علمی اور فکری ارتقاء

علمی اور فکری ارتقاء:ایک ضرورت

          اللہ تعالیٰ نے دنیا کو انسانوں کے لیے بنایااوراس دنیا کی زندگی کے آغاز میں جبکہ وہ ایک طفل کی مانند تھی اس وقت رہنمائی کے لئے نبیوں کے سلسلے کا آغاز کیا تاکہ ہدایت و رہنمائی مسلسل حاصل ہوتی رہے۔ اس اہم ذمہ داری پر ایک لاکھ چالیس ہزار نبیوں کے سلسلے کو مبعوث کیااور نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کے ذریعہ نبیوں کے سلسلے کا اختتام کر دیا گیا۔آج نبی کریم کوبھی اس دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً پندرہ صد یاں مکمل ہونے کو ہیں۔آغازہی میں فکر کو صا لحیت سے ہمکنارکیا اورجس قدر اس کو ضرورت تھی اس ہی قدرپختگی عطا کی گئی۔ تہذیب و تمدن سے نوازا گیا اور پھر رفتہ رفتہ وقت اور ضرورت کا لحاظ رکھتے ہوئے مزید رہنمائی دی جاتی رہی۔ ایک طرف اسلام نے تہذیب و تمدن عطا کیا تو دوسری طرف عقل انسانی نے بھی اپنے جوہر دکھائے۔کبھی اسلام کی چہاردیواری میں رہ کر زندگیاں بسر کی گئیں توکبھی اس سے دوری پیدا کرنا اپنی شان سمجھا گیا۔کبھی محدود عقل کو ٹھندے اور میٹھے دریاں سے سیراب کیا گیا تو کبھی گندے نالوں اور جامد پانی کے ڈھیروں سے حیات جاویداںطلب کی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے چند لوگوں کے زیادہ تر لوگ اِدھر اُدھر بھٹکتے رہے اور پھر بھٹکنے والوں کی تعداد میں آنے والی ہر نئی صبح اضافہ ہی ہوتا گیا۔ آج یہ تعداد اپنے بامِ عروج پر ہے۔اُن لوگوں نے گمراہیوں میں لت پت ہونے کے باوجود اس گندی دلدل ہی میں رہنا پسند کیا جس کو اگر ایک مرتبہ وہ اپنی آنکھ سے دیکھ لےتے توشاید وہ اپنی ہلاکت پسند کرتے لیکن دوبارہ اس کا رخ نہ کرتے لیکن ان کی آنکھوں پرپٹی باندھی گئی جس کووہ اپنی کم علمی اور کم فہمی کی بنا پر باندھے گھومتے رہے اور نظرکچھ نہ آیا ۔اس کے با وجود وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے، سب کچھ جانتے تھے ،اور ان کوکسی ایسے درس کی بھی ضرورت نہیں جس سے ان کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھل جائے ۔ وجہ؟کچھ نہیں ! سوائے اس کے کہ وہ اس کے عادی ہو چکے تھے اور اپنی عادت کو بدلنا نہیں چاہتے۔بس آج بھی یہی حقیقت ہے اس گروہ کی جو اپنے آپ کو تہذیب و تمدن کاعلمبر دارسمجھتا ہے اوراپنی فرعو نیت کو چہار جانب پھیلانے کا خواہاں ہے۔اس کے بر عکس اس گروہ کا بھی عجب حال ہے جو اپنی الگ پہچان،الگ ضابطہ حیات رکھنے کے باوجو اِس بات کا خواہاں ہے کہ اُس جیسی چال ڈھال کو اپنا کر اُن ہی جیسا بن جائے جس کا تذکرہ اوپر آچکا ہے۔

