رسول اللہ کا مثالی کردار

رسول اللہ کا مثالی کردار

          اللہ تعالی نے انسانی کردار کے دونوں رُخ قرآن حکیم میں بیانفرما دیےہیں ۔ایک رخ، بد کردار لوگوں کا اور دوسرا نیک کردار لوگوں کا۔ بدکردار لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے کہاکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی تعلیمات کو بھلا کر شیطان کو اپنا رب مانتے ہیں اور اس کی پیروی کرتے ہیں۔اس لیے آخرت میں شیطان اوروہ ایک دوسرے کے شریک ہوں گے اور ایک ساتھ جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ متوجہ کرتا ہے، سمجھاتا ہے اور ڈراتا ہے کہ :"اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جا جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں"(الحشر:۹۱)۔

          بدکردار لوگوں کے مقابلے میں قرآن نیک صفت انسانوں اور ان کی اجتماعیت کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔کہا کہ:"البتہ جو لوگ تائب ہو جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیںاور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر لیں، ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیںاور اللہ مومنوں کو ضرور اجر عظیم عطا فرمائے گا" (النسائ:۶۴۱)۔اس آیت کریمہ میں نیک صفت لوگوں کی نشان دہی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے وہ کسی بھی لمحہ غفلت کا شکار نہیں ہوتے، وہ اللہ کو ہر معاملے میں یاد رکھتے ہیں۔ اس کی ہدایت کی روشنی میں اپنی زندگی کے روز و شب گزارتے ہیں۔ اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو فوراً اللہ کی جانب پلٹتے ہیں ۔ توبہ و استغفار کرتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔اس لیے ایسے لوگوں سے اللہ رب العزت راضی ہوتا ہے اور ان کو اپنے انعمات سے نوازتا ہے۔ ایسا شخص،گروہ یا قوم اللہ کو پسند ہے اور وہ ان کو مومنین کے زمرے میں شامل کرتا ہے۔ مومنین وہ ہیں جو اپنے رب کی رضا کے طالب ہوتے ہیں ۔ اپنے ہر عمل میں محتاط اور حساس ہوتے ہیں،یہی لوگ آخرت میں زمین کے وارث ہوں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوگا اور آخرت کی کامیابی ان ہی کے لیے ہے۔ اس طرح جو بات ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ انسان کے اچھے اعمال اس کی کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں۔ ان اعمال کے نتیجہ میں اللہ فرد واحد سے بھی اور اُس گروہ اور قوم سے بھی راضی ہو جاتا ہے جس کا اخلاق اعلیٰ ہوتا ہے۔اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے ان کا کردار بھی مثالی ہو جاتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :"بشارت دے دو ان لوگوں کو جو(تم پر)ایمان لائے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے"(الاحزاب:۷۴)۔

