زکوٰۃ :دین کا اہم ستون

زکوٰۃ :دین کا اہم ستون

"اے ایمان والو! اللہ کا ٹھیک ٹھیک تقویٰ اختیار کرو اور دنیا سے نہ رخصت ہو مگر اس حال میں کہ تم "مسلم"ہو اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور ٹولی ٹولی نہ ہو جا۔.......اور (دیکھو) کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو واضح ہدایتیں پانے کے باوجود ٹولیوں میں بٹ گئے اور اختلاف میں مبتلا ہو گئے"(آل عمران:۲۰۱-۵۰۱)۔یہ آیتیںمدینہ کی زندگی یعنی ۳ھ میں نازل ہوئی تھیں۔یہ وہ زمانہ ہے جب امت مسلمہ کی اجتماعی اور سیاسی زندگی کی تاسیس و تعمیر ابتدائی مرحلوں سے گزر رہی تھی۔عین اس زمانہ میں یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اقامت دیں اور نظام مومنین کا ایک مختصر مگر جامع ربانی پروگرام لے کر آئیں۔یہاں دو باتیں بہت واضح انداز میں بیان کردی گئیں ہیں۔۱) تقویٰ کا التزام اور ۲)مضبوط و منظم اجتماعیت۔اقامت دین کے معنی ہیں کہ اللہ کے دین کو قائم کر دیا جائے۔ سب سے پہلے فرد اپنی ذاتی زندگی کے شب وروز کے اعمال میں اس کا اہتمام کرے اور اسی کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں اس کے قیام کی سعی و جہد کی جائے۔اس کے لیے لازم ہوگا کہ اللہ کا "تقویٰ"اختیار کیا جائے اور اپنی آخری سانس تک ہر آن اور ہر لمحہ ایک "مسلم"بن کر زندگی گزاری جائے۔تقویٰ کا پورا عملی مفہوم جو قرآن کی زبان میں بیان ہوا ہے اس سے شمہ برابر بھی کم نہیں کہ اللہ کے تمام حکموں کا ٹھیک ٹھیک اتباع کیا جائے۔اس کے کسی امر کو چھوڑنے سے بھی ڈرا جائے اور اس کے کسی نہی کے کر گزرنے سے بھی خوف کھایا جائے۔ اسی طرح مسلم کے معنی بھی قرآنی بیانات کی روشنی میں سچے فرماں بردار اور مخلص اطاعت شعار کے ہیںیعنی مسلم وہ شخص ہے جس نے احکام خداوندی کے سامنے اپنی گردن رضاکارانہ جھکا دی ہو۔اسلام جن عبادات کی طرف بندہ مومن کو راغب کرتا ہے اس کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والا مسلم بندہ بن جائے۔

زکوٰة کی اہمیت :

