آپ کی توجہ بھی مرکوز رہنا چاہیے



آپ کی توجہ بھی مرکوز رہنا چاہیے!

        حلف بردار ی کے ساتھ ہی وزیر اعظم کے وزراءحکومت نے اپنے کاموں کا آغاز کر دیا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ایک پارٹی کے لیڈران نے آغاز ہی میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تو وہیں اقلیتی امور کی وزیر نے کاموں کا آغاز ملک کی سب سے بڑی اقلیت کوریزرویشن کے ایشو پر نظر انداز کرتے ہوئے کیا ہے۔اس سب کے باوجود وزیر اعظم نے اپنی حکومت کے کام کاج کے لیے دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا اور اپنے وزراءکو تین فارمولے بھی بتائے ۔یہ دس نکاتی ترجیحات اورفامولہ اس طرح ہیں۔ترجیحات:1۔ نوکر شاہوں میں یقین پیدا کرکے ان کا حوصلہ بڑھایا جائے گا تاکہ وہ نتائج کا سامنا کرنے سے خوفزدہ نہ رہیں۔2۔ نئے خیالات اور تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔3۔ تعلیم، صحت، پانی ،توانائی اور سڑک جیسے معاملوں کو ترجیح دی جائے گی۔4۔ حکومت میں شفافیت لائی جائے گی۔ ٹینڈر اور دیگر سرکاری کاموں کے لیے ای-آکشن(آن لائن کے ذریعہ ٹینڈر)کا نظام ہوگا۔5۔ جی او ایم قائم کرنے کی بجائے وزراتوں کے درمیان تال میل بڑھایا جائے گا۔6۔ عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے نظام بنایا جائے گا۔7۔ معیشیت سے جڑے مسائل پر غور و خوض۔8۔ انفرا اسٹرکچر اور سرمایہ کاری معاملات میں اصلاح۔9۔ وقت پر منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔10۔ سرکاری پالیسیوں میں تسلسل اور استحکام لایا جائے گا۔ساتھ ہی وزرا کو تین فارمولہ دیئے گئے ہیں ۔وہ اس طرح ہیں: i)نظم و نسق چلانا۔ ii)ترسیل عمل میں لانا۔ iii)فیصلوں کے نفاذ پر توجہ مرکوز کرنا۔لہذا یہ وہ پورا طریقہ کار ٹھہرا جس کے تحت نئی حکومت نے اپنے کاموں کا آغاز کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان ترجیحاتی نکات اور فارمولوں کے ذریعہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کر پائے گی؟

