مہاراشٹر کا سیاسی منظر نامہ اور مسلمان


مہاراشٹر کا سیاسی منظر نامہ اور مسلمان!

        دنیا میں عموماً وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ایک جانب اپنے مقصد ونصب العین پر ثابت قدم رہیں تو وہیں دوسری جانب مقصد و نصب العین کے حصول میں آنے والی رکاوٹوں کا جرت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے منزل مقصو د کی جانب پیش قدمی کرتے چلے جائیں۔یہ وہ بنیادی اصول ہے جس پر ہر زمانے میں شخص،گروہ اور اقوام کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔گرچہ ناکامی کسی کو پسند نہیں ،اس کے باوجود فی زمانہ کسی بھی سطح پر بااقتدارافراد و گروہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے جو کل ان کے اقتدار میں حائل ہوکر انہیں کمزور کرسکتے ہیں۔یہی وہ کشمکش اقتدارہے جو کسی کو ترقی تو کسی کو تنزلی کی طرف لے جاتا ہے۔یہ حصولِ اقتدار کا نشہ ہی ہے کہ کل تک جو دوست تھے وہ آج دشمن نظر آتے ہیں تو وہیں دشمن دوست محسو س ہونے لگتے ہیں ۔ معاملہ ادور کا نہیںاقتدار کا ہے،کیونکہ ہر دور میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔کچھ ایسی ہی صورتحال حالیہ دنوں ہونے والے مہاراشٹر اسمبلی الیکشن کی ہے۔

        مہاراشٹر کے دو بڑے گروپ جو اب چار بن چکے ہیں ،موجودہ الیکشن کے دوران خوب ایک دوسرے پر زبانی جنگ میں مصروف ہیں۔ایک جانب کانگریس اور این سی پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم کہ رہے ہیں کہ مہارشٹر میں متذکرہ پارٹیوں کی حکومت "لوٹو،باٹو،ٹیکس"(ایل بی ٹی) میں مصروف رہی ہے۔کانگریس اور این سی پی دونوں کا کردار،رویہ اور دل ایک سا ہے،وہ راشٹر وادی (وطن پرست)نہیں بلکہ بھرشٹ وادی(بدعنوان )ہیں۔وہیں دوسری جانب آل انڈیا کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی دوفرقوں کے درمیان تفریق پیدا کرکے گندی سیاست کو پروان چڑھا رہی ہے،یہ فرقہ پرست پارٹیاں ملک میں انارکی پھیلانا چاہتی ہیں،ملک کے جمہوری نظام کے تانے بانے کو بکھیر نے کی کوشش کر رہی ہے،مودی نے محض عوام کو گمراہ کرکے اکثریت حاصل کی ہے،بی جے پی نے محض جھوٹے وعدے کیے جو حقیقت آج سامنے آرہی ہے۔تیسری جانب بی جے پی کی حلیف شیو سینا گزشتہ بہار اور یوپی کے ضمنی انتخابات کے نتائج اور کمزور ہوتے مودی فیکٹرکو پیش نظر رکھتے ہوئے بی جے پی سے حالیہ اسمبلی انتخابات میں دوری بنائے رکھنا چاہتی ہے۔وہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ گزشتہ 15سالوں سے برسر اقتدار کانگریس ،این سی پی،اینٹی کمبینسی فیکٹر کی وجہ سے حکومت نہیں بناپائیںگے،ساتھ ہی ان کے ووٹ شیئر میں بھی کمی درج ہوسکتی ہے۔جس کا راست فائدہ بی جے پی اور شیوسینا کو مل سکتا ہے۔اور اس میں بھی شیوسینا کو زیادہ اور بی جے پی کو کم ہی سیٹیں ملنے کی توقع ہے۔لہذا شیوسینا ،بی جے پی کا اتحاد ٹوٹ چکا ہے۔اور اب شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے اپنے ہی رشتہ کے بھائی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس)کے سپریمو راج ٹھاکرے کے ساتھ اپنا دکھ درد باٹتے اورہاتھ ملاتے دکھائی دے رہے ہیں۔

