ہمارے معاشرتی مسائل اور یہ انڈیا اگینسٹ کرپشن والے


ہمارے معاشرتی مسائل اور یہ انڈیا اگینسٹ کرپشن والے

        اللہ نے آدمؑ کو پیدا اور ساتھ ہی آزمائش میں بھی ڈال دیا۔مقصود یہ تھا کہ آیا تم ہمیشگی جنت کے مستحق ہو سکتے ہو یا نہیں۔یا پھر گناہ کی پاداش میں ربِ رحیم سے معافی اور غلطی پر ندامت کی شکل میں دعا گو ہوگے اور وہ خدا جس نے تم کو پیدا کیا اپنی بے انتہا رحمتیں تم پر نازل کرے گا۔تم سے جو غلطی سرزد ہوئی اور جس احساس ندامت کے ساتھ تم دعا گو ہوئے اس کے نتیجہ میں وہ تم کو معاف کرے گا اور جنت جو درحقیقت تمہارے لیے ہی بنائی گئی ہے اس میں تم دوبارہ داخل کردیے جا گے۔ یہ وہ مقام ہوگاجہاں تمہیں لافانی زندگی عطا کی جائے گی اوروہاںاللہ تم سے خوش اور تم اللہ رب کریم و ذلجلال کی لازوال نعمتیں پاکر خوش ہو جا گے۔لیکن صورت واقعہ یہ ہے کہ اس سب کے لیے اللہ رب العزت نے ایک اصول طے کر دیا ہے۔اگر اس پر عمل کروگے تو ہی اس کی نظر کرم کے مستحق ٹھہرو گے بصورت دیگر تم ظالم و معصیت زدہ لوگوں میں شمار کیے جا گے۔نتیجہ یہ نکلے گا کہ نہ تم دنیا میں ہی کامیا ب ہوسکو گے ہو اور نہ ہی آخرت میں۔ اصول کی پہلی شرط:وحدانیت کے عقیدہ پرعمل پیرا ہونا ہے۔ تو دوسری:جس زمانے میں بھی تم ہو زمانے کے نبی کی تعلیمات پر عمل آوری۔اب جو شخص ان دو شرطوں پرکاربند ہو گا وہ زمانے کے نبی کی امت میں ٹھہرے گا اور نبی کی پیروی اس پر لازم آئے گی۔یہ زمانہ آخری زمانہ ہے اور اس آخری زمانہ میں اللہ نے اپنے محبوب نبی محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کو اس امت کا نبی و رسول بناکر بھیجا ہے۔اور اسی نبی محمد نے اپنے آخری حج کے موقعہ پر امت ِ محمدیہ جو موجود تھی اور جو نہیں اس کو یہ پیغیام پہنچا دیا کہ جب تک تم اللہ کی کتاب قرآن اور محمد کی سیرت کو اپنا اسوہ بنا گے تم کامیاب ٹھہرو گے اور جب اس سے انحراف برتو گے تو ناکام و نامراد۔ان حالات میں ذمہ داری ہے ان لوگوں کی جو نبی کی امت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو نہ صرف قول سے بلکہ عمل سے بھی اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔تب ہی ممکن ہے کہ مسائل جن سے دنیا دو چار ہے وہ نجات پا سکے، امن و امان قائم ہو، اللہ کی زمین پر اللہ کی کبرائی بیان کی جائے اور یہ لوگ بھی اللہ اور اس کے نبی کی بشارتوں کے مستحق ٹھہریں۔
ایک دردناک حادثہ:
        تھانہ بنڈا کے گاں کلیان پور بھارتی میں دو بیٹوں نے اپنے والد کو لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ کر ہاتھ پیر توڑ ڈالے اور قریب ایک گھنٹہ تک تڑپنے کے بعد اس نے دم توڑ دیا۔ واردات کے بعد دونوں بیٹے فرار ہو گئے۔ مقتول کے معذور بیٹے نے واردات کی رپورٹ درج کرائی ہے۔ اطلاع کے مطابق قتل کی یہ واردات تھانہ بنڈا کے گاں کلیان پوربھارتی میں گزشتہ ہفتہ کی شام قریب 7بجے پیش آئی۔ گاں میں رام کیشن (60)کے پاس 24بیگھہ کھیتی تھی۔ اس کے چار بیٹے پربھو دیال، روپ دیال، پرمیشور دین و مکیش ہیں۔ روپ لال معذور ہے۔ رام کیشن کی اہلیہ کی کئی سال قبل موت ہو چکی ہے۔ معذور روپ لال نے پولس کو بتایا کہ قریب دو ماہ قبل اس کے والد رام کیشن نے سات بیگھہ کھیتی کی زمین کسی شخص کے ہاتھ آٹھ لاکھ روپے میں فروخت کردی تھی۔ اس رقم کو اس نے بینک میں جمع کردیا تھا کچھ رقم اپنے پاس رکھ لی ۔ اس رقم سے وہ شراب اور رشتہ داروں میں جاکر فضول خرچی کر نے لگا۔ قریب پندرہ روز قبل کنبہ والوں کو زمیں فروخت کرنے کا علم ہوا۔ جس پر پربھو دیال و پرمیشر دین نے والد رام کیشن سے ناراضگی دکھائی تھی اور بچی ہوئی رقم سے زمین خریدنے کا دبا بنانے لگے۔ جس پر رام کیشن نے نہ صرف زمین خریدنے سے منع کر دیا بلکہ باقی زمین بھی فروخت کرنے کا انتباہ کیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کی شام قریب ساتھ بجے باپ بیٹوں میں اسی بات کو لے کر کہا سنی ہو گئی ۔ رام کیشن نے کہہ دیا کہ وہ اب ساتھ بیگھہ زمین اور فروخت کرے گا۔اس پر پربھو دیال اور پرمیشور دین مشتعل ہو گئے اور دونوں بھائیوں نے لاٹھیوں سے معمر والد پر حملہ کر دیا۔ معمر والد چینختا چلاتا رہا لیکن دونوں بھائیوں کو رحم نہیں آیا۔لاٹھیاں مارمار کر اس کے ہاتھ پیر توڑ ڈالے۔ اس کے بعد دونوں گھر سے فرار ہو گئے۔ قریب ایک گھنٹہ تڑپنے کے بعد رام کیشن نے دم توڑدیا۔ معذور روپ لال اسے علاج کے لیے بھی نہیں لے جا سکا۔ اس واردات سے گاں میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اطلاع پاکر موقع پر پہنچی پولیس نے جائع وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ پولیس نے روپ لال کی تحریرپر واردات کی رپورٹ درج کر لی ہے اور فرار دونوں بیٹوں کی سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے۔
واقعہ کوئی انوکھا نہیں ہے:
        واقعہ تکلیف دہ، قابل مذمت اور خاندان اور معاشرتی نظام پرسوال پیدا کرنے والا ہے۔اس کے باوجود یہ کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے۔مال و دولت اور زمین و جائداد کے نام پر ملک ِ عزیز میںہر دن لا تعداد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ۔کچھ واقعات خبروں کی شکل میں اخبارات میں شائع ہوجاتے ہیں اور بقیہ متعلقہ گھر،خاندان اور محلہ والوں کے علم میں آتے ہیں۔اس کے باوجود نہ گھر والے، نہ خاندا والے،نہ محلہ والے اور نہ ہی معاشرہ ان کا حل تلاش کرتا ہے۔بس ہوتا ہے تو اتنا کہ مجرمین کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی جاتی ہے، پولیس اور متعلقہ افراد اس واقعہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔بات ذرا آگے پہنچتی ہے تو کورٹ کچہری والے بھی شامل ہوجاتے ہیں اور یوں یہ معاملات شب و روز کے معمولات میں سے ایک بن جاتے ہیں۔کہیں جہیز کے نام پر مظلوم عورتوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو کہیں لڑکی کی پیدائش پر عورتوں سے نازیبا معاملات کیے جاتے ہیں اور اس طرح بے شمار معا ملات سے گھرا ہمار ا معاشرہ نظر آتاہے۔