مدعی سست گواہ چست


مدعی سست گواہ چست !
        یہ صحیح ہے کہ کوئی بھی نظریہ اپنے فروغ کے لیے ہی وجود میں آتا ہے۔ماضی میں کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں ایک نظریہ کی ابتدا ہوئی اور وہ اپنے فروغ کے لیے کوشاں نہ رہا ہو۔پھر اگر یہ نظریاتی بحث دور حاضر میں ہو تو کیوں لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ نظریہ تو ہو لیکن اس کے فروغ کی سعی و جہد نہ کی جائے؟کیا یہ ممکن ہے کہ نظریہ بھی ہو، نظریہ کو فروغ دینے کے لیے سرگرم گروہ بھی ہو،اس کے باوجود وہ صرف اس لیے مخصوص نظریہ کے فروغ میں کوشاں نہ ہوں کہ فلاں شخص یا گروہ نہیں چاہتا کہ وہ فروغ پائے۔کیا اس طرح کی بے جا خواہش نظریہ کے فروغ کو ماند کرسکتی ہے؟ہمارے خیال میں جولوگ شعوری یا لاشعوری طور پر اس طرز عمل کو اختیار کرتے ہیں وہ ایک لا حاصل سعی وجہد میں مصروف عمل ہیں۔ہاں اگر نظریہ کے باالمقابل دوسرا نظریہ و فکر سامنے آئے،اور اس کے فروغ کی بھی اُسی لحاظ سے جدوجہد کی جائے تو پھر ممکن ہے کہ دو یا دوسے زیادہ نظریوں کے درمیان اختلافات سامنے آئیں،اُن کے منفی اور مثبت پہلو ں پر بحث ہو،تعداد کے لحاظ سے اقلیت کہنے والوں کے نظریہ کو اس کی خوبیوں کی روشنی میں پسند کیا جانے لگے،یہاں تک کہ شعوری طور پر نظریاتی جنگ چھڑ جائے،اور اس نظریاتی جنگ میں،اپنے اپنے نظریہ پر قائم رہتے ہوئے،نیز اصولوں کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے، ایک نظریہ اور اس کے حاملین شکست کھائیں تو وہیں دوسرا سربلند ہو۔

        اس پس منظر میں جب ہم وطن عزیز اور اس میں موجود نظریات کا مطالع کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک جانب مختلف نظریات اور اس کے حاملین ہیں تو وہیں دوسری جانب سماج کا ایک بہت بڑا طبقہ یا حصہ ایسا بھی ہے ، جو لاشعوری زندگی گزارنے پر مجبورہے۔باالفاظ دیگر یہ وہ لوگ ہیں جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے طرز عمل،فکر،خیالات،احساسات،خواہشات،یہاں تک کہ مسائل جن سے وہ دوچار ہیں، اُن سے بھی نظریں چراتے ہیں۔وجہ غالباً یہی ہے کہ ملک توآزاد ہوا لیکن یہ بڑا طبقہ آ ج بھی اس ذہنی غلامی سے نجات نہیں پا سکاجس کا وہ کبھی شکار رہے ہیں۔ دوسری جانب جس مذہب سے ان کا تعلق ہے وہ اکثریت کا مذہب ہے،لہذایہ وہ دوسرا اہم پہلو ہے جو انہیں اطمینا ن دلاتا ہے کہ حالات چاہے کچھ بھی ہوںکم از کم وہ اپنے مذہب پر تو عمل پیرا ہیں۔لیکن اگر مذہب اور مذہبی بنیادوں پر رائج معاشرتی رسم و رواج پر عمل آوری ان کے لیے دشوار گزار ہوجائے تو پھر یہی بڑا طبقہ جو ان حالا ت میں خاموش نظر آتا ہے وہ بھی ایک عجیب تذبذب میں مبتلا ہو جائے ۔پھر یہ خاموشی یا عدم دلچسپی جو جگ ظاہر ہے ،وہی خاموشی چینخ و پکار میں تبدیل ہو جائے گی۔گفتگو کے پس منظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ جب کوئی نظریہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو اُس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں اپنا نظام قائم کرے۔باالفاظ دیگر وہ عوام میں رائے ہمواری پروان چڑھانے تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ ہر ممکن طریقہ سے وہ اقتدار کے حصول کی سعی و جہد بھی کرتا ہے۔پھر جس جس مرحلے میں اس کو دشواری لاحق ہوتی ہے،حاملین نظریہ اسے دور کرنے کی نہ صرف منظم ومنصوبہ بند عملی جدوجہدکرتے ہیں بلکہ ان دشواریوں کو بھی دور کرتے جاتے ہیں،جن مقاصد کے حصول کے لیے وہ کمربستہ ہوئے ہیں۔