لغوی اعتبار سے زکوٰة کے معنی بڑھوتری اور اضافے کے اور دوسرے معنی پاک و صاف ہونے کے ہیں۔شرعی اصطلاح کے مطابق زکوٰة میں دونوں ہی مفہوم پائے جاتے ہیں۔زکوٰة کی ادائیگی سے بقیہ مال پاک صاف ہو جاتا ہے اور عدم ادائیگی سے اس میں غرباءو مساکین کا حق شامل رہتا ہے جس سے بقیہ مال ناپاک ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں عموماً جہاں بھی نماز کا ذکریعنی اقامت صلوٰة کا حکم آیا ہے، زکوٰة کی ادائیگی کا حکم بھی ساتھ ساتھ ہے۔ دودرجن سے زائد مقامات پر قرآن حکیم میں اقیمو االصلاة کے ساتھ واتواالزکوٰة کا حکم دیا گیا ہے۔قرآن حکیم کے اس اسلوبِ بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ جس قدر دین پر عمل کرنے کے تعلق سے نماز کی اہمیت ہے ، اتنی ہی اہمیت زکوٰة کے قیام اور ادا کرنے کی ہے۔دونوں ہی اجتماعی سعی و جہد کا تصور پیش کرتے ہیں اور دونوں ہی فرد واحد کی انفرادی عبادت کی بجائے اجتماعی عبادت کے قائل ہیں۔بندہ مومن نماز قائم کرنے اور اس کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے جدوجہد کرے لیکن وہ اس بات سے بھی واقف نہ ہو کہ زکوٰة کے نظام کو برپا کرنا ، لوگوں سے وصول کرنااور اس کے لیے نظام قائم کرنا بھی لازمی جزہے ، تو یہ بات افسوس ناک ہوگی ۔پھر جس طرح ترک نماز انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے ٹھیک اسی طرح زکوٰة بھی شریعت میں اتنا ہی اہم مقام رکھتی ہے کہ اس کی ادائیگی سے انکار، اعراض و فرار مسلمانی کے زمرے سے نکال دینے کا باعث بن جاتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ خلیفہ راشد،صدیق اکبر حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے دور خلافت میں ان لوگوں سے قتال کیا، جنھوں نے نماز اور زکوٰة میں تفریق کرکے زکوٰة کی ادئیگی سے انکار کر دیا تھا۔اسی لیے حضرت فاروق ؓ نے فرمایا:"اللہ کی قسم! اصل میں اللہ نے ابو بکرؓ کا سینہ (جہادکے لیے) کھول دیا، تو میں نے جان لیا کہ وہی (موقف ابوبکر) حق ہے"۔اور اس طرح گویا اس امر پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہو گیا کہ زکوٰة کی ادائیگی سے قولاً یا عملاً انکار، اسلام سے خروج کا باعث ہے۔اللہ کے رسول فرماتے ہیں :"اللہ نے زکوٰة اسی لیے فرض کی ہے کہ وہ تمہارے بقیہ مال کو پاک کر دے"(سنن ابو داد)۔لہذا جس طرح نماز برائیوں اور فحش کاموں سے انسان کو پاک و صاف کرتی ہے اور اس کے قلب کی تطہیر کرتی ہے ٹھیک اسی طرح انسان کے مال کو پاک کرنے کا ذریعہ زکوٰة ہے۔ وہ مال جو وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے خود پر اور اپنے اعزا و اقارب پر خرچ کیا جاتاہے اور جس سے دیگر کام بھی انجام دیے جاتے ہیں۔اس کو خرچ کرنے سے پہلے پاک کر لینا اور پاک مال کو اپنے لیے اور دوسروں کے لیے استعمال کرنابھی نہایت ہی ضروری ہے۔

دیگر امتوں میں زکوٰة کا نظم:

زکوٰة اور نماز دین کے ایسے ارکان ہیں جن کا ہر دور میں اور ہر مذہب میں آسمانی تعلیمات کے پیروکاروں کو حکم دیا گیا ہے۔معلوم ہوا کہ یہ دونوں فریضے ایسے ہیں جو ہر نبی کی امت پر عائد ہوتے رہے ہیں اور اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے نبی آخری الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا خاتمہ اور دین کی تکمیل کرتے ہوئے ان احکامات کو جاری رکھا گیا۔ قرآن ِ حکیم میں حضرت ابراہیم، ان کے بیٹے حضرت اسحاق اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعہ سے نیکیوں کے کرنے ، نماز قائم کرنے اور زکوٰة دینے کا حکم دیا اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے"(الاانبیائ:۳۷)۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:"وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے"(مریم:۵۵)۔قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:"میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور نبوت سے سرفراز کیا ہے اور میں جہاں کہیں بھی ہوں، مجھے با برکت بنادیا ہے اور جب تک میں زندہ ہوں، مجھے نماز اور زکوٰة کی وصیت فرمائی ہے"(مریم:۰۳-۱۳)۔پھر اسی طرح قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل کو جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا تھا، ان میں یہ حکم بھی تھا :"اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو"(البقرہ:۳۴)۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل سے خطاب فرماتا ہے :"اگر تم نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰة ادا کرتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہے اور ان کی مدد کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ کو بہتر قرض دیتے رہے تو یقینا میں تمہاری برائیاں تم سے مٹادوں گا اور تمہیںان جنتوں میں لے جاں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں"(المائدہ:۲۱)۔یہ

