ترقی و خوشحالی اور اعتماد بحالی کے درمیان خط امتیاز


ترقی و خوشحالی اور اعتماد بحالی کے درمیان خط امتیاز!
        ہر زمانے میں ترقی کے مختلف معیار انسانی فکر و عمل کو نہ صرف متاثر کرتے رہے ہیں بلکہ اس کی فکر اور عمل پر بھی اثر انداز ہوئے ہیں۔ترقی کہیں فرد کی ذاتی زندگی میں دنیاوی وسائل میں اضافہ کا نام ہے تو کہیں معاشرہ میں موجود باطل اعمال میں سدھار کا نام ۔کہیں چند مخصوص افراد کے معیار زندگی میں خوشنما تبدیلی کا نام ہے تو کہیں اہل ملک کے تعلیم و تمدن میں مثبت تبدیلی کا نام۔کہیں اہل ثروت افراد،گروہ اور قوموں کے نقش قدم سے مطابقت کا نام تو کہیں اخلاق رذیلہ سے نجات اور عفت و عصمت کے اختیار کرنے کا نام۔کہیں زماں و مکاں کے حدود ِمتعین میں مخصوص گروہ ،فکر اور نظریہ کی سربلندی و عروج کا نام ہے تو کہیں زمانہ درزمانہ خوابِ غفلت سے بیداری کا نام۔ترقی کے مختلف معیار گروہ انسانی کے اُس عقیدے سے وابستہ ہیں،جو اس نے دنیا اور دنیا میں موجود انسانوں کے تعلق سے قائم کیے ہیں۔لہذا یہ ممکن ہی نہیں کہ ہر شخص یا قوم اپنے لیے ترقی کا ایک ہی پیمانہ متعین کرے۔اس کے باوجود یہ لازم ہے کہ برسر اقتدار گروہ ترقی کے مخصوص نظریہ پر عمل کرتے ہوئے،متعلقہ شہریوں کو غذا،صحت ،تعلیم اور بنیادی حقوق کی ادائیگی میں ساز گارمہیا کرائے۔تاکہ عام انسانوں کے مسائل حل ہوں اور دنیا میں بھی یہ پیغام جائے کہ مخصوص فکر و عمل کے حاملین متعدل مزاج ہیں۔برخلاف اس کے نہ ان کا نظریہ ترقی پا سکتاہے،نہ عام انسانوں کے مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی دنیا یہ ماننے کو تیار ہوگی کہ برسر اقتدار گروہ کے قول و عمل میں کسی بھی درجہ صداقت موجود ہے۔ اس کے باوجود اگر ایک متعین وقت ، حالات اورزمانہ میں کوئی گروہ بظاہر کامیاب نظر آئے تو یہ کامیابی دراصل آنکھوں کا دھوکہ ہے،جو بہت جلد دور ہوجائےگا۔وجہ یہ ہے کہ شمار باطنی کمزوریوں پر مشتمل گروہ زیادہ مدت قائم نہیں رہ سکتا۔بصورت دیگر یا تو وہ مکمل طور پر مٹ جائے گا یا پھر اُس کا نام رہے گا بھی تو بس برائے نام۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ جس طرح دنیوی زندگی اور اس کی میعاد کے تعلق سے مختلف عقیدے موجود ہیں ٹھیک اسی طرح مخصوص فکر،نظریہ اور گروہ کے آغاز،عروج اور زوال کی معیاد بھی مختلف قرار پائے۔

