عید گیٹ ٹو گیدر !

عید گیٹ ٹو گیدر !
        تکثیری سماج میں رہنے بسنے والوں کے لیے لازم ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان آپسی محبت و الفت کا ماحول پروان چڑھائیں نیز وہ معاشرے، سماج اور ملک کے لیے کارآمد ثابت ہوں۔اسی پس منظر میں رنگ و نسل کے تنوع کی موجودگی، سماج کے لیے مفید اس وقت ثابت ہو سکتی ہے جبکہ مختلف گروہ مختلف قسم کی صلاحیتیں رکھتے ہوں اور ان گوناگوں صلاحیتوں سے پورے سماج کو فائدہ پہنچاتے ہوں۔ رنگ و نسل کے فرق کو ناپسندیدہ سمجھنا ایک غلط رجحان ہے۔ اسلام نے اس غلط رجحان اور اس پر مبنی تعصب کو ختم کیا ہے۔سید قطب لکھتے ہیں:"یہ وہ خدا پرست امت ہے جس کے ہراول دستے کی شان یہ تھی کہ اس میں عرب کے معزز خاندان کے چشم و چراغ ابوبکر شامل تھے۔ تو حبش کے بلال او روم کے صہیب اور فارس کے سلمان بھی موجود تھے۔ بعد کی نسلیں بھی ہر دور میں اسی دل نشین انداز اور حیرت انگیز نظام کے جلو میں یکے بعد دیگرے منصہ شہود پر ابھرتی رہیں۔ عقیدہ توحید اس امت کی قومیت رہی ہے، دارالاسلام اس کا وطن رہا ہے اور اللہ کی حاکمیت اس کا امتیازی شعار رہا ہے اور قرآن اس کا دستورِ حیات رہا ہے"(معالم فی الطریق۔ باب: نہم)۔مزید لکھتے ہیں :"اسلامی معاشرے ہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں اجتماع کا بنیادی رشتہ عقیدے پر استوار ہوتا ہے اور اس میں عقیدہ ہی وہ سند ہوتا ہے جو کالے اور گورے اور احمر و زرد، عربی اور رومی، فارسی اور حبشی اور ان تمام اقوام کو جو روئے زمین پر آباد ہیں، ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتا ہے، جس کا پروردگار صرف اللہ ہے"(ایضاً۔ باب: ۷)۔

        اس پس منظر میں برٹانیکا ریفرنس انسائیکلوپیڈیا میں بیان کردہ اِس خیال سے اتفاق کیا جانا چاہیے کہ جہاں تک رنگ و نسل کے تنوع کا تعلق ہے، اس نوعیت کے تنوع کی موجودگی، کسی سماج کے لیے ایک مفید شے ہے۔اس کے برخلاف کثرتیت (Pluralism) کی تشریح میں برٹانیکا ریفرنس انسائیکلوپیڈا میں جو نقطہ نظر درج ہے اس کے مطابق تو سماج میں ہر قسم کا تنّوع پسندیدہ ہے۔ لیکن اسلامی نقطہ نظر کے مطابق رنگ و نسل اور قبیلہ و برادری کا تنوع تو انسانی سماجوں کے لیے مفید ہے۔ لیکن دین اور عقیدے کے اختلاف کو کوئی پسندیدہ شئے نہیں قرار دیا جا سکتا۔ خود اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کے کافرانہ طرزِ عمل کو پسندیدہ نہیں قرار دیا ہے۔ بلکہ اس پر اپنی"عدم رضا" کا اظہار کیا ہے۔یہی اندازِ فکر اہل ایمان کا بھی ہونا چاہیے۔اس سیاق میں اس مقبولِ عام خیال پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو اکثر سننے میں آتا ہے۔ "ہمارا ملک مختلف مذاہب کا گلدستہ ہے۔ اس کی رونق کے لیے اس میں مختلف قسم کے پھولوں کی موجودگی ضروری ہے۔ اگر ایک ہی طرح کے پھول ہوں تو گلدستے میں حسن نہیں آ سکتا"۔یہ خیال کثرتیت (Pluralism) کے اس مقبولِ عام مفہوم کی نمائندگی کرتا ہے جس کے مطابق دین اور عقیدے کا اختلاف و تنوع ایک پسندیدہ شئے ہے۔ لیکن اسلام کا نقط نظر یہ نہیں ہے۔ جو مسلمان دانشور (غالباً بِلا غور و فکر کے) مختلف ادیان کے وجود کو گلدستے سے تعبیر کرتے ہیں ان کو اپنے اِس خیال پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ حق اور باطل دونوں کو پھول سے تشبیہ دینا حق اور باطل کے فرق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ بطور امرِ واقعہ تو حق اور باطل دونوں کا وجود تسلیم کیا جانا چاہیے لیکن دونوں کو یکساں پسندیدہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔(اقتباس:تکثیری سماج از ڈاکٹر محمد رفعت)۔یہ وہ وہ افکار و تصورات ہیں جن میں خصوصاً ملک عزیز ہند کی اکثریت مبتلا ہے تو وہیں دوسری جانب دیگر ممالک جہاں مسلمان کہیں اکثریت تو کہیں اقلیت کی حیثیت سے موجود ہیں، ان تمام مقاما پر ان خیالات کا اظہار بہت منظم انداز سے کیا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو ان خیالات کے منفی رویوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات مسلمان بھی ان خیالات کو فروغ دینے کا پرزور ذریعہ بن جاتے ہیں۔