نام نہاد انسانیت کے علمبردار:
          آج جس تہذیب کا سکہ دنیا پر چھایا ہوا ہے اگر اس کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود ہی اس مقام تک نہیں پہنچ گئی بلکہ اس کے لئے منظم کوششیں کی گئیں۔ اپنی آرزںاور تمناں کو دنیا پر مسلط کرنے کے لئے قربانیاں دی گئیں۔ اس کو ہمہ گیر بنانے کے لئے کبھی معصوموں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں تو کبھی نام نہاد انسا نیت کے علمبر داروں نے انسانوں کوگھروں سے گھسیٹ کر ان میدانوں میں لا کر پھینک دیا جہاں وہ درندوں کا لقمہ اجل بنیں۔ نیز ان کومادہ پرستانہ تہذیب کے رنگ میں رنگنے کی کو ششیں کی گئیں جس کے پیچھے ان کااصل مقصد خدا پرستانہ اصول و اقدار اور تہذیب و ثقافت کو جڑ سے اکھاڑ کر نئے طرز فکر، نئے دل و دماغ اور نئے مقاصد کا فروغ تھا۔ انھوں نے دولت کے ایسے انبار لگائے اور ایسی سبز و شا داب وادیوں کی سیر کرائی جوحقیقت میں تو خواب ہی تھے مگر اس کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ”معصوم انسانوں“ کے ذہنوں کو بدل دیا۔ پھر خیرو شر میں سب سے بلند مقام دولت کو حاصل ہوا جس نے انسانیت کو بد ترین درجہ کے گرہوں میں تبدیل کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اشتراکیت مستحکم ہوئی اور اسلامی فکر کے علمبردار جو بہت کمزور ہو گئے تھے احساس کمتری کا شکار ہو تے گئے۔ مفکرین و مصلحین نیز حکمرانوں کی ایک بڑی تعداد احساس کمتری کاشکار ہو کر یہ سمجھ بیٹھی کہ اسلام اب ماضی کا قصہ ہے۔ اگر اس کی ضرورت ہے تو بس عبادات کی حد تک جہاں تک دنیا وی نظام کو چلانے کی بات ہے تو وہ نظامِ حکومت اِن ہی مغربی مفکرین کے پاس ہے جو آج دنیا کے امام بنے بیٹھے ہیں۔جو آج اپنے ہاتھ میں دنیا کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس احساس کمتری کی اصل وجہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے دوری اور ناواقفیت تھی اور یہی صورتحال ہم آج کے" روشن خیال"طبقے میں بھی موجود پاتے ہیں۔

           غور کریں تو معلوم ہوتاکہ صرف مو جودہ حلات میں ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لئے ہر دور میں ایک ایسا گروہ نا گزیر رہا ہے جو نہ صرف اسلامی زندگی کے ہر میدان میں نمایاں خدمات انجام دےتا رہا ہو بلکہ علمی اور فکری لحاظ سے وہ اس قدر مضبوط ہو کہ اسلام کے خلاف اور اسلام کے نظام حیات سے ٹکرانے والی ہر فکر کا موثر اور مدلل جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جہاں غیر اسلامی فکر کے حاملین و مفکرین کے لئے یہ چیز معنی خیز نہیں کہ اس فکر کے علمبردار ہونے کی حیثیت سے خود ان کا عقیدہ کس قدر مضبوط ہے اور عملی میدان میں ان کی زندگیاں کیا شہادت دے رہی ہیں۔اس کے برخلاف اسلامی فکر اور اس کے علمبرداروں کے لئے یہ چیز لازمی ہے کہ ن کے عمل اور ان کی فکر میں تضاد نہ پایا جائے۔

          اس اہم ترین نکتہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فکر کے علمبرداروں کے لئے علمی،فکری اور عملی میدان میں ربط و یکسانیت رکھنا نا گزیر ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اسلام کی فکری تحقیقات کو دیگر نظریات سے الگ کر دیتی ہے۔اس سے و اضح ہوا کہ عمل کے لئے مضبوط فکر ضروری ہے اور فکر کے لئے علم کا ہونا لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔وہیں دوسری طرف محقق کا علم اور اس علم کی بنیاد پراس کاعمل کس حد تک یکسانیت رکھتا ہے یہ بھی غور کرنے کے قابل ہے اور اسلام میں اس چیز کی ہی اہمیت ہے۔ پھر دنیا بھی اس ہی نقطہ نظر سے دیکھتی اور پرکھتی ہے۔یہ ممکن ہے کہ کسی کا کل ،آج سے مختلف ہو یعنی ماضی اور حال میں تضاد ہو سکتا ہے اور ہم بھی ماضی کی بات نہیں کریں گے صرف حال اور مستقبل کی ہی بات کریں گے۔ لیکن آج اگر علم اور عمل میں تضاد ہوتا ہے تو یہ ایک مسلمان کے لئے بہتر علامت نہیں ہوگی۔

