اخلاق و کردار کا اسلامی تصور


اخلاق و کردار کا اسلامی تصور


اللہ تعالی نے دنیا میں انسانوں کے لیے بے شمار چیزیں پیدا کیںجس کے ذریعہ وہ سکون و عافیت کے ساتھ اپنی ضرورتوںکی تکمیل کرسکتے ہیں ۔اسی کے ساتھ ربِ اعلیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کا بھی مکمل انتظام فرمایا تاکہ جب انسان اس دنیا کی وقتی زندگی کوگزارنے کے بعد اپنے اصل مقام پر پہنچیں اوراپنے حقیقی خالق کے حضور پیش ہوں تورب کی رضا حاصل ہو جائے اور انسان اپنے رب کے وعدوں کو برحق جانے۔ خوشی، اطمینان اور کامیابی و کامرانی اس کا مقدر ٹھہرے۔اس غرض کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے کے ساتھ ہی اس کی رہنمائی کا بھی مکمل انتظام فرمادیا ہے۔


انسان کا عام طور پر سب سے پہلے اپنے ماں باپ،بھائی بہن اوراعزا و اقارب سے واسطہ پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ رشتہ داروں، پڑوسیوں اور علاقہ کے دیگر لوگوں سے ساتھ تعلقات اورمعاملات پیش آتے ہیں۔ اس سے آگے شہر،ملک اور دنیا کے لوگوں سے مختلف معاہدے اور معاملات طے ہوتے ہیں۔ان مراحل میں ایک طرف ذمہ داریاں انجام دی جاتی ہیںتو دوسری طرف فرائض ادا کیے جاتے ہیں۔اس طرح معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے اور انسانوں کی اجتماعیت وجود میں آتی ہے ۔معاشرہ انسانوں کے گروہ، قبیلے ، ممالک اور مذاہب کی بنیادوں پروجود پذیر ہوتا ہے۔ انسان کے دیگر انسانوں سے معاشرتی بنیادوں پر تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ تعلقات اور معاملات ہمیشہ اصولوں مبنی ہوتے ہیں۔یہی تعلقات اور معاملات انسان کے رویہ کا اظہار بنتے ہیںجس کو ہم عام فہم الفاظ میں اخلاق سے تعبیر کرتے ہیں۔ معاملات جس قدر صاف اور اخلاق جس قدر اعلیٰ ہوتے ہیں اسی قدر ایسے شخص، گروہ یا نظریہ کے حامل افراد دیگر لوگوں کو اپنی جانب متاثر و متوجہ کرتے ہیں۔یہی وہ اعمال ہیں جو انسان کے اخلاق و کردارکی عکاسی کرتے ہیں۔ کردار فرد واحد کا بھی ہو سکتا ہے اور قوموں،گروہوں،ممالک و مذاہب کا بھی۔


معنی و مفہوم:

اخلاق کے معنی لوگوں پر احسان کرنا،دوسروں کی تکالیف کو دور کرنا اور اُن کے لیے مصیبت اٹھانا ہے۔اخلاق خلق کی جمع ہے جس کے معنی سیرت اور باطن کے ہیں اس کو ہم سر شت سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔ علماءاخلاق اور فلاسفہ نے بھی اخلاق کے لیے خاص اصطلاح و ضع کی ہے جو لغوی معنی سے بے ربط نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اخلاق کو سعادت و کمال تک پہنچنے کا ذریعہ اور مادی و معنوی کمال حاصل کرنے کا سرمایہ قرار دیا ہے۔ اخلاق ایسا عمل ہے جس کے سہارے غرائز و محرکات کی شناخت کرکے ان میں توازن پیدا کیا جا تا ہے اور ان سے انسانی کمالات اور اہداف عالیہ کی طرف بڑھا جاتا ہے۔ علم اخلاق میں خاص طور سے ان ہی امور سے بحث کی جاتی ہے۔اخلاق کا مقصد انسان کو رفتار و کردار میں غلطی سے بچانا اور کمال کی راہیں روشن کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں عدل و انصاف پر امن اور بھائی چارے سے سرشار نیز سعادت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔


فلسفہءاخلاق:

جرمن فلسفی کانت اخلاق اور قانون میں جدائی ڈالنے میں سب سے پیش پیش ہیں ۔کانت کی نظر میں وہ فعل اخلاقی ہے جو نیک نیتی سے انجام دیا گیا ہو۔لہذا اگر کسی نے سزا کے ڈر سے کوئی کام بخوبی انجام دیا ہو تو اسے اچھا کام نہیں کہ سکتے ۔ کانت کی نظر میں جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ فریضے کی انجام دہی کی نیت اور قانون کی پیروی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کام میں جو فریضے کے مطابق انجام دیا گیا ہو اور جو کام فریضے کی ادائیگی کے لیے انجام دیا گیا ہو کافی فرق ہے۔ اور صرف وہ کام جو فریضے کی ادائیگی کے لیے انجام دیا گیا ہے وہی اخلاقی حیثیت کا حامل ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو لوگوں کی مدد کرنے میں سکون محسوس ہوتا ہے اور وہ اسی وجہ سے لوگوں کی مدد کرتا ہے تو اس کا یہ عمل اخلاقی نہیں کہلائے گا۔


جاری>>>>http://www.zindgienau.com/Issues/2010/september2010/Print_Page_55.asp

CONVERSATION

Back
to top