عملی نمونہ کی ضرورت :
          کسی بات پر عمل کرنے کے لیے پہلی ضرورت علم کی ہوتی ہے اور دوسری عمل کی ۔علم کے ذرائع محفوظ شکل میں ہمارے پاس موجود ہیں اورعمل کرتے ہوئے افراد بھی اللہ کے فضل سے ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں۔یہی وہ دونوں چیزیں ہیں جن کی ہر زمانے اور ہر مقام پر اشد ضرورت محسوس کی جاتی ہے اور اگر یہ دونوں چیزیں موجود ہوں تو انسان میں عمل کی تحریک پیداہوجاتی ہے۔ایک آئیڈیل انسان کی ہر محاذ پر ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اگریہ عملی نمونہ موجود نہ ہو تو ہر انسان اپنی عقل کے مطابق عمل کے میدان میں اتر پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مختلف انسان مختلف راہیں طے کرتے ہوئے درمیان میں بہت سی غلطیوں کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے نہ وہ خوداپنے لیے اور نہ ہی دوسروں کے لیے مثالی کردار بن پاتے ہیں۔اس لیے لازمی ہوا کہ کوئی ہستی ایسی ضرور ہونی چاہیے جوعلم اور عمل دونوں میں اپنی مخصوص حیثیت رکھتی ہو۔اس ضرورت کے پیش نظر انسانوں کو بنانے والے اللہ نے خود ہی اس کا مکمل انتظام بھی فرما دیا ہے۔ اللہ نے نبیوں اور رسولوں کے سلسلے کو جاری کیا اور ان کو راست علم سے نوازا اور عمل کی توفیق دی تاکہ یہ شخصیات دنیا کے لیے نمونہ بن سکیں۔نبیوں کے سلسلے کو ختم کرتے ہوئے آخری رسول محمدکو دنیا میں بھیجا جو قیامت تک انسانوں کے لیے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر محاظ پر مثال اور نمونہ رہیں گے۔ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :"مومنو! اللہ کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ ہونے دو"(محمد:۳۳)۔یہاں جو باتیں بیان کی گئیں ہیں اس میں پہلی بات اللہ کے واضح احکامات پر عمل کرنا ہر مسلمان پر لازم قرار دیا ہے جس کا تعلق علم سے ہے اور دوسری بات رسولاللہ کا اسوہ ہے جس کا تعلق عمل سے ہے۔ان دونوں احکامات پر عمل کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم جو کچھ کریں گے وہ ضائع نہیں ہوگا،ہم کسی نقصان میں مبتلا نہیں ہوں گے اورہمیں کسی طرح کا خسارہ نہیں اٹھانا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوگااور آخرت میں کامیابی و سرخروعی ہمارا مقد رہوگی ۔

رسول اللہ بحیثیت نمونہ :
           ا نبیا کرام اور پیغمبران اسلام کو دنیا میں بھیجنے کامقصد تکمیل اخلاق تھا۔اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلا مقصد یہ تھا کہ انسان صرف اللہ کی بندگی کرے اوردوسرا یہ کے وہ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہو تاکہ وہ اپنے رب کو جانے،مانے،تصدیق کرے اور عمل کرتے ہوئے دنیا میں امن و سکون برقرار رکھے۔جس مقام پر یہ دو مقاصدپورے نہیں ہو سکے ہیں اُس مقام پراِن مقاصد کی تکمیل کے لیے جدوجہدکی جائے اور حصول مقصدکے لیے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کی جائیں۔یہ جدوجہد انفرادی اور اجتماعی دونوں محاذ پر انجام دی جائے ۔فرد واحد کی زندگی کوبھی تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے اور معاشرہ کی صورتحال کو بدلنے کے لیے بھی کوشاں رہا جائے۔ اِس نصب العین کو ہر لمحے اپنی آنکھوں کے سامنے رکھا جائے، اولیت اور اہمیت دی جائے اور اس سے غفلت کسی بھی درجہ میں نہ برتی جائے۔ اس سلسلے میں یا کسی بھی معاملے میں اگر عملی نمونہ کی ضرورت محسوس ہو، تو نبی امّی محمد کو دیکھا جائے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ : وَاِنَّکَ لعَلٰی خُلُقِ عَظِیمِ(القلم:۴)۔"اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو"۔ اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور سلیم الفطرت شخصیت تھی کہ جس کا ذہن اور مزاج غایت درجہ متوازن تھا۔لہذا ایک متوازن ذہن کی پیروی کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہوجاتا ہے۔اورایسے ہی انسان کی پیروی بھی کرنی چاہیے جس کا دماغ صحیح ہو، جس کی فطرت صالح ہو اور جس کا مزاج معتدل ہو۔ہمارے لیے وہ حضرات بھی قابل نمونہ ہیں جن کو اصحاب رسول کا شرف ملااور ہمارے وہ علماءاور امراءبھی قابل نمونہ ہیں جو اسلام پر عمل پیرا رہنے والے ہیں۔کیونکہ یہ تمام لوگ نبی کی ذات پر خود عمل پیرا رہنے والے ہوں گے لہذا ہمارے لیے ان کی پیروی کرناآسان ہو جائے گی۔