          ایک زمانے میں کلیسا سے بغاوت کے نتیجہ میں مذہب کو اور مذہب کی جائز پابندیوں کو بھی زندگی کے ہر میدان سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا۔نتیجتاً ایک ایسے سماج کا جنم ہوا جہاں زندگی کے کسی بھی مر حلہ میں کوئی قید نہیں جہاں نہ صرف خاندان تباہ ہوئے بلکہ تہذیب و تمدن کی بنیادیں تک تبدیل ہو گئیں۔ ”روشن خیالی“ کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک اسلامی تعلیمات و عقائد اپنے آپ میں مکمل جاذبیت رکھنے کے با وجود اسلام اور اسلامی تعلیمات سے بغض رکھنے والوں کے لئے چلینج بنے رہے ہیں۔لہذا یہ قوتیں مختلف مفروضوں کے تحت حملے کرتی رہی ہیںاور آج بھی کر رہی ہیں۔افسوس! کہ دوسری جانب ان باہری حملوں سے جس قدر اسلام کو کسی بھی دور میں نقصان نہ پہنچا ہوگا اس سے کہیں زیادہ ”روشن خیالی“ اور خود ساختہ مفکرین و مصلحین نے اسلام کو خوب ہی خوب ضربیں لگائی اور لگائے چلے جا رہے ہیں اور ان کی معصومیت کی انتہا یہ کہ وہ خود اس بات سے ناواقف ہیں۔

اسلام بمعنی رحمت:
          اسلام ! جس نے بنی نوع کو علم کی دولت سے نوزا ، غوروفکر کرنے کے لئے کہا، تحقیق و جستجو جسکی بنیاد ہے۔ اﷲ تعالی نے دنیا میں انسان کے لئے جو بیشمار نعمتیں رکھی ہیں ان کے حصول کی دعوت دی اور ان سے فیضیاب ہونے کی تلقین کی۔ جب تک مسلمانوں نے اس پر عمل کیا دنیا کے امام کی حیثیت سے رہے اور جب ان چیزوں کو جس جس مرحلہ میں چھوڑ تے گئے اس ہی طرح مغلوب اور ناکام ہوتے گئے۔ جب تک قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر اسلامی فکر سے سیراب ہوئے اور مسائل کو حل کیا۔ تب تک مسائل بھی حل ہوئے اور ہر طرح کا آرام و سکون بھی میسّر آیا۔ لیکن جیسے جیسے اسلامی فکر و عمل سے دوری ہوئی ان کی ذہنی ساخت بھی کمزور ہوتی گئی۔نتیجتاً ایک دور ایسا بھی آیا کہ علم و فکر اور عمل سے عاری مسلمان اسلامی تعلیمات سے عملی زندگی میںبھی دور ہو گئے۔ ”روشن خیالی“ کے بہا میں بہنا نہ صرف ان کی مجبوری بن گئی بلکہ ان کی پسند بھی بنتی چلی گئی ۔ اپنے مضبوط تناور درخت سے وہ ایک ایک پتتے کی طرح ٹوٹتے اور بکھرتے چلے گئے۔ پانی کے تیز دھارے سے مقابلہ کرنا ان کے لئے خود کو موت کے گھات اتارنے کے برابر ہو گیا اور دہکتی آگ میں وہ اس قدر جھلس گئے کہ اپنی شناخت ہی کھو بیٹھے۔

