فرقہ وارانہ تصادم اور حل کی ممکنہ تدابیر

فرقہ وارانہ تصادم اور حل کی ممکنہ تدابیر

        آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گگوئی نے کہا ہے کہ جنوبی آسام کے سلچر کے ایک ہندو مندر کو کل ناپاک کرنے کے پس پشت وشو ہندو پریشد کا ہاتھ ہے۔ اس نے لوگوں کو تشدد کے لیے اکسایا۔ مسٹر گگوئی نے ایک پریس کانفرس میں بتایا کہ سلچر میں واردات کے پیچھے وی ایچ پی ہے۔ رونگپور علاقے میں تین مندروں میں جانوروں کا گوشت پائے جانے کے بعد سلچر میں کشیدگی ہے۔ پولیس نے مندر کو ناپاک کرنے کی اطلاع کے بعد جمع ہوئے لوگوں کو ہٹانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ دفعہ144کے تحت سلچر میں حکم امتناعی نافذ کرنے کی ہدایت دی اور کسی بھی طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے بھاری سیکورٹی فورس کو تعینات کردیا ۔ مسٹر گگوئی نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اطلاع ملی ہے کہ وی ایچ پی ریاست میں سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کر رہی ہے اور سلچر کی واردات کے لیے بھی وہی ذمہ دار ہے۔ ریاست میں الیکشن میں ٹکٹ کے بعد مبینہ طور پر بی جے پی ،وی ایچ پی کے ساتھ سازش کرکے سماجی تنا پیدا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایودھیا پریکرما بھی سیاسی فائدہ لینے کی ہی ایک کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کو سبھی تخریب کار اور فرقہ پرست طاقتوں سے مضبوطی سے نمٹنے کی ہدایت دے دی گئی ہے خواہ وہ کسی بھی تنظیم یا گروپ کے ہوں۔وہیں این ڈی ٹی وی ویب سائٹ کے مطابق علاقہ میں تشدد کے دوران پچاس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بیس پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔واقعہ کے پس منظر میں گزشتہ سال آسام کے کوکراجھر کے فسادات کو بھی یاد کر لینا چاہیے جہاں کثیر تعداد میں انسانی جانیں لاحق ہوئیں ،بڑے پیمانہ پر لوگوں کے گھر اجاڑے گئے ،عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا اور یہ سلسلہ ایک طویل مدت چلتا رہایہاں تک کہ اہل ملک اور دیگر ممالک نے اس جانی و مالی نقصان کا نوٹس لیا۔صوبہ کا مزید مطالعہ جس کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی نے کیا ، کی روشنی میں ہندوستانی ریاستیں گجرات، یوپی، مغربی بنگال اور آسام کے دیہی علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئیں جہاں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ آسام کے شہری علاقوں میں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے زیادہ غربت ہے جبکہ سب سے کم غربت عیسائیوں میں ہے۔ اب جبکہ حالیہ واقعہ پر فوری گرفت حاصل کر لی نیز شر پسندوں کی نشاندہی بھی کردی گئی تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ فوری گرفت اُس وقت کیوں نہیں کی گئی جبکہ کوکراجھار فسادات کے نتیجہ میں ایک مخصوص فرقہ کے لوگ خوف و ہراس میں مبتلاتھے اورانسانی جانیں لگاتار ہلاک ہورہی تھیں ؟
