رمضان المبارک میں قیام لیل کا اہتمام

رمضان المبارک میں قیام لیل کا اہتمام

اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے قرآن حکیم کو نازل کیا اور اس کے بعد ہر سال ماہ رمضان میں ایک مرتبہ قرآن حکیم کے احکامات،ہدایات اور واقعات کوجذبہ شکر و عمل کے ساتھ سننے کی توفیق ملنا، یہ بھی سعادت کی بات ہے۔پھر یہ کام فرداً فرداً نہیں بلکہ اجتماعی طور پر ایک امام کی امارت میں انجام دینا اس بات کا مظاہرہ ہے کہ جس طرح ہم اللہ کے احکامات کو سننے کا عمل اجتماعی طور پر انجام دے رہے ہیں ٹھیک اسی طرح اللہ کی زمین پر اللہ کی کبرائی بھی ،ہم اجتماعی انداز سے قائم کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ جس وقت یہ جذبہ شکر و عبادت ایک بندہ مومن اختیار کرتا ہے یا ان کی اجتماعیت، تو اس وقت اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مکمل طور پران بندگان خدا پر ثبت ہو جاتی ہے۔اللہ کے رسول فرماتے ہیں: "جس شخص نے رمضان کی راتوں کو ایمانی کیفیت اور اجرِ آخرت کی نیت کے ساتھ نماز( تراویح)پڑھی تو اللہ تعالیٰ اُس کے ان گناہوںکو معاف کر دے گاجو پہلے ہوچکے ہیں"(مسلم) ۔یعنی یہ عمل اللہ کو اس قدر پسند ہے کہ جب اللہ کے بندے اس کو اختیار کرتے ہیں تو اللہ ان سے راضی ہوتا ہے اور ان کے پچھلے گناہ معاف فرمادیتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل اہم ہے کہ اللہ کے مومن بندے رمضان المبارک کی راتوں میں علاوہ نمازِ عشاءجب تراویح و تہجد کا اہتمام کرتے ہیں توان کی نیت بھی یہی ہونی چاہیے کہ اللہ اس عمل کو قبول کر لے اور انھیں اللہ کا قرب حاصل ہو جائے نیز وہ آخرت میں کامیابی سے ہمکنارہوں۔

قیامِ لیل کا اہتمام:

رمضان المبارک کے علاوہ سال کے گیارہ مہینوں میں نماز تراویح کا اہتمام نہیں کیا جاتا ۔ بقیہ مہنیوں میں بھی اللہ کے بندے اپنا مخصوص تعلق قائم رکھیں اس کے لیے تہجد کی نماز کے اہتمام کیا گیا۔ تہجد کی نماز ماہ رمضان میں ادا کرنااس وقت اور بھی آسان ہو جاتی ہیں جبکہ مسلمان سحری کھانے کے لیے اٹھتے ہیں۔ سحری سے قبل تہجدکا اہتمام کرنا ہر مسلمان کے لیے ایک آسان عمل ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے بھی جن کے لیے بقیہ مہینوں میں یہ ایک مشکل کام ہے ۔کہا کہ : "درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے"(المُزمّل:۶)۔معلوم ہوا کہ یہ معاملہ تب پیش آتا ہے جب ایک بندہ اللہ سے اپنا تعلق قائم کرنے کی خواہش دل میں رکھتا ہو۔ پھر اس تعلق کو قائم کرنے کے لیے وہ اس مخصوص وقت کا تعین کرتا ہے جبکہ دنیا غفلت کی نیند میں سر مست ہوتی ہے۔ لیکن اللہ کے بندے اپنی نیند کو قربان کر تے ہوئے اللہ سے لو لگاتے ہیں،اس کا ذکر کرتے ہیں،اس کے سامنے اپنی حاجات پیش کرتے ہیں،اپنے آپ کوذلیل وکم ترسمجھتے ہیں، دنیا کی بے ثباتی کی تصدیق کرتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور آئندہ آنے والی زندگی میں اللہ کی زمین پر اللہ کی کبرائی اپنے قول و عمل سے دینے کا عہد کرتے ہیں۔نتیجہ میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور فکرو کا عمل میں تبدیلی آجاتی ہے، اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصلاح کی توفیق مل جاتی ہے۔اس کے برخلاف مکذبین کی صفت یہ بیان کی گئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے نعمت دی تو بجائے اس کے کہ ان کے اندر شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہو اور وہ اللہ کے سامنے جھکنے والوں میں شمار ہوں، اس کے برخلاف ان کا دماغ خراب ہوگیا ، وہ اللہ اور اس کی ان تمام نعمتوں کو بھول گئے نیز وہ اپنے رب کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ہیں۔رب کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے رب کے احکامات کو اپنے قول و عمل سے جھٹلادیا۔ایسے لوگوں سے سخت سوال و جواب ہوگا اور وہ ناکام و نامراد ٹھہریں گے۔ کہا کہ:"ان جھٹلانے والے خوش حال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو اور انھیں ذرا کچھ دیر اسی حالت پر رہنے دو"(المُزمّل:۱۱)۔

