بچاﺅ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو ۔ ۔ ۔


بچا اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو۔۔۔ !

        گزشتہ پچیس اگست ۵۱۰۲دہلی کے تقریباً تمام اخبارات میں یہ افسوسناک خبر شائع ہوئی کہ نویں کلاس کے ایک پندرہ سالہ طالب علم ،شبھم جندل جو کرشنا ماڈل اسکولن میں زیر تعلیم تھے،کی اس ہی کے کلاس کے دو ساتھیوں نے لکٹری کے ایک مضبوط ڈنڈے سے سر پر لگاتار وار کرتے ہوئے پہلے بری طرح زخمی کر دیا اور بعد میں جب اس کی ناک اور سر سے بری طرح خون بہنے لگا تو اسے چھوڑ کر رفع دفع ہوگئے،یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا۔شبھم اور اس کے ساتھیوں کے درمیان اِس سے قبل بھی کئی مرتبہ جھگڑا ہو چکا تھا اور بارہا وہ اُسے زدکوب کر تے رہے ہیں۔شبھم چونکہ پڑھنے میں تیز تھا لہذا اس کے ساتھی اس سے حسد رکھتے تھے اور مختلف بہانوں سے اس کے ساتھ چھیڑ خانی ولڑائی جھگڑا کیا کرتے تھے۔خبر حد درجہ افسوس ناک ہے اس کے باوجود اس طرح کی خبریں جن میں کم عمر بچوں کے ذریعہ جرائم انجا م دیئے جا ئیں،آئے دن سامنے آتی ہی رہتی ہیں۔وہیں دوسری طرف کم عمر بچے خود بھی ظلم و زیادتیوں کا شکار ہوتے ہیں۔خصوصاً سماج کے اس بااثر طبقہ کی جانب سے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ معصوم بچپن کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ بہتر تعلیم و تربیت کا بھی انتظام کریں۔ایک ایسا تعلیم و تربیت کا نظام جس میں بچے کی پوشیدہ صلاحیتیں پروان چڑھیں ساتھ ہی اخلاقی تربیت کا بھی بھر پور اہتمام کیا جائے۔

        گزشتہ پانچ سالوں میں ہندوستان میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے معاملات 151 فیصد بڑھے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے اعداد و شمار کی روشنی میں 2010 میں درج شدہ 5,484 معاملے بڑھ کر 2014 میں 13,766ہو چکے ہیں۔وہیں بچوں کے استحصال کے معاملات ملک بھر میں 8,904درج کیے گئے ہیں۔ این سی آر بی کی روشنی میں ہندوستانی پینل کوڈ کی دفعہ 354 کے تحت بچیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور عصمت دری کے ارادے سے کیے گئے حملے کے واقعات11,335 درج کیے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم عمر بچوں کے ساتھ مختلف قسم کے استحصال کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں بچیوں کے ساتھ زیادتیوں کے اضافہ کی عموماً دو وجوہات بیان کی جا تی ہیں۔i) خوف ،ڈر اور بدنامی کی وجہ سے پہلے معاملے درج نہیں کروائے جاتے تھے اور ii) نئے قانون کا نفاذ ۔صورتحال کے پس منظر میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جرائم جو بچوں کے ساتھ یا بچوں کے ذریعہ انجام دیے جا رہے ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں؟سوال گرچہ بچوں سے تعلق رکھتا ہے اس کے باوجود سوال کے دو الگ الگ پہلو ہیں،جن کا اگر بغور مطالع نہ کیا جائے تو نتائج تک پہنچنا مشکل مرحلہ ثابت ہوگا۔فی الوقت ہم بچوں کے ذریعہ انجام دیے جانے والے جرائم کا تذکرہ کریں گے ساتھ ہی ان وجوہات کو بھی جاننے کی کوشش کریں گے جن کے سبب یہ جرائم انجام دیے جا تے ہیں۔      

