یوم آزادی کا خطاب اور ملک کو درپیش چیلنجیز



یوم آزادی کا خطاب اور ملک کو درپیش چیلنجیز!
        یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کے بعد ہر دور میں فرقہ پرستی کا زہر منظم انداز میں گھولا جا تارہا ہے۔جس کے نتیجہ میں نہ صرف اہل ملک حد درجہ پریشان رہے ہیں بلکہ امن و امان اور ترقی و خوشحالی بھی متاثر ہوئی ہے۔شاید اسی کا اظہار یوم  آزادی کے موقع پر ملک کے وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کیا ہے۔تقریر میں اس بات کا بھی تذکرہ ہے کہ غربت کے خاتمہ اور تعمیر و ترقی کے لیے ہر شہری کو اپنی سطح پر منظم جدوجہد کرنی چاہیے۔وزیر اعظم نے معاشرے کی اس سوچ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کیا جہاں بیٹوں کو بڑھاپے کا سہارا سمجھا جاتا ہے۔ برخلاف اس کے پانچ پانچ بیٹے ہونے اور بنگلہ و آسائشوں کے باوجود ماں باپ اولڈ ایج ہوم یا ودھواآشرم میں رہتے ہیں ۔وہیں ملک میں بڑھتے عصمت دری کے واقعات ،نکسلی تشدد،بدعنوانی،ذات پات اور جنین کشی کی مذمت کے بھی تذکرے ہوئے ہیں۔متذکرہ نکات کے علاوہ بھی دیگر نکات پر وزیر اعظم نے اظہار خیال کیا ہے۔خاصیت بیان کرنے والوں نے اس تقریر کی یہ خوبی بھی بیان کی ہے کہ یہ بنا تحریر کی ہوئی رواں تقریر تھی جوگزشتہ سالوں بلٹ پروف شیلڈ میں بند ہو کر کی جانے والی تقاریر کے برخلاف کھلے آسمان میں تسلسل کی جانے والی تقریر تھی۔گرچہ یہ عمل کوئی غیر معمولی یااہم نہیں لیکن ظاہرو باطن کے فرق سے معصوم عوام کو متاثر کرنے کا لازماً عمل تھا ۔شاید اسی جانب وزیر اعظم کے خطاب پر تنقیدی نقطہ نظر سے کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری شکیل احمد نے کہا کہ یہ تقریر صفراثرات والی تھی ۔جس میں کوئی نیا خیال ،نئی پہل،اور نئی اسکیم نہیں تھی۔نیز فرقہ پرستی کے مسئلہ پر وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو یاد رکھنا چاہیے کہ بی جے پی کی سیاست ہی فرقہ پرستی پر منحصر ہے۔دوسری جانب پارٹی ترجمان اور سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے کہا کہ نئے وزیر اعظم کا یہ پہلا یوم آزادی کاخطاب تھا اورتوقع تھی کہ وہ اگلے پانچ سالوں کے لیے کچھ نظریہ پیش کریں گے ۔لیکن بد قسمتی کی بات ہے کہ وزیر اعظم چھوٹے موٹے مسائل میں الجھ کر رہ گئے اور موقع کے مطابق خود کو پیش نہیں کر پائے۔68ویں یوم  آزادی کے موقع پر ملک کی تمام ہی ریاستوں میں آزادی کی تقریب پر امن ماحول میں جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی۔ اس کے باوجود کشمیر میں عام ہڑتال کی کال پرجہاں ایک جانب یوم سیاہ منایا گیاوہیں بخشی اسٹیڈیم میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ترنگا لہرایا اور عوام کو خطاب کیا۔اس دوران موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات معطل رکھی گئیں اور حساس قصبوں میں سخت سیکورٹی پابندیاں نافذ رہیں۔دریں اثنا جمعرات کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر سری نگراور کئی دیگر مقامات پر ہندمخالف گروپوں کے کارکنوں نے پاکستان کے پرچم لہرائے جنہیں فوراً  ہی پولیس نے ہٹالیا۔