          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے اخلاق کی بہترین تعریف حضرت عائشہؓ نے اپنے اِس قول میں فرمائی ہے کہ :کان خلقہ القراٰن۔"قرآن آپ کا اخلاق تھا"۔ (امام احمد، مسلم، ابوداد، نَسائی، ابن ماجہ، دارمی ) ۔اور اسی بات کو اللہ تعالیٰ اس طرح ارشاد فرماتا ہے کہ:وَاِنَّکَ خُلُق عَظِیم (القلم:۴)"اور اخلاق تمہارے بہت(عالی) ہیں"۔ معنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا کے سامنے محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں کی تھی بلکہ خود اس کا مجسّم نمونہ بن کر دکھا دیا تھااور آپ کی زندگی ہر اس شخص کے لیے نمونہ ہے جو اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر پہنچنے کی خواہش رکھتا ہو۔

           جس چیز کا قرآن میں حکم دیا گیا آپ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا، جس چیز سے اس میں روکا گیا آپ نے خود سب سے زیادہ اس سے اجتناب فرمایا، جن اخلاقی صفات کو اس میں فضلیت قراردیا گیا سب سے بڑھ کر آپ کی ذات ان سے متصف تھی، اور جن صفات کو اس میں ناپسندیدہ ٹھہرایا گیا سب سے زیادہ آپ ان سے پاک تھے۔ایک اور روایت میں حضرت عاشئہؓ فرماتی ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا، کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں لیا جو آپ کو پہنچائی گئی ہو الّا یہ کہ اللہ کی حُرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو، اور آپ کا طریقہ یہ تھاکہ جب دو کاموں میں سے ایک کا آپ کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ آسان تر کام کو پسند فرماتے تھا، الّا یہ کہ وہ گناہ ہو، اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے تھے"(مسند احمد)۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ"میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کی ہے۔ آپ نے کبھی میری کسی بات پر اُف تک نہ کی، کبھی میرے کسی کام پر یہ نہ فرمایا کہ توُنے یہ کیوں کیا، اور کاکبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تونے یہ کیوں نہ کیا"(بخاری و مسلم)۔یہ وہ زندگی ہے اور اس کی مختصرجھلک جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اِس ذات کی کیا حیثیت ہے۔کیونکہ وہ آخری نبی ہے لہذا تمام انسانو ں کے لیے اُس کی سیرت پر عمل کر نے سے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے دونوں محاظ پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ،اپنے کردار کو بے داغ بنا یا جا سکتا ہے اور اپنے اخلاق کو مکارم اخلاق کے مقام پر پہنچایا جا سکتا ہے۔

آپکی گھریلو زندگی :
          رسولاللہ کی زندگی ہمارے لیے اس لحاظ سے بھی قابل اہم ہے کہ آپ ہمارے قائد،رہنما،رہبراور نبی ہیں۔آپ کی زندگی ہماری اجتماعی زندگی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔جب ہم اس لحاظ سے آپ کی زندگی کا مطالع کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی گھریلو زندگی میں امہات المونین کے ساتھ حسن سلوک، ان کی تربیت ،ان سے محبت اور ہمدردی کا رویہ اختیار کرتے،بچوں سے بے انتہا محبت کرتے اور فرماتے کہ "بچے جنت کے پھول ہیں"۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ" حضور نے اپنے دست مبارک سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں مارا۔نہ کبھی کسی خادم کو نہ کسی عورت کو(بیوی یا باندی وغیرہ)کو"۔یہ اس طرح کے بے شمار تذکرے ہمیں سیرت اور احادیث کی کتابوں میں مل جائیں گی۔ جن سے ہمیں راہنمائی بھی ملتی ہے، حوصلہ بھی اور شوق بھی ۔ہماری اجتماعی زندگی کا وہ حصہ جس کوہم گھر کہتے ہیں،جہاں ماں ،باپ، بیوی بچے، بھائی بہن اور دیگر رشتہ دار ہوا کرتے ہیں ۔ ان کے ساتھ کس طرح سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ کون سے رویہ اور طریقہ کو اختیار کریں اس کی مکمل وضاحت ایک طرف اللہ تعالی خود اپنے قرآ نِ احکیم میں فرماتا ہے اور دوسری جانب رسول کا اسوہ ہمارے لیے راہنمائی اور راہبری کا کام کرتا ہے۔ ہمیں اس جانب غفلت نہ برتتے ہوئے ،شعوری اور سنجیدہ زندگی گزارنی چاہیے تاکہ جب ہم قیامت میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں تو کوئی اٹھنے والا ہاتھ ایسا نہ ہو جو ہماری جانب ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کا اشارہ کرے اور اللہ کا غضب ہم پر نازل ہو۔ہمیں ہر لمحہ اُس بڑے دن سے ڈرتے رہنا چاہیے،یہی ہماری کامیابی کا لازمی تقاضہ ہے۔

