ملک کی تشویناک صورتحال میں اہل اقتدارکا گرتا معیار


ملک کی تشویناک صورتحال میں اہل اقتدارکا گرتا معیار!
        ہندوستانی عدلیہ گرچہ کافی فعال ہے اس کے باوجود بے شمار کیسس ایسے ہیں جنہیں ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اگلی تاریخ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔متاثرین اور اُن کے لواحقین و متعلقین کی جانب سے یہ بات بارہا سامنے آتی رہی ہے کہ ایسے کیسس کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے۔اس کے لیے حکومت نے جہاں جج صاحبان کی تعداد بڑھائی ہے وہیں فاسٹ ٹریک عدالتیں بھی قائم کی ہیں۔اس کے باوجود مسائل اس رفتار سے حل ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں جو مطلوب ہے۔دوسری جانب ملک میں پھیلتی بد عنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس تعلق سے بھی نئی حکومت نے یہ امید دلائی تھی کہ اقتدار میں آنے کے بعد بد عنوانی پر شکنجہ کسا جائے گا۔اور وہ لوگ جوبد عنوانی کے کیسس میں پکڑے جائیں گے ان کا فیصلہ فاسٹ ٹریک عدالتوں میں حل کیا جائے گا۔ساتھ ہی بدعنوان رہنماں کے لیے بھی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔لیکن یہ امید جو دلائی گئی تھی اس وقت تشویشناک بن کر سامنے آتیہے جبکہ آرٹی آئی اکٹوسٹ انیل گلگلی اس تعلق سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے کسی بھی طرح کے حکم نہ دینے کی معلومات خبروں کے ذریعہ سامنے آتی ہیں۔ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آتی کہ گزشتہ پندرہ سالوں میں 53فیصد فاسٹ ٹریک عدالتیں بند ہوئی ہیں۔دراصل ا نیل گلگلی نے وزیر اعظم کے دفتر سے وزیر اعظم مودی کا بدعنوان رہنماں کے معاملے میں فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرنے کے اعلان اور اسی کے تحت جاری کیے ہوئے حکم کی کاپی مانگی تھی۔ لیکن محکمہ انصاف کے انڈر سکریٹری پی پی گپتا نے صحیح معلومات نہیں دی۔ جس کے بعد انیل گلگلی نے وزرات قانون سے وضاحت طلب کی۔ تو اس کے بعد حکومت ہند کے محکمہ انصاف کے ڈائریکٹر پرشانت کمار پونو گوتی نے واضح کیا ہے کہ ایسا کو ئی بھی حکم وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی ذمہ داری متعلقہ ریاستوں کی ہے۔انیل گلگلی کو ملک کے 29 ریاستوں میں سال 2000ءمیں منظور فاسٹ ٹریک کورٹ کی تعداد اور اس وقت کتنے فاسٹ ٹریک کورٹ کام کررہے ہیں، اس کی معلومات دی گئی ہیں۔ معلومات کی روشنی میں ملک کی 29ریاستوں میں کل 1734فاسٹ ٹریک کورٹ کو سال2000ءمیں منظوری دے دی گئی تھی،لیکن فی الحال صرف 815فاسٹ ٹریک کورٹ کام کررہے ہیں۔ ریاست بہار میں سب سے زیادہ179فاسٹ ٹریک کورٹ ہیں ،تووہیںمہاراشٹر میں 92، مدھیہ پردیش میں 84، مغربی بنگال میں 77، آندھراپردیش میں 72۔جبکہ مسلسل15سال وزیر اعلیٰ کے طور پر منتخب ہوئے نریندر مودی کے گجرات میں صرفپانچ سال166 فاسٹ ٹریک کورٹ جاری تھے جس میں سے 105آگے چل کر بند ہو نے سے اب 61فاسٹ ٹریک کورٹ ہی کام کر رہے ہیں۔انیل گلگلی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط بھیج کر جن ریاستوں نے فاسٹ ٹریک کورٹ بند کیے ہیں ان پر کارروئی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ مجرم اور سیاسی لیڈروں کی ملی بھگت توڑنے کے لیے ایسے فاسٹ ٹریک کورٹ ضروری ہیں۔ نیزتمام وزیر اعلیٰ اور چیف سکریٹریز کی میٹنگ بلاکر اس ضمن میں حکم دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔گلگلی کی یہ کوشش قابل قدر ہے خصوصاً ان حالات میں جبکہ ایک جانب عام عدالتوں میں بے شمار کیسس موجود ہیں تو وہیں اِس پس منظر میں بھی کہ ملک میں ملزم اور مجرم کا فرق بہت جلد ہونا چاہیے۔پھر اگر جرم ثابت ہو جائے تو ایسے مجرمین کو جلد از جلد سزا بھی دلوائی جانی ممکن ہو۔خصوصاً ان حالات میں جبکہ ایسے مجرمین نہ صرف سماج کے تانے بانے کو بلکہ ملک کی معیشت کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنتےہوں۔

