این ڈی اے وینٹی لیٹر پر !

این ڈی اے وینٹی لیٹر پر !

        ایل کے اڈوانی اور بی جے پی کے کئی قد آور رہنماوں کی شدید مخالفت کے باوجود گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو بالآخر بی جے پی کی انتخابی کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔جس وقت گوا میں بی جے پی کی کانفرنس میں پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ نے مودی کے نام کا اعلان کیا، بی جے پی کے سبھی وزراءا علیٰ، رہنما اور مندوبین نے کھڑے ہو کر اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور ہال میں کئی منٹ تک تالیاں بجتی رہیں۔ مخالفت کے باوجود نتیجہ نہ نکلا توسینیئررہنما لال کرشن اڈوانی نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔لال کرشن اڈوانی بظاہر گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی تاج پوشی سے نا راض ہیں۔ وہ نریندر مودی کو انتخابی مہم کی مکمل ذمہ داری دیے جانے کی مخالفت کر رہے تھے اور بتایا جاتا ہے کہ اسی لیے انہوں نے گوا میں پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت بھی نہیں کی تھی۔لال کرشن اڈوانی کا فیصلہ بی جے پی کے لیے بری خبر ہے کیونکہ وہ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور بی جے پی کو قومی سطح پر اقتدار تک پہنچانے کا سہرا انہی کے سر باندھا جاتا ہے۔استعفیٰ دیتے ہوئے بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ کے نام ایک خط میں اڈوانی نے کہا کہ بی جے پی نے اب جو سمت اختیار کی ہے اس میں وہ اپنے لیے جگہ تنگ محسوس کر رہے ہیں۔"میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اب یہ وہ اصولوں والی پارٹی نہیں رہی جو اٹل بہاری واجپئی، شیاما پرساد مکھرجی اور دین دیال اپادھیائے نے قائم کی تھی، کچھ عرصے سے مجھے پارٹی کے کام کاج کے طریقے اور اس کی سمت کو تسلیم کرنے میں دشواری ہو رہی تھی، اب زیادہ تر رہنما صرف اپنے ایجنڈے کے لیے کام کر رہے ہیں"۔گوا کے اجلاس کے دوران پارٹی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے اور جسونت سنگھ، یشونت سنہا اور اوما بھارتی جیسے سرکردہ رہنماوں نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔لال کرشن اڈوانی خود کو وزیرِاعظم کے عہدے کا دعویدار گردانتے ہیں اور مانا جاتا ہے کہ لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کی رہنما سشما سواراج بھی ان کے"خیمے" میں شامل ہیں۔معلوم ہونا چاہیے کہ یہ وہی ایل کے اڈوانی ہیں جن کی قیادت میں 1990 میں"رام مندر" کی تحریک چلائی گئی تھی اور 1991 میں"رام مندر"کی تعمیر کے لیے ایل کے اڈوانی کی"رتھ یاترا" ہی نے بی جے پی کو برسراقتدار آنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔چھ دسمبر 1992 کو جب بابری مسجد شہید کی گئی اس و قت ایل کے اڈوانی بھی ایودھیا میں موجود تھے۔لیکن2009 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد آر ایس ایس نے انہیں نوجوان رہنماوں کے لیے ’سرپرست‘ کا کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔تب سے پارٹی پر ان کی گرفت کمزور پڑی ہے لیکن انہوں نے کبھی واضح الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ وہ اب وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار نہیں ہیں۔

