لبرل ازم یا انکارِ خداوندی


لبرل ازم یا انکارِ خداوندی!

        دنیا پر عظیم ترین اثرات ڈالنے والے مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے جب اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کرنا شروع کیا تو ایک وقت وہ بھی آیا کہ مسلمان مغلوب ہوتے چلے گئے، دنیا کی باگ دوڑ ان کے ہاتھ سے لے لی گئی اور وہ تنزل کا شکار ہوئے۔وجہ یہ کہ وہ اپنے مقصد وجود سے ناواقف ہوچلے تھے ۔اور یہ واقعہ کل کا نہیں آج کا ہے۔ان حالات نبٹنے کے لیے لازم ہے کہ مسلمان اُس اسلام سے بخوبی واقف ہوں جس کی خاطر وہ مصروفِ عمل ہوا چاہتے ہیں ۔نیز کفر و جاہلیت سے بھی مکمل واقفیت لازم ہے۔تاکہ جہالت جس لباس اور جس رنگ میں بھی ظاہر ہو اس کو پہچان لےا جائے۔ حضرت عمرؓ کا قول ہے:"مجھے خطرہ ہے کہ وہ شخص اسلام کی کڑیاں بکھیر دے گا جس نے اسلام میں نشو و نمو پایا اور جاہلیت کو وہ نہیں پہنچانتا"۔لہذا ضروری ہے کہ مسلمان زمان و مکاں کے حدود کی پابندیوں سے اوپر اٹھ کرصراط مستقیم پر قائم رہیں۔نیز وہ اتنی ذکاوت و مستعدی اور علم رکھتے ہوں اور محنت کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جو طبعی قوتیں پیدا کی ہیں، اور زمین میں دولت و قوت کے جو چشمے اور دفینے رکھ دیئے ہیں، ان سے کام لیتے ہوئے اِن کو اسلام کے مقاصد کے لیے مفید بناسکیں۔

        آج دنیا کے مختلف ممالک دو بڑے نظریات کی یلغار سے دوچارہیں۔ان میں ایک لبرل ازم ہے تو دوسرا سیکولر ازم۔ضرورت ہے کہ اس فکری یلغار کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے تاکہ زندگی کے تمام ہی شعبہ حیا ت ؛دین و مذہب، اخلاق، سماج،تعلیم،معاش اور سیاست اس کی خباثت سے نکل کر انسانوں کو حقیقی زندگی پر عمل کرنے میں معاون و مددگار ہوں۔ساتھ ہی سرمایہ دارانہ ستعماراور "انتہا پسندی" و "دہشت گردی"جیسے مذموم نعروں کی آڑ میں مظلومین کا بڑے پیمانہ پر جوآج استحصال جاری ہے اُس پر قابو پایا جا سکے۔گرچہ کمیونزم اور سوشلزم کو شکست ہو گئی ہے اس کے باوجودمذکورہ دونوں نظریات اپنی نوع کے اعتبار سے اصل نظریات نہیں ہیںبلکہ لبرلزم اور سیکولرزم کے ہی محض فروع ہیں۔ان حالات میں مسلم ممالک ہوں یا دیگر ،دونوں ہی لبرل ازم اور سیکولرازم کی جکڑ بندیوں میں بری طرح گھرے ہوئے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ مسلم ممالک کے بیشترسیکولر حکمراں ذاتی مفادات کے پیش نظر مغربی طاقتوں کے ہمنوا بلکہ آلہ کاربنے ہوئے ہیں ۔وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی اکثریت لبرلزم اور سیکولرزم کو نہ سمجھنے کے باعث اس لڑائی کو ایک گومگو کی حالت میں دیکھ رہی ہے۔ لبرلزم اور سیکولرزم کے وہ علَم بردار جو مسلمان ممالک کے شہری ہیں عوام الناس کو دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ خدا، رسول، قرآن اور اسلام کا نام لیتے ہیں مگر عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ سے بدکتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک آدمی بیک وقت مسلمان اور سیکولر یا لبرل ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ سیاسی ، ادبی، صحافتی اور ثقافتی حلقوں میں اثر و نفوذ رکھتے ہیں اور ذرائع ابلاغ اور حکومتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نہایت آہستگی اور خاموشی کے ساتھ معاشرے کے تمام شعبوں سے خدا اور اسلام کو بے دخل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سیکولرزم کی ساخت کے عین مطابق یہ سیکولر حکمراں یا دانش ور مسلمانوں کے عقائد ،مراسمِ عبودیت اور رسوم و رواج کی نہ صرف یہ کہ مخالفت نہیں کرتے بلکہ خود بھی ان کو اختیار کر کے عوام کو اپنے متعلق پکے مسلمان ہونے کا تا ثر دیتے ہیں اور مسلمان ہیں کہ ان سے لگاتاردھوکا کھا ئے جا رہے ہیں۔

