ڈاکٹر ذاکر حسین و علامہ اقبال کے تعلیمی نظریات

گزشتہ ہفتہ ہم نے اپنے کالم میں ڈاکٹر ذاکر حسین کا تعلیمی نظریہ پیش کیا تھا۔جس میں بتایا گیا تھا کہ ذاکر حسین کے تعلیمی فلسفے کا ایک اہم جزیہ ہے کہ وہ فرد کی تعلیم کو تعلیم نہیں سمجھتے ان کے نزدیک اصلی اور ابتدائی چیزمعاشرہ ہے۔ انسان کے افکار و نظریا ت کا ارتقاءجو تعلیم کا اصل مقصد ہے، سماج کے بنا ممکن نہیںہے۔آج کے کالم میں ذاکر صاحب کے تعلیمی نظریہ کے کچھ حصہ کو مزید پیش کرنے کے ساتھ ساتھ علامہ محمد اقبالؒ کے تعلیمی نظریات کو پیش کریں گے۔جیسا کہ ذکرکیا گیاکہ ذاکر صاحب یورپ کے اکابر تعلیم سے بہت متاثرتھے خاص طور پرجرمنی کے کرشرٹیز سے ۔حالانکہ وہ وہاں معاشیات کے شعبہ سے منسلک رہے تاہم تعلیمی تجربات بھی کرتے رہے اور انہیں تجربات وخیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرف رخ کیا ۔

ذاکرحسین کے تعلیمی نظریات کے اولین نقوش ہمیں ان کے تعلیمی خطبات میں ملتے ہیں جو مکتبہ جامعہ نے 1943ءمیں شائع کئے تھے۔ ان خطبات کو کاشی ودیا پیٹھ کے جلسہ تقسیم اسناد میں پڑھا گیا یہ خطبہ ایک اہم اور یادگار خطبہ ہے ۔ اس خطبہ میں ذاکر صاحب نے تعلیم کے مفہوم اور قومی تعلیم کے مقصد کی وضاحت اس طرح کی ہے :تعلیم دراصل کسی سماج کی اس جانی بوجھی ، سوچی سمجھی کوشش کا نام ہے جو وہ اس لئے کرتی ہے کہ اس کا وجود باقی رہے اور اس کے افراد میں یہ قابلیت پیدا ہوجائے کہ وہ بدلے ہوئے حالات کے ساتھ زندگی میں بھی مناسب اور ضروری تبدیلی لاسکیں،نیز جو سماج اپنی تعلیم کا نظام درست نہیں رکھتا وہ اپنے وجود کو خطرے میں ڈالتاہے ۔

        ذاکر حسین کے وہ خطبات جو تعلیم اور نظریہ تعلیم سے تعلق رکھتے ہیں،انہیں "تعلیمی خطبات"کے عنوان سے مکتبہ جامعہ،نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔اس میں وہ رقم طراز ہیں:"ہمارے تعلیم یافتہ لوگ جو جمہوریت کے لبرل فلسفے کو پڑھ پڑھ کر اور ہَر کلیس،پرامیٹھیسس اور رابنسن کے ناموں اور کاموں اور افسانوں سے متاثر ہوکر اکیلے آدمی کو سماجی زندگی کی اصلی حقیقت اور سماج کو ان اکیلوں کے بس ایک ڈھیر یا انبوہ ماننے لگے ہیں"وہ مناسب نہیںہے۔سماج کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح کچھ عرصے میں جسم کا ایک ایک ذرہ بدل جاتا ہے مگر جسم کی زندگی برابر جاری رہتی ہے،جس طرح درختوں کی پتّیاں بدل جاتی ہیں مگر درخت وہی رہتا ہے،اسی طرح سماج کے افراد بھی برابر ختم ہوتے رہتے ہیں مگر سماجی زندگی باقی رہتی ہے۔ہر زندہ چیز کی طرح سماج میں بھی دو کام برابر ہوتے رہتے ہیں،ایک تو بدلتے رہنے کا اور دو اپنے حال پر قائم رہنے کا۔ان میں سے کوئی ایک کام بھی رک جائے تو موت کا سامنا ہوتا ہے۔۔۔تعلیم دراصل کسی سماج کی اس جانی بوجھی ،سوچی سمجھی کوشش کا نام ہے جو وہ اس لیے کرتی ہے کہ اس کا وجود باقی رہ سکے اور اس کے افراد میں یہ قابلیت پیدا ہو کہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ سماجی زندگی میں بھی مناسب اور ضروری تبدیلی کر سکیں۔تعلیم انسانی ذہن کی مکمل پرورش کا نام ہے۔نیز نصب العین کے متعین ہونے کے بعد ہی نصاب اور طریقہ تعلیم یعنی ان وسائل و ذرائع کا تعین ممکن ہوتا ہے جن سے وہ نصب العین حاصل کیا جا سکے۔قوم کی خراب صورتحال پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنی قومی زندگی کی موجودہ پستی پر مطمئن ہیں تو میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ آپ کے ثانوی مدرسے ہی کیا آپ کا ساراتعلیمی نظام بالکل ٹھیک ہے۔اس میں ذرا برابر تبدیلی نہ کیجئے، وہ معاشرت میں اُتھلی تقلید،مذہب میںکھوکھلی رسمیت،سیاست میں محکومیت پسندی کے پیدا کرنے، علم میں ذوقِ تحقیق سے اور فنون میں ذوق تخلیق سے نوجوانوں کے بے بہرہ رکھنے اور کم زور جسم، بے نور دماغ اور بے سوز دل پیدا کرنے کے نہایت کامیاب کارخانے ہیں۔برخلاف اس کے نصب العین کے حصول کے لیے منجملہ اور چیزوں کے اپنا ایک خاص نظام تعلیم بھی مرتب کرنا ہوگا جو کسی دوسرے ناقص نظام کی نقل نہ ہوگا بلکہ ہماری مخصوص تخلیق ہوگا۔ہمیں ثانوی تعلیم کے نظام سے پہلے عام ابتدائی تعلیم کا نظام بنانا اور جاری کرنا ہوگا، ایک خاص عمر پر بچوں کے رجحانات کی پڑتال کاانتظام کرنا ہوگا ۔کتابی تدریس کی جگہ عملی اکتشافات کو جگہ دینی ہوگی اور خالی واقفیت کی جگہ صحیح ذہنی تربیت اور خالی علم کی جگہ اچھی سیرت کو مرکز توجہ بنانا ہوگا۔آئیے ذاکر صاحب کے بعد علامہ اقبال کے تعلیمی نظریات کو بھی دیکھتے چلیں۔