تمام آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں پر بھی نماز ادا کرنے اور زکوٰة ادا کرنے کا حکم دیا تھا، پھر جن لوگوں نے اس میں تحریف نہیں کی اور اس کے احکامات پر عمل کرتے رہے ، وہی مسلم کہلائے اور ان کو آخرت کی ہمیشگی نصرت و کامرانی کی بشارت دے دی گئی۔لیکن جنھوں نے اس کے برخلاف عمل کیا اور اپنی مرضی سے دین کے کچھ حصے پر عمل کرتے رہے اور کچھ کو چھوڑ دیا تو ایسے لوگوں نے اللہ کے احکامات پر اس طرح عمل نہیں کیا جس طرح ایک مسلم بندہ عمل کرتا ہے۔یہی واقعہ جب صدیق اکبرؓ کے سامنے پیش ہوا تو انھوں نے ایسے مسلمانوں سے جہاد کیا ، یہاں تک کہ وہ طائب ہوگئے اور نماز اور زکوٰة دونوں کو ادا کرنے والے بن گئے۔

مضبوط و منظم اجتماعیت :

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ بارہا اس جانب توجہ فرماتا ہے کہ اے مومنو! اللہ کی بندی اختیار کرو ۔اس کے لیے صبر اور نماز سے مدد لو، نماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔نماز اور زکوٰةکے نظام پر ہم جس قدر بھی غور کریں تو یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف یہ عبادات اللہ سے قرب کا ذریعہ بنتی ہیں اور دوسری طرف ہماری نظر میں جوغیر اہم چیزیں اہم بن گئی ہیںان کی اہمیت کم کرتے ہوئے اللہ کے احکام پر کاربند رہنے میں مدد کرتی ہیں۔ نماز ہو یا زکوٰة ، یہ دونوں ہی عبادات بندہ مومن کو اجتماعی زندگی کی دعوت دیتی ہیں۔ ایسی اجتماعیت جو منظم بھی ہو اور مضبوط بھی۔پھر یہ احکام کہ: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور ٹولی ٹولی نہ ہو جا"یہی ثابت کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی گزارنی چاہیے، ان کا ہر عمل اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے انجام دیا جانا چاہیے۔ اس کی روح وہ نماز ہے جب کہ مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اللہ کے گھر میں باہم ملتے ہیں، ایک دوسرے کی خبر گیری کرتے ہیں، اور اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ ہم نہ صرف اللہ کے لیے مخلص ہیں بلکہ بندگان اللہ کے لیے بھی مخلص ہیں۔پھر اسی چیز کو زکوٰة کے اجتماعی نظام کے ذریعہ بھی وہ ثابت کردیتے ہیں۔چاہے وہ زکوٰة جمع کرنے کے نظام کے قیام کے تعلق سے ہو یا خرچ کرنے کے تعلق سے۔اس کے ذریعہ وہ ایک پورا نظام برپا کرتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں۔نیز سچے، ایماندار اور اللہ کے سامنے جوابدہ رہنے کے جذبہ سے سرشار لوگوں کے گروہ کوپروان چڑھاتے ہیںاوراُن کی مدد کرتے ہیں۔یہ اجتماعیت ایسی ہوتی ہے جس میں کہیں دراڑ نہیں پائی جاتی، یہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہوتی ہے،اور اس سے وابستہ افراد گروہ در گروہ ٹولیوں اور گروپوں میں تقسیم نہیں ہوتے، ممکن ہے کہ اختلاف رائے رکھتے ہوںاس کے باوجود اللہ کے احکام پر عمل کرنے والے اور ان احکامات کے نفاذ میںایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ جنت کی بشارت دیتا ہے۔

قرآنی تنمبیہات :