        یہ صحیح ہے کہ وزیر اعظم کا یوم  آزادی کے موقع پر کیا جانے والا خطاب ملک کی موجودہ صورتحال،،مسائل اور چیلنجیزکا کسی حد تک عکاس ہے۔جہاں اس بات کا شدت سے اظہار کیا گیا ہے اہل ملک پوری طرح امن و امان کی زندگی سے محروم ہیں۔وجہ؟ وجہ سب کو معلوم ہونے کے باوجودغیر سنجیدہ کوششیں ہی دراصل مسائل اور چیلنجیزمیں اضافہ کا سبب ہیں۔یہ مسائل معاشی بھی ہیں اور سیاسی بھی ،معاشرتی بھی ہیں اور تمدنی بھی، طبقاتی کشمکش اور ذات پات کی تقسیم بھی ان مسائل کا ایک جز ہے تو وہیں اندورنی اور بیرونی قوتوں کے مراکز سے اٹھنے والے چیلینجز بھی۔لیکن وزیر اعظم کی تقریر میں خصوصاً وہ مسائل جن کا تذکرہ معاشرہ سے ہے،قابل توجہ ہیں۔اور ان کی اہمیت اس لیے اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ مسائل ہمارے خود کے پیدا کیے ہوئے ہیںنہ کہ کسی اور نے ہم پر تھوپے ہیں۔جس کا تذکرہ وزیر اعظم نے بیٹے اور بیٹیوں کے فرق ، جنین کشی اور اولڈ ایج ہوم یا ودھوا آشرم کی شکل میں کیا ہے۔وہیں خواتین کے تعلق سے غیر ذمہ دارانہ رویوں،اُن کی عفت و عصمت سے کھلواڑاور ملک میں بڑھتے عصمت دری کے واقعات ہیں۔نیزملک کی سلامتی و اتحاد سے متعلق مسائل جس میں خصوصاً وزیر اعظم کے ذریعہ نکسلی تشدد کا تذکرہ تو وہیں یوم آزادی کو یوم سیاہ منانے والوں کا مسئلہ بھی میڈیا کے ذریعہ سامنے آیا۔تذکروں سے آگے سوال یہ ہے کہ کیا مسائل کو بیان کر دینا مسئلہ کا حل ہے؟یا اس کے لیے سنجیدہ کوششیں اور پیش رفت تذکروں میں جان پیدا کر سکتی ہیں؟یوم  آزادی کی تقاریر ہر سال اہل ملک سنتے آئے ہیں۔جس میں کبھی کسی مسئلہ کو تو کبھی کسی اور مسئلہ کو حل کرنے نیز ملک کی ترقی ، فلاح و بہبود ،بھائی چارہ اور آپسی اتحادکی بات کی جاتی رہی ہے۔لیکن ہر تقریر اور اس کے بعد ایک مدت گزرنے کے باوجودنہ صرف یہ کہ مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں بلکہ ہر سال مسائل میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

        انہی مسائل میں ملک کا ایک بڑا مسئلہ فرقاوارانہ کشیدگی اورفسادات ہیں۔جو نہ صرف آزادی سے قبل بلکہ بعد بھی بہت ہی منظم انداز میں ( well planned,well-designed and well engineered)ہوتے رہے ہیں۔پھر متاثرین فسادات کے حالات کے پیش نظرکبھی دکھ،تو کبھی افسوس،رنج،ندامت،کے احساسات سامنے آتے ہیں ۔اس کے باوجود نہ ملک میں فرقہ پرستی میں کمی آئی اور نہ ہی فرقہ وارانہ فسادات ختم یا کم ہی ہوسکے ہیں۔وہیں یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کی نگاہ میں ہندوتو نظریہ کے فروغ میں اگر کوئی سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو وہ مسلمان ہیں۔اور موجودہ ہندوستان میں ہندوتو کے نظریہ کے حامل ،سنگھ کے سابق پرچارک اور گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ،سنگھ کی مخصوص کوششوں کے نتیجہ ہی میں ملک کے وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچے ہیں۔نیز سنگھ کا خوداعتراف ہے کہ اُس نے اِس الیکشن میں اپنی چالیس ذیلی تنظیموں کو بی جے پی کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم رکھا تھا۔شاید انہیں کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں مسلمانوں کے خلاف کھلے عام اور بے دھڑک زہریلے الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں۔کہیں ان کو ملک کا غدار کہا جا رہا ہے تو کہیں ملک سے ہجرت کرنے کا مشورہ دیا جا تا ہے۔کہیں کہا جا رہا ہے کہ اگر مسلمان گجرات کے فسادات بھول چکے ہوں تو مظفر نگر فسادات تو ضرور یا د ہوں گے تو کہیں کچھ اورتو کہیں کچھ اور۔اور ان تمام حالات پر نظر رکھنے،مکمل معلومات رکھنے اورپوری طرح واقف ہونے کے باوجود اگر پھر بھی امن و امان خراب کرنے والوں پر شکنجہ نہ کسا جائے تو یہ کیسے یقین کیا جاسکے گا کہ ملک میں فرقہ پرستی کے خاتمے کے لیے وزیر اعظم یا ان کی حکومت سنجیدہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور ِحکومت میں صرف ایک ہی ریاست اترپردیش میں اب تک تقریباً600سے زائد فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔اس کے باوجود مرکزی حکومت ان کشیدگیوں اور تشدد کے واقعات پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔دوسری جانب جب ان فسادات کو روکنے کے لیے "انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل" پیش کرنے اور پاس کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس صورت میں گزشتہ اور موجودہ دونوں ہی حکومتوں کے رویّے اورسنجیدگی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔اگر واقعی موجودہ حکومت ملک میں امن امان کی خواہاں ہے توضروری تھا کہ فوری اقدامات کرتے ہوئے نہ صرف اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرتی ، بحث کرواتی بلکہ اس بل کی منظوری میں ہر ممکن تعاون بھی کرتی۔درحقیقت فرقہ واریت کے یہ بڑھتے واقعات نہ صرف ہندوستان جیسے سیکولر ملک کی پیشانی پر بد نما داغ ہیں بلکہ نقصان کے اعتبار سے بھی سراسر اہل ملک ہی خسارہ میں ہیں۔اس سب کے باوجودفکری ،نظریاتی اورعملی غیر سنجیدگی کو جذباتی تقاریروں سے حل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،جو کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔یہ خیال کہ ملک کی معیشت مستحکم ہو۔اور ہندوستان سارک ممالک،ایشیائی ممالک اور دیگر اقتدار کے مراکز پراخلاقی و معاشی برتری حاصل کر ے،اچھا ہے!لیکن جب تک کہ اہل اقتدار جو آج ملک کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں،قول و عمل میں یکسانیت قائم نہیںکرلیتے،خیال خیال ہی رہے گا عملی شکل نہ اختیار کر سکے گا۔

