"غیر مذہبی جمہوریت"…. کیا یہ نظریہ درست ہے؟



"غیر مذہبی جمہوریت"…. کیا یہ نظریہ درست ہے؟

         گزشتہ دنوں جہاں ایک جانب دیما پور کا شرمناک واقعہ خبروں میں چھایا رہا وہیں فلم "انڈیاز ڈاٹر"پر بھی ملک وبیرون ملک سے بے شمار تاثرات سامنے آئے ہیں۔واقعات گرچہ ایک دوسرے سے متضاد ہیںاس کے باوجود دونوں ہی واقعات میں یکساں بات "بے جا تشدد" کااختیار کیا جانا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ حالات کیسے پیدا ہوئے؟جس کے نتیجہ میں یہ اور ان جیسے واقعات نہ صرف منظر عام پر آرہے ہیں بلکہ ہر صبح ان ہی جیسے واقعات سے اخبارات کی سرخیاں سامنے آتی ہیں؟ سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ملک کے اس ڈھانچے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جس کی بنیاد پر ملک کے ستون قائم ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ ایک زمانے میں ملک توآزاد ہو ا،اس کے باوجودملک کی فکری و عملی اساس کار غلامی کی زنجیروں سے نجات پانے میں ناکام رہی۔غیر مذہبی جمہوریت کا قیام ،ملک کا مقصد ٹھہرا۔ساتھ ہی یہ بھی طے ہوا کہ اسٹیٹ کااپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا ۔دوسری طرف خود کو سیکولر اور غیر مذہبی جمہوریت کا علمبردار ثابت کرنے کے لیے ملک کے لیڈران، سربراہان اور برسر اقتدار طبقہ نے مذہب بیزاری کا کھل کر اظہار کیا۔پھر یہاں بھی اگر کسی کو عروج حاصل ہوا تو وہ ملک کا "تعلیم یافتہ اور متمدن "مسلمان ہی تھا،جو ہر میدان میں پیچھے رہنے کے باوجودغیر مذہبی جمہوریت کے قیام میں خوب خوب نمایاں ہوا۔ان متمدن اور تعلیم یافتہ مسلمانوں میںکہیں ماہرین تعلیم پیدا ہوئے کہیں ماہرین ِمعیشت ومعاشرت۔نتیجہ میںا یک ایسا پڑھا لکھا طبقہ وجود میں آیا جس نے مذہب کو اپنی ذاتی زندگی سے بھی بے دخل کر دیا ۔ پھر نہ ان کے افکار و نظریات میں ،نہ ان کے فکر و عمل میں اور نہ ہی ان کی خاندانی و معاشرتی زندگی میں مذہب یا مذہبی تعلیمات کی کوئی جھلک سامنے آئی۔ ہاں چند لگے بندھے رسم و رواج ضرورفروغ پاتے رہے۔لیکن ان لگے بندھے رسم و رواج میں بھی جب دیگر رسم و رواج شامل ہوئے ،تو نہ صرف ان کی فکر مزید مجروح ہوئی بلکہ ان کا تشخص بھی جاتا رہا۔