استفیٰ اور رد عمل:
        ایل کے اڈوانی کے استعفیٰ کے بعد رد عمل اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ کو گجرات کے وزیر اعلیٰ کے خلاف یہ کہہ کر باخبر کیا کہ نریندر مودی نے اُن ہی ہاتھوں کو کاٹا ہے جنہوں نے انہیں آگے بڑھایا۔دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مودی کانگریس پارٹی کے لیے کبھی بھی خطرہ نہیں رہے ہیں۔اور ان دعووں کو خارج کیا کہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں راہل بنام مودی مقابلہ ہوگا۔دگوجے سنگھ نے کہا"ہم الیکشن اصولوں کی بنیاد پر لڑتے ہیں نہ کہ شخصیات کی بنیاد پر"۔وہیں پارٹی ترجمان شکیل احمد کا کہنا ہے کہ مودی کے اثرات گجرات تک محدود ہیں۔وہ صرف ان ہی لوگوں میں مقبول ہیں جن کو فرقہ وارانہ سیاست اور فرقہ پرست شخصیت پسند ہے۔لیکن اس طرح کی سیاست ہندوستان کے مزاج کے خلاف ہے۔وہیں سابق وزیر اعظم اور جنتا دل سیکولر کے صدر ایچ ڈی دیو گوڑا نے سرکردہ لیڈر اڈوانی کو کنارہ لگانے پر مایوسی کا اظہار کیا۔اس کے برخلاف جنتادل یو نے این ڈی اے سے الگ ہونے کا پہلا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اس این ڈی اے میں رہنا انتہائی مشکل ہے ، جو لال کرشن اڈوانی کے بی جے پی کے اعلیٰ عہدوں سے استعفے اور نریندر مودی کو انتخابی مہم کمیٹی کا صدر بنائے جانے کے سبب وینٹی لیٹر سپورٹ پر ہے۔جنتا دل یو کے قومی صدر شرد یادو نے اڈوانی کے استعفے کو ایک سنگین معاملہ بتایا اور کہا کہ اڈوانی کے استعفے سے میں کافی مایوس ہوں کیوں کہ اٹل جی اور اڈوانی جی کی کوششوں سے ہی این ڈی اے بنا تھا۔وہیں پٹنہ میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا کہ اس ڈرامائی پیش رفت کے سبھی پہلوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اپنا رخ جلد ہی واضح کریں گے۔انہوں نے اس خبر کو بھی غلط بتایا کہ مودی کو انتخابی مہم کمیٹی کا صدر بنائے جانے کے فیصلہ سے پہلے بی جے پی صدر راج ناتھ سنگھ نے نتیش کمار سے بات چیت کی تھی۔کے سی تیاگی نے کہا کہ جب قد آور لیڈر اور بی جے پی اور این ڈی اے کے بانی یہ کہتے ہیں کہ پارٹی کے کئی لیڈر اپنا شخصی ایجنڈا چلا رہے ہیں تو ہمارے لیے یہ انتہائی مشکل کام ہوگا کہ ہم این ڈی اے کے ساتھ رہیں۔ان تمام منفی بیانات کے باوجود بی جے پی کے حلقہ سے باہر ایک مثبت رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔تمل ناڈو کی وزیر اعلیٰ اور انا ڈی ایم کے کی صدر جیہ للتا نے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے "پوسٹر بوائے" کی تقرری پر انہیں مبارک باد دی جنہیں 2014کے عام انتخابات کے لیے پارٹی کی پرچار کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا۔جیہ للتا نے کہا کہ "مجھے مودی کے لیے بہت خوشی ہے، میں ایک اہل منتظم ہونے کے ناطے ان کی بے حد عزت کرتی ہوں"۔انہوں نے کہا کہ میری نیک تمنائیں ہمیشہ ہی مودی کے ساتھ ہیں چاہے وہ اپنی پارٹی کے اندر ترقی پائیں یا گجرات میں الیکشن جیتیں۔جیہ للتا کی ان نیک تمناں نے این ڈی اے میں شامل ہونے کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔

اور یہ آخری کوشش ہے:
        نریندر مودی کو انتخابات میں سب سے آگے رکھنے کے فیصلہ پر جشن منانے والی بی جے پی استعفیٰ کی خبر سن کر حیرت زدہ ہے تو وہیں آر ایس ایس کے ترجمان نے اڈوانی کے استعفیٰ کو بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے۔بہر حال استعفیٰ کے بعد بی جے پی کے تمام بڑے لیڈر انہیں منانے میں لگے ہیں۔استعفیٰ کے فوراً بعد پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ نے اڈوانی کا استعفیٰ نامنظور کر دیا اور عوام کو یقین دلایا کہ ایل کے اڈوانی کو منا لیا جائے گا۔درحقیقت ایل کے اڈوانی کا استعفیٰ سیاسی بساط پر ان کی جانب سے آخری کوشش ہے اور تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ پارٹی پر دبا بنانے کے لیے عہدے سے استعفیٰ ہے ۔اڈوانی نے آخری دا کھیلتے ہوئے پارٹی کے سامنے یہ مطالبہ رکھا ہے کہ وزراتِ عظمیٰ کے لیے کسی کے نام کا اعلان نہیں کیا جائے۔درحقیقت یہ مطالبہ رکھ کر انہوں نے خود کو وزیر اعظم کے لیے محفوظ کر لیا ہے ۔وہیں دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ان کی ٹیم کے لوگوں کو انتخابی مہم کمیٹی میں بھی شامل کیا جائے۔دراصل معاملہ یہ ہے کہ لال کرشن اڈوانی ایک طویل مدت سے ہندوستان کے وزیر اعظم بننے کے خواہاں رہے ہیں ۔جب اٹل بہاری واجپئی ملک کے وزیر اعظم تھے، تب بھی ان کی یہی خواہش تھی مگر کیونکہ باجپئی کا قد اڈوانی سے زیادہ بڑا سمجھا جاتا تھا، اس لیے ان کی موجودگی میں اڈوانی کے لیے وزیر اعظم بننے کے امکانات نہ بن سکے۔مگر جب واجپئی سیاسی منظر نامے سے غائب ہو گئے تو ان کے دل میں یہ خواہش ایک بار پھر شدت سے پیدا ہونا شروع ہو گئی۔2004اور2009کے پالیمانی انتخابات میں بھاجپا کی شکست نے اڈوانی کو وہ موقع نہ دیا جس کے وہ ہمیشہ خواہش مندسمجھے جاتے رہے ہیں۔اور یہ بظاہر آخری موقعہ لگتا ہے جس کو اڈوانی کسی صورت ہاتھ سے جانا نہیں دینا چاہتے۔یہی وجہ ہے کہ انھون نے اپنے استعفیٰ سے این ڈی اے اور بی جے پی میں کھلبلی مچا دی ہے۔

        یہ وہ حالات ہیں جس کے سبب بظاہر ملک کی سب سے بڑی دیش بھکت سیاسی جماعت اندرونی خلفشار سے دوچار ہے ہے تو وہیں اس واقعہ نے یہ بات بھی پوری طرح واضح کردی ہے کہ یہاں ہر شخص اپنی ذات تک محدود ہے۔اندورنی طور پر ملک بے شمار مسائل میں الجھا ہوا ہے ۔کہیں ملک کی سلامتی کو اندرونی اور باہری طاقتوں سے خطرہ ہے تو کہیں بے گناہ نوجوانوں کی زندگیوں سے کھلے عام کھلواڑ کی جارہی ہے۔عام شہری غربت و افلاس ،تعلیم و صحت ،بے روزگاری اور بے لگام بڑھتی مہنگائی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں الجھے ہوئے ہیں۔تو کہیں فرقہ پرست طاقتیں ملک کی اقلیتوں کو زبوں حالی سے دوچار کرنے میںجمہوریت کو راست نقصان پہنچارہی ہیں۔اس سب کے باوجودہمارے سیاستدانوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ان مسائل سے کیسے نبٹاجائے گا۔یہاں ہوڑ ہے تو صرف کرسی کی،یہی وجہ ہے کہ جس نے ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن این ڈی اے کو وینٹی لیٹر پر لا کھڑا کیا ہے!




vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top