علامہ اقبال ؒکے تعلیمی نظریات:

        حقیقت یہ ہے کہ افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم و تربیت کو وہ بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ جس کی بنا پر افراد کی ساری زندگی کی عمارت اسی بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے اور اقوام اپنے تعلیمی فلسفہ کے ذریعہ ہی اپنے نصب العین ، مقصد حیات، تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت کا اظہار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے قومی زندگی کے اِسی اہم پہلو پر گہرا غور و خوص کیا اور اپنے افکار کے ذریعہ ایسی راہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک زندہ اور جاندار قوم کی تخلیق کا باعث بن سکے۔اقبال نے اپنے زمانے کی تصویر کشی کرتے ہوئے اُن عالم دین حضرات پربحث کی اور توجہ دلائی ہے جو درحقیقت اپنی حیثیت سے ناواقفیت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے ایسے بے عمل اور بے حیثیت و لاشعوری کی زندگی گزارنے والے عالم دین حضرات کو 'مُلّا'سے تعبیرکیا۔مُلّا سے اقبال بیزار تھے ۔وہ اس لیے کہ اس کے پاس دین ہے نہ دین کی حرارت ،وہ درحقیقت دین کی روح سے بےگانہ ہوگیا ہے۔ اس کی نماز ، روزہ ، سب رسمی بن گئے ہیں اور حیات کے اُن اعلیٰ مقاصد تک اس کی پہنچ نہیں رہی جو دین کا نصب العین ہیں ۔"بال جبریل"وہ فرماتے ہیں:اُٹھا میں مدرسہ و خانقا ہ سے غمناک -- نہ زندگی ، نہ محبت، نہ معرفت نہ نگاہ ، تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال -- تیری اذان میں نہیں ہے مری سحر کا پیام ، قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی امامت کیاہے -- اس کو کیا سمجھیں یہ بےچار ے دو رکعت کے امام۔ اقبال کو دینی عالموں سے جو توقع ہے اور ان کے علم کا جو تقاضا ہے وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کی اصلاح اور صحیح تعلیم و تربیت ہے اسی لئے وہ تما م تر مایوسی کے باوجود دعوت دیتے ہیں۔قدیم دینی مدارس کی جامد ، بے روح اور زمانہ کے تقاضوں سے نا آشنا تعلیم کے ساتھ اقبال جدید انگریز ی تعلیم سے بھی نالاں تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ تعلیم سراسر مادیت پر مبنی تھی اور دین و مذہب سے اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ان کی نظر میں یہ نظام ِ تعلیم دین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی جو،جوانوں کو اعلیٰ اسلامی اقدار سے محروم کر رہی تھی۔ یہ تعلیم ضرورت سے زیادہ تعقل زدہ تھی اس نے الحاد اور بے دینی پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ہے جسے اقبال نفر ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔"بانگ درا"میں وہ فرماتے ہیں:خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر -- لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ، ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم -- کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ، اور یہ اہلِ کلیسا کا نظام ِ تعلیم -- ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف۔ (جاری)۔ ۔ ۔ ۔

v v v v v v v

15.08.2016

CONVERSATION

Back
to top