!! مسلمان:کل اور آج

مسلمان:کل اور آج !!

          ہندوستان میں مردم شماری کا کام تیزی نہ صرف جاری ہے بلکہ ۸۲ فروری ۱۱۰۲ءکو مکمل بھی ہو گیا۔ایک طرف مختلف حلقوں سے شکایتیں موصول ہوئیں تو وہیں دوسری طرف یہ بات بھی سامنے آئی کہ عوام تعاون نہیں کر رہے ہیںیا پھر صحیح معلومات دینے سے گریز کر رہے ہیں۔اسی طرح متعصبانہ فکر کے حامل افراد نے مردم شماری کرتے ہوئے اپنے تعصب کا بھر پور مظاہرہ کیااور دوسری طرف بلند حوصلہ اور جفا کش لوگوں نے اپنی ذمہ داری انجام دی اور اس طرح یہ مرحلہ وار کام مکمل ہو گیا۔ مردم شماری ۱۱۰۲ میں مسلمانوں کے لیے دو مخصوص اندراج تھے جو اس سے قبل اتنی توجہ کا موضوع نہیں رہے۔ نمبر ۱) زبان "اردو" اورنمبر ۲) مذہب "مسلمان"کا اندراج۔ہو سکتا ہے کہ ان دو بنیادوں پر آنے والے نتائج گذشتہ نتائج سے مختلف ہوں اسی لیے زبان اور مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنے والے بھی اس مرتبہ ذرا خوفزدہ ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پورے عمل کے نتائج کب اور کیا سامنے آتے ہیں۔

اپنی طاقت پہچانیں:
          اس وقت آبادی کے تناسب سے ہندوستانی مسلمان یہاں کی ہندو اکثریت کے بعد سب سے بڑی اکثریت ہیں۔1991کے censusکے مطابق بہار،آسام اور اتر پردیش ایسی ریاستیں ہیں جن کے اندر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ وہیں دوسری طرفpercentageکے اعتبار سے کیرالہ (23.32%)۔ ویسٹ بنگال(23.61%)اور لکش دیپ (94.31%)کی خاص اہمیت ہے۔ جہاں ایک طرف 1991کے censusکے مطابق ہندں کی تعداد 687.65millionتھی تو مسلمانوں کی تعداد101.59millioتھی۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ہندوستا ن کے مسلمانوں کی تعداد میں جموںو کشمیر کے مسلمانوں کی تعداد کو گذشتہ مردم شماری میںشامل نہیں کیاگیا تھا ۔

          آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد کے بٹوارے اور اس کی بنیاد پر طاقت کی تقسیم کا کا م بھی بہت ہوشیاری کے ساتھ ہوتا رہا ہے ۔مسلمانوں کی تعدادکو چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹنے کا کام اس طرح کیا جاتا رہا کہ متعلقہ constituencyمیں کوئی ایک طرفہ فیصلہ نہ لیا جا سکے۔ایک طرف دوسرے مسائل کو سامنے رکھ کر سابق بہار، مدھیہ پردیش اور اترپردیش کو تقسیم کیا گیا تو اس کوشش کے نتیجے میںیہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ اس طرح مسلمانوں کی طاقت تقسیم اور قوت کمزورہوئی ہے۔ 1921کے censusکے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف ہندں کی تعداد 65.9%تھی وہیں دوسری جانب مسلمانوں کی تعداد24.1%تھی۔جو کل تعداد میں90%فیصد کا احاطہ کر لیتی ہے۔ جبکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد کل 10%ہے۔ اسکا اندازہ ہم درج ذیل فگر س سے کر سکتے ہیں۔
                    1921   1911   1901   1891   1881                      
          - 6.1   65.9=  66.9    68.3    70.1    72.0    Hindus 
          + 1.5  24.1= 23.5    23.2    22.4    22.6    Muslims

          اسی طرح جب ہم نظر ڈالتے ہیں 2001کے censusپر تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد 16.4%فیصد درج کی گئی ہے۔ یہ تعداد174ملین افراد پر مشتمل ہے، اس کے برخلاف غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق جسٹس کے۔ایم۔یوسف (ریٹائرڈ جج۔کلکتہ ہائی کورٹ اور چیئر مین ۔ویسٹ بنگال مائی نورٹی کمیشن)کا کہنا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی آبادی کم از کم 20%فیصد ہے، ساتھ ہی ہندوتو کے علمبردار اس تعداد کو 30%فیصدتک بتاتے ہیں۔ 2001کے census میں کثیر آبادی والے مسلم اسٹیٹس اتر پردیش (30.7ملین)18.5%فیصد، ویسٹ بنگال (20.2ملین)25%فیصد اور بہار(13.7ملین)16.5%فیصد، آبادی رکھتے ہیں۔ وہیں مسلم اکثریت والے اسٹیٹس جمّو و کشمیر اور لکش دیپ ہیں جہاں مسلم آبادی بالترتیب67%فیصد اور95%فیصد ہے۔ نیزسب سے زیادہ مسلم آبادی درج کروانے والے eastern statesمیں آسام 31%فیصد،ویسٹ بنگال25%فیصد اور southern statesمیں کیرلہ25%فیصدہے توکرناٹک12.2%فیصدمسلم آبادی رکھنے والے اسٹیٹ میں شامل ہیں۔


