منبع ہدایت و راہنمائی


منبع ہدایت و راہنمائی

                چند لوگ بد عمل بد اخلاق بد کردار بد تہذیب بد دیانت اور بد دماغ ہوا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ان ہی جیسے ہو جائیں یا نہ بھی ہوں تو کم از کم ان کی بد اعمالیوں پر سر زنش نہ کریں۔ ایسے معاملات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں۔وہ لوگ جو ان بدکرداروں کی بدکرداریوں سے متاثر ہوتے ہیں وہ کبھی آواز بلند کرتے ہیں اور کبھی خاموش رہتے ہیں۔آواز بلند کرنے پر یہ لرزنے اور کانپنے لگتے ہیں لیکن خاموشی پر وہ اپنی بدکرداریوں میں لذت محسوس کرتے ہیں اوران کے حوصلے مزید بلند ہوجاتے ہیں۔لوگوں کی دل آزاری کرنا اور ان پر مختلف طریقوں سے ظلم و ستم کرنا اُن کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔یہ غنڈہ عناصر جتنے بڑے پیمانہ پر غنڈہ کردی کرتے ہیں اسی درجہ کے غنڈے کہلاتے ہیں۔موجودہ دور میں دنیا کے مختلف خطوں اور علاقوں میں یہ افراد موجود ہیں جو اپنے نازیبا منصوبوں پر بہت ہی منظم انداز میں مصروفِ عمل ہیں اور ایک طبقہ ہے جو ہر مقام پر ان کے مظالم کا شکار ہے۔یہی وہ افرادہیں جو معاشرتی بگاڑ کی کلید ہیں اس کے باوجود وہ ملک و معاشرے کو سدھارنے کا ذمہ اپنے سر لیے ہوئے ہیں۔اور ایک جم غفیر ہے جو جانوروں کے ریوڑ کی طرح ان کے ہانکنے پر دوڑے چلے جا رہے ہیں۔وہ کہاں جا رہے ہیں؟اور کون لوگ ان کو ہانک رہے ہیں یہ اُس سے بے خبرہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کون ان بے خبر انسانوں کو صحیح راہ فراہم کرے گا؟وہ جو خبر رکھنے کے باوجود بے خبری کے عالم میں سوئے ہوئے ہیں؟یا وہ جو ان پڑھ ہیں، جاہل ہیں،لا علم ہیں اوراپنے اعمال و کرد کے نتیجہ میں بے وزن اور حقیر ؟کون؟ کون اُن لوگوں کے بہکاوے میں آئے ہوئے لوگوں کو صراط مستقیم پر لائے گا؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دوسروں سے پہلے خود اپنی ذات سے حاصل کرنا چاہیے۔شاید کہ جواب بھی مل جائے اور حقارت و ذلت و خواری بھی کچھ کم ہو جائے!

ہدایت و راہنمائی کا منبع:
                دنیا کے مختلف زمانوں کے مہذب متمدن اور تہذہب و شائستگی سے آراستہ و پیراستہ کہی جانے والی قومیں و افرادراہنمائی کی متقاضی رہی ہیں۔اس کے باوجود وہ خود کو سب سے بہتر اور کامل سمجھتے رہے ہیں۔دنیا ان کو مہذب کہے اور سمجھے اس کے لیے وہ آرائش و زیبائش کا سہارا لیتے ہیں لیکن درحقیقت یہ تہذیب و شائستگی کا مبہم لباس اپنے اندر بے شمار ناپاکیوں اور غلاظتوں کو سموئے ہوئے ہے۔پھر یہ انھیں خوشنما لباسوں کی دین ہے جنھوں نے انسانوں کی بستیوں کو ڈھانپ رکھا ہے ۔ جن کے نیچے بے شمار غلاظتیں ہیں اور غلاظتوں میں لت پت بدچہرے والے بدنما لوگ ۔لہذا ہر دور میں تہذہب و تمدن میں کامیاب ترین کہے جانے لوگ جو عوام الناس پر حاوی رہتے ہیںوہ ذہنی و عملی انتشار کا شکار رہے ہیں۔اس ہی لیے اللہ رب العزت جو تمام انسانوں کا خالقِ حقیقی ہے اس نے انسانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے ظاہر و باطن کو پاک و صاف کرنے کے لیے نبیوں و رسل کا سلسلہ جاری کیا۔جنھوں نے بغیر کسی کمی بیشی کے اللہ کی ہدایات و راہنمائی انسانوں تک پہنچانے کی عظیم ذمہ داری ادا کی۔پیغمبروں کا یہ سلسلہ پہلے انسان کی شکل میں شروع ہوااور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو آخری رسول ہیں، کی ذات پر ختم ہوا۔اللہ کے نبی محمد نے اللہ کی امانت لوگوں تک پہنچانے میں کسی بھی طرح کی کسر نہ چھوڑی۔نبی کی ذات ہدایت و راہنمائی کا منبع ہوا کرتی ہے۔