امن کی فاختہ 'کھر' کا دورہ ہند

امن کی فاختہ 'کھر' کا دورہ ہند

تعلقات کے بننے اور بگڑنے کی چند وجوہات ہوا کرتی ہیں۔عام طور پر ایک گروہ دوسرے کے حقوق سلب کرنے لگتا ہے تو یہ تعلقات خراب ہوتے ہیں۔تعلقات اس لیے بھی خراب ہوتے ہیں کہ وعدوں کی پاسداری نہیں کی جاتی، تعلقات خراب ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ چند لوگ یا کچھ خاص گروہ ہی اس کے لیے سرگرم رہیں اور امن و سکون اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہیں۔تعلقات اچھے یا خراب ہونے کی ذمہ داری جہاں ایک جانب حکمرانوں اور صاحب اقتدار لوگوں پر آتی ہے وہیں اس سے بھی بڑھ کر عوام پر آنی چاہیے، کیونکہ جمہوری ممالک میں اقتدار میں کون آئے اورکون نہیں، یہ بہت حد تک عوام کی سوچ، پسند اور چاہت پر ہوا کرتا ہے۔اب اگر آپ کہیں کہ یہ جمہوریت اور اس کا نظام ایک ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں، نہ عوام کی پسند سے حکومتیں بنتی ہیں اور نہ ہی ختم ہوتی ہیں۔بلکہ ایک علاقے میں جہاں سو خاندان رہتے ہوں وہاں چھ نمائندے کھڑے ہو جائیں اور سب کے حصے میں 16-16ووٹ آئیں لیکن ایک ایسا بھی ہو جس کے حصے میں 20 ہوںاور وہ عوامی نمائندہ منتخب ہو جائے۔نہ صرف وہ عوامی نمائندہ ہو بلکہ جمہور کے ذریعہ جمہوریت کے قیام کی سعی و جہد کرنے والا بن جائے۔پس غورفرمائیے کہ جہاں ایک شخص کو 80لوگ نا پسند کرتے ہوں لیکن 20لوگوں کی پسند سے ، وہ جمہور کا نمائندہ کہلائے۔اور جمہوریت کے علمبردار دنیا کو چینخ چینخ کر بتائیں کہ ہم نے جمہوریت قائم کی ہے توکیایہ جمہوریت کے نام پر کھلا مذاق نہیں؟شاید ایسے ہی امن کی فافتہ کہلانے والی حنا ربانی کھر اور ان جیسے بے شمار عموامی نمائندے جموریت میں عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے منتخب ہو کر آتے ہیں اور پھر ایک وقت گزرنے کے بعد وہ اُ ن جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے چلے جاتے ہیں جہاں وہ کبھی بہت زور و دبدبہ کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔

پاکستانی کھر پر ہوئے تبصرے:

بقول معین اختر مرحوم، پاکستان میں تباہی اس لیے پھیلی ہوئی ہے کہ جو شخص جس کام کی نالج نہیں رکھتا وہ اس فیلڈ کا ماہر بنا ہوا ہے۔کام جاننے والوں کو دور رکھتا جاتا ہے اور جی حضوری کرنے والے نالائق لوگوں کو ماہر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حنا ربانی کھر کو آج کے حساس حالات میں پاکستان کی فارن منسٹر بنا دیا گیا ہے۔حنا ربانی صاحبہ نے لاہور سے بی ایس سی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آن لائن چار ہزار ڈالر ادا کرکے اپنے پسندیدہ موضوع ہوٹل مینجمنٹ میں ماسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ان کے پاس ایسی کوئی تعلیم نہیں ہے جو اس فیلڈ میں کام کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے اور نہ ہی اس فیلڈ میں انہیں کسی بھی قسم کا کوئی تجربہ حاصل ہے۔سوال یہ بھی اٹھا کہ :کیا حنا ربانی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ امریکہ اور پاکستان کے خراب حالات کو اچھے حالات میں تبدیل کر سکیں۔کیا وہ ایک ہی وقت میں ایران اور امریکہ سے پاکستان کے تعلقات قائم رکھ سکیں گی؟کیا وہ کرزئی کو پاکستان کا یہ موقف سمجھا سکیں گی کہ ڈرون حملوں سے امریکہ اور پاکستان کو نقصان اور دہشت گردوں کو فائدہ ہوتا ہے(اردو ٹائمز، کنیڈا)۔تبصرے اور بھی ہوئے اور سوالات اور بھی اٹھائے گئے لیکن یہاں اس کا موقع نہیں کہ ہر تبصرہ اور ہر سوال پیش کیا جا ئے۔