          ایسا نہیں ہے کہ اسلامی فکر رکھنے والے لوگ نا پید ہوگئے یا کسی بھی زمانے میں نایاب ہو گئے بلکہ سچ یہ ہے کہ جس زمانے میں بھی جس قدر ان کی تعداد رہی اس سے کہیں زیادہ ان کی کو ششوں کے مثبت نتائج برامد ہوئے۔ دراصل علم وہ ہے جس پر مضبوط فکر کی تعمیر کی جا سکے اور فکر وہ جو عمل میں تبدیل ہوکر دنیا کو فیضیاب کر سکے۔ ان تینوں چیزوں میں جہاں اور جتنی بھی کمی ہوگی اس کے نتائج بھی اتنے ہی کم حاصل ہو سکیں گے۔ پانی کے تیز بہا میں بہنا نہایت آسان ہے لیکن اگر اس تیز بہا کے رخ کو بدلنے کی جر ات ہو تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ بدن میں دردہو، ہاتھ پیر سوج جائیں، تیز بہا میں بہتی ہوئی چیزوں سے ٹکرانے کے نتیجہ میں ہاتھ پاں کی ہڈیاں ٹوٹےں اور وقتی طور پر کچھ اس سے بھی بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑجائے۔ لیکن جو لوگ اس بہا کا رخ بدلنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کو پورا یقین بھی ہو کہ پانی کا بہا ان کو بربادی و تباہی کی طرف بہت تیزی کے ساتھ لئے جا رہا ہے تو ایسے میں یہ چھوٹی آزمائش برداشت کرنا شاید اس سے کہیں بہتر ہو کہ حالات کے دھارے پر بہہ جایا جائے ۔

بصیرت افروز نگاہ:
          ضروری ہواکہ آزمائشوں کو برداشت کرنے سے پہلے اُن راہوں کا صحیح فہم ہونا چاہئے جو بربادی سے بچا کر ہدایت و فلاح فراہم کرانے والی ہیں۔ اگریہ بصیرت نہ ہو تو ان سے ٹکرانا تو درکنار ان سے ٹکرانے کے بارے میں سوچنابھی اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہو جا ئے گا۔ کیونکہ اﷲ تعالی نے انسانوں کو یہ نعمت دی ہے کہ وہ علم و فہم کی بنا پر فیصلہ کریں۔ اور جہاں یہ علم نہیں ہوتا وہاں فیصلے بھی صحیح نہیں ہو پاتے یا جس درجہ کا علم ہوتا ہے اسی درجہ کے فیصلے لیے جاتے ہیں۔ لہذا یہ بات پوری طرح عیاں ہوگئی کہ باطل کے تیز بہا کے رخ کو موڑنے والوں کے لئے خودعلمی،فکری اورعملی بنیادوں پر پختہ ہوناچاہئے۔ یہی پختگی ان کے کردار کو اس درجہ بلند کر دیتی ہے جس کے بعد وہ بہ آسانی اس طوفان کے سامنے ڈٹ جانے کے لائق ہو جائیں نیز اس کے رخ کو موڑنے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔

          تمدنِ انسانی کے ہر دور میں دو ہی طرح کی کو ششیں نظر آتی ہیں ایک طرف گروہ انسانی شروفساد کے علمبردار کی حیثیت سے اٹھتا ہے تو دوسری طرف خیروفلاح کا داعی بن کر۔کبھی وہ تخریب اور بگاڑ کے فاسد طوفان کی شکل میں ظاہر ہوتاہے تو کہیں امن و سکون کا پیکر بن کر۔ کبھی ایک فرد اور کبھی ایک پورے کا پورا انبوہ ایک عارضی جنت کی تعمیر میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور اپنا سرمائیہ حیات گنوادیتا ہے تو کچھ ایسے بلند حوصلہ بھی پیدا ہوتے ہیں جو نیکی ، سچائی اور انصاف کا سکہ چلا کر دنیا سے رخصت ہو تے ہیں۔ یہی وہ شخصیات ہیں جن کے دم سے دنیا فیض یاب ہوتی ہے، تمدن میں نکھار آتا ہے، اﷲ کی زمین پر اﷲ کی بڑائی بیان کی جاتی ہے، انسان اپنا ارتقاءکرتا ہے،یہاں تک کہ انسان فرشتوں سے اوپر اٹھ جاتاہے۔ اﷲ تعالی جو رب العالمین ہے ایسے ہی انسان اور گروہ کو اپنے خاص فیض سے مالامال کرتاہے اور اپنے پسندیدہ بندوں میں شمار کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی ساری نعمتیں نچھاور کر دیتاہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب علمِ صالح کی بنیاد پر قائم مثبت فکر سے لبریز پختہ افراد کے عمل بہ منظرِ عام ظاہر ہو جائیں کہ جس کی ہر زماں و مکاں کو تلاش رہی ہے۔