اللہ کے نبی محمد نے اس وقت موجود لوگوں اور قوموں کو صراط مستقیم فراہم کی اور بعد کی نسلوںکے لیے اپنی سنت اور قرآن حکیم کی شکل میں واضح ہدایات و راہنمائی چھوڑی۔انسان خالق برحق کے حقوق ادا کرے جس نے اسے پیدا کیا اور ساتھ ہی ان انسانوں کے بھی جن سے اس کو شب و روز واسطہ پڑتا ہے، یہ شہادت اگر کسی نے قولی و عملی شکل میں پیش کی تو وہ وہی نبی امّی محمد کی ذات تھی جس پر جس قدر بھی جانیں قربان کی جائیں تو وہ کم ہیں۔حقیر تر انسان جس کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا اس کو اس کے صحیح مقام کی اگر کسی نے پہچان کرائی تو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔دنیا کے مختلف زمانوں میں اور آج کے مہذب ترین دور میں بھی کہیں کالے اور گورے کی بنیاد پر تو کہیں پیشہ کی بنیاد پر لوگوں کی تحقیر کی جاتی رہی ہے۔ان کو وہ حقوق تک نہیں دیے جاتے جو جانوروں کو میسر ہیں۔لیکن اللہ کے نبی محمد نے انسانوں کو انسانوں پر فضیلت دی تو ان کے اعمال صالحہ کی بنیاد پر نہ کہ مال و دولت،حسب و نسب،رنگ و نسل اور پیشہ کی بنیاد پر۔اور پھر اس ہمیشگی زندگی میں نجات کا راستہ نہایت سہل انداز میں فراہم کر دیا اورکہا کہ اس ہمیشگی نجات اور کامیابی و سرخ روئی کے لیے انسانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہی جیسے انسانوں کی غلامی نہ کریں۔نجاتِ کامل کے لیے اب نہ وہ جانوروں اور نہ پیڑ پودوں اور نہ ہی خود سے تراشے پتھروں کے آگے سر جھکائیں بلکہ اگر سر جھکانا ہے، عبادت و بندگی اختیار کرنی ہے تو اس مالکِ حقیقی اللہ رب العزت کی بندگی اختیار کی جائے جو انسان کو شرف و عزت اور قدر و منزلت بخشنے والا ہے۔یہ وہ ہدایت و راہنمائی فراہم کرنے والی اعلیٰ ترین مقدس ذات تھی جس نے انسانوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی اور گمراہیوں سے نکال کر نجاتِ کامل بخشی ۔افسوس کہ نادان لوگ آج اس مقدس ذات کی حرمت کو پامال کرنے کی جرت کر رہے ہیں۔اس کے لیے کبھی کسی طرح تو کبھی کسی طرح وہ اپنے ناپاک عزائم کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔لیکن یا درکھیں! یہ لوگ نہ آج کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ کل جبکہ اللہ رب العزت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان کے جسم اکڑے ہوئے ہوں گے اور وہ رب ِ اعلیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی کوشش بھی کریں گے تو ایسا نہ کر سکیں گے۔وہاں ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور وہ دور ہی سے پہنچان لیے جائیں گے۔اُن کو بالوں سمیت گھسیٹتے ہوئے بھیانک آوازوں والی جہنم کے عذاب ِ عظیم میں مبتلا کر دیا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔وہاں نہ ان کی یہ جھوٹی تہذہب و شائستگی کسی کام آئے گی اور نہ یہ آرام و آسائش کے سروسامان۔وہاںاگر کچھ ہوگا تو انسان کے نیک اعمال جو اس دن اس کے نجات کا سامان بنیں گے۔ اور اعمال بھی بس وہی جو اللہ اور اس کے حبیب رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق انجام دیے جائیں۔وہاں بادشاہی ہوگی توصرف اللہ کی!جو رب العالمین اور حاکم برحق ہے۔

برائٹ از مسلمز :