جنرل ضیاءالحق کے دور میں کرکٹ اور فلمی ستاروں کو ڈپلومیسی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ اسی کے نتیجے میں شتروگھن سنہا جیسے معروف ادار کار جنرل ضیاءالحق کے منہ بولے بیٹے کا اعزاز حاصل کرپائے۔کیا عجب زمانہ ہے کہ اب ہمارے وزرائے خارجہ کو ڈپلومیسی کے لیے استعمال کرنے کی بجائے بالی ووڈ طرز پر غیر سنجیدہ طور پر لیا جا رہا ہے۔ اس کی گونج امریکا تک سنی گئی جہاں وال اسٹریٹ جرنل نے ساری صورت حال پر یو ںتبصرہ کیا:"From her blue tunic pants esemble to her Roberto Cavali shades, everything grabbed Indian eyeballs with media coverage of her accessories practically overshadding the India Pakistan dailogue"حالانکہ ماضی کے مقابلے میں خطرات اور چیلنجز زیادہ بڑھ گئے ہیں۔لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ کو "لالی ووڈ"سے جانے والی کسی سپر سٹار کی طرح لینا غیر سنجیدگی کی بد ترین صورت ہے(روزنامہ جسارت، پاکستان)۔

اور کرشنا جی کیا کہتے ہیں!

ہم پاکستان کے ساتھ اعتماد کی کمی کو دور کرنے اور دوستانہ رشتے کو آگے بڑھانے کو تیار ہیں لیکن وہ دہشت گردی کے خلاف دیوار کے طور پر کام کرے اور خود اور پڑوسی ممالک کے ساتھ پر امن ماحول میں رہے۔ حنا ربانی سے بات چیت کے تعلق سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پاکستان سے گزارش کی ہے کہ دہشت گرد ہندوستان کے خلاف ابھی بھی تشدد اور نفرت بھڑکا رہے ہیں۔ جماعت الدعویٰ اور لشکر طیبہ جیسے دہشت گردی تنظیموں کے خلاف قابل یقین اور موثر کار روائی کرے۔ان کے مطابق انہیں پاکستان کے لیے یہ اپیل بھی کی ہے کہ ان کی خفیہ ایجنسی ان لوگوں کے خلاف کارروائی اور جانچ کرے جن کا نام امریکہ میں تہور رانا مقدمے میں پیش کیے گئے ثبوتوں میں آیا ہے۔لوک سبھا میں وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے جس سے دونوں ملک اپنی مشترکہ ترقی میں چیلنجوں کو موثر طور سے حل کر سکے۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ انہوں نے حنا ربانی کھر سے اس بات پر بھی خاص زور دیا کہ ممبئی دہشت گردانہ حملوں پر پاکستان میں چل رہے مقدمات اور جانچ پر پڑوسی ملک نے جو وعدے کیے تھے انہیں پورا کیا جائے۔

عمر عبداللہ کی بھی سنیے!

وہ کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب سے مذاکرات کرنے سے پہلے کشمیری آزادی پسند لیڈورں سے ملنا کوئی ایسا معاملہ ہے جسے تشویش ناک قرار دیا جاسکتا ہے۔ بقول ان کے ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا، بلکہ ماضی میں بھی بھارت کے سرکاری دورے پر آنے والے پاکستانی عہدے داروں نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ اس طرح کی مالاقاتیں کی ہی۔ اس کے باوجود، عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن مذاکرات میں کشمیری قیادت کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تو اسے علیحدگی پسند قیادت تک ہی محدود نہیں کیا

جا سکتا۔ بلکہ اسلام آباد کو معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت نواز لیڈر شپ کو انظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ صرف علیحدگی پسند قیادت ہی عوام کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی بلکہ انتخابات کے دوران بارہا قومی دھارے میں شامل بھارت نواز لیڈر شپ نے عوامی نمائندہ ہونے کے اپنے کردار کو ثابت کیا ہے۔