        لفظ 'لبرل'، قدیم روم کی لاطینی زبان کے لفظ'لائیبر' (liber ) اور پھر'لائبرالس' (liberalis) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے"آزاد، جو غلام نہ ہو"۔آٹھویں صدی عیسوی تک اس لفظ کے معنی ایک آزاد آدمی ہی تھا۔بعد میں یہ لفظ ایک ایسے شخص کے لیے بولا جانے لگا جو فکری طور پر آزاد، تعلیم یافتہ اور کشادہ ذہن کا مالک ہو۔اٹھارھویں صدی عیسوی اور اس کے بعد اس کے معنوں میں خدا یا کسی اور مافوق الفطرت ہستی یا مافوق الفطرت ذرائع سے حاصل ہونے والی تعلیمات سے آزادی بھی شامل کر لی گئی، یعنی اب لبرل سے مراد ایسا شخص لیا جانے لگا جو خدا اور پیغمبروں کی تعلیمات اور مذہبی اقدار کی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتا ہو، اور لبرلزم سے مراد اسی آزاد روش پر مبنی وہ فلسفہ و نظامِ اوراخلاق و سیاست ہوا جس پر کوئی گروہ یا معاشرہ عمل کرے۔یہ تبدیلی اٹلی سے چودھویں صدی عیسوی میں شروع ہونے والی تحریکِ احیاے علوم (یعنیrebirth of renaissance)کے اثرات یورپ میں پھیلنے سے آئی۔برطانوی فلسفی جان لاک (1620ء۔ 1704ء) پہلا شخص ہے جس نے لبرلزم کو باقاعدہ ایک فلسفہ اور طرزِ فکر کی شکل دی۔یہ شخص عیسائیت کے مروّجہ عقیدے کو نہیں مانتا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ بنی نوعِ انسان کو آدم کے اس گناہ کی سزا ایک منصف خدا کیوں کر دے سکتا ہے جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔عیسائیت کے ایسے عقائد سے اس کی آزادی اس کی ساری فکر پر غالب آگئی اور خدا اور مذہب پیچھے رہ گئے۔ انقلابِ فرانس کے فکری رہنما والٹئیر (1694ء۔ 1778ء) اور روسو (1712ء۔ 1778ء) اگرچہ رسمی طور پر عیسائی تھے مگر فکری طور پر جان لاک سے متاثر تھے۔ انھی لوگوں کی فکر کی روشنی میں انقلابِ فرانس کے بعدفرانس کے قوانین میں مذہبی اقدار سے آزادی کے اختیار کو قانونی تحفّظ دیا گیا اور اسے ریاستی امور کی صورت گری کے لیے بنیاد بنا دیا گیا۔امریکا کے اعلانِ آزادی(American Declaration of Indipendence) میں بھی شخصی آزادی کی ضمانت جان لاک کی فکر سے متاثر ہو کر دی گئی ہے (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا، وکی پیڈیا اور اوکسفرڈ ڈکشنری) ۔دنیا کے مختلف ممالک میں خدا، حیات بعد الموت اور دین اسلام کی دنیاوی امور سے متعلق تعلیمات کے بارے میں آج جوبے اطمینانی پائی جاتی ہے، اس کا سرچشمہ یہی یورپ کی خدا اور اس کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے برگشتہ فکر ہے جس کی ذرا سخت قسم لبرلزم اور کچھ نرم سیکولرزم ہے۔یہ لبرل ازم اور سیکولرازم ہی ہے جس نے موجودہ دور کے عصری تعلیمی اداروں میں "تصور وحی کی نہی "جیسے تعلیمی نظام کو یا تو فروغ دینے یا اس کا آلہکار بننے پر مجبور کیا ہے۔نتیجتاً ہر خاص و عام مادیت اور آوارگی نفسانی خواہشات میں مبتلا ہوگیا۔