        دوسری طرف مہاراشٹر الیکشن کے ساتھ ہی اتر پردیش اور بہار کی سیاست اور اس میں موجود سماجی ،معاشی،معاشرتی نیز طبقاتی کشمکش پر مبنی سماج اورذات و برادری میں مبتلا سیاست اپنے کچھ نئے رنگ دکھا رہی ہے۔ریاست میں ایک بار پھراعلیٰ ذات والوں کے خلاف اتحاد سامنے آرہا ہے۔یہ اعلیٰ ذات والے درحقیقت منو وادی فکر پر مبنی سیاسی لیڈران ہیں جن کے خلاف چند نئے اتحاد ابھرتے نظر آرہے ہیں۔ان میں سر فہرست ریاست بہار ہے جس میں جنتا دل یونائٹیڈ کے نتیش کمار ہیں تو وہیں راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو کا اتحاد ہے۔یہ اتحادحالیہ ضمنی انتخابات میں اپنے اثرات ثابت کر چکا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ این ڈی اے سے ملحقہ لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر رام ولاس پاسوان نے دعویٰ کیا ہے کہ بہار میں جنتا دل متحدہ(جے ڈی یو) اور راشٹریہ جنتا دل(آرجے ڈی) اتحاد زیادہ وقت تک نہیں ٹک پائے گا۔پاسوان کا کہنا ہے کہ جب سیلاب کا پانی تیزی سے آتا ہے تو سانپ،بچھو اور چوہے سب ایک ساتھ کسی درخت پر چڑھ جاتے ہیں اور اسی پر رہتے ہیں۔اسی طرح جے ڈی یو اور آرجے ڈی نریندر مودی کی لہر کی وجہ سے جمع ہوئے ہیں لیکن ان کا اتحاد ٹکنے والا نہیں ہے۔وہ ایسا کیوں کہ رہے ہیں؟اس کو باآسانی گزشتہ ضمنی انتخابات کے نتائج کی روشنی میں سمجھاجا سکتا ہے جہاں غیر بی جے پی اتحاد کو دس میں سے چھ سیٹوں پر کامیابی ملی تو وہیں بی جے پی اتحاد کو اسمبلی کی صرف چارسیٹیں ہی حاصل ہو سکی ہیں۔دوسری جانب اترپردیش میں سماجوادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو اور جنتا دل(متحدہ)کے صدر شرد یادو نے آج مشترکہ طور پر نریندر مودی حکومت کو اس کی ناکامی بالخصوص بین الاقوامی خارجہ پالیسیوں پر تنقید کانشانہ بنایا۔نویں بار پارٹی کے صدر منتخب ہونے کے بعد ملائم سنگھ نے کہا کہ جو گرجتے ہیں وہ وہ برستے نہیں اور بی جے پی حکومت مرکز میں عوام کے لیے کام کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ساتھ ہی نوجوانوں سے کہا کہ ان شرپسندعناصر کے خلاف متحد ہو ں جو ہمارے سماج کو تقسیم کرنے پر آمادہ ہیں۔وہیں سماج وادی پارٹی کے قومی کنونشن میں شرد یادو کی موجودگی کو موجودہ سیاسی ہلچل سمجھا جا رہا ہے۔جے ڈی یو کے صدر شرد یادو نے کانگریس کو ساس اور بی جے پی کو بہو قرار دیتے ہوئے دونوں کو گنگا میں بہادینے کی عوام سے اپیل کی۔شرد یادو نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کی پالیسی ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ منموہن حکومت ریل،دفاع اور انشورنس سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانا چاہتی تھی لیکن وہ صرف چاہتی تھی اور نریندر مودی نے وزیر اعظم بنتے ہی اسے نافذ کر دیا۔انہوں نے این ڈی اے حکومت پر خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مسٹر مودی کے امریکہ اور جاپان دورے بے نتیجہ رہے ہیں۔فی الوقت سیاسی گلیاروں میں رونما ہونے والی یہ وہ تبدیلیاں ہیں جنہیں نظر اندازنہیں کیا جا سکتا۔