        برخلاف اس کے ایک تیسری فکر بھی اسی دوران پروان چڑھی۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے تاریخی ورثہ سے بے انتہا رغبت کا اظہار کیا۔نتیجہ میں نہ صرف حددرجہ قومیت کو فروغ ملا بلکہ باالفاظ دیگر نیشنل کلچرزم یا جارحانہ قوم پرستی میں بھی اضافہ ہوا۔لیکن جارحانہ قوم پرستی کے فروغ میں ایک وللین کی ضرورت تھی،جسے "نفرت پر مبنی سیاست"کے اصول پر حل کیا گیا۔پھر نہ جانے کیوں اور کیسے یہ جارحانہ قوم پرستی مسلسل فروغ پاتی رہی؟ابتدائی سطروں کے دو واقعات، غالباً ان ہی دو نظریات کی دین ہیں۔جہاں ایک جانب مغربی افکار و نظریات کے حاملین عورت و مرد کے تعلقات کو کسی بھی درجہ میں برا نہیں سمجھتے،اختلاط ِمردو زن پر اگر کوئی سوال اٹھائے تو وہ برا مان جاتے ہیں،اس کے باوجود وہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں امن و امان برقرار رہے،لوگ ایک دوسرے کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھیںاور برائیاں کم و بھلائیاں فروغ پائیں۔دوسری طرف اس جارحانہ قومیت کے بے جا تصور نے انسانوں کو حیوانیت کے درجہ پر لا چھوڑا۔جہاں ملکی و بین الاقوامی حد بندیاں ہی سب کچھ ٹھہریں۔انسان اگر بھوکا ہے تو بھوکا رہے،لیکن رزق کی تلاش میں وہ حدود پار نہیں کرسکتا ۔ اور اگر وہ ایسا کرتا ہے(جس کا متذکرہ واقعہ میں شک ظاہر کیا جا رہا ہے، اور جو ابھی تک ثابت بھی نہیں ہوا ہے )تو پھر اُس کے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو ناگالینڈ کے دیما پور میں سامنے آیا ہے۔مجرمین کو اس بات سے اختلاف نہیں تھا کہ زنا بالجبر،جس کا ہلاک شدہ شخص پر الزام لگایا گیا ہے، اور جو ثبوتوں کی بنا پر غلط ثابت ہوا ہے،یہ عمل سب کے لیے اسی درجہ میں غلط ہے،جس درجہ میں ہلاک شدہ شخص کے لیے تھا ۔نہیں ،بلکہ انہیں تو اس بات کا اختلاف تھا کہ ایک بنگلہ زبان بولنے والا اور وہ بھی بنگلہ دیش کا شہری(جو غالباًالزام ہے،ثابت نہیں ہوا ہے) ہمارے ملک کی عورت کے ساتھ وہ معاملہ کیونکر انجام دے جو مناسب نہیں ہے؟اور وہ یا اس جیسا کوئی اور یہ معاملہ انجام دیتا ہے تو ہم بھی تشدد کا وہ طریقہ اختیار کریں گے،جو درحقیقت جارحانہ قوم پرستی کی دین ہے۔

        واضح رہے کہ ہندوستان میں شادی سے پہلے مرد و عورت کا ایک ساتھ رہنا نہ صرف معیوب بلکہ غیر اخلاقی بھی سمجھا جاتا ہے۔اس کے باوجود یہ وبا بڑے شہروں میں تیزی سے عام ہو رہی ہے۔وبا کے عام ہونے کی وجہ ہندوستانی معاشرہ میں اصولوں کابدلا ہے۔جس کے نتیجہ میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنا گرچہ تہذیبی نقطہ نظر سے معیوب ہے اس کے باوجود دو بالغوں کے درمیان شادی کے وعدے کے تحت قائم کیے جانے والے تمام جنسی تعلقات زنا بالجبر کے زمرے میں نہیں آتے۔گذشتہ سال اسی طرح کے ایک معاملہ میں دہلی کی عدالت نے غیر شادی شدہ (لیو ان ریلیشنز میں)رہنے والے جوڑے کو غیر اخلاقی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ "مغربی تہذیب کا بدنام پروڈکٹ"ہے۔جج مسٹر بھٹ خواتین کے خلاف جنسی خلاف ورزیوں کے معاملات کی فاسٹ ٹریک عدالت کی صدارت کر رہے تھے۔انھوں نے یہ باتیں ایک ایسے معاملہ پر فیصلہ سناتے ہوئے کہیں جس میں ایک خاتون نے ایک کثیر ملکی کمپنی میں ملازم شخص پر زنا بالجرکا الزام لگایا تھا۔جج کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پڑھی لکھی، بالغ اور دفتر میں کام کرنے والی خاتون اپنے کسی ساتھی یا دوست کے ساتھ شادی کے وعدے کے تحت جنسی تعلق قائم کرتی ہے تو یہ اس کی اپنی ایما پر ہے۔اسے یہ بات جان لینی چاہیے کہ وہ اس کے لیے خود ذمہ دار ہے کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ لڑکا اپنا وعدہ پورا ہی کرے گا۔جج کا مزید کہنا تھا کہ وہ (مرد)اپنا وعدہ پورا کر سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن خاتون کو یہ باور ہونا چاہیے کہ وہ جس جنسی عمل میں شامل ہو رہی ہے وہ غیر اخلاقی ہے۔ اور دنیا کے تمام مذاہب کے اصولوں کے منافی ہے ۔کیونکہ دنیا کا کوئی مذہب شادی سے پہلے عورت و مرد کے اختلاط کی اجازت نہیں دیتا۔