        ہندوستان میں لازمی تعلیم کا ایکٹ نافذ ہونے کے باوجودتقریبا ایک کروڑ بچے مزدور ہیںجن کی زندگی استحصال پر مبنی ہے۔ساتھ ہی ملک کے تمام شہروں میں بڑی تعداد میں سڑکوں پر بے یارومددگار زندگی گزارنے والے بچے بچیاں موجود ہیں جنہیں بھیک مانگنے کے پیشہ باضابطہ وابستہ کیا جاتا ہے۔وہیں ملک میں لاپتہ بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔یہ لاپتہ بچے و بچیاں سرگرم گروہوں کے ذریعہ اغوا کیے جاتے ہیں جن کی تعداد تقریباً ہر سال ایک لاکھ سے زائد ہوتی ہے۔اس کے باوجود کہ اغوا شدہ بچوں کے تعلق سے سپریم کورٹ آف انڈیا نے پولیس کو متوجہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ کے حل میں منصوبہ بند و منظم انداز میں سرگرم ہوں،لیکن معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔آپ اور ہم باخوبی جانتے ہیں کہ ان اغوا شدہ، لاپتہ بچوں سے کہیں جبراً مزدوری کروائی جاتی ہے،تو کہیں بھیک منگوائی جاتی ہے نیز حد درجہ غیر اخلاقی حرکتوں میں بھی ان بچوں کو ملوث کیاجاتا ہے،اور چونکہ وہ ایک طرح سے قید میں ہیں لہذا وہ یہ سب کرنے پر مجبور ہیں۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ انتظامیہ اس درجہ چاق و چوبند نہیں جو مطلوب ہے۔نتیجتاً ہر دن جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔

        چھوٹے و بڑے شہروں میں بچوں پر استحصال و ان کے ذریعہ انجام دیے جانے والے جرائم کی وجہ سماج کا ٹوٹتا بکھرتا وہ خاندانی نظام بھی ہے جہاں ماں باپ اور بچوں کے درمیان الفت و محبت کا ماحول ختم ہو اچاہتا ہے۔جس کے نتیجہ میں ہمدردری و تربیت کا وہ ادارہ پروان نہیں چڑھ پاتا جس کی ذمہ داری ماں باپ پر عائد ہوتی ہے۔نیز ان دوروّیوں کا سبب وہ شہری ماحول بھی ہے جہاں عموماً ماں اور باپ دونوں ہی نوکری پیشہ ہوتے ہیں۔پھراس نوکری پیشہ ہونے کی بنیادی وجہ بھی ان کے نزدیک یہی ہوتی ہے کہ دولت کی فراوانی یا آسودگی ،بچوں کی تعلیم و تربیت میں بڑا ذریعہ ثابت ہوگی۔برخلاف اس کے دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ معاشی طور پر مستحکم بچے و نوجوان عموماً جرائم میں زیادہ ملوث ہوتے ہیں ساتھ ہی وہ زندی کے اُن حقیقی مسائل سے بیگانہ ہوتے ہیں جو شخصیت کے ارتقاءکا لازمی جز ہے۔یہی سبب ہے کہ لاشعوری زندگی گزارتے ہوئے پہلے وہ اخلاقی آوارگیوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعد میں غیر محسوس انداز سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں۔نتیجتاً بچوں کے ذریعہ انجام دیے جانے والے جرائم کہیں انفرادی تو کہیں اجتماعی،اورکہیں منظم تو کہیں غیر منظم سامنے آتے ہیں۔گزشتہ دنوں دہلی کا نربھیا معاملہ ہو یا شبھم اور اس کے ساتھیوں کے ذریعہ انجام دیے جانے والا جرم،یہ دونوں ہی معاملے اجتماعی بھی ہیں اور منظم بھی۔اب جبکہ بچوں کے ذریعہ اجتماعی اور منظم انداز میں جرائم انجام دیے جارہے ہوں،تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ خاندان ومعاشرہ اندورن میں حد درجہ کمزور پڑ چکا ہے،ساتھ ہی یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ایک ایسی تشویشناک صورتحال جہاں نہ خاندان مثالی پایا جاتا ہے ،نہ معاشرہ اورنہ ہی بچوں کے لیے ماں باپ کا وہ کردار موجود ہے جس کی روشنی میں وہ آپ اپنی تربیت آپ کرپائیں۔کیونکہ تربیت صرف قول ہی سے نہیں ہوتی بلکہ اس چھوٹے وبڑے عمل کو دیکھ کر بھی ہوتی ہے،جو ان کے سامنے انجام دیا جا رہا ہے۔اور یہ ایک مستقل عمل ہے جو غیر محسوس انداز میں ہمہ دم جاری رہتا ہے۔لہذا ایسے ماں باپ جو اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے،کردار کے لحاظ سے نہایت کمزور ہوتے ہیں،مزید وہ بد اخلاقیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ایسے ماں باپ خود بھی چاہتے ہیں کہ وہ بچوں سے دور رہیں تو وہیں بچے بھی ماں باپ سے دوری اختیار کرلیتے ہیں۔دوسری جانب دوہرے کردار والے ماں باپ کی بداخلاقیاں جب بچوں پر ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیںتو وہ بچے یا توخود ہی ماں باپ سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں بصورت دیگرایسے ظالم ماں باپ بھی سامنے آتے ہیں جو اپنی بداخلاقیوں کے نشے میں اپنے ہی بچوں کا قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔اور یہ خبریں بھی ہم وقتاً فوقتاً سنتے رہتے ہیں،کہ فلاں ڈاکٹر یا فلاں میڈیا پرسن نے اپنی بیٹی کا قتل کر دیا ۔کہیں قتل کی وجہ بیٹی کی اخلاق سوز حرکت ہوتی ہے تو کہیں ماں اپنی اخلاق سوزحرکت کو چھپانے کی وجہ سے ایسا کرتی ہے۔مزید یہ کہ ہندوستانی معاشرہ جس تیز رفتاری کے ساتھ "ترقی یافتہ قوموں "کے نقشہ قدم پر آگے بڑھ رہا ہے،اس میں لاوارث (حرام)بچے و بچیاں اوران کے معاشرتی مسائل بھی جرائم کے فروغ کا ایک سبب ہیں۔