        اندورنی مسائل کے علاوہ ہندوستان فی الوقت بیرونی مسائل اورچیلنجیزسے بھی دوچار ہے۔جس میں خصوصیت کے ساتھ چین سے لگے ہندوستانی باڈر ہیں۔جہاں چین تیز رفتاری کے ساتھ ہندوستان کی جانب اپنے قدم بڑھانے میں مصروف ہے۔اس کی تازہ مثال وزیر اعظم شی جنپنگ کے ذریعہ تبت میں ایک اور ریل لائن بچھانے کی اجازت کی شکل میں سامنے آئی ہے۔یہ ریل لائن سکم کے قریب ہوگی اور اس سے فوج اور فوجی سازوسامان کو ہندوستان میں پہچانا آسان ہوجائے گا۔اس کے علاوہ بھی چین ،بھوٹان اور نیپال تک ریل لائن بچھانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔جس کا مقصدان ناقابل رسائی علاقوں میں ریل لائن بنا کر وہ اپنی اسٹریٹیجک صورتحال کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ پھر ایک طرف جہاں چین ،تبت پر اپنی پکڑ بنانے اور ہندوستان کے سامنے چیلنج پیش کرنے کے ارادے سے بڑے پیمانہ پر ہائی ویز اور ریل لائنزبناتا جا رہا ہے۔وہیں دوسری طرف دیگر پڑوسی ممالک کی غیر مستحکم حکومتیں بھی ہندوستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔اس پورے پس منظر میں جہاں اندورنی و بیرونی مسائل ،خطرات، اور چیلنجیز سامنے ہیں وہاں صرف جوشیلی تقریریں کر دینا، نہ مسائل کا حل ہیں اور نہ ہی مسائل کے حل میں پیش رفت کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔تصور فرمائیں ایک ایساملک جہاں زندگی کی معمولی ضرورت "بیت الخلا "تک پوری نہ ہو سکتی ہو۔اور جس ضرورت کو پورا کرنے کا عزم یوم  آزادی کے موقع پر ترنگا لہراتے ہوئے لال قلعہ سے وزیر اعظم اپنی تقریر میں کریں۔کیا ایسا ملک اور اس کے وہ دیگر مسائل جن کا تذکرہ کیا گیااور جن کا نہیں کیا گیا،صرف تقریروں سے حل ہو جائیں گے؟خصوصاً اس صورت میں جبکہ نہ حکومت اور نہ ہی حکومتی ادارے عملی تبدیلیوں کا مظاہرہ کریں!



vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top