                صورت واقعہ یہ ہے کہ حقیر و ظلیل انسان کہیں رب العالمین کی فراہم کردہ ہدایات و راہنمائی کو جلانے کی جرت کر رہے ہیں تو کہیں اس کے بھیجے ہوئے نبی محمد کی شان میں گستاخی کرنے کے درپے ہیں۔کہیں یہ شیطان سلمان رشدی کے نام سے جانے جاتے ہیں تو کہیں ٹیری جونز اور سیم بیسل کے نام سے اورکبھی سلمان تاثیر اور آسیہ بی بی کے نام سے اور ان چند ناموں کے علاوہ دوسرے بہت سے ناموں سے۔ گرچہ اُن کے نام اتنے نمایاں نہیں ہوئے جتنے ان کے ہو گئے ۔پھر ان ناموں کے پس منظر میں یہور و نصاریٰ کے وہ کم ظرف انسان جن کی نسلیں خود نبیوں اور رسولوں کی قاتل رہی ہیں،بڑے بےباکانہ انداز میں "آزادی اظہار رائے"کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ گروہ ہے جو مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرتا اور اُس سے محظوظ ہوتا ہے۔یہ سلسلہ لگاتار جاری ہے اور شاید آئندہ بھی زیادہ منظم انداز سے جاری رہے۔ایسی صورت میں سب سے پہلے مسلمان جس ردّ عمل کا اظہارکرتے ہیں وہ بڑے پیمانہ پر مظاہرے ہوتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اس فعل بد سے خوش نہیں بلکہ غم زدہ ہیں۔ ان کا مطالبہ ہوتا ہے کہ اس فعل بد کو رکنا چاہیے اور اُن لوگوں پر گرفت ہونا چاہیے جنھوں نے اس کی جرت کی۔پھر یہ سلسلہ آہستہ آہستہ کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتا ہے۔نتیجہ کے اعتبار سے کسی حد تک اس کے اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں لیکن معمولی عرصہ نہیں گزرتا کہ ایک دوسرا نا خوشگوار واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔واقعہ جب رونما ہوتا ہے تو یہ اور اس طرح کے بیانات جاری ہوتے ہیں:"امریکی حکومت کا توہین آمیز فلم سے کوئی تعلق نہیں حکومت اس فلم کے پیغام اور مواد کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔حکومت روز اول سے مذہبی رواداری کے لیے پر عزم ہے ۔امریکہ لاکھوں مسلمانوں سمیت مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے جن کا حکومت پورا احترام کرتی ہے"۔مزید یہ کہ حکومت توہین آمیز فلم کے ذریعہ ایک عظیم مذہب کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیتی ہے اور اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔اور کہتے ہیں :"بعض لوگوں کو یہ باور کرانا مشکل ہوگا کہ امریکہ اس ویڈیو فلم کو مکمل طور پرکیوں بند نہیں کر سکتا ۔کیونکہ آج کی ٹیکنالوجی میں ایسا کرنا ممکن نہیں ہے اگر ممکن بھی ہو تو امریکہ میں اظہار رائے کی آزادی کی دیرینہ روایت کو قانونی تحفظ حاصل ہے"۔یہ وہ بیانات ہیں جن کے ذریعہ حوصلہ فراہم کیا جاتا ہے،لوگوں کو خاموش کیا جاتا ہے اور نقصانات کو بڑے پیمانہ پر ملٹی پلائی کرکے ظلم وستم اور تشدد و استحصال کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔

کرنے کے کام!
                موجودہ حالات میں سب سے پہلے مسلمانوں کو یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انھیں اشتعال دلانے کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوگا بلکہ جاری رہے گا۔لہذا انھیں اپنا احتجاج جاری رکھنا چاہیے اور اس احتجاج میں جہاں وہ خود بحیثیت امت مسلمہ کردار ادا کریں اسی کے ساتھ ساتھ ان امن پسند اور نیک سیرت لوگوں کو بھی ساتھ لینا ہوگا جو ان نازیبا حرکات سے کراہیت محسوس کرتے ہیں۔پھر انھیں بھرپور اندازمیںظالمین کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرنا ہوگی۔اس کے لیے ملکی اور بین القوامی قوانین موجود ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔برخلاف اس کے کہ یہ ملکی اور بین القوامی قوانین انھیں لوگوں کے دست و پا ہیں جو اسلام سے ہمدردی نہیں رکھتے اس کے باوجود وہ خود ان قوانین کے پابند ہیں۔اس سے آگے بڑھ کر مسلمانوں کو عدلیہ،انتظامیہ،پولیس اور فوج میں شریک ہونا چاہیے۔جس کے ذریعہ وہ ایک جانب ملک کے کام و کاج کو امانت و دیانت کے ساتھ بہترانداز میں انجام دیں گے تو وہیں دوسری جانب ملک کے انتظام و انصر ام میں حصہ بٹاتے ہوئے تشد د و استحصال میں کمی لائیں گے ۔