قرآن کہتا ہے: "جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے رہے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے"(البقرہ:۷۷۲)۔مزید کہا :"تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں"(المائدہ:۵۵)۔مزید فرمایا:"خدا کی مسجدوں کو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ۔یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل)ہوں"(التوبہ:۸۱)۔ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ:"اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بے شک خداغالب حکمت والا ہے"(التوبہ:۱۷)۔پھر کہا کہ:"یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے"(الحج:۱۴)۔ایک اور جگہ متنبہ کیا گیا کہ دیکھو مومن وہ ہیں :"وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں"(النمل:۳)۔یہ اور اس طرح کی بے شمار آیات ہیں جن میں مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مسلم بندوں کی جہاں صفات بیان کی گئی ہیں وہاں اور دیگر خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ تذکرہ کر دیا گیا ہے کہ وہ لوگ ایسے اور ایسے ہوتے ہیں ، ایسے ہیں اور ایسے ہونے چا ہیں۔ جو اپنی نمازوں کا لحاظ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے مالوں کو پاک کرنے کا بھی بھر پور خیال رکھتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مومن وہ نہیں ہو سکتا جو اپنی نمازوں کی پابندی نہ کرتا ہو اور ساتھ ہی اپنی زکوٰة نہ ادا کرتا ہو۔ بس یہ بات ہمارے غور و فکر کرنے کے لیے اور ساتھ ہی اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ آیا یہ صفات ہمارے اندر موجود ہیں یا ان سے ہم غفلت برت رہے ہیں۔ کسی کام کہ کسی مخصوص مرحلے میں انجام نہ دے پانا غفلت میں شمار نہیں ہوتا ، ہاں وہی کام اگر مستقل نہ انجام دیا جائے تو یہ بات ثابت ہوتی کہ ایسا شخص اس کام اور اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اُس کام سے غفلت برت رہا ہے۔ لیکن ایک ایسا شخص جو واقفیت رکھنے کے باوجود اس کام کو نہ انجام دے تو پھر یہ بات ایسی ہوگی جیسے کوئی بغاوت پر اتر آئے۔اور یہ ممکن نہیں کہ ایک بندہ مومن جو اللہ کی صفات سے واقف ہو اور اس کی رحمت اور اس کی جباریت کا علم رکھتا ہواس کے باوجودبغاوت پر آمادہ ہو جائے تو ایساشخص کافرہی ہو سکتا ہے!اس بات سے ہم اچھی طرح واقف ہیںکہ انسان کے اعمال؛ اس کے کردار،خیالات اور اس کے عقائد کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں۔پس ہم کیا کہتے ہیں اس سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور کیا کررہے ہیں!!

احادیث صحیحہ میں زکوة کا تذکرہ:

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میں اس کو کروں تو جنت میں داخل ہوں۔آپ نے فرمایاکہ:"تو اللہ کی عبادت کر اور کسی کو اس کا شریک نہ بنا اور فرض نماز قائم کر اور فرض زکوٰة ادا کر اور رمضان کے روزے رکھ"تو اس اعرابی نے کہا قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اس پر زیادتی نہ کروں گا۔جب وہ چلا گیا تو بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:"جس شخص کو کوئی جنتی دیکھنا اچھا معلوم ہو تو وہ اس شخص کو دیکھے"(صحیح بخاری)۔حضرت ابوہریرہؓ ہی سے ایک اور رویت مروی ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور ابو بکر ؓ خلیفہ ہوئے اور عرب کے بعض قبیلہ کافر ہوگئے ، تو عمر ؓنے کہا کہ آپ لوگوں سے کس طرح جنگ کریں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے فرمایا کہ میں حکم دے گیا ہوں کہ لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ لاَاِلہ الاَّاللہ کہیں،جس نے لاَاِلہ الاَّاللہ کہااس نے مجھ سے اپنی جان و مال بچا لیا مگر کسی حق کے عوض اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ میں اس شخص سے جہاد کروں گا جن نے نماز اور زکوٰة کے درمیان تفریق ڈالی ۔زکوٰة تو مال کا حق ہے بخدا اگر انھوں نے ایک رسی بھی روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیتے تھے تو اس کے نہ دینے سے میں ان سے جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا اللہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا۔ تو میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔(صحیح بخاری)۔حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیںانھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا:"جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے زکوٰة نہ ادا کی تو اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کے پاس لایا جائے گاا س کے سر کے پاس دو چینیاں ہوں گی ۔قیامت کے دن اس کا طوق بنایا جائے گا، پھر اس کے دونوں جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں،پھر قرآن کی آیت پڑھی اور وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال عطا کیا اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ یہ برا ہے اور قیامت کے دن یہی مال ان کے گلے کا طوق ہوگا"(صحیح بخاری)۔حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے ،کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا:"جس نے پاک کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اللہ صرف پاک کمائی کو قبول کرتا ہے، پھر اس کو خیرات کرنے والے کے لیے پالتا رہتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ خیرات پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے"(صحیح بخاری)۔جہاں یہ احادیث ہمارے اندر مال و دنیا کی رغبت کم کرتی ہیں، اللہ کا تقویٰ پیدا کرتی ہیں اور جہنم کے عذاب سے ڈراتی ہیں، وہیں یہ احادیث ہمارے اندر جنت کی محبت پیدا کرتی ہیں، اللہ سے تعلق قائم کرنے میں مدد کرتی ہیں اور اپنے مال کو بطور زکوٰة اور بطور صدقہ و خیرات خرچ کرنے پر ابھارتی ہیں۔ ان احادیث کا علم ہوجانے کے بعداللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے اور ہمیں اپنی کامیاب بندوں میں شمار کر لے!

انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب :

اسلام میں زکوٰة ایک طے شدہ مقدار میں اور ایک طے شدہ مدت (ایک سال مکمل ہونے پر)میں ادا کرنے کی عبادت ہے۔لیکن اسلام بندگان اللہ کو اپنی شخصیت میں مزید بہتری پیدا کرنے کی طرف ابھارتا ہے اور اس کے لیے وہ کہتا ہے کہ یہ تو ایک لازمی عبادت ہے جو مسلمانوں کی اجتماعیت سے وابستہ ہر فرد کے لیے ضروری ہے جبکہ وہ صاحب ِنصاب ہو،لیکن یہ کافی نہیں۔انسان کے اندر دنیا کی رغبت کم کرنے اور مال کی محبت گھٹانے کے لیے مزید اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی حاجت ہے جس کے فوائد انسان کو خود ہی حاصل ہوںگے۔اورفائدہ یہ ہوگا کہ یہ مال جس میں لوگوں کے حقوق ہیں وہ حقوق ادا ہو سکیں گے،ساتھ ہی یہ مال آخرت کی ہولناکیوں اور عذاب ِ جہنم سے چھٹکارے کا ذریعہ بنے گا۔قرآن نے کہا کہ:"ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب انھوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور وہ کوئی استثنا ءنہیں کر رہے تھے۔رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بَلااس باغ پر پِھر گئی اور اس کا ایسا حال ہو گیا جیسے کوئی کٹی ہوئی فصل ہو ۔ صبح سویرے ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے۔وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیں۔مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں، نہیں،بلکہ ہم محروم رہ گئے"۔ان میں سے جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے"؟۔وہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے"(القلم۷۱-۹۲)۔پھر سورة المعارج میں اللہ تعالیٰ بخیل اور معصیت زدہ لوگوں کی مزید مثال پیش کرتا ہے،فرمایا گیا کہ:"انسان تھرڈِلا پیدا کیا گیا ہے، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔ مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں)جو نماز پڑھنے والے ہیں، جو اپنی نمازوںکی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں، جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا مقرر حق ہے،جو روزِ جزا کو برحق مانتے ہیں،جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں، کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بے خوف ہو"(المعارج:۹۱-۹۲)۔یہ دونوں آیات مسلمانوں کو انفاق فی سبیل اللہ کی جانب ابھارتی ہیں ساتھ ہی متنبہ کرتی ہیں کہ اگر تم لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی امانت میں سے محرومین اور سائل کا حق ادا نہیں کیا اور ان لوگوں کی مدد نہیں کی جو حاجت مند ہیں تو اللہ تعالیٰ اس دی ہوئی امانت اور انعام کو واپس لے لے گا۔ پھر تمہاری وہی حالت ہوگی جس کا تذکرہ ان آیات میں اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے تعلق سے بیان کیا گیا ہے۔اس لیے انسان کبھی بھی اس زعم میں مبتلا نہ ہو کہ اس کو جو مال و دولت اور اولاد کی شکل میں رزق مہیا کیا گیا ہے وہ اس کی خود کی کمائی ہے۔ بلکہ اس کو ہمہ وقت یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ یہ وقتی چیزیں ہیں، نہ صرف یہ ملی ہوئی چیزیں وقتی ہیں بلکہ یہ زندگی بھی وقتی ہے،جو بہت ہی قلیل ہے۔انھیں باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو بھی ذہن میں تازہ کر لینا چاہیے کہ زکوٰة جو ایک طے شدہ مدت میں طے شدہ مقدار ہے، اس کو ادا کرنے کے علاوہ بھی انسان کو وقتاً فوقتاً اللہ کی راہ میں انفاق فی سبیل اللہ کرتے رہنا چاہیے اس توقع کے ساتھ کہ اس کے ذریعہ جنت کا حصول آسان ہونے کے امکانات ہیں،بشرطیکہ اس انفاق میں خلوص نیت بھی شامل ہو۔

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top