        کرپشن اورملک کی معیشت کے پس منظر میں آج کل للت مودی کے تعلق سے جو گہما گہمی اور اندیشہ وامکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں،وہ بھی کچھ اہم نہیں ہیں۔خصوصاً ان حالات میں جبکہ ایجنسیوں کے ذریعہ یہ خبر گردش میں ہو کہ لندن کے بینٹلے ہوٹل کے مالک جوگیندر سانگیر ایک ٹی وی چینل کو انٹریو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کررہے ہیںکہ گزشتہ سال ان کے ہوٹل میں سشما اور للت کی ملاقات ہوئی تھی۔ہوٹل کے بل چیک کے ذریعہ ہندوستانی ہائی کمیشن نے دیے تھے۔اورمتذکرہ ڈنر میں جوگیندر سانگیر کے خاندان سے 5، نیٹ پوری کے خاندان کے 4رکن اور للت مودی شامل تھے۔ ساتھ ہی سشما سوراج کے ساتھ ان کا اسسٹنٹ بھی موجود تھا۔وہیں سشما سوراج اور للت مودی کے درمیان ملاقات کی بات سامنے آنے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ ہندوستان میں بدعنوانی کے ملزم سے سماجی تقریب میں کیوں ملیں؟دراصل آئی پی ایل میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی یوپی اے حکومت کی طرف سے تحقیقات شروع کیے جانے کے بعد 2010ءسے آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔ حکومت نے ان کے پاسپورٹ کو رد کر دیا تھا، لیکن گزشتہ سال اگست میں دہلی ہائی کورٹ نے اسے دوبارہ بحال کر دیا تھا۔ وزرات خزانہ مودی کے پاسپورٹ کو بحال کیے جانے کو چیلنج دیے جانے کے حق میں تھا، جبکہ وزرات خارجہ کی طرف سے اپیل کی جانی باقی ہے۔سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ سشما سوراج کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ انہوں نے للت مودی کو برطانیہ کے سفری دستاویزات میں مدد کرنے کے بجائے ہندوستانی ہائی کمیشن میں سفر دستاویزات داخل کرنے کے لیے کیوں نہیں کہا؟وہیں بی جے پی اس پورے معاملے میں داغی آئی پی ایل چیئر مین مودی کی مدد کو لے کر مشکل میں پھنسیں سشما سوراج کے دفاع میں کھڑی نظر آرہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ نے انسانیت کی بنیادپر للت مودی کی مدد کی تھی۔دوسری طرف مختلف بیانوں کے درمیان کانگریسی لیڈر دگوجے سنگھ کا یہ ٹوئٹ وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بڑے مودی نے چھوٹے مودی سے دو پرندوں کا شکار کر لیا۔ دو پرندوں سے ان کا اشارہ سشما اور وسندھرا راجے کی طرف ہے۔لیکن اس پورے معاملے پر وزیر اعظم کی جانب سے اب تک خموشی ہے اس کے باوجود پارٹی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سشما سوراج اور وسندھرا راجے کے استعفیٰ کی اپوزیشن کی بات وہ نہیں مانے گی۔

        سدھارتھ دردراجن جو بی بی سی کے سینئر جرنلسٹ ہیں،اِس معاملے میں لکھتے ہیں کہ گرچہ ابھی ایک ہفتے پہلے ہی وزیر اعظم نے ٹربیوں کے ساتھ ایک انٹریو میں کہا تھا کہ عوام کے لیے اچھے دن تب ہی آئیں گے جب پرانے دنوں کی دوست بدعنوانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تو پھر کابینہ کی سب سے سینئر ارکان میں سے ایک کے انفورسمنٹ دائرکٹوریٹ(ای ڈی) کے ایک بھگوڑے کی مدد کرنے پر وہ کیسے چپ رہ سکے؟در اصل سشما سوراج کو اپنے دم پر دفاع کرنے دینے کا مطلب ہوتا اپنے ہی مستقبل کو بگاڑنا اور مودی ایسا کبھی نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں۔تاہم سشما سے ان کے بہت اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ حالانکہ اس حکمت عملی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ پارٹی کو بہت ہی پھلسن بھرے ٹریک پر ڈال دیتی ہے۔ یعنی اگر نریندر مودی کا دفاع کرنے کا مطلب سشما سوراج کا دفاع کرنا ہے تو اس کے بدلے بی جے پی کو للت مودی کا بھی دفاع کرنے کی ضرورت ہوگی۔ لہذااس میں اخلاقی زوال فطری ہے، لیکن اس میں سیاسی نقصان بھی ہے اور لگتا ہے کہ جس کاوزیر اعظم نے اندازہ بھی کر لیا ہے۔سدھارتھ دردراجن کا یہ تجزیہ کتنا صحیح ہے یہ تو قارئین ہی بتائیں گے لیکن ایک بات طے ہے کہ فی الوقت بی جے پی کے لیڈران حد درجہ اخلاقی پستی میں ملوث ہوتے نظر آرہے ہیں۔اگر ایسا نہیں ہے تو وہ لازماًاپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ،ساتھ ہی للت مودی جن پر450کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں اُن کو ملک میں بلا تے اور فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ الزامات کا فیصلہسناتے ۔خصوصاً اُن حالات میں جبکہ للت مودی اور نریندر مودی حکومت کے کئی افراد ایک دوسرے کے رابطہ میں ہیں۔

        آخر میں سماجی تنظیم انہد کی جانب سے شائع مودی حکومت کے ایک سالہ دور اقتدار پر وہ رپورٹ بھی کچھ کم اہم نہیں جس میں ملک کے 13الگ الگ ماہرین کی تنقیدی رائے کے ساتھ ان کے تجربات کو شائع کیا گیا ہے۔اس موقع پر شبنم ہاشمی نے کہا کہ مودی حکومت کے ایک سالہ دور اقتدار میں ہندوستان کی شان ، اس کے سیکولرزم اور جمہوریت کو جو نقصان پہنچا ہے وہ نا قابل تلافی ہے۔وہیں لال کرشن اڈوانی کہتے ہیں کہ موجودہ دور میں جمہوریت کو کچلنے والی طاقتیں سرگرم ہو گئی ہیں۔جس کی وجہ سے ایمرجنسی کی واپسی کے خدشے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔تودوسری جانبجے ڈی یو کے نتیش کمار کہتے ہیں کہ اڈوانی ملک کے سینئر لیڈر ہیں، انہیں فکر ہے تو اس پر سب کو دھیان دینا چاہیے!


vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top