        آج امت کو درپیش مسائل کا واحد راستہ یہی ہے کہ حقائق اور واقعات کا جرات و دور اندیشی اور صحیح دینی روح وبصیرت کے ساتھ سامنا کیا جائے۔ ملک ِ عزیز میں دین کی صحیح تعلیم کے مطابق ہمہ گیر، صالح اور ضروری تبدلی کے لیے صدق دل اور اخلاص نیت کے ساتھ کوشش کی جائے ۔جن چیزوں کا ازالہ اور سدّ باب ضروری ہو ان کا سدباب کیا جائے اور جن اصلاحات کا نفاذ اور جن اسکیموں کا آغاز ضروری ہو، ان کے آغاز میں دیر نہ کی جائے۔ اسلام، قرآن اور سنت رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی روشنی میںاسلامی حدود کے مطابق معاشرہ میں مساوات اور انصاف قائم کیا جائے۔ اہل ملک کی خوش حالی اور فارغ البالی کے لیے ضروری قدم اٹھائے جائیں، کم از کم جمہور کے ہر فرد کے لیے امکانی حد تک ضروریات زندگی کا بندو بست ہو۔اس بے جا اسراف اور حد سے بڑھی ہوئی فضول خرچی کو ختم کیا جائے جو عوام کی حقیقی ضروریات بھی پوری ہونے نہیں دیتی۔ اغنیا و اہل ثروت میں ایثار کا مادہ، اور ضروریات سے فاضل مال کے خرچ کا جذبہ اور "یسئلو نک ماذا ینفقون، قل العفوا"پر عمل کرنے کا شوق ہو ۔فقراءمیں استغناءو خود داری اور اپنے گاڑھے پسینہ اور محنت و قابلیت سے اپنی ضروریات زندگی کے بندوبست کا جذبہ ہو۔نظام تعلیم کو نئے سرے سے اس طرح ڈھالا جائے کہ وہ اسلام کے عقائد و اصول اور عصر جدید کے تغیرات اور علوم و سائل دونوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور دونوں کے تقاضے پورے کرتا ہو۔ نئی نسل میں ایک طرف ایمان و یقین ،اخلاقی قوت، استقامت، خود اعتمادی و خودداری ،اپنے دین پر غیر متزلزل یقین اور اس کے لیے جذبہ قربانی ہو۔تو وہیں دوسری طرف قوتِ ایجاد، فکری استقلال، بلند ہمتی اور اولوالعزمی پیدا کرنے اور جرات و ذہانت کے ساتھ مغرب کا مقابلہ کرنے کا جوہر اور اوصاف پیداکیے جائیں۔اس کے لیے لاز م ہے کہ ہر باشعور مسلمان ایک پھر تجدید شہادت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے منظم سعی و جہد کا آغاز کرے۔حصول مقاصد کے لیے لازم ہے کہ صحیح اسلامی بنیادوں پرمسلمان یا تو خود ایک گروہ مخصوص تشکیل دیں بصورت دیگر موجودہ اسلامی تحریکات کا وہ حصہ بن جائیں! 

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top