سیاسی قوت کا حصول اور ہندوسانی مسلمان



سیاسی قوت کا حصول اور ہندوسانی مسلمان




ہندوستان کاموجودہ سیاسی ڈھانچہ اسکا کردار اور اس میں مسلمانوں کے سیاسی اختیارات اہم موضوعات ہےں۔ جن کو ایک طے شدہ وقت میں سمیٹنا،اوران پر اظہار خیال کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ لیکن ہندوستانی مسلمان لگتا ہے کہ ایک طویل عرصہ کے بعد ایک بار پھر اس موضوع پر غور و فکر کرنے، اس سلسلے میں درپیش مسائل سے نمٹنے نیز ایک بہت بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک کے اندر (جس کے دونوں رخ اب عوام و خواص اور دنیا کے سامنے آچکے ہیں) اپنے تشخص اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔ اس کے لئے ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ وہ تعلیمی،تمدنی،معاشی،معاشرتی اور سماجی میدان میں آگے بڑھیں،اپنے حقوق کے لئے کوشاں ہوں، اسکے لئے جدوجہد کریں، اپنے کاموں کو منصوبہ بند انداز میں انجام دیں، اتحاد و اتفاق کا ماحول پیدا کریں، اپنے ذیلی اختلافات کو ختم کریںاو ر اسلامی تعلیمات کو صحیح انداز میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اسلام امن و امان کا داعی ہے اور وہ دنیا کے لوگوں کے لئے امن کا خواہاں ہے، ظلم کو وہ پسندنہیں کرتا اور ظالم کا ہاتھ کاٹ دینا چاہتا ہے یعنی ظلم کو دنیا سے ختم کر دینا چاہتا ہے۔ جہاں اس طرح کے خیالات، احساسات اور فکر پیدا ہوئی ہے ، وہیں دوسری طرف یہ احساس بھی پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ مسلمان اپنے سیاسی اختیارات کی جانب بھی متوجہ ہوں۔ اور اس سلسلے میں شدت کے ساتھ جدوجہدکریں۔ یہ اس سلسلے کا ابتدائی دور ہے جسکو ہم بہ خوبی دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا اسلام اسکی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ کسی شخص کے اندر کسی اچھی حِس کا پیدا ہونا یا ختم ہوجانا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ وہ اچھے کاموں کی جانب گامزن ہوگا یا اچھائیوں سے دور ہونے کے نتیجہ میں گمراہی و ظلالت کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔ لیکن اگر یہ حِس یعنی برائیوں کو ختم کرنے اور اچھائی یا سلامتی پھیلانے کی حسِ کسی قوم یا ملت کے اندر محسوس کی جانے لگے تو ابتدائی دور اسکے اپنوں کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی ایک بہت بڑا challenge ثابت ہوگا اور ایسے ماحول میں خود اسکے اپنے سمجھنے والے ،جن کے مفادات دوسروں سے وابستہ ہیں وہ بھی رکاوٹ اور راستہ کا کانٹا بنیں گے اور ساتھ ہی ساتھ وہ لوگ بھی جنکے مفادات ان سے باالواسطہ (direct) جڑے ہوئے ہیں۔




http://www.zindgienau.com/Issues/2010/april2010/Print_Page_57.asp :جاری



CONVERSATION

Back
to top