تذکرہِ حسنؓ و حسینؓ: بطور اصلاح

تذکرہِ حسنؓ و حسینؓ: بطور اصلاح

شہادت امام حسینؓ ایک تاریخ ساز واقعہ ہے جس کو نہ صرف اسلامی تاریخ میں بلکہ دنیا کی تاریخ میں بھی اہم مقام حاصل رہا ہے۔ یہ شہادت کیوں پیش کی گئی؟ اس کے اسباب کیا تھے؟کیا امام تخت و تاج کے لیے اپنے کسی ذاتی استحاق کا دعویٰ رکھتے تھے۔تاریخ کے بغور مطالعے سے جو چیز ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یزید کی ولی عہدی اور پھر اس کی تخت نشینی سے دراصل جس خرابی کی ابتدا ہو رہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور، اس کے مزاج اور اس کے مقصد کی تبدیلی تھی۔گرچہ اس کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے تھے لیکن ایک صاحب بصیرت انسان کی نگاہ دیکھ رہی تھی کہ اسلامی ریاست کس کروٹ تبدیل ہو رہی ہے۔اس کا راستہ بدل رہا ہے اور جس راہ پر وہ مڑ رہی ہے وہ آخر کار اسے کہاں لے جائے گی۔یہی رُخ کی تبدیلی تھی جسے امام نے دیکھا اور صحیح رخ پر ایک بار پھر لانے کی اپنی ساری سعی و جہد کر ڈالی، یہاں تک کہ جامِ شہادت پیش کر دی۔اسلامی ریاست کی اولین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ صرف زبان سے بلکہ اپنے عملی رویہ سے بھی اس عقیدہ اور یقین کا ثبوت پیش کیا جاتا ہے کہ ملک اللہ کا ہے،باشندے اللہ کی رعیت ہیں،اور حکومت اس رعیت کے معاملے میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔حکومت اس رعیت کی مالک نہیں اور رعیت اس کی غلا م نہیں۔لیکن یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہی کا مسلمانوںمیں آغاز ہوا اس میں اللہ کی بادشاہی کا تصور صرف زبانی تھا۔عملاً اس نے وہی نظریہ اختیار کیا جو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہ کا رہا ہے ۔یعنی ملک بادشاہ کا، رعیت کی جان، مال آبرو ہرچیز کا مالک بادشاہ ہے۔ اللہ کا نظام اگر عائد ہوگا تو عوام پر ، بادشاہ اس سے مستثنیٰ ہے۔

اسلامی ریاست کی سنگ بنیاد یہ تھی کہ حکومت لوگوں کی آزادانہ مرضی سے قائم ہو۔کوئی شخص اپنی کوشش سے اقدار حاصل نہ کرے۔بلکہ لوگ اپنے مشورے سے بہتر آدمی کو چن کر اقتدار اس کے سپرد کر دیں۔ بیعت حاصل ہونے میں آدمی کی اپنی کوئی کوشش یا سازش کا دخل نہ ہو۔ لوگ بیعت کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہوں۔ جب تک کسی آدمی کو بیعت حاصل نہ ہو وہ اقتدار میں نہ آئے اور جب سارے لوگوں کا اعتبار اس سے اٹھ جائے تو اقتدار سے چمٹا نہ رہے۔ خلفائے راشدین میں سے ہر ایک اسی قاعدے سے برسر اقتدار آیا۔ لیکن یزید کی ولی عہدی نے اس قاعدے کو الٹ دیا۔ اس سے خاندانوں کی موروثی بادشاہتوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد سے آج تک پھر مسلمانوں کی انتخابی خلافت کی طرف پلٹنا نصیب نہ ہو سکا۔ اب حکمران طاقت سے بر سر اقتدار آنے لگے، طاقت اور اقتدار سے بیعت حاصل کی جانے لگی۔ اسی جبری بیعت کو کالعدم قرار دیے جانے پر خلیفہ منصور کے زمانے میں امام مالکؒ کی پیٹھ پر کوڑے برسائے گئے اور ان کے ہاتھ شانوں سے اکھاڑوا دیئے گئے۔یہ ہے وہ ملوکیت اور خلافت کا فرق جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہاں بہت سے اہم نکتوں میں سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ خلافت میں حکومت مشورے سے کی جائے اور مشورہ ان لوگوں سے لیا جائے جن کے علم، تقویٰ اور اصابت رائے پر لوگوں کو اعتماد ہو،لیکن شاہی دور کا آغاز ہوتے ہی شورائی دور کا اختتام ہو گیا اور بادشاہ اپنی مرضی سے فیصلے کرنے لگے۔

