دہلی وقف بورڈ کے عزائم


دہلی وقف بورڈ کے عزائم !

        ایک وہ زمانہ تھا جب ساٹھ کی دہائی میں نام نہاد قوم پرست مسلمانوں کی ایک جماعت ہندوستانی مسلمانوںکو تقسیم وطن کے لیے کوستی اور اعلان کرتی کہ وہ اپنی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے لیے خود ذمہ دار ہیں۔غور فرمایئے ایک ہراسان ملت کو مزید پریشان کرنے کا اس بہتر سے بہتر نسخہ اور کیا ہوسکتا تھا۔لیکن بات چونکہ اوقاف کی ہورہی ہے تو جناب یہاں بھی تقریباً وہی صورتحال ہے۔یعنی یہاں بھی عموماً یہی کہا جاتا ہے کہ سارے متولی چور ہیں،وقف بورڈ بے ایمانی کا گڑھ ہے،اس کا سارے کا سارا عملہ نکما ہے،اورکیونکہ مسلمان اوقافی جائدادوں کی فکر نہیں کرتے،اس کی بازیابی اور باز آبادکاری میں شامل نہیں ہیں،لہذا مسلمان خود ہی اوقاف کی تباہی کے ذمہ دار بھی ہیں۔اس گہماگہمی اور شورشرابہ میں اسٹیٹ اپی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتا ہے،اور عموماً عوام بھی توجہ نہیں دیتی۔جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکومت جس نے نہ صرف وقف بورڈ قائم کیا، وقف ایکٹ بنایا اور اس میں وقتاً فوقتاً ترمیمات کیں،اس پورے نظام میں جو کمیاں اور خرابیاں ہیں،اس کی ذمہ داری لیتی،جوابدہ ہوتی،اور بہتری کی جانب سنجیدگی سے عمل پیرا ہوتی۔لیکن جب مسجد کا متولی ہی چور ٹھہرا اور قربستان کے نگراں لینڈ مافیا ،تو پھر کیوں حکومت وقت جوابدہ ہو؟لیکن بات اتنی غلط بھی نہیں ہے کہ اوقاف کی جائدادوں کے ذمہ داران و نگراں یا اس کے بچولیے یا اوقافی جائدادوں کے فیصلہ ساز،سب صاف ستھرے ہیں۔اس صورت میں جہاں ایک جانب حکومت کی ذمہ داری ہے وہیں مسلمانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ الرٹ رہیں،متوجہ رہیں،کمیوں پر نظریں اور خاطیوں کی نشاندہی کریں،قانونی چارہ جوئی کریں اور اس کے لیے تحریک برپا کریں،تاکہ حکومت وقت متوجہ ہو اور وہ ذمہ داران بھی جو حکومت کی جانب سے طے کیے جاتے ہیں۔لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم حکومت یا حکومت کے کارندوں کی مدد نہ کریں،بلکہ معاملہ یہ ہے کہ ہمیں جہاں ایک جانب تعاون کی فضا ہموار کرنی ہوگی وہیں اپنے مسائل کے لیے اپنے وقت اور صلاحیتوں کی بھی قربانی دینی ہوگی۔ برخلاف اس کے اپنے مسائل سے اگر ہم خود ہی نظریں چرائیں گے اور بے توجہی کا اظہار کریں گے،تو یہ کسی بھی ضرورت ممکن نہیں ہے کہ مسائل خود بہ خود ختم ہو جائیں۔