        سماجی اعتبار سے اس دور کے بڑے فتنوں میں خاندانی انتشار کو لازماًشمار کیا جانا چاہیے۔معاملہ یہ ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں میں شرح نکاح کم ہورہا ہے اور شرح طلاق بڑھ رہا ہے۔ناجائز تعلقات ، ہم جنس پرستی اور لیو اِن رلیشن شپ(Live-in-relationship) مقبول ہورہی ہے۔بچہ نہ پیدا کرنے کا رجحان سر اٹھا رہا ہے اور ان کی نگہداشت میں سرکار کا عمل دخل بڑھ رہا ہے۔یہ بات اُس رپورٹ سے بھی ثابت ہوتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں ہر سال طلاق کا اوسط بڑھ رہا ہے۔صرف 2014ءمیں ممبئی میں 1,667طلاق کے واقعات سامنے آئے وہیں کلکتہ میں 8,347معاملات سامنے آئے ہیں۔کلکتہ کی یہ تعداد 2003ءکے مقابلے 350%فیصد زیادہ ہے ،جبکہ کل 2,388واقعات ہی رونما ہوئے تھے۔وہیں ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں فیملی کورٹ کے تحت سال2014ءمیں 2,000طلاق کے واقعات سامنے آئے ہیں،جن میں 900معاملات ایسے ہیں جو شادی وطلاق کے دوران ایک سال کا عرصہ تک پورا نہ کرسکے۔دوسری طرف بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی اور ہوس کے لیے ان کا استعمال ایک الگ سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ساتھ ہی خاندانی محبت سے محروم نوجوانوں میں جرائم و منشیات کا چلن بھی عام ہورہا ہے۔اس پورے پس منظر میں یہ مزید حیرت انگیز ہے کہ ہمارے ملک میں لیو اِن رلیشن (Live-in-relations) کودرست قرار دے دیاجارہا ہے اور اس "رشتہ  ازدواج" سے پیدا ہونے والی"جائز"نسل کے حقوق کا تحفظ زیر غور ہے۔انتہا یہ ہے کہ لیو اِن ریلشن کے اشتہار ان ویب سائٹس پرموجود ہیں،جہاں نئے اور پرانے سامان کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔اور حد درجہ افسوس ناک خبر یہ ہے کہ یہ اشتہارات ملک کی راجدھانی دہلی کے ان علاقوں سے بھی درج کیے گئے ہیں جہاں ملت اسلامیہ ہند کا سواد اعظم موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ کیاکسی بھی قدر کا دائمی نہ ہونا بے قید جمہور کی حکمرانی(Absolute monarchi or Absolute Government & the people) کا سرچشمہ ہے؟اور اگر ایسا ہے جو واقعہ بھی ہے تو اس میں "غیر مذہبی جمہوریت کا قیام" کس حد تک درست سمجھا جانا چاہیے؟اس مرحلے میں اگر بحث کا آغاز ہوتا ہے تو پھر سوال یہ بھی اٹھے گا کہ وہ کون سا مذہب ہے جو اپنی تعلیمات اوراصول و قوانین کے اعتبار سے انسانیت کی فوز و فلاح کا ضامن بن سکتا ہے!



vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top