اے مسلمانوں! روہنگیا مسلمانوں سے سبق لو


اے مسلمانوں! روہنگیا مسلمانوں سے سبق لو

        گوتم بدھ 563 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔اس کااصلی نام"گوتم سدھارتھ"رکھاگیا۔بقول اس کے:"انسان برائی کاارتکاب خودکرتاہے اور اس کے خراب نتائج کو بھگتنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔وہ خود ہی برائی سے کنارہ کش ہوسکتاہے اور پاکیزگی اورنجاست دونوں ذاتی صفات ہیں۔ کوئی بھی دوسرے کوپاکیزہ نہیں بناسکتا"۔یہ علم اسے دنیا کے فانی ہونےکے ادراک کے بعد ہوا۔اس نے چند مناظر دیکھے :سب سے پہلے منظرمیں اس نے ایک ضعیف وکمزور آدمی کودیکھاجسے دیکھ کراسے بوڑھے کاماضی یاد آیا اور اپنے آپ پرنظرڈالتے ہوئے اسے یہ خیال آیا کہ ایک دن وہ بھی اس ضعیفی کی عمرمیں پہنچے گا۔ دوسرے منظرمیں اس کے سامنے ایک بیمارآدمی آیاجس کے جسم پہ کمزوری کے آثار واضح تھے تواس کے ذہن میں یہ بات سرایت کرگئی کہ وہ بھی اس کی طرح بیمار ہوسکتا ہے۔تیسرے منظرمیں اس کے سامنے ایک جنازہ گزرا تواس کے ذہن میں دنیاکی بے ثباتی آئی کہ ہمیشہ ہردور میں ایسے نہیں رہنا ہوگا۔ ایک دن میراجنازہ بھی لوگوں کے کندھوں پہ ہوگا۔ چوتھے منظر میں اس کے سامنے ایک فقیر اور درویش آدمی آیا،اس کے چہرے پہ طمانیت تھی،وہ بھیک مانگ رہاتھا اوردنیاکے جھنجٹوں سے بے خبر ایک آزادخیال زندگی بسرکررہاتھا۔ یہی وہ آخری منظرتھا جس نے اس کو سوچنے پہ مجبور کردیاکہ کیا وہ ایسی آزادانہ اوردرویشانہ زندگی بسر کرناچاہتاہے؟مناظر کودیکھ کرشاہانہ ٹھاٹ باٹ چھوڑ کر حق کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور فیصلہ کیاکہ جب تک وہ صحیح راہ تلاش نہ کرلے گاوہ گھر واپس نہیں آئے گا۔
        آخر وہ دن آیا کہ گوتم بدھ نے راحت و تسکین حاصل کی۔ اس کے دل میں ایک قسم کی روشنی محسوس ہوئی، دل کو اطمینان سا آگیا۔ معلوم ہو اکہ فاقے اور جسم کو ایذا دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ دنیا اور عقبیٰ میں خوشی اور راحت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نیک اور پاک زندگی بسر کرے۔ سب پر رحم کرے اور کسی کو نہ ستائے۔ گوتم کو یقین ہوگیا کہ نجات کا سچا راستہ یہی ہے۔اب گوتم نے "بدھ "یعنی عارف کا لقب اختیار کیا۔بدھ کی تعلیمات کو بدھوں کے الفاظ میں"چار اعلیٰ سچائیاں" کے عنوان سے سمیٹا جا سکتا ہے۔اول انسانی زندگی اپنی جبلی حیثیت میں دکھوں کا مسکن ہے۔دوئم اس نا خوشی کا سبب انسا نی خود غرضی اور خواہش ہے۔سوم اس انفرادی خود غرضی اور خواہش کو ختم کیا جا سکتا ہے اور ایسی کیفیت پیدا کی جاسکتی ہے کہ جس میں خواہشیں فنا ہو جاتی ہیں۔۔۔( سوعظیم آدمی: مائکل ہارٹ )۔تیسری صدی قبل مسیح میں عظیم ہندوستانی شہنشاہ اشوک نے بدھ مت اختیار کرلیا۔اس کی پشت پناہی سے ہندو ستا ن بھر میںاور ہندوستان کے باہر بدھ مت کے افکار تیزی سے پھیلے۔بدھ مت جنوب میں سیلون تک پھیلا اور مشرق میں برما تک جنوبی ایشاءمیں اس نے اپنے قدم جمائے اور ملایا تک پھیلا اور پھر آگے علاقے میں سرایت کرتا گیا جسے اب انڈونیشیاءکہا جاتا ہے پھر تبت پہنچا اور پھر آگے شمال کی طرف افغانستان اور وسطی ایشیا تک اس کے پیروکار پھیل گئے ساتھ ہی چین جاپان اور کوریا میں بھی اپنے پیروکار پیدا کئے۔80 سال تک گوتم بدھ نے جابجا پھر کر اپنے مت کو پھیلایا۔483قبل مسیح میں اس کا انتقال ہوا۔
اور یہ روہنگیا مسلمان:
        برما میں مسلمان نویں صدی عیسوی میں اس وقت آئے تھے ،جب اسلام پوری آب و تاب کے ساتھ عرب،فارس،یورپ اور چین میں اپنی لازول کرنیں بکھیر رہا تھا،اسی وقت برما میں بھی حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے محمد حنفیہ کے ذریعہ اس آفاقی مذہب کی آمد ہوئی اور یہاں کے عوام اخوت ،محبت اور انسانیت سے لبریز دین اسلام سے متعارف ہوئے ۔فی الوقت 'راکھن' جو"برما" کے زیر قبضہ ریاست"اراکان"کی بات ہے۔یہ خطہ بیس ہزار مربع میل پر محیط ایک مسلم مملکت تھا، جس پر 1784ءمیں برما نے قبضہ کرلیا تھا۔ 1824ءمیں اراکان پر برطانیہ کا تسلط ہوا۔ 1947-48ءمیں انگریزوں نے انخلا کیا تو اہلِ اراکان کی شدید خواہش اور کوشش کے باوجود کشمیر، حیدرآباد اور جونا گڑھ وغیرہ ریاستوں کی طرح اراکان کو بھی خودمختاری نہیں دی گئی۔ اراکان مسلم اکثریتی خطہ تھا اور آج بھی ہے ہرچند کہ حقیقی اور حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں، اور نہ قابض برمی حکومت ہی اس کا کوئی اہتمام کرتی ہے، مگر محتاط اندازہ ہے کہ آج بھی اراکان میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 60 فی صد سے کم نہیںہے۔ اس تعداد میں وہ مسلمان شامل نہیں ہیں جو گزشتہ صدی عیسوی کی دوسری جنگ عظیم میں، جس کا ایک بڑا محاذ اراکان بھی تھا، بچ تو گئے تھے مگر جبری انخلا اور ترک ِ وطن یا ہجرت سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ مسلمان جو اراکان کے قدیم نام"روہنگ"کی نسبت سے خود کو"روہنگیا" کہلواتے ہیں، ترکِ وطن اور ہجرت کی خاص متنوع اور پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔ یہ بڑے مذہبی، جفاکش، پرامن اور صابر و شاکر لوگ ہیں۔ انہیں بزدل نہ بھی کہا جائے، پھر بھی ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ لڑنا بھڑنا اور اپنے جینے کے حق کے لیے مرنا مارنا انہیں پسند نہیں ہے۔
        برمی مسلمانوں کا مطلب وہ تمام مسلمان ہیں جو برما میں وہاں کے قانون،دفعہ ،ذات اور مذہب کے اعتبار سے وہاں کے اصل الاصول باشندے ہیں۔وہاں کے مسلم قائدین کے بقول ایک اندازے کے مطابق 2006 میں وہاں کی آبادی 30فیصد سے بھی زائد تھی (تفصیل کے لئے دیکھئے :یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ 2006انٹرنیشنل رلیجنس فریڈم رپورٹ )برما کے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 8 لاکھ ہے جو شہریت کے حق سے بھی محروم کردیے گئے ہیں اور انہیں گندی پسماندہ بستیوں تک محدود کردیا گیا ہے جن میں وہ جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہ مسلمان صرف نسلی ”اِعدام“ ہی کے شکار نہیں ہیں، منظم اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کے تحت گزشتہ چھ سات دہائیوں سے ہر مقتدر فوجی یا غیر فوجی ٹولہ ان کے دینی، علمی، ثقافتی اور تاریخی ارتداد کے لیے بھی کوشاں ہے۔ حکومت و ملازمت اور تعلیم کے دروازے ان پر بند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود پر گزرنے والی قیامت کے بارے میں یہ لوگ دنیا کو تحریراً یا تقریراً کچھ نہیں بتاسکتے۔ روہنگیا کا شمار ایسے باشندوں میں ہوتا ہے جن کا کوئی گھر نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دنیا کی سب سے زیادہ استحصال شدہ اورپسپائی اقلیت قرار دیا گیا ہے۔
یہ کھیل پہلے بھی جاری رہا ہے:
         بدھ بھکشو اور مگھوں کے ذریعہ مسلمانوں کے سروں سے کھیلنے کی داستان اور سانحات پچھلے 60ساٹھ سالوں پر محیط ہیں۔ 1941ءمیں ارکان (ریکھائن) کے ضلع (اکیاب) میں بدھسٹوں نے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی اورتنظیم کے تحت مگھوں نے 26مارچ 1942ءکو ریکھائن میں بسنے والے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا۔ یہ قتل عام تقریباً تین مہینوں تک جاری رہا۔ مارچ سے لے کہ جون 1942ءتک ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ جبکہ پانچ لاکھ مسلمانوں کو بے گھر اور بے آسرا کیا گیا۔ اس کے بعد ریکھائن پر دوسری بار 1950ءکی دہائی میں قیامت ڈھائی گئی۔ اور بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ تیسری دفعہ 1978ءمیں برما کی غیر مسلم فوج حکومت نے مسلمانوں کے خلاف زبردست خونی آپریشن شروع کیا اور تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔نیز پانچ لاکھ سے زائد باشندوں کو اپنی ہی سر زمین سے بے دخل کردیا۔ 1991ءمیں چوتھی دفعہ ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف خونی آپریشن شروع کیا گیا اور پھر ریکھائن میں فسادات پھوٹ پڑے۔ ان فسادات کے نتیجے میں ظالم مگھوں نے ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
فی الوقت معاملہ یہ ہے کہ:
        فی الوقت معاملہ یہ ہے کہ حالیہ دنوںاپریل 2012میں ریکھائن کے بااثر بدھ بگھشوں کے یہاں دو لڑکیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان کا اسلام قبول کرنا تھا کہ ا±ن پر مشرکین مکہ کی طرح سخت مشکلات ، مصائب اور مظالم ڈھائے گئے۔ ان کا یہ اقدام اپنے خاندان ، قبیلے اور برادری کے خلاف تھا۔ چونکہ ان کا خاندان، ہندوو¿ں میں بااثر خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ان دونوں کو مگھوں کی طرف سے ڈرایا، دھمکایا گیا۔ مگر اسلام ان کے دلوں میں پیوست ہوچکا تھا۔ ان کی پوری کمیونٹی نے ان کو اسلام قبول کرنے پر ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا مگر انہوں نے اسلام چھوڑنے پر آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ ان کا انکار ان وحشی نما مگھوں کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا۔ بدھ بگھشوں ، مگھوںاور بدھسٹوں کو ان لڑکیوںکا اسلام قبول کرنا ہضم نہیں ہو رہا تھالہذا ان دونوں لڑکیوں کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔ ان کو ہر طرف سے ڈرایا ، دھمکایا گیا کہ وہ اسلام کو چھوڑ دیں مگر ان کو اسلام سے پھیرنے کا کوئی بھی حربہ کا میاب نہ ہوا۔ ان کی تمام تر کوشیش بیکار ہوئیںنتیجتاً مگھوں کے اندر ہی اندر غصہ، نفرت، تعصب اور فرقہ وارانہ لاوا پکتا رہا۔ لہٰذا انہوں نے اپنے تمام تر عناد کا بدلہ لینے کے لیے ریکھائن کے مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ بنایا۔ ریکھائن کے غیر مسلم شرپسند عناصر نے ایک مضبوط پلاننگ کے تحت مسلمانوں کا قتل عام شرو ع کردیا اور اس کا الزام بھی مسلمانوںہی کے سر تھوپ دیا۔ اس کے بعد بدھسٹوں نے یہ افواہ پھیلا ئی کہ مسلمانوں نے ان نو مسلم لڑکیوں کے ساتھ جبری زیادتی کرنے کے بعد قتل کردیا۔ اس جھوٹی خبر کو بنیاد بناکر حالیہ فسادات شروع کیے اور مسلمانوں کے خلاف زبردست پر وپیگنڈہ کیا گیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف پمفلٹ چھاپے،لوگوں میں اشتعال انگیزی پیدا کی اور اس طرح انہوں نے مسلمانوں کے قتل عام کی راہ ہموار کردی ۔ حالیہ فسادات کی باقاعدہ ابتدائ2جون 2012سے اس وقت ہوئی جب مسلمانوں کی ایک بس پر بدھسٹوں نے حملہ کردیا۔
        برمامیں مسلمانوں پر مظالم کا تعلق نہ تو فوجی حکمرانوں کے قانون سے ہے اورنہ روہنگیا اور اراکان مسلمانوں کے علیحدہ ریاست بنانے کی کوشش سے ہے۔ کہا یہ جاتاہے کہ مسلمان اراکان ریاست علیحدہ بناناچاہتے تھے اس لیے ان کے خلاف برمی بودھ مشتعل ہوجاتے ہیں۔ اگر ایسا ہی تھا تو 17 ویں صدی میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں ہواتھا۔ جب شاہجہاں کا بیٹا شاہ شجاع اورنگزیب سے شکست کھاکر برما فرارہواتھا۔ عدم تشدد کے پرچارک بودھ بادشاہ نے اس مفرورکی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر اس سے پناہ کے عوض اس کی دولت اور بیٹی مانگی تھی۔ انکارپر اس بودھ بادشاہ نے"عدم تشدد" کے فلسفے پرعمل کرتے ہوئے شاہ شجاع کے تمام ساتھیوں کا قتل عام کرادیا۔ یہ 17 ویں صدی کا قتل عام آخری نہیں تھا اس وقت سے آج تک کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ اور برماجسے بودھ ریاست قراردیاجاتاہے عدم تشدد کا فلسفہ سرچڑھ کر بول رہاہے۔     برما کی حکومت نے آج مسلمانوں پر موبائل فون استعمال کرنے تک پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ جس کے پاس موبائل فون پکڑا گیا اسے 10سال قید اور 25لاکھ جرمانہ کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بدھسٹوں اور مگوں کو اس کی کھلی چھوٹ ہے۔ انتہا یہ ہے کہ موبائل استعمال پر بھی اب تک ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔یہ واقعات ہیں ان بدھسٹوں کے ہیں جن کے مت میں جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں تک کو مارنا برا سمجھا جاتا ہے۔اس کے باوجود انسانوں کے غول کے غول موت کے گھات اتارے جا رہے ہیں صرف اس بنا پر کہ وہ مسلمان ہیں،ایک اللہ اور ایک رسول پر یقین رکھتے ہیںاور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوا چاہتے ہیں۔
 واقعہ جو قرآن بیان کرتا ہے:
        اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:" مارے گئے گڑھے والے، اس گڑھے والے جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔ جبکہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔ اور ان اہلِ ایمان سے ان کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے، اور وہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے"(البروج:۹-۴)۔اس سے قبل تین چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ایک برجوں والے آسمان کی۔ دوسرے روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تیسرے قیامت کے ہولناک مناظر کی اور اس ساری مخلوق کی جو ان مناظر کو دیکھی گی۔ پہلی چیز اس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو قا در مطلق ہستی کائنات کے عظیم الشان ستاروں اور سیارں پر حکمرانی کر رہی ہے اس کی گرفت سے یہ حقیر و ذلیل انسان کہاں بچ کر جا سکتے ہیں۔ دوسری چیز کی قسم اس بنا پر کھائی گئی ہے کہ دنیا میں ان لوگوں نے جو ظلم کرنا چاہا کر لیا، مگر وہ دن بہر حال آنے والا ہے جس سے انسانوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ اس میں ہر مظلوم کی داد رسی اور ہر ظالم کی پکڑ ہو گی۔ تیسری چیز کی قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ جس طرح ان ظالموں نے ان بے بس اہل ایمان کے جلنے کا تماشا دیکھا اسی طرح قیامت کے روز ساری خلق دیکھے گی کہ ان کی خبر کس طرح لی جاتی ہے۔یہ واقعہ ہم کو ایک طرف اس سفاکی اور جارحانہ زیادتی کے انجام سے دوچار کرتا ہے جو ہر دور میں اہل ایمان کے ساتھ رہا ہے تو دوسری طرف ان اہل ایمان اور ان کے اعزا و اقارب کے لیے باعث تسکین ہے جن پر ظلم و ستم اور قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا۔لیکن ساتھ ہی اہل ایمان کو اس جانب بھی متوجہ کرنا مقصود ہے کہ تمہاری زندگی حقیقی اسلامی زندگی ہونی چاہیے اگر حقیقی اسلامی زندگی ہونے کے باوجود تم پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے اور تمہارے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے تو تم اس انعام و اکرام کے مستحق ہوگے بصورتِ دیگر تمہیں ان سوالات کی پاداش سے کوئی نہیں بچا سکے گا جو اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ظالم و جاہل لوگوں سے کرے گا۔ اور یہ ظالم و جاہل وہ نہیں ہوں گے جنھوں نے مظلوم لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادی کی ہوگی بلکہ یہ وہ ظالم و جاہل وہ ہوں گے جنھوں نے خود اپنے ساتھ ظلم و زیادتی کی تھی اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔ لہذا ایسی دونوں صورتوں میں امت مسلمہ کے ہر فرد کو اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ وہ نہ صرف اسلام کو مکمل طور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے والا بن جائے بلکہ اسلام جس اجتماعیت کو فروغ دینا چاہتا ہے وہ اسلامی اجتماعیت کو فروغ دینے والوں میں بھی شامل ہو جائیں۔
آخری بات:
        حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے سوا فی الوقت اور ہر دور میں دنیا میں جتنے بھی مذاہب ، عقائد اور نظریات رہے ہیں وہ باطل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان باطل عقائد و نظریات کے علمبردار وں اور ان پر یقین و اعتماد رکھنے والوں کی زندگیاں یکسر مختلف نظر آتی ہیں۔درحقیقت اللہ تعالیٰ نے انسان کے ساتھ جو شیطان کا شرلگا دیا ہے یہ تمام باطل عقائد و نظریات کے حاملین اسی شر کا شکار ہیں۔اور یہ شیطان ہی ہے جوان عقائد و نظریات کے علمبرداروں کے قول و عمل میں تضاد برپا کرتا ہے۔اس صورت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کو بہ خوبی سمجھیں،اس کی حقانیت کے عملی طور پر قائل ہوں،اس کے نظریات اور عقائد پر مکمل عمل پیرا ہوں،اللہ کے رسول نے علم کے حصول کی جو حقیقت بیان کی ہے اس کے لیے سنجیدہ سعی و جہد کریں،قرآن اور سیرت ِ محمدی پرمکملایمان لائیں،اسکا علم حاصل کریں،اس میں غور و فکرا ور تدبر و تفکر کریں،اس پر عمل پیرا ہوں اور اس کے پیغام کو عام کریں۔ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوجو ایک امت ہونے کی تعلیم دی ہے اس کو سمجھیں، اسلامی اجتماعیت جس کا اولین جز ہے اس کو اختیار کریں، گروہوں اور تفرقوں میں تقسیم نہ ہوں۔ اپنے آپ کو متحد کریں اور اسلام ہی کے لیے اپنا جینا اور مرنا قربان کردیں۔ تب ہی ممکن ہے کہ اللہ کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی اور دنیا دیکھے گی کہ اسلام کے علمبردار کسی رنج و غم،اور کسی خوف و ڈر کے شکار نہیں ہیں۔بس یہیں سے ان باطل نظریات کے حاملین کی شکست کھل کر سامنے آجائے گی۔پھر وہ جو کچھ کریں گے وہ کریں گے لیکن اللہ کی نصرت و کامرانی کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے :حق آگیا ور باطل مٹ گیا،باطل تو مٹنے ہی کے لیے تھا۔اور تم ہی سرخ رو ہوگے اگر تم مومن ہو۔لہذا امت ِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنی شعور کی سطحیں بلند کرے۔اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے منظم اور منصوبہ بند انداز میں آئینی و قانونی سعی و جہد کرے۔ملکی و بین ا لاقوامی پلیٹ فارمس سے اپنے حقوق کی لڑائی لڑئیں اور اُن امن پسند لوگوں کو اپنے ساتھ لیکر چلیں جو خواہ کسی بھی مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہوں اس کے باوجود وہ اپنے سینوں میں انسانیت سوز دل رکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہوگا اور ہونا ہی چاہیے تو پھر وہ دن دور نہیں جبکہ ظالموں کا ہاتھ پکڑنا آسان ہو جائے گا اور ان کے ظلم و زیادتی سے نہ صرف مسلمان بلکہ مکمل انسانیت راحت محسوس کرے گی۔ اس پس منظر میں ہماری مسلمانوں سے یہی اپیل ہے کہ اے مسلمانوں! اٹھو اور اسلامی اجتماعیت اختیار کرو۔ اسی میں تمہارے تمام دکھوں کا علاج اور دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭

CONVERSATION

Back
to top