        ترجیحات میں "شفافیت "کا خصوصاً تذکرہ کیا گیا ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وزرا ءحکومت اگر خود صاف شبیہ کے لوگ نہ ہوں تو کیونکر اورکیسے یہ نظام قائم ہو سکتا ہے؟لہذا اگر عوام، اپوزیشن اور حکومت یہ محسوس کرے یا اس کو یہ باور کروایا جائے کہ وزراءحکومت کی شبیہ صاف نہیں تو اہل اقتدار کی ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد،ذمہ داران اور وزراءکواہم عہدوں سے الگ کرتے ہوئے ان چہروں کو سامنے لائیں جن پر نہ صرف عوام بلکہ اہل اقتدار خود بھی مطمئن ہو سکیں۔تب ہی ممکن ہے حکومت اپنے کاموں کے آغاز تا انجام شفافیت لاسکے گی۔برخلاف اس کے معاملہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جن رااندر جیت سنگھ کو وزیر مملکت برائے دفاع مقرر کیا ہے، خود ان کی پارٹی را کے خلاف بدعنوانی کے الزام لگار کر تفتیش کا مطالبہ کر تی رہی ہے۔ دراصل را اندر جیت سنگھ پہلے کانگریس میں ہوا کرتے تھے اور یوپی اے حکومت میں 2006سے 2009کے درمیان دفاعی پیداوار کے وزیر تھے۔2014میں لوک سبھا انتخابات سے پہلے وہ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں آگئے اور گڑ گاں سیٹ سے انتخاب جیت کروزیر بن گئے۔اس پس منظر میں سوشل میڈیاسائٹ ٹوئٹر پر اس طرح کے سوال پوچھے جارہے ہیں کہ کوئی شخص جو کانگریس میں بدعنوان تھا، کیا بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ایماندار ہو جاتا ہے؟را کے خلاف بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے کارروائی کی مانگ کی تھی۔ٹوئٹر پر سومیا کے سرکاری لیٹر ہیڈ پر لکھی شکایت بھی درج ہے۔ اس خط میں لکھا گیا ہے کہ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا دفاع پیداوار وزیر را جیت سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ کارروائی کا یہ مطالبہ ممبئی کے کلپتر و بلڈرس ڈیفنس لینڈ اسکینڈل میں کی گئی تھی۔ سومیا نے الزام لگایا تھا کہ اندر جیت نے اپنے ذاتی سکریٹری کو کہا تھا کہ فوجی حکام سے کلپتر و بلڈرس کو فوج کی زمین دینے کو کہے۔ اس معاملے میں کانگریس کارکن شہزاد پونا والا نے وزیر اعظم کے دفتر خط لکھ کر را اندر جیت سنگھ کو ہٹانے کی مانگ کی ہے۔ پونا والا نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ اگر آپ وزیر را اندر جیت کے خلاف کارروائی نہیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بد عنوانی کو لے کر سنجیدہ نہیں ہیں یا پھر کریٹ سومیا کے لگائے الزام غلط تھے۔شفافیت کے محاذ پر یہ وہ کھلا چیلنج ہے جسے قبول نہ کیا گیا توآغاز ہی میں قول و عمل کا تضاذ سامنے آئے گا۔اور اگر یہ تضاد آگے بھی رہا تو اہل ملک کو دکھائے گئے خواب کیسے پورے کیے جائیں گے؟