ادھر بھارت کے سابق داخلہ سکریڑی جے کے پلئی نے ایک انٹر ویو کے دوران کہا کہ پاکستانی وزیر خارجہ کو کُل جماعتی حریت کانفرس کے لیڈروں کے بجائے عمر عبداللہ سے ملاقات کرنی چاہیے تھی کیونکہ ان کے بقول وہ کشمیری عوام کے حقیقی نمائندے ہیں۔حکومت ہند نے ان تبصروں کے تعلق سے سرکاری سطح پر کسی بھی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت، بھارتیہ جنتا پارتی نے حنا ربانی کھر اور حریت کانفرس کے لیڈروں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں پر پاکستانی وزیرِ خارجہ کے سامنے اس وقت باضابطہ طور پر اپنی ناراضگی ظاہر کی جب وہ اس کے لیڈروں ایل کے آڈوانی اور سشما سوراج سے ملیں۔

مشترکہ پریس کانفرس !

حنا ربانی کھر نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے بھارت سے تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ ایس ایم کرشنا کہتے کہیں کہ بات چیت مثبت رہی، امید ہے دونوں ملک مذاکرات کو تعمیری سطح پر لے جائینگے اور نئی نسل دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری دیکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے موقف کو سمجھتے ہیں۔صدر ذرداری اور وزیر اعظم گیلانی ہند پاک میں پر امن تعلقات کے لیے پر عزم ہیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کو مستقبل میں بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی سمیت تمام عالمی و علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق لائن آف کنٹرول پر تجارت کے دن دو سے بڑھا کر چار کر دیے گئے ہیں اور کشمیریوں کے لیے سفر کی شرائط میں نرمی کی گئی ہے جن میں ان کے لیے چھ مہنے کا 'ملٹیپل اینٹری'ویزا جارنی کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت کو فروغ دینے کے لیے ویزے کا ایک نیا نظام وضع کیا جا رہا ہے، جس میں پیش رفت پر دونوں ملکوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیہ میں اس بات کا بھی تذکرہ ہو اکہ باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور جلد سے جلد ایک غیر امتیازی نظام کا اطلاق کیا جائے۔ ہندوستان کا دیرنیہ مطالبہ ہے کہ پاکستان اسے تجارت کے لحاظ سے خصوصی مراعات یافتہ ملک (ایم ایف این) کا درجہ دے تاکہ تجارت کو بڑے پیمانے پر بڑھایا جا سکے۔

دیکھنا یہ ہے کہ!

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ملاقات کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔فل الوقت ہندوستان اور پاکستان کی جو صورتحال ہے وہ بہت زیادہ تشویشناک ہے، دونوں ہی ملکوں کے تعلقات ایک طویل عرصہ سے خراب چل رہے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام متاثر ہو رہے ہیں اور وہ مفاد پرست کامیاب ہو رہے ہیں جو چاہتے ہیں کہ یہ ممالک خطے میں ایک دوسرے کے حریف بنے رہیں تاکہ ان کے منصوبے بہ آسانی عمل میں آ سکیں۔ایک وقت تھا جب کہ ہندو پاک دو نہیں بلکہ ایک ہی ملک ہوا کرتے تھے۔ہندوستان کو غلامی سے آزادی دلانے کے لیے نہ صرف ہندوں نے بلکہ مسلمانوں نے بھی بڑے پیمانہ پر قربانیاں پیش کیں۔لیکن "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو" کے علمبردار اس میں کامیاب ٹھہرے کہ ایک ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے ،آج بھی وہ سلسلہ جاری ہے۔ضرورت ہے کہ ہوش مند اور مخلص لوگ اس باہمی تعلقات کی دوطرفہ ملاقات کو مثبت اندا ز میں لیں۔ یہ صحیح ہے کہ کوئی بھی شخص مکمل نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے لیکن ارادے اور نیتیں انسان میں مثبت صلاحیتوں کو پروان چڑھاسکتی ہیں اور اخلاص میں اضافہ کرتی ہیں۔معاملہ نیت کا ہے،اگر نیت درست تو سب کچھ ممکن ہے لیکن اگر نیت سے اوپر ان حکام کی جی حضوری مطلوب ہے جو اب تک دونوں ممالک پر اور خصوصاً پاکستان پر اپنی حکمرانی چلاتے آئے ہیں تو بات وہیں ٹھہری، کہ یہ آمد و رفت اور ملاقاتیں اور باتیں اور وعدے ،حقیقت میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔نہ اس سے کوئی نتیجہ نکلنا ہے اورنہ ہی دونوں ممالک کے درمیان امن و سکون قائم ہو سکتا ہے۔

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top