تاریخ کی اہمیت:

کسی تاریخی واقعہ کی حقیقت اور اس کی اساس ہمیں تاریخ ہی سے حاصل ہوتی ہے ۔لہذا تاریخ کے بارے میں جستجو صرف فلسفیانہ اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اس کی بڑی زبردست عملی اہمیت ہے۔اس لیے کہ انسان کی ساری سعی و جہد کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے "کیوں"کا جواب حاصل کر لے بلکہ وہ یہ بھی جانناچاہتا ہے کہ کون سا طریقہ اور راستہ ایسا ہے جو اس کو زوال سے بچا سکے اور عروج کی طرف لے جائے ۔ یعنی انسان کی ساری تگ و دو کا مقصد صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ کل کیا تھا، کیوں تھا اور کیسے اس مقام تک پہنچا بلکہ کسی چیز کا تجسس انسان کے اندر اس لیے بھی پیدا ہوتا کہ وہ کل کے گزرے ہوئے لمحات میں ان کمیوں اور غلطیوں کو علیحدہ کردے جو اس کو ناکامی کی طرف لے جانے والی تھیں اور ان کی جگہیں ان چیزوں کو متبادل بنا دے جو اس کو آج کامیابی سے ہمکنار کرنے کا ذریعہ بننے ولی ہیں۔جس تہذیب اور قوم نے کسی زمانے عروج کی منزلیں طے کی تھیں وہ پچھلی چند صدیوں میں زوال کا شکار ہو گئی۔تمام سلطنتیں چھین لی گئیں یا یہ کہیں کہ اس کے حکمراں اس لائق نہیں رہے کہ ان سلطنتوں کے نظام کو چلا سکیں، ایسے میںاللہ نے اپنی دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے دوسروں کو اٹھا کھڑا کیا۔گو کہ وہ اسلامی، اخلاقی،روحانی بنیادوں پر کمزور صحیح لیکن ان میں یہ طاقت ٹھہری کہ دنیا کے نظام کو چلا سکیںاور برقرار رکھ سکیں۔آج مسلمانوں کے پاس لاکھوں کروڑوں ڈالر ہیں، بے شمار انسانی وسائل ہیں، دنیا کے بہترین خطے ہیں،پھر یہ لوگ دنیا کی اہم شاہراروں اور گزر گاہوں پر واقع ہیں، اس سب کے باوجود! پوری دنیا میں بے وزن ہیں۔یہ بات قابل غور ہی نہیں توجہ طلب بھی۔

تاریخ کی یہ داستان ہمارے لیے صرف علمی گفتگو اور فلسفیانہ کاوش کی حیثیت نہیں رکھتی۔بلکہ یہ دل چسپی ہمیں اس لیے بھی ہونا چاہیے کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آیا ہمارے مسیحا جو مشرق سے لے کر مغرب تک پھیلے ہوئے ہیں اور جو ہماری قوموں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان کے ہاتھوں کیا یہ امت مسلمہ اور یہ دنیاءانسانیت عروج کی منزل طے کر سکے گی۔کیا وہ ٹیکنا لوجی اور سائنس جس کو ہم لاکھوں کروڑوں ڈالر دے کر حاصل کر رہے ہیں، اس سے ہماری قومیں ترقی کی منزل طے کرلیں گی؟کیا معاشی ترقی کے ان پنج سالہ منصوبوں کے ذریعہ انسانیت کو اطمینان و سکون حاصل ہو سکے گا؟ان سارے نسخوں اور مسائل کے حل کی فل واقع حقیقت کیا ہے؟چنانچہ اس سوال کی اہمیت صرف علمی اور فلسفیانہ ہی نہیں، بلکہ عملی بھی ہے۔کیونکہ اس سے ہمارا نہ صرف ماضی یا حال بلکہ مستقبل بھی وابستہ ہے۔