عیدِ سعید کا پیغام :
        متذکرہ واقعہ،اس کے پس منظر و پیش منظر اور پھر تکثیری سماج میں مسلمانوں کی موجودگی کا لازمی تقاضہ ہے کہ وہ ان مواقع پر جبکہ وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں مسلمانوں کے تہوار جنہیں عید الفطر اور عید الالضح کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، چاہیے کہ ان دیگر مذاہب کے لوگوں کو اپنی خوشی میں شریک کریں جو ان سے وابستہ ہیں۔چونکہ وہ ہمارے پڑوسی ہیں،آس پاس رہتے ہیں،آفس اور دیگر معاشی معاملات میں وقتاً فوقتاًوہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں،لازم ہے کہ ہم ان سے قربت استوار کریں۔اور فی الوقت عید سعید سے بہتر موقع کوئی اور نہیں ہو سکتا جب کہ ہم ان سے اور وہ ہم سے مزید قریب ہوں۔یہ قربت اور تعلقات ہی ہیں جو انسانوں میں جذبہ خیر خواہی اور ہمددری پیدا کرتے ہیں جس کی آج اشد ضرورت ہے۔مسلمانوں کو اس بات کا مخصوص اہتما م کرنا چاہیے کہ وہ عید گیٹ ٹو گیدر کے پروگرام منعقد کریں۔اپنے گھر پر، اپنے محلے میں یا کچھ مزید بڑے پیمانے پر۔ان مواقع پر درج ذیل باتوں کا تذکرہ لازماً کیا جانا چاہیے :

        i)      اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک باپ اور ماں(حضرت  آدمؑ اور حواؑ) سے پیدا کیا ، لہذا تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
        ii)      اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے دین پر عمل کرنے کے لیے اور اپنی تعلیمات سے آگاہی کے لیے اپنے پیغمبر بھیجے جو اس کی ٹھیک ٹھیک تعلیمات لوگوں تک پہنچاتے تھے۔
        iii)     ان پیغمبروں کا سلسلہ پہلے انسان حضرت آدمؑ سے ہوا اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جن کے بعد اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔
        iv)     اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد قرآن حکیم اور اپنی سنت احادیث کی شکل میں چھوڑ کر گئے ہیں، ان پر عمل آوری ہی دراصل دنیا و آخرت کی نجات کا ذریعہ ہے۔
        v)      فی الوقت جن مسائل سے ہم دوچار ہیں وہ انسانوں کی انسانوں پر ظلم و زیادتی اور جبر و استبداد کی وجہ سے ہیں۔اور ان سے چھٹکارے کا ذریعہ انسانوں کے بنائے قوانین ہیں جو حقوق اللہ اور بعض مواقع پر حقوق العباد کی ادائیگی میں رکاوٹ ہیں۔
        vi)     حقوق اللہ کی ادائیگی یا وہ فرائض جو انسان پر لازم ہیں،ان ہی میں یہ رمضان المبارک کے روزے بھی ہیں۔یہ روزے انسان میں مکمل نظم و ڈسپلن برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں جس کے بعد اللہ کے ہر چھیوٹے اور بڑے حکم کی عمل آوری میں انسان کو آسانی ہوتی ہے۔
        vii)    اور یہ عیدِ سعید دراصل وہ انعام ہے جو ایک بندہ اپنے رب ِ اعلیٰ کے احکامات پر اور ماہ رمضان کے تمام ارکان کو ادا کرنے کے بعد حاصل کرتا ہے۔یہی وہ موقع ہے جب کہ اللہ بندے سے راضی اور بندہ اللہ سے راضی ہو جاتا ہے اور دنیا و آخرت کی تمام خوشیا ں اسے حاصل ہوتی ہیں۔