آپ کی معاشرتی زندگی :
          ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی، اور نہ ہی کبھی کسی کے حق میں بد دعا کی ۔بہت سے واقعات آپ کی زندگی سے وابستہ ہیں جہاں لوگوں نے آپ کو تکلیفیں پہنچائیں لیکن آ پ نے ہمیشہ ان لوگوں کو معاف کر دیا اور یہی تعلیم آپ نے اپنے اصحابؓ کو بھی دی۔پڑوسیوں کے حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت عائشہؓ کہتی ہیںحضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: "جبریلِ ہمیشہ مجھ کو ہمسایہ(پڑوسی)کا حق ادا کرنے کی ہدایت کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ میں نے یہ خیال قائم کر لیا کہ جبریلِ امین پڑوسی کو وارث قرار دیں گے"(یعنی ایک ہمسایہ کو دوسرے ہمسایہ کا وارث بنا دیں گے)(بخاری و مسلم)۔ اسی طرح لوگوں کی عزت احترام کے سلسلے میں فرمایا:" کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتا ہے۔آپنے فرمایا ہاں جب یہ کسی کے باپ کو گالی دیاتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے اور یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے"(جامع ترمذی)۔لوگوں سے ہمدردی کے تعلق سے اللہ کے رسول فرماتے ہیں :"جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتااللہ اس پر رحم نہیں کرتا"(جامع ترمذی)۔اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں فرماتا ہے:"نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموںپر، مسکینوں اور مسافروں پر ، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں"(البقرہ:۷۷۱)۔ اس آیت کریمہ میں ایک مہذب معاشرہ کی مکمل تصویر پیش کردی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ معاشرہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر کون سے کام لازم ہیں اور کس طرح وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے لوگوں کے لیے خیر ثابت ہوتے ہیں۔یہاں اللہ کے بندوں کے حقوق اداکرنے کی بات ہے،اللہ کے حقوق یعنی عبادت کا تذکرہ ہے،لوگوں کے ساتھ معاملات اور معاہدوں کو بھی بہ خوبی ادا کرنے کی بات ہے۔اس طرح کی بے شمار ہدایات واحکامات قرآن و حدیث میں موجود ہیں ان احکامات پر عمل کرنے کے نتیجہ میں صالح معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔


          معاشرتی اور اجتماعی زندگی کے اُن پہلوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کا تعلق حکومت اور ریاست سے ہے۔ان میں معیشیت، معاشرت، تعلیم اور سیاست موٹے طور پر آتے ہیں۔ان کے تعلق سے بھی ہمیں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی زندگی میں مکمل ہدایات و رہنمائی ملتی ہے۔کہا کہ: " یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین پر اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوة دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اﷲ کے ہاتھ میں ہے"(سورة حج:۱۴)۔اس طرح معلوم ہوا کہ حکومت کے اختیارات حاصل ہونے کے بعد سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ با اقتدار لوگ اللہ کی زمین پر اللہ کی مرضی کو نافذکردیں۔اور کہا کہ: "اور لوط کو ہم نے حکم اور علم بخشا اور اسے اس بستی سے بچا کر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بری،فاسق قوم تھی۔اور لوط کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا،وہ صالح لوگوں میں سے تھا "(الانبیآء:۴۷)۔ اس طرح واضح ہو گیا کہ حصولِ علم کامقصد یہ ہے کہ معصیت کے کاموں سے بچا جائے اور ان کاموں سے بھی گریز کیا جائے جن کی ممانعت کی گئی ہے۔اور علم کا مقصد یہ بھی ہے کہ اپنے ربِ حقیقی کو پہنچان لیا جائے، اس پر کامل یقین کیا جائے اور ساتھ ہی اس کے تمام احکامات خوش خلقی کے ساتھ ادا کیے جائیں۔اس طرح ملک،حکومت،سیاست،معیشیت اورتعلیم کے ذریعہ ایک صالح معاشرہ تشکیل پائے گا۔معاشرہ جب صالح ہوگا تو اس میں بسنے والے لوگ امن و سکون اور اطمینان کی زندگی بسر کریں گے۔اسلامی تعلیمات پر مبنی معاشرہ وجود میں آئے اس کی خواہش فرد واحدکو بھی ہونی چاہیے اوراسلامی اجتماعیت کو بھی۔یہ وہ جائز خواہش ہے جس پر عمل کرکے شخص کے کردار کوبھی سدھارا جاسکتا ہے اور ملک،قوم،معاشرہ کو بھی۔