        آئیے اب دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز میں نظریاتی اور فکر ی اعتبار سے کتنے قسم کے گروہ وحاملین گروہ سرگرم عمل ہیں؟اس صورت میں سب سے بڑا نظریہ طاقت کے اعتبار سے ہندوتو وادی یا منو وادی نظریہ ہے۔ دوسری جانب سماج واد یا سوشلزم،کمیونزم اور اسلام ہے۔وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستانی آئین، ملک کے شہریوں کو یہ آزادی فراہم کرتا ہے کہ ہر نظریہ و اس کے حاملین دستور ہند میں دیئے گئے اختیارات کی روشنی میں مخصوص نظریہ پر نہ صرف عمل درآمد کرسکتے ہیں بلکہ اس کے فروغ کی بھی بھر پور آزادی ہے۔وہیں اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ملک میں مذاہب کے اعتبار سے کتنے طرح کے افراد پائے جاتے ہیں تو دنیا کے بڑے مذاہب کے تمام ہی افراد ہمارے ملک میں موجود ہیں۔یہاںیہودیت کے ماننے والے یہودی بھی ہیںتو گوتم بدھ کے ماننے والے بدھڈسٹ بھی ہیں،مسیحیت کے ماننے والے عیسائی ہیں تو اسلام کے ماننے والے مسلمان بھی ہیں۔گرونانک کے ماننے والے سکھ ہیں تو مہاویر کے ماننے والے جین بھی ہیں۔ان سب کے علاوہ لوک مذہب،بہائی مت کے ساتھ ساتھ کافی تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو خود کو لامذہبیت کا علمبردارکہتے ہیں۔یہا ں بھی مذہب و عقیدہ کے اعتبار سے آئین ہند یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ تمام مذاہب و لامذاہب کے ماننے والے اپنے مخصوص مذہب ،عقیدہ اور فکر پر نہ صرف آزادانہ عمل درآمد کر سکتے ہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے تبلیغ و تشہیر بھی کرسکتے ہیں۔ان دو بنیادی نکات کی روشنی میں یعنی نظریہ و فکر پر عمل درآمد اور اس کی تبلیغ کی آزادی ۔نیز مذہب کے اختیار کرنے کی آزادی اور اس کی تبلیغ کی اجازت،واضح کرتا ہے کہ ہندوستان کا آ ئین آج بھی حد درجہ لچک دار ہے۔وہیں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ فکر و نظریہ اور مذہب کے اعتبار سے یہاں اکثریت و اقلیت کا سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں ۔اس صورت میں اگرلامذہبیت کے علمبردار یہ خواہش رکھیں کہ وہ ،چونکہ دیگر مذاہب کے افراد کی تعدادو اقتدار کے لحاظ سے کمزور ہیں، لہذا دیگر بھی اپنے مذہب کے فروغ واس کی تبلیغ کی سعی و جہد نہ کریں،تو یہ بات کسی کو بھی تسلیم نہیں ہوگی کیونکہ یہ ایک غیر منطقی و غیر دستوری بات ہے۔پھر جس طرح کم تعداد ،مخصوص مذہب پر عمل درآمد اور اس کے فروغ میں مانع نہیں ہے،ٹھیک اسی طرح اکثریتی گروہ کو بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی اکثریت میں مزید اضافہ کیے جائے۔

