فکری و نظریاتی یلغار اور مسلمان


فکری و نظریاتی یلغار اور مسلمان

        دنیا پر عظیم ترین اثرات ڈالنے والے مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے جب اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کرنا شروع کیا تو ایک وقت وہ بھی آیا کہ مسلمان مغلوب ہوتے چلے گئے، دنیا کی باگ دوڑ ان کے ہاتھ سے لے لی گئی اور وہ تنزل کا شکار ہوئے۔وجہ یہ کہ وہ اپنے مقصد وجود سے ناواقف ہوتے گئے یہاں تک کہ آج وہ اُس کو بھول ہی چکے ہیں۔مسلمانوں کے وجود کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی فرماں برداری ،اس کی خوشنودی کا حصول ،اس کی بادشاہی واحکام کے سامنے سپردگی ہے اور دنیا میں ہر سطح پر اللہ کی کبرائی قائم کرنا ہے۔چونکہ یہ ایک عظیم ترین مقصد ہے لہذا حصولِ مقصد کے لیے ایک طویل جدوجہد کی بھی ضرورت ہے۔ ہر اس عقیدہ، تربیت، اخلاق، اغراض اور خواہشات کے خلاف جو اس میں مزاحم ہوں اور ان تمام نفسی و آفاقی(داخلی و خارجی) آلہہ و معبودانِ باطل کے خلاف جو اللہ کی فرماں برداری اور اخلاص میں حریف اور رقیب ہوں۔اس مخلصانہ جدوجہد کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ انسان اُس اسلام سے بخوبی واقف ہو جس کی خاطر وہ مصروفِ عمل ہے ۔ساتھ ہی کفر و جاہلیت سے بھی مکمل واقفیت کی ضرورت ہے۔تاکہ جہالت جس لباس اور جس رنگ میں بھی ظاہر ہو اس کو پہچان لےا جائے۔ حضرت عمرؓ کا قول ہے:"مجھے خطرہ ہے کہ وہ شخص اسلام کی کڑیاں بکھیر دے گا جس نے اسلام میں نشو و نمو پایا اور جاہلیت کو وہ نہیں پہنچانتا"۔لہذا ضروری ہے کہ مسلمان زمان و مکاں کے حدود کی پابندیوں سے اوپر اٹھ کرصراط مستقیم پر قائم رہیں۔نیز وہ اتنی ذکاوت و مستعدی اور علم رکھتے ہوں اور محنت کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جو طبعی قوتیں پیدا کی ہیں، اور زمین میں دولت و قوت کے جو چشمے اور دفینے رکھ دیئے ہیں، ان سے کام لیتے ہوئے اِن کو اسلام کے مقاصد کے لیے مفید بناسکیں۔
موجودہ فکری و نظریاتی یلغار :
        موجودہ دور میں دنیا کے مختلف ممالک دو بڑے نظریات کی یلغار میں مبتلا ہیں۔ان میں سے ایک لبرل ازم ہے تو دوسرا سیکولر ازم۔ضرورت ہے کہ اس فکری یلغار کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے تاکہ زندگی کے تمام ہی شعبہحیا ت ؛دین و مذہب، اخلاق، سماج،تعلیم،معاش اور سیاست اس کی خباثت سے نکل کر انسانوں کو حقیقی زندگی پر عمل کرنے میں معاون و مددگار ہوں۔نیز سرمایہ دارانہ ستعماراور "انتہا پسندی" و "دہشت گردی"جیسے مذموم نعروں کی آڑ میں جوآج کھل کر معصوم انسانوں کا بڑے پیمانہ پر استحصال جاری ہے اُس پر قابو پایا جا سکے۔گرچہ کمیونزم اور سوشلزم کو شکست ہو گئی ہے اس کے باوجودمذکورہ دونوں نظریات اپنی نوع کے اعتبار سے اصل نظریات نہیں ہیں بلکہ لبرلزم اور سیکولرزم کے ہی محض فروع ہیں۔ایک جانب مسلم ممالک تو وہیں دوسری جانب دنیا کا بڑا خطہ لبرل ازم اور سیکولرازم کی جکڑ بندیوں میں بری طرح گھرا ہواہے۔واقع یہ ہے کہ ایک جانبمسلم ممالک کے بیشترسیکولر حکمران اپنے مفادات کی خاطر مغربی طاقتوں کے ہمنوا بلکہ آلہ کاربنے ہوئے ہیں تو وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی اکثریت لبرلزم اور سیکولرزم کو نہ سمجھنے کے باعث اس لڑائی کو ایک گومگو کی حالت میں دیکھ رہی ہے۔ لبرلزم اور سیکولرزم کے وہ علَم بردار جو مسلمان ممالک کے شہری ہیں عوام الناس کو ایک دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ خدا، رسول، قرآن اور اسلام کا نام لیتے ہیں مگر عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ سے بدکتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک آدمی بیک وقت مسلمان اور سیکولر یا لبرل ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ سیاسی ، ادبی، صحافتی اور ثقافتی حلقوں میں اثر و نفوذ رکھتے ہیں اور ذرائع ابلاغ اور حکومتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نہایت آہستگی اور خاموشی کے ساتھ معاشرے کے تمام شعبوں سے خدا اور اسلام کو بے دخل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سیکولرزم کی ساخت کے عین مطابق یہ سیکولر حکمران یا دانش ور مسلمانوں کے عقائد ،مراسمِ عبودیت اور رسوم و رواج کی نہ صرف یہ کہ مخالفت نہیں کرتے بلکہ خود بھی ان کو اختیار کر کے عوام کو اپنے متعلق پکے مسلمان ہونے کا تا ثر دیتے ہیں اور مسلمان عوام اِن سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔
لبر ل ازم-حقیقت کیا ہے؟
        لفظ 'لبرل'، قدیم روم کی لاطینی زبان کے لفظ'لائیبر' ، (liber ) اور پھر'لائبرالس' (liberalis) سے ماخوذ ہے ، جس کا مطلب ہے"آزاد، جو غلام نہ ہو"۔آٹھویں صدی عیسوی تک اس لفظ کا معنی ایک آزاد آدمی ہی تھا۔بعد میں یہ لفظ ایک ایسے شخص کے لیے بولا جانے لگا جو فکری طور پر آزاد، تعلیم یافتہ اور کشادہ ذہن کا مالک ہو۔اٹھارھویں صدی عیسوی اور اس کے بعد اس کے معنوں میں خدا یا کسی اور مافوق الفطرت ہستی یا مافوق الفطرت ذرائع سے حاصل ہونے والی تعلیمات سے آزادی بھی شامل کر لی گئی، یعنی اب لبرل سے مراد ایسا شخص لیا جانے لگا جو خدا اور پیغمبروں کی تعلیمات اور مذہبی اقدار کی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتا ہو، اور لبرلزم سے مراد اسی آزاد روش پر مبنی وہ فلسفہ اور نظامِ اخلاق و سیاست ہوا جس پر کوئی گروہ یا معاشرہ عمل کرے۔       یہ تبدیلی اٹلی سے چودھویں صدی عیسوی میں شروع ہونے والی تحریکِ احیاے علوم (Renaissance یعنی re-birth)کے اثرات یورپ میں پھیلنے سے آئی۔برطانوی فلسفی جان لاک (1620ء۔ 1704ء) پہلا شخص ہے جس نے لبرلزم کو باقاعدہ ایک فلسفہ اور طرزِ فکر کی شکل دی۔یہ شخص عیسائیت کے مروّجہ عقیدے کو نہیں مانتا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ بنی نوعِ انسان کو آدم کے اس گناہ کی سزا ایک منصف خدا کیوں کر دے سکتا ہے جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔عیسائیت کے ایسے عقائد سے اس کی آزادی اس کی ساری فکر پر غالب آگئی اور خدا اور مذہب پیچھے رہ گئے۔ انقلابِ فرانس کے فکری رہنما والٹئیر (1694ء۔ 1778ء) اور روسو (1712ء۔ 1778ء) اگرچہ رسمی طور پر عیسائی تھے مگر فکری طور پر جان لاک سے متاثر تھے۔ انھی لوگوں کی فکر کی روشنی میں انقلابِ فرانس کے بعدفرانس کے قوانین میں مذہبی اقدار سے آزادی کے اختیار کو قانونی تحفّظ دیا گیا اور اسے ریاستی امور کی صورت گری کے لیے بنیاد بنا دیا گیا۔امریکا کے اعلانِ آزادی (American Declaration of Independence) میں بھی شخصی آزادی کی ضمانت جان لاک کی فکر سے متاثر ہو کر دی گئی ہے (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا، وکی پیڈیا اور اوکسفرڈ ڈکشنری) ۔    دنیا کے مختلف ممالک میں خدا، حیات بعد الموت اور دینِ اسلام کی دنیاوی امور سے متعلق تعلیمات کے بارے میں آج جوبے اطمینانی پائی جاتی ہے، اس کا سرچشمہ یہی یورپ کی خدا اور اس کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے برگشتہ فکر ہے جس کی ذرا سخت قسم لبرلزم اور کچھ نرم سیکولرزم ہے۔یہ لبرل ازم اور سیکولرازم ہی ہے جس نے موجودہ دور میں مسلم ممالک، مسلم جماعتوں اورمسلم اداروں کوبھی عصری تعلیم میں "تصور وحی کی نہی "جیسے تعلیمی نظام کو یا تو فروغ دینے یا اس کا آلہ کار بننے پر مجبور کیا ہے۔نتیجتاً ہر خاص و عام مادیت اور آوارگئ نفسانی خواہشات میں مبتلا ہوگیا۔