پھر وہ افراد جو موجودہ حالات پر نظر رکھتے ہوںاورملک و معاشرے سے اچھی طرح واقف ہوں، انھیں چاہیے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تحقیق کے بعد مسائل کا حقیقی حل پیش کریں۔اور اس سے بھی آگے بڑھ کر ضلعی اور صوبائی سطح پر چھوٹے چھوٹے ادارے قائم کریں اور وہ حل جو اپنی تحریروں میں پیش کررہے ہیں ان کو عملی جامہ پہنائیں۔تاکہ بات صرف قول کی حد تک ہی محدود نہ رہے بلکہ عملی نمونے بھی ملک اور اہل ملک کے سامنے آئیں۔ فائدہ یہ ہوگا کہ قو ل و عمل میں یکسانیت پائی جائے گی،بات میں وزن پیدا ہوگا اور اہل ملک اسلامی برکات سے مستفیذ ہوں گے۔اسی ذیل میں ان اداروں کو بھی لینا چاہیے جومسلمانوں کی نگرانی میں چل رہے ہیں۔معاملہ یہ ہے کہ ان کے ذمہ داران مسجد میں آنے اور نماز و روزہ کے آداب سے تو واقفیت کا اظہار کرتے ہیں لیکن اسلامی ادارے کن بنیادوں پر اپنے کاموں کو انجام دیں اور کن پر نہیں؟ اس بات سے ناواقف ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کی فکری و عملی راہنمائی کی جائے اور ایسے تربیتی منصوبے بروئے کار لائے جائیں کہ جن کے ذریعہ مقصد کا حصول ممکن ہو۔آج نہ صرف ملک عزیز ہند میںبلکہ دیگر ممالک میں بھی مسلمانوں کی تعداد دنیا کی بڑی قوتوں میں شمار کی جاتی ہے۔اس کے باوجود مسلمان اس بات سے غافل ہیں کہ دنیا میں ان کی کیا حیثیت ہے۔ساتھ ہی اس بات سے بھی وہ ناواقفیت کا اظہار کرتے ہیں کہ اسلام فرداًفرداً اور اجتماعی طور پر ان کے لیے کون سے کام لازم کرتا ہے ۔آج وقت آگیا ہے کہ ملک عزیز ہند کے مسلمان اور دنیا کے مسلمان اجتماعی سعی و جہد کے ساتھ ساتھ انفرادی منصوبوں پر عمل پیرا ہوں۔ہر وہ مسلمان جو ذرا بھی کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ ایک طرف اپنی شخصیت میں ہمہ جہتی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے وہیںدوسری طرف وہ جس مقام اور جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے اس مقام پر دعوتِ اسلام اور خدمت خلق کے کاموں میں سے کسی ایک کام کو اپنی زندگی کا حصہ ضرور بنائے۔پھر یہ کام وقتی یا ہنگامی نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک جہد ِ مسلسل کے ساتھ انجام دیے جائیں۔ اس وقت تک جب تک کہ شخص واحد کی سانسیں جاری ہیں اور جب تک کہ زندگی پائی جائے۔یہ کام ہر فرد کو اس لیے بھی کرنا چاہیے کہ بہت ہی منظم کہی جانے والی جماعتوں اور اداروں کے افراد بھی اجتماعی سعی وجہد میں تو مصروف عمل نظر آتی ہیں لیکن ان کا ذاتی کام کا عملی منصوبہ ذرا نظر نہیں آتا۔اس کے باوجود کہ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اجتماعی تعلقات سے زیادہ کارآمد انفرادی روابط ہوا کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح اجتماعی سعی و جہد کے ساتھ ساتھ اگر فردِ واحد اپنا ذاتی منصوبہ بھی رکھتا ہو تو وہ نہ صرف فرد کے لیے بلکہ اجتماعی سعی و جہد کے لیے بھی زیادہ مفید اور کارگر ثابت ہوگا۔اور آخری بات!مسلمانوں کو دین حنیف کا فہم پیدا کرنا ہوگا۔ یہ کام مطالع قرآن ،احادیث،سیرت محمد اور دیگرذرئع سے حاصل ہو سکتا ہے۔اس مطالعہ سے ان کی زندگی کے شب و روز میں نمایاں تبدیلی رونما ہوگی اور یہ تبدیلی ان کی آنے والی نسلوں کے لیے خاموش تربیت کا حصہ بن جائے گی۔اس کے نتائج جو ان کے سامنے آئیں گے اس سے نہ صرف ان کے گھر کا موحول خوشگوار ہوگا بلکہ معاشرہ بھی صحیح رخ پر قائم ہوگا۔
vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top