اسلامی ریاست کے دستور کی اوّلین دفع



کہا کہ: "کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے یہ شایانِ شان ہے ہی نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ فرمادیں تو پھر بھی اپنے معاملے میں ان کے پاس کوئی اختیار باقی رہ جائے"(الاحزاب:۵۳)۔معلوم ہو ا کہ اللہ اور رسول کا فیصلہ آخری ہے اور اگر اس میں بھی اپنی رائے کو شمار کر لیا جائے تو پھر یہ بات قابلِ اعتراض ہی نہیں بلکہ منافقانہ بھی ٹھہرے گی۔اور اگر یہ احساس ذہن میں پیدا ہو جائے کہ اللہ اور رسول کے فیصلہ کے بعد بھی میرے پاس کچھ اختیار موجود ہے تو پھر ایمان کہاں رہا؟ لہذا ایسی حالت میں ایمان کی نفی ہوگی۔اس ہی لیے کہا گیا کہ:"اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا ارتکاب کرے گا (تو وہ جان لے کہ )وہ بڑی صریح گمراہی میں مبتلا ہو گیا"(الاحزاب:۵۳)۔معلوم ہو ا کہ انسان کی انفرادی زندگی میں مختلف حالات و کیفیات رونما ہوتی رہتی ہیں، کبھی خوش گوار تو کبھی ناگوار۔ان حالات میں خوشگواری پیدا کرنی ہوگی تو وہ بھی اللہ کے لیے اور ناگواری برداشت کرنا ہوگی تو وہ بھی اس کے حضور عابدوں میں شامل ہونے کے لیے۔یہ آیت ایک خاص پس منظر میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کا پیغام ہر خاص و عام حالات پر منطبق ہوتے ہیں۔کیونکہ انسان کے اعضاءو جوارح سے مختلف اوقات میں کچھ نہ کچھ صادر یا خارج ہوتا رہتا ہے۔اور ان تمام اعمال کے صحیح یا غلط ہونے کو اس ایک آیت کی روشنی میں جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے کہ آیا انسان کا عمل صحیح ہے یا غلط۔غور فرمائیےجب ہم بات کرتے ہیں اور زبان سے الفاظ نکلتے ہیں تو اس سے بھی قبل دماغ میں تحریک پیدا ہوتی ہے یعنی دماغ ان الفاظ کے نکلنے سے پہلے متحرک ہو جاتا ہے، ہونٹ حرکت میں آتے ہیں اور زبان ہلنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔یہ دماغ کا حرکت میں آنا، ہونٹوں کا ہلنا، زباںکی جمبش ،ایک طرف تواس پورے عمل میں انسان کی اپنی مرضی شامل نہیں ہے مطلب یہ کہ اگر اللہ چاہے تبھی یہ ممکن ہے کہ یہ سارے اعضاءجمبش کر سکیں ورنہ نہیں لیکن دوسری طرف الفاظ کی ادا ئیگی میںجو احتیات برتنی ہے ،وہ ہمارے اختیارات میں شامل ہے۔اور وہ یہ کہ جو الفاظ بھی نکلیں اور جو عمل بھی صادر ہو وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سانچے میں ڈھل کر صادر ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قدرتِ اختیار عطا کی ہے اسی لیے کہا کہ:"اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُورًا۔۔۔"۔اختیار کیا دیا گیا ہے اور کس چیز کا؟تواس میں پہلی چیز جذبات ہیں کہ ان کو صحیح رخ عطا کیا جائے، پھر احساسات ہیں جو عام طور پر افکار و نظریات پر منحصر ہوتے ہیں۔اور ان تمام چیزوں کے تعاون و اشتراک کا انحصار ہماری اس تربیت گاہ پر منحصر ہے جو ہمیں ہر لمحہ اور ہر لحظہ پستی و بلندی پر گامزن رکھتی ہے۔


CONVERSATION

Back
to top