قبل ازقیام لیل :

رات کی نماز ہو یا دن کی اس کی پہلی شرط وضو ہے۔وضو کے ذریعہ انسان کا ہرظاہری عضو دھل جاتا ہے ۔ساتھ ہی اس میں یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ یہی وہ اعضاءہیں جو انسان کو نیکی یا برائی کے کام انجام دینے میں مدد گار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر انسان کے ہاتھ اور ان ہاتھوں کے ذریعہ انجام دیے جانے والے کام،اس کی زبان اوراس زبان سے ادا کی جانے والی گفتار،اس کا چہرہ اور اس سے انسان کا رخ کہ وہ کس جانب اپنے رخ کو موڑتا ہے ،انسان کا سر اور اس سر میں آنے والے خیالات ،انسان کے پیر اور ان پیروں کا مختلف سمتوں میںاٹھنا۔ یہ وہ تمام اعضاءہیں جو انسان پہلے مرحلے میں وضو کے ذریعہ پاک کرلیتا ہے ۔ اس طرح وہ معصیت اور برائیوں سے بچتے ہوئے ان تمام اعضاءکو اللہ رب العالمین کی کے سامنے حاضر کرتا ہے جو برائیوں سے بچ کر بھلائیوں کو فروغ دینے، اللہ کی رضا، اس کی خوشنودی اور اپنی حاجات کو پیش کرنے کے لیے اٹھے ہیں۔ یہی وہ پہلے مرحلے کی تیاری ہے جو انسان کو اپنے رب سے قریب کر تی ہے ، اس کو یکسو کرتی ہے اور وہ اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ اللہ رب العالمین کے آگے رکوع و سجودبجا لاتا ہے ۔یہ بات بھی قابل اہم ہے کہ اس طرز عمل کے نتیجہ میںانسان اللہ واحدہ لاشریک کی وحدت کا قائل ہو جاتا ہے۔دل پر اطمینان کی کیفیت طاری ہونا اور پراگندہ خیالات واحساسات سے انسان کابچ جانا یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔قیام لیل کے لیے جانے والا انسان اس بات کی بھی شہادت دیتا ہے کہ وہ ایک اللہ اور اس کے رسول کے لائے ہوئے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔اُس نظام حیات کو اپنی زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے مرحلے میں اختیار کرے گا جس کا حکم اللہ اور اس کا رسول دیتا ہے۔باطل افکار و خیالات اور نظریات سے وہ چھٹکارا حاصل کر ے گا اور دنیا میں گمراہ اور بھٹکے ہوئے لوگوں میں نہ خودشمار ہوگا اور نہ ہی ان کا مدد گار بنے گا۔یہ اور اس طرح کے بے شمار فوائد قیام لیل سے حاصل ہوتے ہیں بشرطیکہ قیام لیل کا اہتمام فہم و شعور کے ساتھ کیا جائے۔

رسول اللہ کا قیام لیل :

سورة مزمل کی آیات میں اس بات کو واضح کر دیا گیا تھا کہ جو ذمہ داری اللہ کے رسول کو دی جا رہی ہے وہ بہت بڑی ذمہ داری ہے لہذا وہ اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دینے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں۔ اسی کام کی تیاری کے سلسلے میں ہدایت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ بھاری ذمہ داری تب ہی ادا کر سکو گے جب کہ قیام لیل کا اہتمام کرو۔ کہا کہ:"رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم، آدی رات، یا اس سے کچھ کم کر لو، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو"(المُزمّل:۲-۴)۔آدھی آدھی رات کھڑے رہو سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا گیاکہ تہجد وہ ذریعہ ہے جو تمہارے اندر اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی سکت پیدا کرے گا۔رسول اللہ کا تہجد میں یہ طریقہ رہا ہے کہ جب تک آپ کے جسم میں کافی طاقت تھی اس وقت آپ بغیر درمیان میں بیٹھے ہوئے آٹھ رکعتیں مسلسل پڑھتے تھے۔ اس کے بعد بیٹھ کر آدھا تشہد پڑھتے، پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت اس میں اضافہ فرماتے تھے، اور نویں رکعت پڑھنے کے بعد آپ پھر بیٹھ کر پورا تشہد پڑھ کر سلام پھیرتے ۔ پھر دو رکعتیں اور پڑھتے تھے۔ اس طرح کہ گیارہ رکعتیں آپ تہجدمیں پڑھتے تھے۔ آپ کی ہر رکعت طویل ہوتی تھی کیونکہ قران مجید میں آپ کو ترتیل کاسبق دیا گیا تھا۔ ترتیل سے مراد یہ ہے کہ آہستہ آہستہ قرآن مجید کی ایک ایک آیت کو آپ بڑے غور سے پڑھا کریں۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم اس قدر آہستہ آہستہ قرآن پڑھتے تھے کہ اگر کوئی چاہتا تو ایک ایک حرف کو گن سکتا تھا۔