        دوسرا واقعہ اترپردیش سے ہے۔واقعہ چوراسی کوسی پریکرما پر روک کا ہے جہاں ریاستی حکومت نے نظم و نسق برقرار رکھنے اور کسی بھی طرح کے تشدد پھیلنے جیسے واقعات سے بچنے کے لیے مکمل مستعدی کا اظہار کرتے ہوئے اجودھیا کی جانب جانے والے تمام42راستوں کو سیل کر دیا، گاڑیوں کی چیکنگ کی،سنتوں کو گرفتار کر لیا،ملحق ریاستوں کی سرحدوں پر چوکسی بڑھا دی،پریکرما کے مد نظر اجودھیا کو پوری طرح چھانی میں تبدیل کر دیا، چپے چپے پر خفیہ میکنزم اور پولس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی۔ ضلع انتظامیہ نے اشوک سنگھل، پروین توگڑیا، چمپت رائے، ڈاکٹر ولاس داس ویدانتی اور سوامی چنمیا نند سمیت300لوگوں کا گرفتاری وارنٹ تیار کیا۔عارضی جیلیں بنائی گئیں نیز کئی اضلاع میں سنتوں کو ان کے آشرم میں ہی نظر بند کر دیا ۔بعد میں سرگرم لیڈران کو گرفتار کیا گیا اور ان تمام امور پر عمل درآمد ہوا جو طے کیے گئے تھے۔اس موقع پر بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ وہی ریاست اور وہی حکومت ہے جس کے دور اقتدار میں اب تک چھوٹے بڑے تقریباًچالیس فسادات ہو چکے ہیں جن میں نو بڑے فسادات :کوسی کلاں، بریلی، کانپور، الہ آباد، پرتاپ گڑھ اور دیگر شامل ہیں۔ واقعہ کی روشنی میں ان سارے فسادات کو منصوبہ بند کہا جانا چاہیے جسے حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے لیے تحفہ کہا جائے تو بھی بجا نہ ہوگا۔اس کے برخلاف مسلمانوں نے مارچ 2012 میں اختتام پذیر اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر سماج وادی پارٹی کو ان کے کیے گئے وعدوں کے پیش نظر ووٹ دیا اور توقع کی کہ یہ حکومت مسلمانوں کے لیے کسی حد تک بہتر ثابت ہوگی۔باربار کبھی پارٹی نمائندگان کے ذریعہ تو کبھی دیگر ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ مسلم مخالف فسادات کا نہ رکنا اورافسران کا بے لگام ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سماج وادی پارٹی کا افسران پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔اُس میں کتنی سچائی تھی ہم نہیں جانتے لیکن سوال یہاں کھڑا ہوتا ہے کہ ایک منظم کوشش"چوراسی کوسی پریکرما"کو ناکام بنانے کے لیے ریاستی حکومت نے لائحہ عمل تیار کیا اور وہ کیسے کامیاب ہو گئی؟جبکہ پولیس وہی، افسران وہی اور انتظامیہ بھی وہی۔پھر یہ سب کیونکر کنٹرول ہو ا جو پہلے متعدد مقامات نہ ہو سکا تھا؟یہ کوشش تو بڑی منظم تھی جسے پورا ملک دیکھ رہا تھا لیکن سابقہ کوششیں تو اتنی منظم بھی نہیں تھیں۔پھر آپ وہاں ناکام اور یہاں کامیاب!