        گزشتہ سال مئی 2014ءہندوستان میں پارلیمنٹری انتخابات عمل میں آئے تھے۔جس کے بعد دس سالہ برسر اقتدار کانگریس پارٹی نے اندرونی خامیوں اور احساس ذمہ داری سے فراموشی کے نتیجہ میں ناکامی کا سامنا کیاتھا۔وہیں دوسری جانب پارلیمنٹ میں بی جے پی کو بڑی اکثریت کے ساتھ سیٹیں حاصل ہوئیں تھیں۔نیز ہی بے شمار وعدوں اور خوابوں کے ساتھ انہوں نے حکومت تشکیل دی۔اِن وعدوں اور خوابوں میں خصوصیت کے ساتھ کالے دھن پر گرفت ،مہنگائی سے چھٹکارا،بھک مری سے نجات اورغربت کا خاتمہ تھا۔غالباً یہی وہ بڑے وعدے اور خواب تھے جس کی بنا پر اُس وقت عوام نے اُنہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔وہیں یہ بات بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ اُس وقت بی جے پی کوصرف اکتیس فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے جو کل آبادی کے پندرہ سے اٹھارہ فیصد لوگوں کے خوابوں کی تعبیر یااعتماد تھا۔اس کے باوجود یہ بی جے پی کی تاریخی کامیابی تھی جس کے لیے اُس نے تن من دھن سے سب کچھ دا پر لگا دیا تھا ۔اور اب جبکہ ایک سال مکمل ہو گیا،کیے گئے وعدے اور خواب کسی صورت پورے ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔لہذا جہاں ایک جانب حزب اختلاف ہر ممکن چوٹ کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہے وہیں عوام بھی موجودہ حکومت سے مایوس ہی نظر آرہے ہیں۔

        ملک میں ایک طویل عرصہ سے بے غربت ،بے روزگاری اور بھوک ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔مسائل کے حل میں حکومت ہی نہیں سماج کی متعدد تنظیمیں بھی مصروف عمل ہیں۔اس کے باوجود حالیہ ایف اے او نے ایشیا بحر الکاہل غذائی تحفظ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں ملک کی صورتحال کو تشویشناک بتایا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کہ گرچہ ہندوستان میں تیز رفتار معاشی ترقی اور سماجی مقاصد کے حصول میں کامیابی خطہ کی پالیسیاں ہیں مگر پھر بھی دنیا میں سب سے زیادہ بھوکے لوگ یہیں بستے ہیں۔ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوششوں کے باوجود اب بھی 19کروڑ40لاکھ لوگوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا ہے۔نہ صرف یہ کہ انہیں کھانا نہیں ملتا بلکہ جو کھانا بھی ملتا ہے وہ تغذیہ سے بھر پور نہیں ہوتی۔جس کی وجہ سے 5سال سے کم عمر کے بچوں کی نشوونما نہیں ہوپاتی۔اس کے علاوہ ہر عمر کے لوگوں میں غذائی اجزا کی کمی کی بنا پر متعدد بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ملک یہ صورتحال ایک جانب تشویشناک تو دوسری جانب افسوس ناک بھی ہے۔وہیں موجودہ حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر 'وال اسٹریٹ جرنل' میں ایک مضمون شائع ہوا ۔جس میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی 'میک ان انڈیا'مہم اب تک سرخیوں میں ہی رہی ہے اور بڑی توقعات کے درمیان روز گار میں اضافہ کی رفتار سست بنی ہوئی ہے۔مینو فیکچرنگ کے میدان میں اس مہم کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا ہے۔وہیں برآمدات جیسے اقتصادی معیار بتاتے ہیں کہ معیشت اب بھی لڑکھڑا رہی ہے۔گزشتہ سال کے مقابلے سرمایہ کاری کے لیے افراط زر 2004ءکے بعد سب سے نچلے سطح پر آگئی ہے اور برآمدات اپریل میں مسلسل پانچویں مہینے گری ہے۔کمپنیوں کی آمدنی معمولی رہی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مئی میں ابھی تک ہندوستانی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹ سے تقریبا2ارب ڈالر نکال لیا ہے۔