مثالی کردار کے اختیار کا نتیجہ:
          یہ بات عقل سے بعید تر ہے کہ جس چیز کی ہم خواہش کریں اس کو اپنی ذات کے لیے پسند نہ کریں۔ اسلامی بنیادوں پر استوار معاشرہ کی خواہش جب ہم اپنے دل میں رکھتے ہیں تو اس کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اختیار کرنے کے لیے بھی ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ حالات سازگارنہ ہوں تواس کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے۔اس خواہش کو رکھنے والے،اس پر عمل کرنے والے اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے،یہ تمام ہی وہ لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور اس نے دنیا ہی میں ایسے لوگوں کو جنت کی بشارت ان الفاظ کے ساتھ دے دی کہ: "اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے"(الزخرف:۲۷)۔ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوگا جو دنیا میں اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے ساتھ ہی وہ اہل ایمان تھے اورجنھوںنے مومن و مسلم بندے بن کر زندگی گزاری تو ایسے لوگوں کے لیے بشارت ہے اور یہی لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔

          اللہ تعالی کہتا ہے کہ زندگی میں انجام دیا جانے والا ہر چھوٹا اور بڑا عمل جب کہ تم نے کرنے کا ارادہ کیا ،قبل اُس کے،اس بڑے دن کی ہولناکی اور سختی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے جس دن نہ کوئی باپ ہوگا اور نہ کوئی ماں جو اپنی مامتاکو یاد رکھ سکےگی۔وہ دن بڑا ہی زبردست ہوگا جب کہ دیدہ پھٹے جا رہے ہوں گے۔ جو کچھ یہ انسان دنیا سے کما کر لے گیا وہی اس کا کل سرمایہ حیات ہوگابس وہی اس کے کام آئے گا۔اس بات کو بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ اعمال کا دارومدار عقیدہ کی پختگی اور اخلاق کی برتری پر منحصر ہے۔اس لیے ہمارے سارے اعمال اُس دن اِن ہی دو چیزوں کے تحت پیش کیے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ"اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم اللہ کے حضور میں لوٹ کر جا گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا"(البقرة:۱۸۲)۔ وہاں جو کچھ ہم کماکر لے جائیں گے اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گاچاہے وہ اعمال صالحہ ہوں یا پھر اعمالِ رذیلہ۔ اللہ کی عدالت میں ذرہ برابر بھی کمی بیشی نہیں ہوگی۔قرآن کہتا ہے: "انہیں المناک عذابوں کی خوشخبری سنا دو۔ ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کے بے شمار اور نہ ختم ہونے والا اجر ہے"(الانشقاق:۴۲-۵۲)۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اخلاق و کردار میں سدھار پیدا کریں اور دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنے والوں میں شمار ہو جائیں ۔اس کے لیے ہمیں ایک طرف نماز سے مدد لینی ہوگی اور دوسری طرف صبر سے۔نماز ہماے اندر مستقل مزاجی پیدا کرنے اور فحش اور معصیت کے کاموں سے بچنے میں مدد کرے گی ۔اور صبر ہمارے اندر منزلِ مقصود تک پہنچنے میں تعاون کرے گا۔ اور ہم دنیاو آخرت میںکامیاب ہوں گے(انشااللہ)۔

CONVERSATION

Back
to top