        ملک و ملت اور معاشرہ کی اس پیچیدہ صورتحال میں اسلام ایک واضح و متعین راستہ فراہم کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، بچا اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے "(التحریم:۶)۔پس یہی وہ مختصر ترین خدائی تعلیم ہے جس پر چل کر نہ صرف مسائل کے حل تلاش کیے جا سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر خاندان و معاشرہ بھی قائم ہوسکتا ہے۔لیکن اس کے لیے جہاں یہ لازم ہے کہ عمل کیا جائے وہیں یہ بھی لازم ہے کہ ہندوستانی مسلمان ایسی زندہ مثالیں فراہم کریںجس سے معصیت سے پاک وہ معاشرہ فروغ پائے جس کا ہر شخص خواہشند نظر آتا ہے۔زندہ مثالیں جہاں تشویشناک صورتحال سے نکلنے میں آسانی پیدا کریں گی وہیںملک کی تعمیر و ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔لہذا ایسے تمام حضرات جو چاہتے ہیں کہ مسائل حل ہوں،مثبت تبدیلی واقع ہوساتھ ہی خاندان کاادارہ مثبت بنیادوں پر مستحکم ہو، توچاہیے کہ بلا لحاظ مذہب و ملت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وہ راستہ اختیار کیا جائے،جس میں سب ہی کا فائدہ ہے ۔لیکن اگر کوئی شخص و گروہ چاہے کہ مسائل تو حل ہوں اور حالات بھی بہتر ہوں اس کے باوجود اسلام و اسلامی تعلیمات کے حوالہ جات سامنے نہ آنے پائیں،تو یہ عمل اصولی طور پر غلط اورعملی زندگی میں ناقص ٹھہرے گا۔اس پس منظر میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک غیر اصولی و ناقص طرز عمل سے کسی خیر کی توقع کی جائے!



vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top