قرآن کا نقطہ نظر:

قوموں کا عروج و زوال نہ مادی قوتوں پر منحصر ہے، نہ سائنس و ٹکنالوجی کا اس میں عمل دخل ہے اور نہ علمی ترقیوں پر ہی اس کا انحصار ہے۔بلکہ یہ خالصتاً اخلاقی اور معنوی اقدار کے اوپر منحصر ہے۔ یہ انسان کے اخلاقی کسب و اعمال کا نتیجہ ہے جس کے نتیجہ میں قومیں عروج و زوال کی طرف جاتی ہیں۔قرآن ِ حکیم میں جو قوموں کے عروج و زوال کا تذکرہ ہے وہ ایک فرد واحد کی زندگی سے بالکل مختلف ہے۔

فرد اس بات پر مجبور ہے کہ وہ موت کی طرف جائے اور اس میں اخلاقی زندگی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔اگر کوئی صالح ہوگا تو اس کو بھی موت آئے گی اور کوئی فاسق تو اس کو بھی موت۔لیکن قوموں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ قومیں لازماً موت سے ہمکنار نہیں ہوتیں۔ ان کی موت اس لیے واقع ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرتی ہیں، حالانکہ کہ فرد کی موت کا تعلق اس کے اپنے نفس پر ظلم کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی فطری موت مرتا ہے۔کسی قوم کا مِٹ جانا یا اس کی موت واقع ہونا ، ناگزیر عمل نہیں ہے جو اسے لازماً پیش آئے۔جس طرح کوئی فرد اپنی ذاتی زندگی میں اچھا بننا چاہے تو وہ بن سکتا ہے اور برا بننا چاہے تو برا بن سکتا ہے۔ اسی طرح قومیں بھی آزاد ہیںکہ وہ اچھائی کی روش پر چلنا چاہیں تو چل سکتی ہیں، ترقی کی راہیں طے کر سکتی ہیں، اخلاقی اور معنوی اقدار حاصل کر سکتی ہیں،اور اگر برائی کی طرف جانا چاہیں ، اپنے اوپر ظلم کریں،دنیا کے اندر ظلم و فساد کا دروازہ کھولیں، تو وہ تباہی کی طرف جا سکتی ہیں۔ اور یہ عمل ایسا بھی نہیں ہے کہ پلٹایا نہ جا سکے۔ آدمی جوان ہونے کے بعد بچہ نہیں بن سکتا ،اور بوڑھا ہونے کے بعد جوان نہیں، لیکن قومیں زوال پذیر ہونے کے بعد ایک بار پھر سر بلند ہو سکتی ہیں۔