اخلاص الی اللہ :

کہا کہ :"در حقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے" (المُزمّل:۶)۔معلو م ہوا کہ رات کو اٹھنا بہت زیادہ موثر ہے اس بارے میں کہ دل و زبان کے درمیان موافقت پیدا ہو جائے۔ اس لیے جو آدمی اپنی نیند توڑ کر رات کو اٹھتا ہے، بالکل اپنی خلوت میں، جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہے، اٹھ کر نماز ادا کرتا ہے اور اپنے رب سے دیر تک خطاب کرتا ہے، تو یہ بغیر خلوص کے ممکن ہی نہیں۔ جب تک آدمی بالکل مخلص نہ ہو جائے اور جب تک اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا انتہائی مخلصانہ تعلق نہ ہو، اس وقت تک یہ کام ممکن نہیں ہوتا۔آدمی باجماعت نماز میں اور پانچ وقت کی نماز میں ریاکاری اورنمائش کر سکتا ہے اس غرض کی لیے کہ میرا شمار صالحین میں کیا جائے اور میرا لوگوں کے اندر اثر قائم ہو جائے۔ لیکن تہجد کی نماز جو رات کو اٹھ کر پڑھی جائے گی وہ بنا اخلاص کے ممکن نہیں ہے۔اور یہ بھی کہا کہ :"دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیت ہیں"(المُزمّل:۷)۔کیونکہ انسان کو اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کرنا ہیں ،کاروبار کرنا ہے اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے،تعلیم و تعلم کے فرائض انجام دینا ہے اور ساتھ ہی نظم و نسق قائم رکھنا ہے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ دن کی عبادات کو مختصر کرے اور رات کی عبادت جہاں اس کا اللہ رب رحیم سے خاص تعلق استوار ہوتا ہے اس کو قائم کرنے کی سعی و جہد کرے۔پھر کہا کہ :"اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو"(المُزمّل:۸)۔تبتل اس بات کو کہتے ہیں کہ آدمی سب سے اپنا تعلق توڑ کر ایک اللہ کا ہو جائے۔حضرت فاطمہؓ کے لیے بتول کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے یہ ہو اکہ اپنے سارے تعلقات ختم کرو، ایک اللہ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ لو۔ اس کے بعد اب جو خلق کے ساتھ تعلق ہوگا وہ اللہ کے واسطے سے ہوگا، براہ راست نہیں ہوگا۔کسی سے دوستی کی جائے گی تو وہ اللہ کی خاطر اور اگر کسی سے دشمنی تو وہ بھی اللہ کی خاطر۔کسی قسم کی ذاتی غرض اس کے ساتھ نہیں ہوگی۔

داعی الی الخیر :

کہا کہ :"اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس (کے نام)کی تنزیہ کیا کرو"(سورة ق:۰۴)۔معلوم ہوا کہ داعی الخیر کی پہچان ہے کہ وہ صبح و شام اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتارہے۔اس طرز عمل کے نتیجہ میں وہ اللہ کا مقرب بندہ ہوجاتا ہے نیز اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔پھر بتایا کہ جب نماز کا اہتمام نہیں کیا جاتاتو اس کی واحد وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس گروہ میں ایسے لوگ داخل ہو جاتے ہیں جو بدکردار ہوتے ہیں۔کہا کہ :"پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی"(مریم:۹۵)۔خیر کو عام کرنے والے، خیر کو قائم کرنے والے اور خیر پر عمل کرنے والے لوگ وہ نہیں ہوتے جو بدکردار ہوں یا جو اپنے رب کو بھول جانے والے ہوں۔ اس کے برخلاف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نیک صفت لوگوں کے جانشینی اختیار کرتے ہیں لیکن وہ خیر اور بھلائی اور نیکی اور سچائی پر عمل نہیں کرتے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنی خواہشات کو ہی اپنا رب بنا لیا ہے لہذا ایسے لوگوں کو جلد ہی اس کی سزا مل کر رہے گی اور وہ قت دور نہیں بلکہ بہت قریب آلگا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ اگر ان لوگوں کے طرز عمل کوتم اختیار نہیں کرنا چاہتے جن سے باز پرس ہوگی اور جو خسارہ میں مبتلا ہونے والے ہیںتو تمہیں بھی چاہیے کہ:" نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جا گے"(الانعام:۲۷)۔یعنی وہیں سے تمہارا آغاز ہوا ہے اور وہیں اختتام،لہذا غور وفکر کرو اور جو مہلت میسر ہے اس سے بھرپور استفادہ کرلو، اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top