مغربی بنگال میں پھیکا پڑتا بھگوا رنگ


مغربی بنگال میں پھیکا پڑتا بھگوا رنگ !
        جہاں ایک طویل عرصہ سے بی جے پی اور اور ٹی ایم سی کے اعلیٰ عہدیداران کے درمیان نوک جھونک اور شہ مات کا کھیل جاری تھا،حالیہ دنوں اس کا ایک پڑا کولکاتا کارپوریشن اور میونسپلٹی الیکشن کے نتائج کی شکل میں مکمل ہوگیاہے۔نتائج نے بی جے پی کےبھگوا رنگ کو کافی حد تک پھیکا کیا ہے۔اس کے باوجود طویل عرصہ سے بی جے پی مغربی بنگال میں اپنے پیر جمانے میں مصروف ہے۔اور ممکن ہے ۶۱۰۲ءمیں اسمبلی الیکشن کے مثبت نتائج بی جے پی حاصل ہو جائیں۔لیکن فی الوقت ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس نے کولکاتا کارپوریشن اور ۱۹میونسپلٹیوں کے انتخابات میں اپوزیشن کا صفایا ہی کردیا ہے۔۱۹میونسپلٹیوں میں سے۱۷میں ترنمول کانگریس کو واضح اکثریت ملی ہے۔وہیں کارپوریشن کے ۴۴۱ وارڈوں میں سے ترنمول کانگریس نے ۳۱۱ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ بایاں محاذ محض ۶۱ وارڈوں میں ہی سمٹ کر رہ گیا ہے توبی جے پی ۷ اور کانگریس۵وارڈوں میں ہی کامیاب ہوسکی ہے۔موجودہ کامیابی کا اگر۰۱۰۲ءسے موازنہ کیا جائے تو اس وقت کے کارپوریشن انتخابات میں ترنمول کانگریس کو ۵۹ سیٹیں حاصل ہوئی تھیں ۔بعد میں کانگریس کے ۸ کانسلر ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔اس طرح ترنمول کانگریس کو دس سے گیارہ سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔دوسری جانب بائیں محاذ کو نصف سے زائد سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔بڑی کامیابی کے باوجود ممتا بنرجی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم اس جیت کو بنگال کے عوام کے نام کرتے ہیں،اس کے باوجودپارٹی ورکروں سے اپیل ہے کہ نیپال میں آئے زلزلہ اور بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کی ہلاکت کے پیش نظر جشن نہ منائیں۔

        کٹھمنڈو کے زلزلہ نے نہ صرف ترنمول کانگریس کے جشن کو روکا بلکہ بے شمار انسانوں اور ان سے وابستہ خوشیوں کو ختم کر دیا ہے۔زلزلہ میں لاکھوں انسان متاثر ہوئے ہیں،ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین اور بچے موت کا لقمہ بنے ہیںاوربڑی تعداد میں عمارتیں زمیں دوز ہوئیں ہیں۔زمیں دوز عمارتوں میںجہاں رہائشی مکان ہیں وہیں عبادت گاہیںبھی ہیں،اور ان عبادت گاہوں میں موجود مختلف "متبرک"وہ بت بھی جنہیں نجات کا ذریعہ سمجھ کر انسان اپنی تکلیفیں،حاجات اور مسائل،ان کے سامنے اس امید کے ساتھ رکھتا آیا ہے کہ شاید وہ ہر موقع پر ان کی مدد کریں گے۔زلزلہ کے بعد نیپال میں بے شمار کیمپ لگے ہوئے ہیںجہاں مریضوں کا علاج جاری ہے۔انسانوں پر آئی قدرتی آزمائش کے وقت تقاضا ہے کہ ہرفردبلا لحاظ مذہب و ملت ،انسانوں کو انسان جانتے ہوئے مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے ۔شاید یہی و ہ جذبہ خدمت خلق ہے جس کے نتیجہ میں ملک عزیز ہندوستان کی معروف مسلم و غیر مسلم تنظیمیں حتی المکان بچا اورراحتی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔اور ان کوششوں کی ہر سطح پر پذیرائی بھی کی جا رہی ہے۔اس کے باوجود عمل وہی قابل اعتبار ہے جو پذیرائی کے لیے نہیں بلکہ مخلصانہ جذبہ کے ساتھ انجام دیا جائے۔چاہے ظاہری طور پر اس کے کچھ فوائد نظر آئیں یا نہ آئیں۔دوسری جانب الیکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیااور سوشل میڈیا نے تباہی کی جو بھیانک منظر کشی کی ہے وہ حد درجہ قابل رنج وملال ہے۔حادثہ کے بعد حکومت ِنیپال جو گرچہ بہت مستحکم نہیں،متاثرین کی مدداور باز آباد کاری میں مصروف ہے۔وہیں دوسری طرف پڑوسی ممالک ،ہندوستان ،پاکستان اورچین بھی زلزلہ متاثرین کی مدد میں پیچھے نہیںہے ساتھ ہی امریکہ و برطانیہ کے علاوہ دیگر ممالک بھی اس پریشانی میں متاثرین نیپال کے ساتھ ہیں۔

