نکبہ یعنی آفت کا دن یعنی 15مئی 1948ء


نکبہ یعنی آفت کا دن یعنی 15مئی 1948ء
        کہا جاتا ہے کہ کسی بھی مقصد کے لیے جب تک تن من دھن سے جدوجہد نہ کی جائے اس کا حصول ممکن نہیں ہے۔شاید یہی معاملہ فلسطینی ریاست کے قیام پر بھی چسپاں ہوتا ہے۔یاد کیجیے فلسطینی ریاست جسے/15مئی 1948ءمیں مکمل طور پر ختم کرنے کی منظم کو شش کی گئی ۔اور جہاں نومبر1947ءمیں اقوام متحدہ کے فیصلہ کے بعد اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔اُس موقع پر کہیں شادیانے بجائے گئے توکہیں حد درجہ غم وفسردگی کے ماحول میں لاتعدادفلسطینیوں نے گھر بدری کی تھی۔یہ وہی نقبہ یعنی بڑی گھس پےٹھ کا دن تھا جسے یوم نکبہ کے طور پر آج تک یاد رکھا جاتا ہے۔اس کے باوجودجس سعی و جہد کا آغاز،ذلت و رسوائی سے نجات کا عزم اور ایک طویل ،صبر آزما اور عظیم قربانیوں کی تاریخ رقم کی گئی۔اُس سچّے اورمخلصانہ عمل نے ثابت کر دیا کہ مقصدکی دھن میں مصروف افراد و گروہ آخر کار کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔اس کی تازہ مثال دنیا کے ایک ارب پچیس کروڑ سے زائد کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ کی ویٹی کن میں واقع حکومت نے فلسطین کو باقاعدہ طور پر ریاست کا تسلیم کیا جاناہے۔پوپ نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے اور اسرائیل سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ فلسطین کو اس کا حق دے۔گرچہ اسرائیل ویٹی کن کے اس قدم سے ناراض ہے اور اس نے دھمکی بھی دی ہے کہ اس عمل سے قیام امن متاثر ہو سکتا ہے۔لیکن اُس کی ناراضگی کی پرواہ کیے بنا فلسطینی خطے میں کیتھولک چرچ سے متعلق "ہولی سی"معاہدے میں کہا گیا ہے کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی جگہ فلسطینی ریاست کو سفارتی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور اب اس ہی سے تمام تعلقات رکھے جائیں گے۔دوسری جانب اس فیصلہ پر دیگر ممالک کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔سویڈن نے ویٹی کن کے اس قدم کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اب انصاف کی راہ پر چلنا ہی ہوگا۔ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔آئرلینڈ نے کہا کہ فلسطین کو بہت پہلے تسلیم کر لیا جانا چاہیے تھا۔اس کے باوجود اب بھی بہت دیر نہیں ہوئی ہے۔برطانیہ نے بھی اسے فلسطین کے دبے کچلے عوام کے حق میں بہت بڑا قدم قرارد یا ہے اور اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ امن کے فارمولے پر قائم رہے۔ساتھ ہی اٹلی نے ویٹی کن کے قدم کے تعلق سے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ دونوں ہی ریاستوں کو تسلیم کیا جائے۔وہیں فلسطینی وزرات خارجہ کا کہنا ہے کہ اب تک /135 ممالک اور /8 پارلیمان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں۔اور ان میں یورپی یونین کے کئی ممبر ممالک بھی شامل ہیں۔یہ اس سعی و جہد کا نتیجہ ہے جس میں اب تک بے شمار جانیں بطور نذرانہ پیش کی جاچکی ہیں اور نہیں معلوم اور کتنی جانیں قربان ہوں گی۔