مسائل کے فروغ میں ہمارا رویہ بھی شامل ہے:
                معاملہ یہ ہے کہ یورپ کے انڈسٹریلائیزیشن سے لے کر آج تک معاش کی تلاش میں انسان کی حیثیت مشینوں کے ایک پارٹ سے زیادہ کچھ نہیںرہی۔جب تک وہ پارٹ اپنے کام کو بہتر انداز میں ادا کرتا ہے تب تک وہ قابل ستائش ، نہیں توٹھیک اسی طرح ان کارخانوں اور انڈسٹریز میں لگی مشینوں کے بے کار پارٹ سے تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ ایک ناکارہ اور بے جان شے ء۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ایک طویل عرصہ سے تعلیم کا مقصد بچوں کو صرف انجینئر بنانا رہا ہے۔وجہ یہ کہ تلاش معاش میں آسانی ہوتی ہے نیز معاشرے میں "رائج عزت"میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ آج کے انجینئرس اُس نظام کا حصہ ہیں جہاں ان کی شناخت بحیثیت انسان نہ ہو کر ایک مشینی روبوٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔پھر جس تیزی سے ہمارے ملک میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آئیں اور آرہی ہیں نیز دیگر ممالک کی کمپنیوں کی ضرورتیں پوری کرنے جیسی خدمات انجام دی جا رہی ہیں،ان کی ضرورتیں اور ٹائمنگ کے نتیجہ میں معاشرہ سے ہمارا تعلق کم سے کمتر ہوتا جا رہا ہے۔وہیں دوسری جانب انٹرنیٹ کی آمد اور اس کے پھیلا نے ایک ورچول ورلڈ( غیر حقیقی دنیا) قائم کی ، جس میںآج ہر شخص منہمک اور سرگرداں ہے۔معلوم نہیں یہ وقت اور صلاحیتوں کا زیاں ہے یا دور جدید کے ترقی یافتہ انسان کی شناخت، یہ کچھ بھی ہو، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ِاسی انٹر نیٹ اورسوشل نیٹ ورکنگ نے حالیہ دنوں میں بڑی کرامت خیزیاں برپا کی ہیں۔ایک جانب سوشل نیٹ ورکنگ نے چھوٹے بڑے انقلابات " عرب بہار"میں نمایاں کردار ادا کیا ہے تو وہیں دوسری جانب بہت ہی طاقتوراور ذاتی مفاد میں مبتلا میڈیا پر بھی شکنجہ کسنے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے ۔نتیجتاً ہر سطح کے افراد آج انٹرنیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ کی گرفت میںہیں۔فوائد کے باوجود یہی انٹر نیٹ اور سوشل نیٹ ورکنگ ہے جس نے معاشرے سے انسان کے تعلق کو بہت محدود کردیا ہے۔پھر آرام و آسائش میں اضافہ، محدودتعلقات اور معاشرتی مسائل سے کنارہ کشی،ہی وہ اسباب بنے جنھوں نے بے شمار نئے مسائل کو جنم دیا۔متذکرہ دو واقعات نے ہمارے وقت کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ آج ہمارے پاس جدید مسائل کے حل کے لیے نہ غور و فکر کا وقت ہے اور نہ ہی اس کے خاتمہ کا عزم۔ظاہر ہے کہ معاشرہ اور معاشرہ میں پائے جانے والے رویوں سے حکومتیں بھی واقف ہیں۔اس ہی لیے وہ جب چاہتی ہیں مسائل پر جلد قابو پالیتی ہیں اور جب چاہتی ہیں نظر انداز کرتی ہیں۔کیونکہ وہ اچھی طرح واقف ہیں کہ معاشرہ کن لغویات میں مبتلا ہے۔انھیں یہ بھی معلوم ہے یہ معاشرہ آج ان افراد پر مشتمل ہے جو کسی بھی بڑے سے بڑے مسلہ کا حل صرف ایک یا چند دنوں پر مشتمل مظاہرہ سمجھتا ہے،انھیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ مسلہ حل ہوتا ہے یا نہیں بلکہ بعض اوقات یہی مظاہرے ان کی تشہیرو ترقی کا ذریعہ بنتے ہیںاور مظاہرین بس اسی کامیابی پر مطمئن ہو جاتے ہیں۔تو پھر کیا غرض ہے کہ حکومت یا حکومت کے کارندے کسی بھی مسلہ پر سنجیدگی اختیار کریں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ وقت، حالات اور نفع و نقصان کے پیش نظر جمع گھٹا کی جاتی ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ آسام اور اترپردیش کے حالیہ واقعات اور اس کے کنٹرول کرنے کا رہا ہے۔ضرورت ہے کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔جزوقتی مسائل اور جز وقتی حل پر مطمئن نہ ہوں۔بلکہ جس مسلہ سے بھی وابستہ ہوں اس کے اختتام تک سعی و جہد کرنے کا عزم لے کر اٹھیں۔تب ہی ممکن ہے کہ ملک اور اہل ملک ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکیں گے۔