        اس پورے پس منظر میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ملک کا آئین اس قدر لچک دار ہے،آزادیاں اور اختیارات بھی حاصل ہیں،تو پھر کیوں ملک میں گزشتہ چند ماہ سے رواداری اور عدم روادی کی بحث جاری ہے؟کیوں ملک کے حالات خراب ہوتے نظر آرہے ہیں،کیوں ملک کا سوچنے سمجھنے والا طبقہ حالات سے حیران و پریشان ہے؟کیوں سماج کے منتشر ہونے اور بکھرنے کی باتیں کہی جا رہی ہیں؟کیوں ان حالات سے نااتفاقی اور تشویش کے اظہار کے مختلف طریقہ سامنے آرہے ہیں؟کیوں یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ ایک فکر اور ایک نظریہ کے حاملین کے سوا دیگر افکار و نظریات کمزور پڑتے جا رہے ہیں؟وہیں دنیا کو بھی آج اس بات کا کیوں احساس ہو رہا ہے کہ ہندوستان میں فی الوقت جو حکومت ہے،وہ اپنے علاوہ دیگر مذاہب و افکار،خصوصاً وہ جو ہندو مذہب میں ضم نہیں ہوئے ، کو متعینہ رسم و رواج اور پرسنل لاءمیں دشواریاں لاحق ہیں اور مزید کے اندیشے ہیں؟یہ اور اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کے جواب تلاش کیے جانے چاہیں۔لیکن ہمارے خیال میں ان سوالات کے جوابات کی کھوج کے ساتھ ہی ساتھ دیگر نظریہ اور فکر کے حاملین اپنے مخصوص نظریہ اور فکر کو فروغ دینے کی بھی کو شش کریں۔کیونکہ صرف تشویش سے با ت نہیں بنتی ،خصوصاً اس صورت میں جبکہ مذہب،عقیدہ اورنظریہ کے فروغ کے مکمل اختیارات بھی حاصل ہوں۔وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی نظریہ تب تک عوامی نظریہ نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کے فروغ کی منظم و منصوبہ بند کوشش نہ کی جائے۔ا س کے لیے جہاں اخلاص پر مبنی سعی و جہد درکار ہے وہیں فرد کے معاملات میں نظریہ کی عکاسی لازمی شرط ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جب ہم وطن عزیز میں موجود نظریہ ہائے افکار و خیالات،مراسم،رسم و رواج،مذاہب،اورمذہب کی بنیاد پر قائم ہونے والے معاشرہ کو تلاش کرتے ہیںتو عموماً مسلمانوں کے علاوہ کسی اور گروہ کو اپنی مخصوص شناخت میں موجود نہیں پاتے۔چاہے وہ سکھ ہوں،جو گرچہ مخصوص لباس میں مزین نظرآتے ہیں، یا جین ہوں،یا بدھڈسٹ یا پھربہائی ۔یہاں تک کہ عیسائیت پر عامل ہندونوازعیسائی طبقہ ہی کیوں نہ ہو۔تمام ہی معمولی شناخت کے علاوہ مخصوص شناخت سے محروم ہیں۔مزید یہ کہ عقائد گرچہ مختلف ہیں اس کے باوجود نظریہ حیات سب کا ایک ہی ہے۔نہ کہیں معاشرتی بنیادوں پر تشخص برقرار ہے نہ رسم و رواج میں فرق اور نہ ہی عائلی نظام نمایاں و مخصوص ہے۔ہاں اگر کوئی آج بھی اپنی مخصوص شناخت ،مخصوص نظریہ حیات ،مخصوص عقائد،افکار و نظریات اور عبادات کی بات کرتا ہے تو وہ اسلام ہے۔لہذاسیاسی اتار چڑھا اور فوائد و نقصانات کو پس پشت ڈالتے ہوئے،مسلمانوں کو یہ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ان کے قول و عمل میں تضاد اسی طرح برقراررہا،تو پھر ہر سطح پر خمیازہ بھی صرف اور صرف مسلمانوں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ممکن ہے کچھ لوگ بظاہر آپ کے حق کی لڑائی لڑیں،لیکن جب تک مدعی خود ہی سست رہیںگواہ کیونکر چست ہوں؟اور اگر گواہ چست بھی ہو جائیں تو مدعی کو کیا حاصل!



vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top