        واقعہ یہ ہے کہ عام ہندوستانی مسلمان مسائل سے حد درجہ دوچار ہیں۔ان کے بنیادی مسائل ہی انہیں ہمہ وقت مصروف رکھتے ہیں،ان حالات میں اوقاف اور اوقافی جائدادوں کے غیر قانونی قبضوں کو واگزارکرانے میں،وہ کیا کردار ادا کریں گے۔اور شاید آزاد ہندوستان کے پالیسی ساز اداروں نے بھی مسلمانوں کے تعلق سے یہی منصوبہ بندی کی ہے کہ انہیں جان و مال،عزت و آبروکے مسائل میں اس قدر الجھا کر رکھا جائے کہ مزید مسائل سے نہ ان کی دلچسپی ہو اورنہ انہیں یہ موقع ہی حاصل ہو کہ وہ اس طرف توجہ دے سکیں۔نیز معاشی وتعلیمی میدان میں بھی وہ اس قدر پست رہیںکہ انہیں ابھرنے کا موقع نہ حاصل ہو۔پھر وقتاً فوقتاً راست یا بلاواستہ ،منظم و منصوبہ بند ایسی کوششیں انجام دی جائیں،جس کے نتیجہ میں ان کی کمر ہی ٹوٹ جائے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ وطن عزیز میں اسلام و مسلمانوں سے نفرت کی فضا عام کرنے کے لیے مختلف تنظیمیں،تحریکیں،جماعتیں اورگروہوں کو یہ موقع فراہم کیا گیا ،کہ وہ انہیں الجھائے رکھیں،اور کو ئی ایک دوربھی ایسا نہ گزرنے پائے جبکہ مسلمان سکون کی حالت میں رہتے ہوئے ملک و ملت کی تعمیر و ترقی سرگرم عمل ہوں۔اس سب کے باوجود حالات ساز گار ہیں،مسلمان تعلیمی،فکری و نظریاتی،ہر سطح پر ترقی کر رہے ہیں۔ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کہ وہ مسلکی و گروہی بنیادوں سے اوپر اٹھ کر بحیثیت ملت اسلامیہ ہند،ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں۔اور یہ آج ممکن ہے،ہر اس فرد کے لیے ،جو دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخ روئی چاہتا ہے،ساتھ ہی یہ بھی چاہتا ہے کہ اللہ کی خوشنودی اسے حاصل ہو اور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر وہ عمل پیرا رہتے ہوئے اس دارفانی سے جانے کے بعد ایسی جگہ پہنچے جہاں فرشتہ اس کے استقبال کے لیے موجود ہوں،اور ہمیشہ ہمیشہ کامیابی کا مژدہ اسے سنا دیا جائے۔اوقاف کی جائدادیں شرعی حیثیت رکھتی ہیں،لہذا ان کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی ،جنت سے قریب تو جہنم سے دور کرنے والی ہیں۔

        واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان میں اوقاف کا نظم مسلمانوں کا خود کا قائم کردہ ہے۔مسلم بادشاہوں نے ،مسلم ریاستوں کے سرکردہ حضرات نے ،اور مختلف مسلم زمینداروں نے ملت کی ضروریات کے پیش نظراپنی کی زمینیں وقف کیں،اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ان وقف شدہ زمینوں کے ذریعہ مساجد،قربستان،تعلیمی ادارے،مقبرے و دیگر مسلمانوں کی ضروریات پوری ہوتی رہی ہیں۔لیکن آزادی سے قبل ہی انگریز حکومت نے 1913ءمیں مسلمان وقف ایکٹ تیار کیا۔جس میں وقت شدہ زمینوں کے لیے علاحدہ سے قانون سازی کی ابتدائی کوششیں ہوئیں منظر عام پر آئیں۔اسی نظام میں بہتری لاتے ہوئے 1931میں پہلی بار اوقاف کی آمدنی و خرچ کے آڈٹ کا التزام کیا گیا۔لیکن یہ آڈٹ،آمد و خرچ کے حسابات اور سروے و انکوائیری کا نظام مستحکم کرنے کے لیے جس عملہ کی ناواقفیت کی رپورٹ 1972میں سامنے آئی تھی تقریباً وہی صورتحال اور مسائل آج بھی برقرار ہیں۔معاملہ یہ ہے کہ ریاستی حکومتوں نے عام طور سے یہ ذمہ داری لوکل فنڈ کو سونپ رکھی ہے جو ہر سال آڈٹ کرنے کی بجائے کئی کئی سال کے وقفہ سے یہ کام انجام دیتے ہیں ۔وقف ایکٹ1954اور اس کے بعد بننے والے تمام قوانین نے ریاستی حکومت کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ اپنی ریاست کے وقف بورڈ کی سالانہ آڈٹ پورٹ کا مطالعہ کرے اور اس پر ضروری احکامات جاری کرے،تاکہ خامیوں کو دور کیا جاسکے۔لیکن یہ کام بروقت نہیں ہوتا،لہذا کمیاں اور خرابیاں برقرار رہتی ہیں۔