معاملہ یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں مظالم خوبصورت ناموں سے کیے جا رہے ہیں کہیںحقوق انسانی کے نام پرغیر فطری جنسی تعلقات ،قائم مقام مادریت(Surrogate Motherhood)، غیر فطری بنیادوں پرنعرہ حقوق نسواں ،مادہ پرستی اور شہوت پرستی اور اخلاط و مرد و زن جیسے مسائل ہیں تو کہیں امن و امان کے قیام و استحکام کے نام پرملکوں پر بم باری اور ملک اور اہل ملک کو در بدر کرناجیسے کام انجام دیے جا رہے ہیں۔ان حالات میں سوچنا چاہیے کہ وہ کون سا نظریہ اور طریقہ کار ہوگا جو صحیح بھی ہو، لوگوں کا استحصال بھی نہ کرے اور مسائل کا صحیح تدارک بھی پیش کر سکے۔ساتھ ہی معاشرہ کو اخلاقی اور قانونی حدود کا پابند بنائے اور موجودہ معاشرتی،خاندانی اورتمدنی بگاڑ پر بھی گرفت بنا سکے۔ سوال اٹھتے ہی سماعت و بصارت رکھنے والے چہار جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ان آوازوں کی جانب بھی جودعویدار ہیں کہ ان کے پاس حل موجود ہے اور ان لوگوں کی جانب بھی جن کا زمانہ جدید ساتھ دے رہا ہوتا ہے۔
اور یہ فی الوقت جو ہندوستان میں تحریکں برپا ہیں:
         گزشتہ دو سال سے یہ جو عوامی تحریکیں کہلانے والی آوازیں اٹھ رہی ہیں وہ بھی انہیں حالات کا پس پردہ ہیں یعنی یہ کہ مال و دولت سے جب غلط بنیادوں پر تعلق استوار کیا جائے گا تو اس کے نتائج بھی غلط ہی ثابت ہوں گے۔لوگ ملک کی دولت کو ناجائز طریقوں سے حاصل کریں گے بلکہ لوٹیں گے اور پھر اس دولت کو نہ یہ کہ ملک کے اندر ہی بلکہ دوسرے ملکوں کے بینکوں میں بھی جمع کریں گے ۔گھپلے اور گھوٹالے کریں گے اور کروائیں گے اور ساتھ ہی دولت کو عیاشی، ناجائز کاموںاور غنڈہ گردی میں صرف کریں گے۔کیونکہ آج ہر شخص ضرورت سے زیادہ مال و دولت کی دھن پڑگیا ہے۔لہذا پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں ہی یکساں طور پر چہار جانب پھیلی عیاشیوں میں بدمست ہواچاہتے ہیں۔ملک کی دولت چند مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ دیگر دوسروں کا استحصال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔غربت و افلاس کی آندھیاں تیزرفتاری کے ساتھ چل رہی ہیں،چہار جانب گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا ہے،ملک اور معاشرہ تباہی کے دہانے پر ہے، ان حالات میں چند لوگ اس آواز کے ساتھ کہ وہ کرپشن اور کالا دھن اور اسی طرح سے ناجائز انداز سے لوٹی ہوئی دولت کو ملک اور اہل ملک کو واپس دلائیں گے، اٹھتے ہیں۔لیکن پھر ان کے معاملات پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں یا پھر ان کے حالات سے واقف ہوتے جاتے ہیں۔یہ لوگ خود بیرونی اور داخلی طور پر انتشار کا شکار ہوتے ہیںاور اس طرح ان پر بھی اعتماد مدھم پڑتاجاتا ہے۔گرچہ یہ لوگ صرف ایک ہی مسلہ کو لے کر اٹھے تھے جس میںاننا ہزارے،بابا رام دیو، اروند کجری وال اور کرن بیدی کے نام قابل ذکر ہیںمگر اب وہ بھی ایک ایک کرکے الگ ہوتے جارہے ہیں۔پہلے اننا اور رام دیو الگ ہوئے تو اب انڈیا اگینسٹ کرپشن مہم میںکجری وال اورکرن بیدی الگ۔سوال یہ نہیں ہے کہ کون کس کو الگ کر رہا ہے اور وہ کیوں ایک دوسرے سے الگ ہو رہے ہیں بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے خود کے ذاتی مفاد کیا کچھ تھے اور ہیں؟