اصلاح کا زیادہ حق دار فرد نہیں نظام ہے !


اصلاح کا زیادہ حق دار فرد نہیں نظام ہے !
        کہتے ہیں جمہوری حکومت میں مقننہ یعنی پارلیمنٹ یا اسمبلی، انتظامیہ اور عدلیہ نظم مملکت کے تین اہم ادار ے یا ستون ہیں جن کے سہارے جمہوری نظام کی تاسیس ہے۔البتہ چوتھا ستون وہ زندہ ضمیر و متوازن میڈیا ہے جو اس پورے نظام کو غلطیوں سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس طرح یہ چار ستون مل کر دیدہ زیب جمہوری عمارت کو قابل رہائش بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ایک طرف جمہوری ملک ،ریاست کی ترقی و خوشحالی، لوگوں کی فلاح وبہتری، تعمیر و تصعید ، امن وقانون کی بر قراری اور حقوق واختیارات کی ادائیگی میں متذکرہ تین اداروں کا اہم رول ہوتا ہے وہیں دوسری طرف صاف وشفاف انتظامی مشنری، گڈ گورننس اور عوامی خوشحالی کے مفاد میں یہ انتہائی ناگزیرامر ہے کہ میڈیا بھی احسن طریقہ سے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے۔
        دراصل صحافت کسی بھی معاملے کی تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔ساتھ ہی حکومتی اداروں کی کارکردگی،تجارت اور پیشہ وارانہ صورتحال سے آگاہی،اور معاشرہ میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں کو بھی صحافت اجاگر کرتی ہے۔لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ واضح اور بالکل ٹھیک بنیادوں پرعوام کوانجام پذیرہر خبر سے باخبر رکھنے کا ہے۔ اس پس منظر میں صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور جو شخص اس کام کو انجام دے وہ قابل قدرٹھہرتا ہے۔قرآنی تعلیمات کی روشنی میں صحافت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو سورة النساءاور سورة المائدہ کی درج ذیل آیات کو دیکھا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی پٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے"(النساء:۵۳۱)۔مزید فرمایا:" اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھرجا۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے (المائدہ:۸)"۔سورة النساءکی آیت ۵۳۱ کی تشریح کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں:"ان آیات میں یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو، بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علمبردار بنو۔ تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کراٹھنا ہے۔ تمہیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل و راستی قائم ہو۔ عدل کو اپنے قیام کے لیے جس سہارے کی ضرورت ہے ، مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔ساتھ ہی تمہاری گواہی محض خدا کے لیے ہونی چاہیے ، کسی کی رو رعایت اس میں نہ ہو، کوئی ذاتی مفاد یا خدا کے سوا کسی کی خوشنودی تمہارے پیش ِ نظر نہ ہو"۔
        اِس پس منظر میں اس وقت تک کوئی بھی معاشرہ بیرونی سازشوں ، خفیہ تدبیروں اور نقصاندہ عناصر سے محفوظ رہ سکتا ہے جب تک کہ حق و انصاف کا فریضہ اداکرنے والے اپنی ذمہ داریاں بحسن خوبی انجام دیتے رہیں۔اس کے برخلاف عمل کے نتیجہ میں وہ افراد اور ادارے جو حق و انصاف کے قیام میں تعاون کرنے والے ہیں،نہ صرف خود ذلیل و خوار ہونگے بلکہ اپنے دور رس منفی اثرات بھی مرتب کریں گے۔لیکن چونکہ حق و انصاف کا قیام نہایت مشکل کام ہے لہذا معاشرے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایک ایسا نظام برپا کرے جس میں ہرفرد تنقید سے بالاتر نہ ہو۔گرچہ وہ شخص یا ادارہ بااقتدار ہو، حکومت سے وابستہ ہو،مذہبی امور میں اپنی مخصوص پہچان رکھنے والا ہویا اُن اداروں سے وابستہ ہو جو خود اس نظام کے قیام و استحکام میں معاون و مدو ہوں۔