کرنے کے کام:
        جزوقتی مسائل اور ان کے حل کے لیے پہلی اور لازمی بات قرآن حکیم کا وہ اصول اور قاعدہ ہے جس میں فرمایا:"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو"(الحجرات:۶)۔دوسری بات اسلامی معاشرے میں عدل و انصاف اور مساوات کی ہے۔ معاشرے میں رہنے والے تمام انسانوں کی جان و مال قابل احترام ہے۔ قرآن اور احادیث کے مطابق رنگ، نسل، خاندان، مذہب کے لحاظ سے کوئی کسی سے کم تر نہیں۔ بحیثیت انسان سب کے حقوق برابر ہیں۔ آزاد، غلام، مرد وعورت، امیرو غریب، چھوٹا بڑا سب برابر ہیں۔ مجرم کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو اس کو سزا ملنی چاہئے، سوائے اس کے کہ مظلوم خود اپنی مرضی سے ظالم کو معاف کردے۔ موجودہ حالات اور آئندہ آنے والے دنوں میں محسوس ہوتا ہے کہ ملک عزیز میں شر پسند عناصر مزید کوشش کریں گے کہ ماحول خراب ہو،فرقہ وارانہ تصادم میں مزید اضافہ ہو،کمزوروں اورمظلوموں پراور ظلم ڈھایا جائے،امن و آشتی کے ماحول کو مکدر کیا جائے نیز ان جیسے دیگر مقاصد کے حصول کے لیے منظم کوششیں کی جائیں گی۔ان حالات میں قرآنی تعلیمات اور امن و امان کی خاطرمسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کہیں بھی اور کسی بھی معاملے میں جہاں ان کو بھڑکانے اور اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہوں، اپنے حواس اور جذبات کو کنٹرول میں رکھیں، معاملہ کی خوب اچھی طرح تحقیق کر لیں، حکومتی سطح پر جو ادارے مسائل کے حل کے لیے موجود ہیں ان کو استعمال کریں ، ایک مخصوص منفی جذبہ سے سرشار گروہ سے نفرت کے نتیجہ میں دیگرامن پسند عوام سے دوری نہ اختیار کریں بلکہ قربت اختیار کریں،قربت کا لازمی تقاضہ ہے کہ دلوں میں کدورت نہ پائی جائے،لوگوں کے کام آئیں، ان کے حق میں دعائے خیر کریں،ساتھ ہی مقامی و علاقائی سطح پر ایسے پلیٹ فارم تیارکیے جائیں جہاں لوگوں میں برائی اور شر انگیزی کے بالمقابل امن و امان قائم کرنے کا جذبہ پایا جاتا ہو۔
        جزوقتی مسائل اور ان کے جز وقتی حل کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اس بات کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے کہ وہ مسائل کے ممکنہ خاتمہ کے لیے کوشاں ہوں۔اس کے لیے لازم ہے کہ جن دو رویوں کا تذکرہ کیا گیا۔یعنی تعلیم کا معاشی نظریہ اور وقت اور صلاحیتوں کا غیر مناسب استعمال جس میں معاشرہ سے لاتعلقی خود ایک بڑا مسلہ بنتا جا رہا ہے اس پر قابو پایا جائے۔تعلیم کے معاشی نظریہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف اور صرف بہتر معاش کا حصول ہی نہ رہے بلکہ تعلیم سے انسان میں جو تبدیلیاں مقصود ہیں وہ بھی پیش نظر ہوں۔ساتھ ہی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے عصری تعلیم کے ان سبجیکٹس کو بھی اختیار کیا جائے جو انسان کو ایک مشین نما روبوٹ نہیں بلکہ معاشرہ سے راست تعلق قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔یہ وہ سبجیکٹس ہیں جومعاشرتی مسائل کوایڈریس کرتے ہیں،معاشرہ میں اور حکومتی اداروں میں ان مقامات پر لے جانے کا ذریعہ بنتے ہیں جہاں عہدے مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔مطلب صاف ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی اور پروفیشنل علوم کے علاوہ آرٹس، سوشل سائنس اور زبان و ادب پر بھی توجہ دی جائے تاکہ فرد معاشرتی مسائل سے آگاہی کے علاوہ راست تعلق بھی قائم کر سکے۔پھر ان خدمات کی انجام دہی میں نہ صرف غور و فکر ہو بلکہ ذاتی کردار بھی ادا کیا جائے۔لازم ہے کہ سب سے پہلے ہماری فکر اور نظریہ تبدیل ہو۔اور اس تبدیلی فکر سے مراد یہ نہیں ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی اور پروفیشنل علوم سے لا تعلق ہوا جائے بلکہ اگر ایک گھر میں دو بچے ہوں تو سائنس و ٹیکنالوجی اور آٹس اور سوشل سائنس کے نسبت کو برقرار رکھا جائے۔ممکن ہے اس طرح مسائل پر قابو پایا جا سکے گا جبکہ ان علوم کے حصول، اس میں انفرادیت،مہارت اور بلندی کے ساتھ ساتھ اخلاق حسنہ میں بھی فرداپنی ایک خاص پہچان بنا چکا ہو۔کیونکہ اخلاق حسنہ سے مبرا کوئی علم کسی بھی زمانے میں نفع بخش نہیں ہو سکتا!


vvvvvvv


CONVERSATION

Back
to top