        لیکن اگر مہاراشٹر کی ایک بار پھر سے بات کریں اور اس میں مسلمانوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ریاست میں 13.4%فیصد مسلمان آباد ہیں ۔ریاست میں 40اسمبلی سیٹوں پر مسلمانوں کے ووٹ اثر انداز ہوتے ہیں،اور وہ کسی بھی پارٹی کے امیدوار کو کامیابی و ناکامی سے دوچار کر سکتے ہیں۔اس کے باوجود ریاست کی چار بڑی پارٹیوں نے گزشتہ 2004میں 20سیٹوں پر مسلمان امیدواران کو ٹکٹ دیے تو وہیں 2009میں صرف18امیدوان کوہی پارٹی ٹکٹ حاصل ہوسکا۔گزشتہ دو الیکشن میں کانگریس نے کل 25،این سی پی نے 10،شیوسینا نے 2اور بی جے پی نے صرف1امیدوار میدان میں اتاراہے۔اگر ریاست میں درپیش مسلمانوں کے مسائل پر غور کیا جائے تو اتنی بات کافی ہوگی کہ فی الوقت ریاست میں مسلمانوں کی تعداد13.4%فیصد ہے برخلاف جیلوں میں بند مسلمانوں کی تعداد 32.4%فیصد ہے۔سچر کمیٹی کی رپورٹ سے متاثر ہو کر ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز نے پچھلے سال مہاراشٹر کی متعدد جیلوں کا سروے کیا تھا اور ان میں بند مسلم قیدیوں کی صورتِ حال کو جاننے کی کوشش کی تھی۔ تحقیق کے دوران مسلم قیدیوں سے متعلق حقائق جوسامنے آئے ہیں وہ اس طرح ہیں : ممبئی سنٹرل اور تھانے سنٹرل جیل میں مسلم قیدیوں کی کل تعداد 52 فیصد ہے اور یہ تمام قیدی انڈر ٹرائل ہیں۔ پورے مہاراشٹر میں 18 سے 30 سال کی عمر کے جتنے بھی قیدی ہیں، ان میں مسلم قیدیوں کا حصہ 65.5 فیصد ہے۔ یہ مسلم قیدی یا تو اَن پڑھ ہیں یا پھر انہوں نے صرف پرائمری اسکول تک تعلیم حاصل کی ہے۔ گرفتاری کے وقت بہت کم مسلم ایسے تھے جو بے روزگار رہے ہوں، بلکہ زیادہ تر کچھ نہ کما ضرور رہے تھے اور ان کی ماہانہ آمدنی 2000 روپے سے لے کر 5000 روپے تک تھی۔ تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا کہ جو مسلم نوجوان گرفتار کیے گئے وہ اپنی فیملی میں کمانے والے واحد فرد تھے اور پوری فیملی کا پیٹ ان کی کمائی سے ہی بھرتا تھا۔ جن مسلم قیدیوں کا انٹرویو کیا گیا ان میں سے 75.5 فیصد ایسے تھے، جنہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا، یعنی وہ کرمنل بیک گراونڈ کے نہیں تھے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر معاملوں میں قیدیوں نے اپنی گرفتاری کے لیے ناقص پولس سسٹم کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جرم کرنے سے باز آنا چاہتے ہیں، لیکن ایک بار جرم کردینے اور گرفتار ہوجانے کے بعد ان کے علاقہ میں جب بھی کرائم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پولس پہلے انہیں ہی گرفتار کرتی ہے، جس کی وجہ سے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار جیل پہنچ جاتے ہیں اور جرائم کی دنیا سے پیچھا نہیں چھڑا پاتے۔ کچھ مسلم قیدیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ پولس کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے مسلمانوں کو بار بار گرفتار کیا جاتا ہے۔آر ٹی آئی معلومات کے مطابق مہاراشٹر میں ہر تیسرا قیدی مسلم فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حالات بالکل ایسے ہیں جیسے امریکہ میں سیاہ فام قیدیوں کے ہیں۔ امریکی جیلوں میں قید 23 لاکھ لوگوں میں سے تقریبا نصف تعداد سیاہ فام قیدیوں کی ہے جبکہ آبادی میں ان کا حصہ صرف 13 فیصد ہی ہے۔ معلومات میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اعدا و شمار مسلمانوں کی دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاری سمیت دیگر چھوٹے موٹے اور سنگین جرائم کے متعلق ہیں۔مسلمانوں کے مسائل اور ان میں سنگین ترین مسئلہ جیلوں کی صعوبتوں سے دوچار مسلمان قیدیوں کی تعدادتوجہ دلاتی ہے کہ مسلمانوں کو موجود بڑی سیاسی پارٹیوں کو لگاتارکامیاب بنانے کے عمل پر غور کرنا چاہیے۔اور دیکھنا چاہیے کہ دیر سے ہی صحیح لیکن کیا موجودہ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ بھی کوئی متبادل مسلمان رکھتے ہیں؟یا گزشتہ کی طرح فی الوقت اور آئندہ بھی اپنی کسمپرسی پر توجہ نہ دیتے ہوئے صرف دوسروں سے ہی یہ توقع رکھیں گے کہ وہ آ پ کے حق میں اور آپ کے لیے اپنی نیندیں حرام کریں !


vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top