        دوسری طرف ظلم و تشدد پر یقین رکھنے والے زیادتیاں کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں اور لگتا ہے کہ وہ بوکھلاہت میں مزید زیادتیوں میں مصروف عمل ہیں۔اسی سلسلے کی خبر کے مطابق سفاک اسرائیلی فوجیوں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے سے حراست میں لی گئی ایک عمر رسیدہ خاتون پر وحشیانہ تشدد کرکے اس کے بازو توڑ ڈالے۔فلسطینی خاتون کو اردن سے واپسی پر گھر پہنچتے ہی صیہونی فوجی اغواءکرکے لے گئے تھے۔تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کے بیٹے محمد عبدالعزیز خرفان نے بتایا کہ اس کی والدہ چند روز قبل اردن میں اپنے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے اردن گئی تھیں جہاں وہ حال ہی میں واپس مغربی کنارے میں قلقیلیہ میں عزون کے مقام پر اپنے گھر پہنچی ہی تھیں کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا۔سوال کے جواب میں خرفان نے بتایا کہ اس کی والدہ(60سالہ)یسری محمد قاطش کو چوبیس گھنٹے حراستی مرکز میں رکھا گیا۔جہاں وحشیانہ تشدد کرکے اس کے بازو توڑ ڈالے گئے۔خرفان نے بتایا کہ اس کی والدہ کو پہلے مغربی کنارے کے ایک تفتیشی مرکز میں رکھا گیا جہاں اگلے بارہ گھنٹے اسے بیت المقدس میں معالیہ ادومیم کے ایک پولیس سینٹر میں لے جایا گیا۔حراستی مرکز سے رہائی کے بعد اس زخمی خاتون کو اسپتال لے جایا گیا،جہاں ڈاکٹروں نے اس کی مرہم پٹی کی۔میڈیکل رپورٹ کے مطابق یسریٰ قرطاش کاایک بازوتوڑدیا گیا ہے۔ قابض فوجیوں نے نہ صرف خاتون کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کا اُردنی پاسپورٹ بھی ضبط کر لیا ۔وہیں ایک دوسری خبر کے مطابق کم سن فلسطینیوں سے قابض صیہونی جیلروں اور سفاک تفتیش کاروں کے وحشیانہ سلوک کے مظاہر سامنے آئے ہیں۔انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ میں زیر حراست بچوں کے ساتھ نہایت شرمناک اور وحشیانہ سلوک کا انکشاف کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوران تفتیش زیر حراست فلسطینی بچوں کے سر ٹوائلٹ میں ڈالے جاتے ہیں اور گھنٹوں انہیں اسی حالت میں رکھا جاتا ہے۔اسیران و محررین کمیٹی کی مندوب ھبہ مصالحہ نے اسرائیلی جیلوں کے دورے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دوران حراست کم عمر بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔المصالحہ نے ہشارون جیلوں میں کم عمر بچوں سے ملاقات کی۔بچوں نے بتایا کہ انہیں روز مرہ کی بنیاد پر وحشیانہ اور خوفناک نوعیت کے تفتیشی مراحل سے گزاراجاتا ہے۔انہیں زنجیروں میں باندھ کر گھسیٹا جاتا ہے، وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیںاور نفسیاتی تشدد کرتے ہوئے اہل خانہ کو بھی شامل تفتیش کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔انسانی حقوق کی مندوبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران بالخصوص کم عمر اسیران کی صورتحال نہایت ناگفتہ بہ ہے۔قیدیوں کے حقوق کا خیال تو درکنار اسیران کے حوالے سے عالمی قوانین کا سر عام مذاق اڑایا جاتا ہے۔ھبہ المصالحہ نے بتایا کہ اس کی ملاقات ایک۶۱سالہ احمد عدنان منا نامی بچے سے ہوئی۔اسے بیت المقدس سے ۴فروری کو صیہونی فوجیوں پر سنگ باری کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔اس نے بتایا کہ دوران حراست اس کے ساتھ بار بار وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے ساتھ ہی بری طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔

        وحشیانہ اور سفاکانہ قوم کے ایک فوجی اہلکار کا وہ انٹرویو بھی پڑھتے چلئے جو گزشتہ سال جولائی اور اگست کے دوران فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کا احوال بیان کرتاہے۔انٹرویو اسرائیلی فوجی 'ارییہ' نے فرانسیسی اخبار'لی موند'کو دیا ہے جس میں غزہ جنگ کے حوالے سے اہم اعترافی انکشافات کیے گئے ہیں۔فوجی اہلکار کہتا ہے کہ جنگ کے دوران ہم محض تفریح کی خاطر نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کرتے اور شہری مقامات کو بمباری کا نشانہ بناتے رہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک روزصبح آٹھ بجے ہمیں غزہ کی پٹی میں البریج کی جانب روانہ ہونے کو کہا گیا۔یہ علاقہ گنجان آباد ہے۔اس کے بعد ہمارے سینیر کمانڈر نے حکم دیا کہ ہم اپنا ہدف خود مختص کریں اور اس کے بعد ہدف کو نشانہ بناکر اندھا دھند گولہ باری شروع کردیں۔پھر ہم سے ہر ایک نے ایسے ہی کیا۔اس وقت ہمیں حماس کا کوئی جنگجو دکھائی نہیں دیا اور نہ ہی ہم پر کسی طرف سے کوئی جوابی فائر کیا گیا۔لیکن ہمارے فوجی کمانڈر نے ہنستے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنی فوج کے لیے البریج کا تحفہ لے کر جائیں گے۔صیہونی فوجی کہتا ہے ایک روز ہمارا ایک ساتھی اہلکار مارا گیا۔ہمیں کمان کرنے والے کرنل نے حکم دیا کہ ہم اس کا انتقام لیں۔اس کے بعد ہمیں کہا گیا کہ چار کلو میٹر تک جو کچھ بھی دکھائی دے رہا ہے بمباری سے تباہ کر دیا جائے۔میں اور میرے ساتھیوں نے ایک 11 منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا اور وہ زمین بوس ہو گئی۔اس میں درجنوں خاندان رہائش پذیر تھے جو سب کے سب ملبے تلے دب کر مارے گئے۔مجھے پورا یقین ہے کہ وہ سب بے گناہ تھے۔اورایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ جنگ کا مقصد حماس کو نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ غزہ کی پٹی کا انفرااسٹرکچر تباہ کرنا تھا۔ہم غزہ کی پٹی میں 19 جولائی کو داخل ہوئے اور حماس کی کھودی گئی سرنگیں تلاش کرنے لگے۔ہمیں کہا گیا کہ ہمارا ہدف حماس کا زیر زمیں نیٹ ورک تباہ کرنا ہے۔حماس کا نیٹ ورک تو اتنا تباہ نہیں ہوا مگر غزہ کی زراعت اور معیشت کا دیوالیہ ضرور نکال دیاگیا ۔تاہم یہ بھی حماس کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ آئندہ ہمارے ساتھ پنجہ آزمائی سے قبل ضرور سوچ بچار کرے۔اس نے کہا کہ ہم نے رہائشی مکانات،کھیتوں،دفاتر،بجلی کے کھمبوں اور ایسی ایسی چیزوں کو بمباری سے نشانہ بنایا جن کا مزاحمتی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ عموماً شہریوں کی بنیادی ضروریات کا حصہ تھیں۔یاد رہے یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں آیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ جنگ میں اسرائیلی فوجیوں نے دانستہ طور پر عام شہریوں کا وحشیانہ قتل عام کیا تھا۔معلوم ہونا چاہیے کہ گزشتہ سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر اکاون دن تک جاری رہنے والے اسرائیل کے فضائی ،زمینی اور بحری حملوں میں تقریباً2300سے زائد فسلطینی شہید اور11ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔مقدس زمین فلسطین پر نقبہ یعنی آفت کا دن کل ہی نہیں آج بھی جاری ہے۔لیکن اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ صرف یوم نکبہ مناکر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں۔برخلاف اس کے ہونا تو یہ چاہیے کہ مسلمان ہی نہیں بلکہ قیام عدل و انصاف کے علمبردار ملک عزیز ہند اور پوری دنیا میں اسرائیل اوراسرائیل نواز معیشت کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں۔ممکن ہے یہ چھوٹا عمل اُن روحوں کے لیے باعثِ تسکین بنے جو اذیتیوں کے دوران جینے پر مجبور ہیں!


vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top