        یہاں یہ بات بھی ہمارے علم میں رہنی چاہیے کہ وقف ایکٹ1995کی دفعہ 4کے تحت ہر ریاست میں اوقافی جائدادوں کا از سرنو سروے کرایا جانا طے تھا۔ تاکہ جائدادوں کی موجودہ حیثیت سامنے آئے نیز بہت سی کھوئی ہوئی یا ناجائزقبضہ شدہ جائدادوں کا سراغ ملے۔وقف (ترمیمی)ایکٹ2013میں اسے مزید موثر بنایا گیا ہے۔اس کے باوجود ریاستی حکومتیںمتوجہ نہیں ہیں۔گزشتہ 20سالوں میں بیشتر ریاستوں میں یا تو سروے کا کام مکمل نہیں ہوا ہے یا دفعہ5کے تحت اسے شائع نہیں کیا گیا۔سچر کمیٹی کی رپورٹ میں صفحہ2019پر کہا گیا کہ ملک میں دولاکھ نوے ہزار اوقاف رجسٹرڈ ہیں،مگر اگلے ہی صفحہ 220پر فٹ نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک وقف میں متعدد جائدادیں ہوتی ہیں۔اور ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ نائب وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ ملک میں ایک لاکھ پینتس ہزار اوقاف ہیں۔اعداد وشمار کا یہ تضاد صرف اس وجہ سے ہے کہ آج تک سروے کا کام مکمل نہیں ہوا ہے۔یہ مسئلہ سب سے زیادہ وقف بورڈ کے کمپیوٹرائزیشن میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔اس صورت میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ایسے اعداد و شمار کی بنیاد پر اوقاف کی بازیابی اور ترقی کے منصوبے مکمل نہیں ہو سکتے ،وہ ہمیشہ نامکمل اور غیر مستحکم رہیں گے۔وقف کے مسائل میں چند مسائل اور بھی ہیں جنہیں مختصراً بیان کیا جا رہا ہے۔i)وقف ایکٹ1995کی دفعہ109کے تحت وقف رول اور دفعہ110کے تحت،وقف ریگولیشن شائع کیا جانا تھا،یہ کام نامکمل ہے۔ii)وقف ٹریبونل جو وقف جائدادوں کی قانونی چارہ جوئی کا ادارہ ہے،وقف(ترمیمی)ایکٹ کی دفعہ83کی روشنی میں نئے سرے سے تشکیل ہونے تھے،لیکن وہ بھی نا مکمل ہیں۔iii)کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں کل وقتی چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی تقرری ہونی ہے،اور اس کا تقرر نہیں ہوا ہے۔یہ اور ان جیسے دیگر کئی مسائل ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔لیکن اگر ہم بات کریں دہلی وقف بورڈ کی تو ان کے عزائم سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئے چیئرمین اور ان کی عام آدمی پارٹی اپنی ذمہ داریاں بحسن خوبی انجام دیں گے اورجلد ہی مثبت نتائج بھی سامنے آئیں گے۔اس کے باوجود عوام جو حکومتی فیصلوں میں معاون ساز ہوتے ہیںوہیں ان کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ حکومت لیے گئے فیصلوں سے روگردانی کرے ،تو انہیں توجہ دلائیں ،اوراگر پھر بھی متوجہ نہ ہو ں،تو مسئلہ کے حل کے لیے عوامی سطح پر مہمات چلائیں نیز قانونی چارہ کی جائے!

v v v v v v v

CONVERSATION

Back
to top