        مہلوکین ِنیپال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آئیے ایک بار پھر مغربی بنگال کی طرف رخ کرتے ہیں۔جبکہ ستمبر۴۱۰۲ءمیں دس ریاستوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو ۳۳ میں سے صرف ۲۱ سیٹیں ہی مل پائیں تھیں اس کے باوجود مغربی بنگال کی دو میں سے ایک نشست، یعنی ۰۵فیصد پر بی جے پی کامیاب ہوئی تھی۔اور اسی وقت سے یہ کوششیںبھی جاری تھیں کہ آئندہ چاہے وہ کارپوریشن الیکشن ہوں،میونسپلٹی کے الیکشن ہوں یا پھر ۶۱۰۲ءکے اسمبلی الیکشن ،ہمیں ہر سطح پر پیش رفت کرنی ہے۔اسی امید پربی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے گزشتہ دنوں مغربی بنگال میں لگاتار دورے کیے ہیں۔اس کے باوجودحالیہ الیکشن کے نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ بی جے پی کا سورج جس تیزی سے ابھرا تھااسی تیزی سے ڈوبنے کے قریب ہے۔وجہ یہ ہے کہ پارلیمانی انتخاب کے وقت جس طرح بے شمار وعدے اور خوبصورت خواب عوام کو دکھائے گئے ،وہ اب چکنا چور ہوتے نظر آرہے ہیں۔لہذا عوام کیونکر بار بار صرف وعدوں اور خوابوں پر اعتماد کرتے ہوئے بی جے پی کو کامیابی سے ہمکنا کرے؟بی جے پی سے عوام کے اعتماد کے اٹھ جانے کی واضح مثال گزشتہ دہلی اسمبلی الیکشن بھی ہیں۔جہاں ایک طرف کانگریس کا صفایا ہواتو وہیں بی جے پی کی بھی شکست فاش ہوئی۔اور اب جبکہ ایک کے بعد ایک بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں کے لیڈران قولی موشگافیوں میں مصروف ہیں،بی جے پی کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فی الوقت بی جے پی کہیں بھی ابھرتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری طرف کانگریس تاریخی شکست کے بعداپنے وجود کو برقرار رکھنے میں بے انتہا مصروف عمل ہے۔پارٹی کے وہ لیڈران جو عیش و عشرت کی زندگیاں گزارتے آئے ہیں،چلچلاتی دھوپ میں کہیں کسانوں کے حق میں نعرہ لگاتے ہوئے ،کہیں پیدل مارچ کرتے ہوئے تو کہیں بھوک ہڑتال ، مظاہرے اورو جلوسوں میں مصروف ہیں۔اُن کی اس حالت کو دیکھتے ہوئے ،محسوس تو یہی ہوتا ہے کہ کسانوں کا مسئلہ اور بل اور آرڈیننس تو ایک بہانہ ہے۔درحقیقت وہ اپنی بقا کی سعی و جہد میں مصروف ہیں۔ ممکن ہے اس طرح پھر وہی کانگریس جس نے زمینداری کے خاتمہ پرکارپوریٹس کو وجود بخشاتھا،آج بظاہر کارپوریٹس کی مخالفت کرتے ہوئے ،کسانوں کو ورغلا کراور عوام کو بے وقوف بنا کر،ایک بار پھروراثتی سیاست کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو جائے۔اس کے امکانات اس لیے بھی قوی ہیں کہ دو بڑے یادں کی نہ صرف خاندانی رشتے داریاں بلکہ اب تو پریوار بھی ایک ہوچکا ہے۔جس کی بنا پر انہیں امید ہے کہ اب ان کا ووٹ بنک تقسیم نہیں ہوگا۔لہذاکامیابی یقینی ہے۔اور چونکہ ووٹ بنک کی فکر ،خاص ووٹ لینے والے دنوں میں ہی سامنے آتی ہے۔اس لیے مخصوص مرحلہ مکمل ہونے پر اُن کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہے؟اِس سے اُنہیں کوئی سروکار نہیں ہے۔