اگر یہ بات صحیح نہ ہوتی تو انبیاءکرام کا اس قدر طویل سلسلہ نہ ہوتا۔وہ گمراہ لوگوں کو ہدایت کی تبلیغ نہ کرتے، اندھیروں سے اجالے کی طرف لوٹانا اور معصیت کے کاموں سے چھٹکارا دلانا ان کا مقصد نہ ہوتااور بگڑی ہوئی قوموں کے سامنے اپنا پیغام لے کر نہ کھڑے ہوتے۔وہ جانتے تھے کہ یہ نسخہ ایسا ہے جس سے کوئی قوم خواہ کتنی ہی نیچے گر چکی ہو، اگر وہ چاہے تو دوبارہ عروج کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔انھوں نے قوموں سے یہ وعدہ کیا اور خوشخبری بھی دی کہ اگر تم نے اپنی اصلاح کر لی یا تم اس کے لیے تیار ہو گئے ، تو تم خواہ کتنے ہی نچلے درجہ میں کیوں نہ چلے گئے ہو تم ہی کامیاب ہوگے اور سر خروئی تمہارے قدم چومے گی۔خود نبی کریم نے عرب کو یہ پیغام سنایا کہ اگر تم نے میری دعوت قبول کر لی تو تم عرب اور عجم دونوں کے مالک بن جا گے۔اور دیکھنے میں آیا کہ سائنس و ٹیکنالوجی سے عاری لوگ دنیا کے امام بن گئے۔قرآن نے اس بات کو مختلف پیرایہ بیان کیا ہے۔ کہا کہ: فَہَل یُہلَکُ الَّا ا لقَوم ُ الفٰسِقُونَ (الا حقاف ۶۴:۵۳) "اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟"۔وَتِلکَ القُرٰٓی اَھلَکنٰھُم لَمَّا ظَلَمُوا (الکھف ۸۱:۹۵) "یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں، انھوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا"۔اور کہا کہ : ظَھَرَ الفَسَادُ فِی البَرّ وَ البَحرِ بِمَا کَسَبَت اَیدِی النَّاسِ (الروم ۰۳:۱۴) "خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے"۔ معلوم ہوا یہ فساد کی لوگوں کی بد اعمالیوںکی وجہ سے برپا ہوا اور اس کے علاوہ کوئی اور وجہ نہ تھی۔ قوم ِ عاد کا تذکرہ اس طرح کیا گیا: عاد کو دیکھو، جب انھوں نے یہ نعرہ بلند کیا کہ مَن اَشَد قُوَّةً مِناَّ "ہم سے طاقت ور کون ہے؟" اور وہ اس غرور کے اندر آگئے تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔قوم ِ عاد پر خدا کی پھٹکار پڑنے اور ان کو دور پھینکنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ کہاکہ : "یہ ہیں عاد ، اپنے رب کی آیات سے انھوں نے انکار کیا، اس کے رسولوں کی بات نہ مانی، اور ہر جبار دشمنِ حق کی پیروی کرتے رہے"(ھود ۱۱:۹۵)۔لہذا یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جس قوم کو بھی زوال و تباہی سے سابقہ پیش آیا، وہ بس اس لیے کہ اس نے اللہ کے احکامات سے بغاوت کی، ظلم و نا انصافی کو فروغ دیا اور اس طریقہ کی پیروی کی جو بدکردار لوگوں کا رہا ہے۔کہا کہ: "اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال دیتا ہے۔وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفر ان شروع کر دیا۔ تب اللہ نے اس کے باشندوں کو ان کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں"(النحل ۶۱:۲۱۱)۔غور فرمائیے کہ ایک ایسی قوم جس کے لیے ہر طرف سے دروازے کھلے ہوئے تھے، معاشی ترقی کی بے انتہا عروج پر تھی، مزید یہ کہ اطمینان اور امن و امان قائم تھا یعنی لاءاینڈ آڈر کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی تھی، ملک کا نظام مستحکم تھا۔لیکن ان کی کفران نعمت کی غلطی نے ان کو ہلاک کر دیا۔ کفرانِ نعمت اس طرح ہی نہیں ہوا کرتا کہ لوگ اللہ کا زبان سے شکر ادا نہ کریں بلکہ کفرانِ نعمت یہ ہے کہ اللہ نے جو بے انتہا وسائل فراہم کیے ہیں ان کو اللہ کی مرضی کے خلاف استعمال میں لاکر اُس ربِ اعلیٰ کی زمین پر اس کے احکامات کی خلاف ورزی کی جائے۔ بس یہی وجہ بنی کہ اس بستی کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان پر مصیبتیں ٹوٹ پڑیں، امن کی جگہ خوف طاری ہو گیا اور بھوک اور پیاس میں وہ مبتلا کر دیے گئے۔غور فرمائیں آج امت مسلمہ کی صورتحال کیا ہے؟