اور یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ آج تک ان لوگوں نے عوامی مسائل کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔جس کی زندہ مثال حالیہ ملک کی بیس فیصد اقلیت کے مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کر نا اور خاموشی اختیار کرنا ہے۔چونکہ عوامی تحریکیں عوام سے متعلق ہوتی ہیں اور ان کے مسائل کو ایڈرس کرتی ہیں ،ان پر ہو رہے مظالم کے خلاف آواز اٹھا تی ہیں اور ان کے حقوق کی باز یابی کے لیے سرگرم ہوتی ہیںلیکن اس نام نہاد عوامی تحریک نے ایساکچھ نہیں کیا۔ایک پارٹی دوسری پارٹی کو زیر کرنے میں مصروف ہے اور چندپیادے ہیں جو کبھی ایک پارٹی کے لیے کام کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی دوسری پارٹی کے لیے۔ان حالات میں بڑے مسائل تو خود بہ خود ہی دب جاتے ہیںجبکہ معمولی اور کمتر مسائل بھی وہ حل نہیں کرپاتے!

حالات اسی بات کے متقاضی ہیں:
         حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملک اور اہل ملک کو اسلامی تعلیمات سے قول و عمل کی شہادت دیتے ہوئے واقف کیا جائے۔گرچہ اسلامی تعلیمات کے علمبردار خود اسی کیچڑ میں لت پت نظر آتے ہیں جس میں دیگر ۔ اس کے باوجودیہی وہ لوگ ہیں جن کے پاس اللہ رب العالمین کی صحیح ، واضح اور برحق تعلیمات ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں، واضح ہدایات ،تعلیمات،تنبیہات اور سرخ روئی و کامیابی کی بشارتیں بھی جبکہ دوسروں کا معاملہ اس کے برخلاف ہے۔وہ نہ علم ہی رکھتے ہیں اور نہ ہی عمل لہذا ایسی صورت میں ان سے کوئی خاص توقع نہیں کی جا سکتی۔بات کے آغاز میں بیان کیے واقعہ اور موجودہ ہندوستان میں عوامی تحریکیوں کی آوازیں جن مسائل سے دوچار ہیں ان کے لیے اللہ کے رسول کی یہ تعلیم و راہنمائی قابل توجہ ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:"ہر امت کے لیے ایک آزمائش ہے (یعنی ایسی چیز جس کے ذریعے سے اسے آزمایا جاتا ہے)اور میری امت کے لیے فتنہ (آزمائش)مال ہے"(ترمذی)۔یہاں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور اس کے معنی آزمائش کے ہیں۔جس کو جس چیز سے آزمایا جائے وہ اس کے لیے فتنہ ہے ۔ اس اعتبار سے قرآن مجید میں اولاد اور مال کو بھی انسانوں کے لیے فتنہ کہا گیا ہے، حالانکہ یہ دونوں چیزیں اللہ کی نعمتیں ہیں۔لیکن چونکہ ان نعمتوں کے ذریعہ سے انسانوں کی آزمائش ہوتی ہے، اس لیے انھیں فتنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔اس حدیث میں امت محمدی کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ وہ مال کی محبت میں اعتدال کو ملحوظ رکھیں ورنہ وہ اس آزمائش میں ناکام ہو سکتی ہے۔ اور یہ مال،جو نعمت الہٰی ہے اس کے لیے عذابِ شدید کا باعث بن سکتا ہے۔بس یہی ایک حدیث دونوں واقعات کے لیے کافی ہے اور یہی اس کا حل بھی ۔لیکن یہ حل وہ نہیں جانتے جو لا علم ہیں۔ یہ حل ان لوگوں کو پیش کرنا ہے جو علم کے ساتھ ساتھ یقینِ کامل بھی رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اعمال ان کے علم کے عکاس ہیں!

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top