        ٹھیک یہی معاملہ مغربی بنگال اور آسام میں بھی ہے۔جہاں گزشتہ دنوں بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سال آسام میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی اگر اکثریت میں آئی تو وہ لازماً بنگلہ دیشی ہندومہاجرین کو ملک کی شہریت دلائیں گے ۔ساتھ ہی وہ تمام حقوق بھی جو آئین میں درج ہیں ۔وہیں آسام میں رہائش پذیر مغربی بنگال کے وہ مسلمان جو بنگالی زبان بولتے ہیں، ہر وقت شک کے دائرہ میں رہتے ہیں،اور کبھی بھی انہیں بنگلہ دیشی کے نام پرہراساں کیا جاسکتا ہے ۔اس کے باوجود یہ بے چارے مسلمان جائیں بھی تو جائیں کہاں؟کیونکہ یہاں ایک طرف کانگریس ہے تو دوسری طرف ترنمول کانگریس ۔اور یہ دونوں ہی خوب اچھی واقف ہیں کہ مخصوص وقت کے بعدکیونکر اور کیسے مسلمانوں کا استحصال کیا جاسکتا ہے۔اور استحصال بھی کیوں نہ کیا جائے؟جبکہ ووٹ ڈالنا اور نہ ڈالنا آج تک ایک شرعی مسئلہ بنا ہوا ہے۔نہ صرف شرعی مسئلہ بلکہ عقیدہ کا مسئلہ بھی ہے۔اور عقیدہ بھی ایسا کہ جس سے ایمان جاتا رہے۔تو پھر یہی ممکن ہے کہ خدا کی جانب سے مسلط کیے گئے افراد،جو فیصلہ بھی صادر فرمادیں،وہی جھک کے قبول کر لینا چاہیے۔موجودہ حالات میں مسلمانوں کا بھلا ہو یا نہ ہو بی جے پی کا بھلا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔کیونکہ متاثرین ومشاہدین ہی نہیں پارٹی کے اندر بھی کارکنان حد درجہ پریشان ہیں۔جس کی تازہ مثال سابق مرکزی وزیر ارون شوری ہیں جنہوں نے وزیر اعظم نریندرمودی اور ان کے کام کاج کے طریقوں کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔شوری نے نیوز چینل'ہیڈ لائنس ٹوڈے'کے ایک انٹرویو میں کہا کہ مودی ملک کے اقتصادی نظام کو ٹھیک سے نہیں چلا پا رہے ہیں۔وہیں انہوں نے مودی پر اقلیتوں پر ہو رہے زبانی حملوں پر آنکھ بند رکھنے کا بھی الزام لگایا ہے۔واضح رہے کہ ارون شوری اٹل بہاری واجپئی سرکار کے دوران قد آور لیڈروں میں شمار کیے جاتے تھے اور انہیں اطلاعات و نشریات کی وزرات کا عہدہ سونپا گیا تھا!



vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top