          ہم دیکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے تاریخ کی رگوں میںصالح و پائیدار روایات کا خون دوڑایا ہے۔ وہی ہیں جنھوں نے آسمانِ تہذیب پر اخلاقی اقدار کے تارے جگمگائے ہیں۔یہی ہیں جنھوں نے حوصلوں کو بلندیاں عطا کیں اور امیدوں اور ارمانوں کو واضح شکل عطا کی۔ ایسے ہی لوگوں نے قربانی اور جدوجہد کے نہ صرف درس دیئے بلکہ اپنی عملی زندگیاں بھی بطور نمونہ پیش کردیں اور قیامت تک کے لئے تاریخ میں ایسے ریکارڈ محفوظ کر دئیے جن سے روح و عمل کے سوتے بہتے ہوں او ر دنیا ان سے خوب ہی خوب سیراب ہو۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ جب ظلم و تشدد کرنے والوں نے ان کو چہار جا نب سے کبھی فکر ی میدان میں تو کبھی عملی میدان میں گھیرا تو انھوں نے ہمت نہ ہاری۔ جس مقام پر وہ کھڑے تھے اس سے پستی کی جانب نہ جا گرے بلکہ ان کا بھر پور مقابلہ کیا۔ ظالم جو دوسروں پر ظلم کرنے کے باوجود درحقیقت خود اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے نہ صرف ان کو بلکہ جہاں تک ان کی آواز پہنچی نوع انسانی کو شجاعت کا ایسا نمونہ پیش کیاکہ فکر و عمل کی رکی ہوئی ندیوں کو نئے سرے سے بہنا سکھا دیا۔ تمدن کے یخ بستہ سمندر میں پھر سے حرارت پیدا کردی۔ تغیر کی رو اٹھا کر سنگین نظام اور آہنی ماحول کو الٹ کر رکھ دیا۔ یہ وہی تھے جو کل بزدل تھے مگر آج میدانِ فکروعمل کی اگلی صفوں میں آکھڑے ہوئے۔

مثالی عمارت:
          آئیے ایک لمحہ کے لئے ٹھہر یں! اورسمجھنے کی کو شش کریں کہ ہماری بات کس جانب رواں دواں ہے اور ہمیں مطلوب کیا ہے ؟ معلوم ہواہم کسی ایسی عمارت کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جو علم کی وسیع وادیوں سے گزرتے ہوئے فکر کی ایسی عمارت تعمیر کرے جو عمل کی بھٹی میں خوب تپ کر اپنی پوری آن بان کے ساتھ دنیا کے سامنے ظاہر ہوجائے۔ اس کے دروازے اتنے بلند ہوں کہ اس میں بلند سے بلند تر چیز بھی داخل ہو جائے اور اس کی وسعت اس قدر ہو کہ اس میں اگر ایک جمِ غفیربیک وقت داخل ہونا چاہے تو داخل ہو سکے یعنی وہ نہ پست ہو اور نہ محدود۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیادیں اتنی گہری ومضبوط ہوں کہ تیز آندھی و طوفان تک اس کو ہلا نہ سکیں اوراس کی بلندی اس قدر ہو کہ آسمانوں سے کلام کر سکے۔ ساتھ ہی وہ اس قدر خوبصورت ہوکہ اس کی جانب اٹھنے والی ہرنگاہ اس کے نشیب و فراز سے واقف ہونے کے لئے بے چین ہو اٹھے اور انتہا یہ ہو کہ یہ صرف تمنا ہی بن کر نہ رہ جائے بلکہ اس کی گہرایوں میں اتر کر اس ہی کا ہوجائے اور پھر وہ اس قدر مضبوط ہو کہ دوام اس کا مقدر ٹھہرے۔