اورممکن ہو تو یہ بھی کہ :
        جن حالات سے آج ہم دوچار ہیں، اسلام اور مسلمانوں پر جس طرح تہمتیں لگائی جا رہی ہیں، بہت ہی قوت و طاقت کے ساتھ ان کے خلاف جس طرح منظم سازشیں کی جا رہی ہیں،دہشت اور خوف و ہراس جو چار سو نظر آرہا ہے وہ دراصل ان ہی لوگوں کا پیدا کردہ ہے جو خود کو امن کا علمبر دار قرار دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف ممالک میں رہنے بسنے والے افراد، ان کی صلاحتیوں اور ذخائر پر اپنی برتری اور تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔جس کی بہت واضح نذیر حالیہ عراق، افغانستان ہیں تو وہیں دوسری طرف وہ افریقی ممالک جہاں بھوک سے آج انسان بری طرح تڑپ رہا ہے لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔یہ وہی طاقتیں ہیں جنھوں نے جاپان کے ہیروشیما پر ایٹم بم برسائے اور انسانوں کی ایک کثیر تعداد اور ان کی آنے والی آئندہ نسلوں کو مفلوج بنا دیا۔یہ وہ امن کے علمبردار ہیں جو ایک طرف جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں تو وہیں دوسری طرف شام و مصر میں ذاتی مفاد کی آڑ میں اپنے ناپاک ایجنڈوں پر کار بند ہیں۔

لہذا :
        لازم ہے کہ ان جھوٹے دعویداروں پر یقین نہ کیا جائے۔اسلام جس امن کا علمبردار ہے اور جس کی مثالیں اس کے دور اقتدار میں بہت ہی واضح انداز میں موجود ہیں ۔لازم ہے کہ اس تعلیم اور نظام کو نافذ عمل بنایا جائے۔غربت و افلاس اور اخلاقی اقدار کی پامالی جو آج بہت نمایاں ہو چکی ہے اور جس میں ہر شخص مبتلا ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔سود پر مبنی نظام معیشت جس نے غربت کے ازالے کی بجائے اس کو مزید فروغ دیا اور اضافہ ہی کیاہے،انسانوں کے درمیان ناہمواریاں قائم کیں اور طرہ یہ کہ بھوک و افلاس کے پیمانے قائم کیے۔ اُس نظام معیشت کے خلاف آواز بلند کی جائے۔دوسری جانب اخلاقی پستی میں مبتلا معاشرہ جس نے ماں ، بہنوں اور بیٹیوں کی قدر و منزلت کو ہر سطح پر پامال کیا ہے، اس سے نجات حاصل کی جائے۔اور ان دونوں ہی بنیادوں پر بھر پور چوٹ کی جائے تاکہ اسلامی معیشیت جو سود سے پاک ہے اور اسلامی معاشرہ جو اخلاقی اقدار کا علمبردار ہے اس کے فروغ میں آسانی ہو۔امن و امان قائم ہو اور دنیا میں مالک برحق کی کبریائی بیان کرنا آسان ہوجائے۔اس خالق برحق کی کبریائی جس نے انسانوں کو پیدا کیا اور ہر چیز ان کے ماتحت کر دی ۔لازم ہے کہ انسان بھی اللہ کے تابع ہو جائے ۔ تب ہی ممکن ہے کہ وہ خواب شرمندہ تعبیر ہو ں جن کی خواہش ہم اپنے دلوں میں بسائے بیٹھے ہیں۔نہیں تو خواب خواب ہی بن کر رہ جائیں گے اور یہ معاشرہ مزید گمراہیوں اور ظلالتوں میں مبتلا ہوتاچلا جائے گا۔پھر یہ ہماری بے توجہی اُس فسادفی الارض کا سبب بنے گی جو ہرشخص کے لیے نقصان دہ ہے۔لازم ہے کہ قبل از وقت ہم بیدار ہو جائیں!


vvvvvvv


CONVERSATION

Back
to top