اس پس منظر میں جمہوری نظام میں قانون یعنی مقننہ اور صحافت سے وابستہ افراد سر فہرست اس ذمہ داری کو ادا کرنے والے ہیں۔اور اس کے بعد مذہب کا درجہ آتا ہے جوموجودہ قانون کی رو سے فرد کاذاتی معاملہ ہے۔ جمہوریت کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ فرد ِ واحد مذہب پر عمل پیرا ہے یا نہیں اور مذہبی تعلیمات اور افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا بھی ہے یا نہیں۔اور یہی وہ سب سے اہم نکتہ ہے جو آج کسی بھی دنیاوی نظامِ کو غلطیوں سے پاک رکھنے میں ناکام ہے۔موجودہ جمہوری نظام کی ناکامی کی ایک وجہ جہاں الہٰی احکامات سے دوری اختیار کرنا ہے تو وہیں یہ حقیقت بھی ہے کہ ایک طویل عرصہ سے اسلامی تعلیمات کے علاوہ کوئی اور الہٰی ہدایت و رہنمائی موجود بھی نہیں۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بااقتدار افراد و طاقتیں اس نظام رحمت کو اپنی ذات اور مفاد کے پس پشت زحمت گردانتی آئی ہیں اور یہی کچھ وہ آج بھی کر رہی ہیں۔
        موجودہ ہندوستان اور اس کی معاشرتی بنیادیں بہت کمزور ہو چکی ہیں۔جمہوریت جو ملک عزیز میں رائج ہے اور جمہوری نظام جس پر عمل درآمد ایک طویل عرصہ سے جاری ہے، اس کی ناکامیاں بہت حد تک کھل کر سامنے آچکی ہیں۔ان تمام ناکامیوں کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے بلکہ مختلف محاذ پر مختلف کوتاہیاں اور کمیاں ہیں جس کی بنا پر یہ نظام خود ہی اپنے خاتمہ کی جانب رواں دواں ہے۔لیکن توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے، جو واقعہ بھی ہے، تو پھر اس وقت جب کہ یہ نظام مزید بگاڑ میں مبتلا ہو جائے گا ،تب متبادل کیا ہوگا؟یہ وہ سوال ہے جس پر غور و فکر کرنے والوں کو لازماً سوچنا چاہیے۔ہم سب جانتے ہیں کہ موجودہ جمہوری نظام ظلم وزیادتیوں کو فروغ دینے میں معاون ہے، نہ صرف فرد کا استحصال اس کا خاصہ ہے بلکہ معاشرہ کی قدریں جو کمزورہو رہی ہیں اس میں بھی اس کا بھر پور کردار ہے۔اور جو واقعات گزشتہ چند دنوں میں ہندوستان میں منظر عام پر آئے انھوں نے متذکرہ خیال کو پختگی بخشی ہے۔انہی واقعات میں جہاں ایک جانب ہندوستان کی سپریم کورٹ کے ریٹارڈ جج پر زیر تربیت خاتون وکیل نے جنسی استحصال کا سنگین الزام لگایا ہے۔وہیں سماج کے سنگ رکشک اور پچھڑی ذاتوں کو برابری کے حقوق دلانے والے سیاسی رہنما اور ممبر پارلیمنٹ دھننجے سنگھ پر ایم ایل اے بنانے کا لالچ دے کر اپنے حامی کی بیوی کے ساتھ بندوق کی نوک پر جسمانی رشتہ بنانے کا الزام ہے۔مذہبی گرو آسارام اور اس کے بیٹے پر جنسی زیادتیوں کے الزامات اور اب بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے "تہلکہ میگزین"کے تیز و طرار ایڈیٹر ترون تیج پال پر ان ہی کے دفتر کی ایک جونیئر خاتون صحافی نے جنسی استحصال کا جو الزام لگایا ہے اس نے پوری صحافت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔اور حالیہ معاملہ اس لیے بھی سنگین اور سنجیدہ ہے کیونکہ متاثرہ ترون تیج پال کی بیٹی کی سہیلی ہے۔ان حالات میں مسلمان جس مقام پر اور جس حیثیت سے بھی موجود ہوں۔لازم ہے کہ ہر شخص اسلامی تعلیمات کو سمجھے ،عمل سے تبلیغ کرے اور ساتھ ہی اسلام کو ایک مکمل نظام رحمت سمجھتے ہوئے اس کے ہر پہلو پر عمل کی راہیں نہ صرف تلاش کرے بلکہ بھر پور تعاون بھی دے۔چاہے مسلمان نظام باطل میں ہوں یا یا دار الکفرمیں،دونوں ہی مقامات پر اسلامی نظام حیات کا فروغ اور قیام کی منظم سعی و جہد ہر شخص پر عائد ہوتی ہے۔لہذا آج چہروں کی تبدیلی کی بجائے نظام کی تبدیلی اور فرد کی اصلاح کی بجائے نظام کی اصلاح زیادہ ضروری اور لازمی عمل ہے۔

vvvvvvv


CONVERSATION

Back
to top