        ایک ایشواور ہے جو ہمارا اور آپ کا ہے ۔یعنی ان لوگوں کا جوجارحانہ قوم پرستی میں مبتلا نہیں ہیں۔اس کے برخلاف ان کا عقیدہ ہے کہ ملک تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ہے۔لہذا تمام ہی مذاہب کے ماننے والوں کو نہ صرف یہ کہ برابر کے حقوق ملنے چاہیں بلکہ اقلیتوں کے مخصوص اختیارات جوہندوستان کے قانون میں درج ہیں ان پر عمل در آمد بھی سامنے آنا چاہیے۔اقلیتوں کے خلاف ماحول پیدا کرنا،مشتعل بیانات دے کر ان کے جذبات سے کھلواڑ کرنا،ان کے مذہبی امور میں دخل اندازی کرنا،ان کی عزت وآبرو اور جان مال کو کھلے عام نیلام کرنا،اور ان جیسے دیگر گھنانے کاموں میں جو لوگ مبتلا ہیں، حکومت ہند کی ذمہ داری ہے کہ ان پر سخت گرفت کرے۔عمل کے نتیجہ میں امن و امان قائم ہوگااور یہ امن ہی ملک کی ترقی کا ضامن ثابت ہوگا۔وہیں دوسری جانب خود کو اقلیت سمجھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی موقع پر قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی بہت اہم ہو جاتی ہے کہ مختلف حالات میں قانونی دائرہ کی وسعت کیا ہے؟لہذا وہ افراد، گروہ اور ادارے جو قانونی جانکاری رکھتے ہیں ،ذمہ داری بنتی ہے کہ بڑے پیمانہ پر اہل ملک کو اُن کے قانونی حدود و اختیارات سے نہ صرف آگاہ کریں بلکہ مقامی سطح سے ضلعی و شہروں کی سطح تک ایسے گروپ تشکیل دیے جائیں جو ضرورت کے وقت بہ آسانی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔اگر ایسا ہوتا ہے،جس کی اشد ضرورت بھی ہے،تو ہر اس موقع پر جبکہ چند لوگوں کا مشتعل کیا جانا ،معمولی اور چھوٹے واقعات کو رونما کرکے لوگوں کو زک پہنچاناہی مقصد بن چکا ہو،اور ردّ عمل میں ہر خاص و عام اشتعال دلانے والوں سے نبرد آزما ہوجائے۔اس سے بہتر ہے کہ اپنے جذبات پر بھر پور کنٹرول رکھتے ہوئے اُن مخصوص لوگوں کو سامنے لایا جائے جو ایسے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ممکن ہے یہ عمل دشوار گزار ہواور یہ بھی ممکن ہے کہ فی الوقت ہر مقام پر روبہ عمل نہ لایا جا سکے۔ اس کے باوجود ملک عزیز ہند میں ایسی بے شمار غیر سرکاری تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں جو متذکرہ مسئلہ کا حل پیش کرتے ہیں۔ان میں ملک کی وہ بڑی مسلم تنظیمیں بھی ہیں جو بلا لحاظ مذہب و ملت مظلومین کی امداد کا کام انجام دے رہی ہیں ۔یہ وہ مقبول ترین تنظیمیں ہیں جن کے نام اور کاموں سے آپ بہ خوبی واقف بھی ہیں۔دوسری جانب جذبہ خیر خواہی کے ساتھ وہ افراد اور گروہ بھی اس کام میں پیش پیش ہیںجومظلومین پر ہو رہے مظالم کو دیکھ کر مدد کے لیے قدم بڑھاتے ہیں۔اس کے باوجود فی الوقت جس قدر مسائل ہیں بالمقابل اس کے وسائل بے انتہا محدود ہیں۔دوسری طرف حکومت کی تساہلی ، بے توجہی اور غیر ذمہ دارانہ عمل نے مسائل کو مزید فروغ دیا ہے۔خصوصاً ان مسلم مظلومین کے مسائل،جو صرف شک و شبہات اور قیاس کی بنا پر ایک طویل عرصہ سے اپنی زندگیاں جیلوں کی نذر کرنے پر مجبور ہیں۔ان حالات میں تمام حق و انصاف پسند لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلا لحاظ مذہب و ملت مظلومین کی مدد کے لیے آگے آئیں ۔اور حکومت ہند کو مجبور کریں کہ دستور ہند میں درج حقوق انسانی کے تعلق سے کسی قسم کی تساہلی اور بے توجہی نہ برتی جائے۔لیکن یہ کام قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے ہی انجام دیے جانے چاہیں۔اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جبکہ ہم خودقبل از وقت غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں!

        ملک کے موجودہ حالات اور واقعات اس جانب بھی توجہ مبذول کرا رہے ہیں کہ اہل اقتدار مسلمانوں سے بے انتہا بغض و کینہ رکھنے والے یہودیوں اور ان کے ملک اسرائیل سے بڑی گرم جوشی کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے میں مصروف عمل ہیں،جو مناسب نہیں ہے۔لیکن اگر یہ تعلق ان کی عسکری صلاحیتوں سے استفادہ کے پیش نظر ہو اور اہل اقتدار چاہتے ہوں کہ ہمارا ملک بھی استفادہ کے نتیجہ میں ہر دشوار گزار مرحلہ میں کامیابی سے ہمکنا ر ہو،تو اس صورت میں یہ دوستی تشویشناک ہی صحیح لیکن قبول کی جا سکتی ہے۔برخلاف اس کے یہ دوستی اگر کسی اور پس منظر میں کی جا رہی ہے،تو یہ ملک کے مفاد میں نہیں بلکہ اہل ملک کو مستقبل قریب میں مزید پریشانیوں سے دوچار کرسکتی ہے۔لہذا جس طرح دیگر اقوام اور گروہ فی الوقت اہل اقتدار کے طرز عمل پر باریک بینی کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں اسی طرح اقلیتوںکی بقا و استحکام اور قیام عدل و انصاف کے لیے بھی لازم ہے کہ واضح لائحہ عمل کے ساتھ حکومت ہند کے ہر چھوٹے و بڑے عمل پر آپ کی توجہ بھی مرکوز رہنا  چاہیے!


vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top