عوامی مسائل اور کیے گئے وعدوں کے علاوہ مودی حکومت پر اب اُنہیں کے افکار سے وابستہ دیگر تنظیمیں بھی معتدد معاملات میں حساب مانگتی نظر آرہی ہیں۔اس موقع پرآر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد نے بی جے پی کو اجودھیا میں رام مندر بنانے کی یاد دلائی ہے۔سنگھ پریوار کی دونوں اکائیوں نے بی جے پی کو اس سلسلے میں لوک سبھا انتخابات کے دوران کیا گیا وعدہ پورا کرنے کو کہا ہے۔آر ایس ایس کے کل ہند شریک رابطہ کے سربراہ ارون کمار نے ناگپور میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ بی جے پی حکومت کو اپنے وعدے پورا کرنے میں لوگوں کی امیدوں پر کھرا اترنا چاہیے۔خاص طور پر رام مندراورآئین کے آرٹیکل307کو ختم کرنے کے معاملے میں ، جس کے ذریعہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ ملا ہواہے۔اس درمیان وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی) نے بھی حکومت سے اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر میں رکاوٹوں کو دور کرنے کو کہا ہے۔ہریدوار میں وی ایچ پی کی مرکزی منڈل کی دو دنوں تک چلنے والی میٹنگ کے پہلے دن پاس کی گئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کو حکومت کے سامنے اٹھانے کے لیے سنتوں کا ایک وفد بنایا جائے گا،تاکہ رام مندر کی تعمیر سے وابستہ رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔وہیں اجلاس میں متھرا اور کاشی میں موجود ہندوں کے دو اور مذہبی مقامات پر دعویٰ کرکے ہندوتو کا ایجنڈا آگے بڑھانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔یہ اور اس طرح کے دیگر بے شمار مسائل ہیں جو موجودہ حکومت کے سامنے اٹھائے جا رہے ہیں۔اس کے باوجود حکومت یا تو یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ہم مسائل کے حل میں کوشاں ہیں یا پھر پارلیمنٹری نظام کے دوسرے ہاس یعنی راجیہ سبھا میں اقلیت میں ہونے کا رونا رو رہی ہے۔

        مضمون کے آخر میں اگرہری کرشنا اکسپورٹ پرائیوٹ لمیٹیڈ جو ہیرے برآمد کرنے والی عالمی سطح کی مشہور و معروف کمپنی ہے ،کے تذکرے کے ساتھ ممبئی کے ذیشان علی خاں کا ذکر نہ کیا جائے ،توملک کی برسر اقتدار سیاسی جماعت،اس کی فکر،اوراس کی فکر میں رنگتے ہوئے دیگر افراد کے ذہن کو پڑھنا ذرا مشکل عمل ہوگا۔روزگار کی تلاش میں ایم بی اے سند یافتہ ذیشان علی خاں نے متذکرہ کمپنی میں درخواست داخل کی تھی۔جس کا آن لائن جواب نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ ایک سیکولر اور ترقی یافتہ ملک کے لیے نہایت شرمناک بھی ہے۔خبر کے مطابق ذیشان کو کمپنی کی جانب سے جو میل ملا،اس میں لکھا تھا"ہم افسوس کے ساتھ آپ کو مطلع کرتے ہیں کہ ہم صرف غیر مسلموں کو روزگار دیتے ہیں"یعنی اس ملک میں مسلمانوں کے لیے ہمارے پاس روزگار نہیں ہے۔اس کے باوجود قابل اطمینان بات یہ ہے ،جو شاید زیادہ عرصہ نہ رہے،کہ ذیشان کے ساتھیوں نے جن کا متذکرہ کمپنی میں انتخاب ہو گیا تھا،ملازمت کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہاکہ ہم پر زور انداز میں کمپنی کے اس عمل کی مذمت کرتے ہیں اور ذیشان کی تائید۔یہ موقع ہے مسلمانان ہند کے لیے کہ وہ سوچیں اور غور و فکر کریں کہ بردران وطن اُن کے تعلق سے کیا کچھ احساسات رکھتے ہیں؟نیز اعتماد بحالی اور غلط فہمیوں کے ازالہ میں عملی اقدامات کا وقت ہے جبکہ ملک کی اکثریت نہ صرف فرد بلکہ اُس کے مذہب،معاشرت،تمدن اور نظام سے بھی پوری طرح لاعلمی کا اظہار کرے!


vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top