          آئیے! اب ہم کسی عمارت کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس میں کون کون سے اجزاءشامل ہوتے ہیں۔ ان کے کام اور ان کی حیات کتنی ہوتی ہے۔ کون سے اجزاءدیرپا ہوتے ہیں تو کون سے وقتی۔ ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی عمارت بنیادکے بغیر(اصولوں کے بنا ) قائم نہیں ہوسکتی۔ اس میں مضبوط اور بلند ستون (پختہ فکر و عمل کے حامل قائد و مفکر)ہوا کرتے ہیں جو اس عمارت کے ایک بڑے بوجھ کوبرداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اگر وہ نہ ہوںتو تیز آندھی و طوفان اور زمین میں اٹھنے والے زلزوں سے تو کیا ہوا کے ایک ہلکے جھونکے سے عمارت کسی بھی لمحے ڈھے سکتی ہے۔ ستون بوجھ کومختلف سمتوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ عمارت کے دیگر حصے بھی اس بوجھ کو براداشت کرنے کے لائق ہوجائیں۔ عمارت میں دیواریں (افراد) ہوتی ہیں جو اس کی باہری حملوں سے اجتماعی طور پر حفاظت کرتی ہیںاس حالت میں جبکہ وہ ایک دوسرے سے اچھی طرح سے جڑی ہوئی ہوں اور ان میں دراڑ نہ پائی جائے۔ دیواریں انیٹوں یا پتھروں (افرد)سے مل کر بنتی ہیں جن کی اجتماعی شکل میں تو بے انتہا اہمیت ہے لیکن اگر ان میں سے ایک دو یا چند انٹیں الگ ہوجائیں جبکہ ا ن کو کوئی ہٹادے (بد ظن کردے یاان کی فکروعمل میں تضاد پیدا ہوجائے) یا وہ خودہی اس قدر کمزور ہوچکی ہوں کہ ان کو ہٹا نا لازم ہوجائے تو ایسی صورت میں عمارت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر اس پر رنگ و روغن(وقتی تبدیلیاں) بھی ہوتا ہے جو بہت وقتی ہوتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد اس کے رنگ میں بد صورتی پیدا ہوجانے کے نتیجہ میں اس کو دوسرے رنگ سے تبدیل کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کی خوبصورتی میں فرق نہ واقع ہو۔ ہر عمارت میں چھت (طریقہ کار) ایک لازمی جز ہے جس سے اس کی شکل واضح ہوتی ہے نیز اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ عمارت کی تکمیل کرتی ہے۔

           عمارت عموماً دو ہی چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ایک اس کی بنیاد تو دوسرے ا س کے مضبوط ترین ستون۔ بنیاد اسلام کے اصول ہیں تو ستون مضبوط ترین قائدو مفکر جو عمارت میں دیگر چیزوں کو منضبط کرتے ہوئے اس کو شکل و مضبوطی بخشتے ہیں۔ ایک اینٹ اگر مختصر وقت میں پک کر بنتی ہے تو اس کے برخلاف ایک بڑی اور وسیع عمارت کے ستون کو تیار کرنے میں کئی گنا وقت درکا ہوتا ہے۔ اینٹ کی بنیاد نہیں ہوا کرتی، اس کو جس جگہ مناسب سمجھیں نسب کیا جا سکتا ہے۔لیکن ایک ستون بغیر بنیاد کے ہو ہی نہیں سکتانیز اس کی ایک جگہ متعین ہوتی ہے۔ چند ستونوں کے اطراف اگر انٹیوں کو اکھٹا کر کے دیواریں کھڑی کردی جائیں تو یہ ستون اس لائق ہو سکتے ہیں کہ ان کے ذریعہ عمارت تعمیر ہو جائے۔ آج وہ فکرو عمل سے مزین ستون درکار ہیں جو عمارت کو زندگی بخشنے والے ہوں۔