اس پس منظر میںعام خیال ہے کہ آج جو census reportکے ذریعہ مسلمانوںکی تعداد دکھائی جاتی ہے اس سے کہیں بڑھ کر انکی تعداد موجود ہے لیکن اس کو صحیح انداز میں پیش کرنے سے گھبرایا اور کترایا جاتا ہے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 17%سے20%کے درمیان موجود ہے شاید کہ غلط نہیں ہے۔ وہ اقلیت نہیںبلکہ ہندں کے بعد ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت ہیں۔ انھیں اقلیت کہنے والے چالاکی اور ہوشیاری سے کام لے کر اپنے مفادات پورے کر رہے ہیں۔وہیں دوسری طرف اگر مان لیا جائے کہ وہ اقلیت ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انھیں وہ حقوق کیوں نہیں دیئے جا رہے ہیں جو قانون میں اقلیتوں کے لئے محفوظ ہیں؟ لہٰذا ضروری ہے کہ وہ اپنی طاقت کو سمجھیں اور اسکا ٹھیک اندازہ کرتے ہوئے اپنی بقاو تحفظ کے لئے اقدامات کریں۔

مسلمان انسانیت کے خیر خواہ:
          یہ بات اپنے آپ میں ثابت ہے کہ کسی شخص کو جب کچھ اختیارات حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے تو اسے اس قابل بننے کی کو شش کرنا چاہئے جس کا وہ خواہش مند ہے۔ اگریہ بات ایک فرد کی نہیںبلکہ ایک قوم کی ہو، ایک ملت اور مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی ہو تو پھر انھیں اجتماعی طورپر اسکی کوشش کرنی چاہیےنیز متحد ہو کر اس کام کو انجام دیناچاہیے۔ ان میں سے ہر فرد کو اپنے سامنے اس بات کو پیش نظر رکھناچاہیے کہ وہ جو بھی کریں اس میں ملت کو فائدہ ہوناکہ نقصان۔یہاں اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام انسانیت کی کامیابی کا خواہاں ہے اورساتھ ہی امن کا داعی۔ لہذا اسلام پسند افراد سے کبھی شر کی توقع نہیں کی جا نی چاہیے اور اگر وہ ایسا کرتے ہوئے پائے جائیں تو پھر ان کی اسلام وابستگی پر سوال کھڑے ہوجائیں گے۔کیونکہ اسلام صرف مسلمانوں کی بات نہیں کرتا بلکہ وہ انسانوں کی بات کرتا ہے ،لہذا اسلام پسندوں کے ذریعہ انجام دیے جانے والے کام بھی انسانیت کی فلاح وبہبودہی سے متعلق ہوں گے۔پھر یہی وہ عملی کام ہوں گے جو اسلامی فکر کو لوگوں کے سامنے مزید واضح انداز میں پیش کر سکیں گے۔ نتیجتاً لوگ اسلامی نظام میں اپنی کامیابی اوربھلائی محسوس کریں گے۔

          اللہ تعالی فرماتا ہے:”یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین پر اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوة دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اﷲ کے ہاتھ میں ہے“(سورة حج:۱۴)۔قرآن کی اس آیت کو اسلامی حکومت کا منشور (Manifesto)کہنا چاہئے۔ اس میں اس کار سیاسی کو ظاہر کیا گیا ہے جو امت مسلمہ اقتدار پانے کے بعد انجام دیتی ہے۔ اس سے آپ جان سکتے ہیں کہ اسلامی حکومت کس مقصد کے لئے وجود میں آتی ہے، اسکا مزاج کیا ہوتا ہے، اسکے اعمال کس قسم کے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنے تمام وسائل و ذرائع کس راہ پر لگاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن کی مختصر سی آیت بہت ہی واضح الفاظ میں اہل ایمان کے ہاتھوں قائم ہونے والی حکومت کے بنیادی فرائض کا اعلان ہے۔ اسی حقیقت کے بیان کے لئے حافظِ ابوالبر کات نسفی اور بعض دوسرے مفسرین نے یہ تعبیر اختیار کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ"یہ اﷲ کی طرف سے اس بات کا پیشگی اعلان ہے کہ اگر وہ مہاجرین کو زمین میں اقتدار بخشے گا اور مال و دولت میں وسعت عطا کرے گا تو ان کی سیرت کا کیا حال ہوگا اور وہ کس طرح دین کے معاملے کی ذمہ داریاں نبھائیں گے"۔

          واضح ہوا کہ یہ وہ موضوع ہے جو اس ملک ہندوستان کے عام شہریوں کے لئے اور خصوصاً مسلمانوں کے لئے قابل توجہ ہے۔ آج بھی اس موضوع پربہت غوروفکر کی ضرورت ہے جو ماضی قریب میں ہوتی رہی ہے۔ لیکن شاید وقت کی نزاکت اس جانب متوجہ کرتی نظرآرہی ہے کہ غوروفکر کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے کچھ عملی راہیںبھی فراہم کرنے کا آغازہونا چاہیے۔جس کے ذریعہ فکروعمل میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔ کیونکہ عمل سے خالی فکر اور فکر سے خالی عمل،دونوں ہی صورتحال بہت طویل عرصہ نہیں چل سکتے۔ لہذا اہل علم و دانش اس موضوع کے نشیب و فراز کو نمایاں کرتے جائیں اور اہل عمل اس میں یکسانیت پیدا کرنے کی راہیں ہموار کریں۔ اور اگر مسلمانوں میں کچھ ایسے افراد بھی ابھر کر سامنے آئیں جو اہل علم کے ساتھ ساتھ اہل عمل بھی ہوں تو یہ اس ملک کے عوام کی خوش نصیبی ہوگی!!

CONVERSATION

Back
to top