لائحہ عمل:
        آج امت کو درپیش مسائل کا واحد راستہ یہی ہے کہ حقائق اور واقعات کا جرات و دور اندیشی اور صحیح دینی روح اور دینی بصیرت کے ساتھ سامنا کیا جائے، اور ملک میں دین کی صحیح تعلیم کے مطابق ہمہ گیر، صالح اور ضروری تبدلی کے لیے صدق دل اور اخلاص کے ساتھ کوشش شروع کی جائے ۔جن چیزوں کا ازالہ اور سدّ باب ضروری ہو ان کا سدباب کیا جائے اور جن اصلاحات کا نفاذ اور جن اسکیموں کا آغاز ضروری ہو، ان کے آغاز میں دیر نہ کی جائے۔ اسلام، قرآن اور سنتِ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی روشنی میں اور اسلامی حدود کے مطابق معاشرہ میں مساوات اور انصاف قائم کیا جائے۔ اہل ملک کی خوش حالی اور فارغ البالی کے لیے ضروری قدم اٹھائے جائیں، کم از کم جمہور کے ہر فرد کے لیے امکانی حد تک ضروریات زندگی کا بندو بست ہو۔اس بے جا اسراف اور حد سے بڑھی ہوئی فضول خرچی کو ختم کیا جائے جو عوام کی حقیقی ضروریات بھی پوری ہونے نہیں دیتی۔ اغنیا و اہلِ ثروت میں ایثار کا مادہ، اور ضروریات سے فاضلِ مال کے خرچ کا جذبہ اور "یسئلو نک ماذا ینفقون، قل العفوا"پر عمل کرنے کا شوق ہو اور فقراءمیں استغناءو خود داری اور اپنے گاڑھے پسینہ اور محنت و قابلیت سے اپنی ضروریات زندگی کے بندوبست کا جذبہ ہو۔نظام تعلیم کو نئے سرے سے اس طرح ڈھالا جائے کہ وہ اسلام کے عقائد و اصول اور عصر جدید کے تغیرات اور علوم و سائل دونوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور دونوں کے تقاضے پورے کرتا ہو۔ اور نئی نسل میں ایک طرف ایمان و یقین اخلاقی قوت، استقامت، خود اعتمادی و خودداری اپنے دین پر غیر متزلزل یقین اور اس کے لیے قربانی کا جذبہ ہو،تو وہیں دوسری طرف قوتِ ایجاد، فکری استقلال، بلند ہمتی اور اولوالعزمی پیدا کرنے اور جرات و ذہانت کے ساتھ مغرب کا مقابلہ کرنے کا جوہر اور اوصاف پیدکیے جائیں۔اس کے لیے لاز م ہے کہ ہر باشعور مسلمان ایک پھر تجدید شہادت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے منظم جدوجہد کے لیے صحیح اسلامی بنیادوں پر یا تو خود ایک گروہ مخصوص تشکیل دے بصورت دیگر موجودہ اسلامی تحریکات کو وہ حصہ بن جائے۔
         وہ افراد جو یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ بذات خود ایک صالح گروہ تشکیل دیں گے یا وہ حضرات جو کسی اسلامی تحریک کا حسہ بنیں گے ، دونوں ہی طرح کے افراد کویہ بات بھی پیش نظر رکھنا ہوگی کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے کام کا کوئی ایک ہی میدان نہیں ہے، بلکہ پوری انسانی زندگی اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اس کے دائرہ عمل میں آتی ہے۔ اسلام تمام انسانوں کے لیے ہے، اور ہر چیز جس کا انسان سے کوئی تعلق ہے اس کا اسلام سے بھی تعلق ہے۔ لہذا اسلامی تحریک ایک ہمہ گیر نوعیت کی تحریک ہے اور یہ خیال کرنا غلط ہے کہ اس تحریک میں کام کرنے کے لیے صرف خاص قابلیتوں اور خاص علمی معیار کے آدمیوں ہی کی ضرورت ہے، نہیں، یہاں ہر انسان کے لیے کام موجود ہے، کوئی انسان بیکار نہیں ہے، جو شخص جو قابلیت بھی رکھتا ہو اس کے لحاظ سے وہ اسلام کی خدمت میں اپنا حصہ ادا کر سکتا ہے۔ عورت، مرد، بوڑھا، جوان، دیہاتی، شہری، کسان، مزدور، تاجر، ملازم، ادیب، ان پڑھ اور فاضل اجڈ، سب یکساں کار آمد اور یکساں مفید ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ جان بوجھ کر اسلام کے عقیدے کو اختیار کر لیں، اس کے مطابق عمل کرنے کا فیصلہ کر لیں، اور اس مقصد کو جسے اسلام نے مسلمانو کا نصب العین قرار دیا ہے اپنی زندگی کا مقصد بنا کر کام کرنے پر تیار ہو جائیں۔اسے دنیا کے پورے نظامِ زندگی کو بدلنا ہے ۔دنیا کے اخلاق، سیاست، تمدن، معیشت، معاشرت، ہر چیز کو بدل ڈالنا ہے۔ دنیا میںجو نظامِ حیات خدا سے بغاوت پر قائم ہے اسے بدل کر خدا کی اطاعت پر قائم کرنا ہے۔ اس لیے ہر شخص کو قدم آگے بڑھانے سے پہلے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کس خارزار میں قدم رکھ رہا ہے۔ یہ وہ راستہ نہیں ہے جس میں آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹ جانا دونوں یکساں ہوں۔ نہیں، یہاںپیچھے ہٹنے کے معنی ارتداد کے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جماعت سے نکلنا ارتدادکا ہم معنی ہے، بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ خدا کے راستہ میں پیش قدمی کرنے کے بعد مشکلات، مصائب، نقصانات اور خطرات کو سامنے دیکھ کر پیچھے ہٹ جانا اپنی روح اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے ارتداد ہے۔کہا کہ"وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ  ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ"(سورة الانفال:۶۱)۔قدم اٹھانے سے پہلے خوب سوچ لو۔ جو قدم بڑھا اس عزم کے ساتھ بڑھا کہ اب یہ قدم پیچھے نہیں پڑے گا۔ جو شخص اپنے اندر ذرا بھی کمزوری محسوس کرتا ہو بہتر ہے کہ وہ اسی وقت رک جائے !
        حالات کے پس منظر میں یہ بات عام ہوچلی ہے کہ دنیا کے چودھری امریکہ کی بین الااقوامی پالیسیاںاس کو تباہی کی جانب رواں دواں کیے ہوئے ہیں۔امریکا کے معروف فلسفی اور اسرائیلی و امریکی حکومتوں کے ناقد پروفیسر نوم چومسکی نے امریکا کو "دنیا کا سب سے بڑا داداگیر ملک"قرار دیا ہے(دی روگ اسٹیٹ )۔حقیقت یہ ہے کہ سپر پاور امریکا کو زوال سے دوچار کرنے میں خود اس کی پالیسیاں اور عوامل نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔نیز ان پالیسیوں پر خود امریکا میں بھی علمی حلقوں اور عوامی سطح پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔لہذا اگر وہ اپنی روش نہیں بدلتا اور مجموعی طور پر دنیا میں فساد اور بگاڑ ہی کا باعث بنتا ہے تو خدا کے قانون کے تحت زوال اس کا لازمی مقدر ہے۔اس پس منظر میں ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا تو کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ آئندہ کون سی قوم اٹھائی جائے گی۔ لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر مسلمانوں نے اپنے فکر و عمل میں تبدیلی پیدا نہیں کی تو ممکن ہے کہ آج سے زیادہ مسائل سے وہ دوچار ہو جائیں۔کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب وہ ایک قوم کواس کے برے اعمال کی وجہ سے گراتا ہے تو اس کی جگہ کسی ایسی قوم کو اٹھاتا ہے جو اس مغضوب قوم کی طرح بدکار اور اس کے مانند سرکش نہ ہو۔کہا کہ:"اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے "(محمد:۸۳)۔۔


vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top