وقت کی آواز !
          اس سلسلے میں قرآنی فہم اگر ہم حاصل کرنا چاہیںتو صرف ایک ہی آیت میں پورا کلام سمٹ کر سامنے آجائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ’ بھلاسوچو جو شخص منھ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو“(المک:۲۲)۔ معلوم ہوا کہ جہاں ایک طرف علم والے اور جاہل یکساں نہیںو ہیںدوسری طرف آنکھوں والے اور اندھے برابر نہیں۔پس ! اسلام ہماری اس حال میں حوصلہ افزائی نہیں کرتا اور یہ ممکن بھی نہیں کہ ہم ایک طرف تو علم و فکر سے عاری ہوں اور وہیں دوسری طرف ہم ہی اﷲ کی نصرت حاصل کرنے والوں میں بھی شامل ہوجائیں۔ علم کے بغیر ہماری وہ عمارت تعمیر نہیں ہوسکتی جس کے ہم خواہاں ہیں۔نیز علم کے ساتھ ایسی بصیرت بھی درکار ہے جس کے ذریعہ قرآن و سنت میں واضح احکامات نہ ہونے کے باوجود اس عمل کو انجام دےا جا سکے جس کی جانب یہ حدیث رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت معاذؓبن جبل کو یمن کا گورنر بناتے وقت حضور نے آپ سے دریافت کیا:" میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اہل یمن پر حاکم بنا کر بھیجوں، وہاں تمہیں گوناگوں مسائل سے سابقہ پڑے گا۔ بتا جب تمہارے پاس کوئی جھگڑا آئے گاتو کس طرح فیصلہ کروگے؟ حضرت معاذؓ نے عرض کیا :کتاب اﷲ کے مطابق فیصلہ کروںگا۔ حضور نے پوچھا اگر تمہیں کتاب اﷲ میں کوئی نصّ صریح فیصلے کے لئے نہ ملے تو پھر کیا کروگے؟عرض کیاسنت رسول اﷲ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ حضور نے فرمایا اگر سنتِ نبوی میں تمہیں کوئی چیز نہ ملے؟ عرض کیا: پھر اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور ذرا بھی کوتاہی نہ کرونگا"۔ حضرت معاذؓ کے جوابات سن کر حضور بہت خوش ہوئے اور ان کے سینہ پر اپنا دستِ مبارک فرمایا اور کہا:"اﷲ کا شکر ہے، اس نے اﷲ کے رسول کے قاصد کو اس چیز کی تو فیق دی جس سے اﷲ اور اس کا رسول راضی ہو"(مشکوة المصابح)۔ یہ ہے وہ رہنمائی جس پر عمل کے نتیجہ میں اﷲ اور اس کا رسول راضی ہوتا ہے اور اس کے بندے اس رواں سمندر سے سیراب ہوتے ہیں جو آج سوکھنے کے دہانے پر آکھڑا ہوا ہے۔جس کی آج فکر نہ کی گئی تو بعید نہیں کل وہ پوری طرح سے خشک جائے اور انسانیت پانی کی ایک ایک بوند کی متلاشی ہو۔اُس بوند کی جس سے حیات جاویداں کو باقی رکھا جاسکے مگر وہ نہ ملے۔لیکن اس صورتحال سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن کہتا ہے:" تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو"(آل عمران:۹۳۱)۔

           اس طویل گفتگو سے اب تک اگر کو ئی نتیجہ اخذ کر لیا گیا ہو تو پھر مزیددیر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنے مقام سے اٹھ کر اس بلند و با لا مقام کے حصول میں مصروفِ عمل ہو جا نا چاہئے جس کی پکار فضاں میں چہار جانب سے آرہی ہے۔ لیکن اس پکار سے وہی کان متوجہ ہو سکتے ہیں جن میں ابھی سننے کی سکت باقی ہے یا جو ابھی پوری طرح بہرے نہیں ہوئے ہیں۔ آج کے اس فکری طوفان کا مقابلہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اس میدانِ کارزار میں اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں یا کرنے کا عزم و حوصلہ رکھتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم علمی، فکری اور عملی میدان میں اسلامی نقطہ نظر سے عبور حاصل کرنے کی سعی و جہد کریں کیونکہ فکر کا مقابلہ فکر اور عمل کا مقابلہ عمل ہی کر سکتا ہے۔

          وقت آگیا ہے کہ ہمارے اہل فکر، تہذیب ِ حاضر کی مرعوبیت کا بوجھ اپنے سروں سے اتار پھینکیں اور آج کے مادہ پرستانہ دور میں اسلامی فکر کا علَم لے کر غیر اسلامی تہذیب و تمدن کا مقابلہ کریں۔ اﷲ کے رسول کی زندگی کوسیرت و تاریخ کے صفحات سے نکال کر نئے سرے سے اپنی عملی زندگی کے فکرو عمل سے پیش کریں اور راہِ نجات دکھانے والی وہ سب سے نمایاں طاقت بن کر اٹھیں کہ وہی اس دور کا مستقبل و مقدر قرار پا ٔیں۔

CONVERSATION

Back
to top