قبولیتِ عبادات :

قرآن حکیمکہتا ہے"اور انھیں آدم ؑ کے دو بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھیک سنا دو۔جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا :میں تجھے مارڈالوں گا۔اس نے جواب دیا:اللہ تو متقیوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے"(المائدہ:۸۲)۔یہ ہے وہ معیار جس پر پورے اترنے والوں کی قربانی قبول کی جائے گی ۔جس میں ایک بات یہ کہ وہ متقی ہو ںاور دوسری یہ کہ وہ قربانی دینے میں مخلص ہوں،اور یہ اخلاص ہر نہج پر ضروری ہے ۔ سب سے پہلے ہم اللہ کے لیے مخلص ہوں، اپنے نبی کے لیے مخلص ہوں، اپنے دین کے لیے مخلص ہوں، اپنی امت کے لیے مخلص ہوں اور ان سب سے پہلے اپنی ذات کے لیے مخلص ہوں۔ ذات کے لیے مخلص، یعنی ہم اس بات پر یقین رکھنے والے ہوں کہ ہماری ذات کے ذریعہ انجام دیا جانے والا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے لیے ہی انجام دیا جائے گا اور ہر کام سے رکنا اس بنا پر ہوگا کہ اللہ ہم کو رکنے کا حکم دیتا ہے۔اس تصورکے ساتھ انجام دی جانے والی ہر قربانی انشااللہ قبول ہوگی اور وہ ہمیں دنیا و آخرت میں مقبولیت کی منزلیں طے کروائے گی۔کہا کہ "اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں"(البقرہ:۹۶۲)۔مزیدکہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو:"عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے"(البقرہ:۵۸۲)۔پہلی خوبی: وہ عقل رکھتے ہیں، نہ صرف عقل رکھتے ہیں بلکہ عقل کا استعمال ان ہدایات کی روشنی میں کرتے ہیںجو ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئیں ہیں۔ دوسری خوبی : جب ان کے پاس نصیحت آجاتی ہے تو وہ اس کو قبول کرنے سے گریز نہیں کرتے ،تذبذب میں مبتلا نہیں ہوتے،کاہلی اور تساہلی سے بچتے ہیں،یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی قربانیاں قبول کی جاتی ہیں۔اورتیسری خوبی یہ کہ ان لوگوں کو یقینِ کامل ہے کہ آخر کار اس زندگی کا اختتام ہونا ہے، آخرت کا دن آنا ہے، جزا اور سزا ملنی ہے، اور یہی وجہ ہے جس کے سبب وہ اللہ رب العالمین سے بخششیں طلب کرتے ہیں۔پھر کہا کہ "اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہو سکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیااور وہ نیکوکار بھی ہے۔اور ابراہیم ؑکے دین کا پیرو ہے جو یکسو(مسلمان)تھے اور خدا نے ابراہیم ؑ کو اپنا دوست بنایا تھا" (المائدہ:۵۲۱)۔یہ وہ کسوٹی ہے جس پر ہر فرد اپنی ذات اور اپنی عبادات کامکمل جائزہ لے سکتا ہے ۔اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر پرکھ کر یہ بات بھی معلوم کی جا سکتی ہے کہ آیا ہماری عبادات قبول ہونے کے لائق ہیں یا نہیں!کہا کہ "زمین و آسمان کی ہر چیز کا اسے علم ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، سب اس کو معلوم ہے ، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے"(البقرہ:۳۳)۔

تذکرہ بطور اصلاح :

جس طرح ایک انسان کی رواں دواں زندگی کے لیے ضروری ہے کہ اس کو بھرپور غذا ملتی رہے ٹھیک اس ہی طرح ایک مسلمان کے دین، اس کی فکر، اس کی نظراور اس کے اعمال کو صحیح رخ پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان ایمانی غذاں کا استعمال کرتا رہے جو اس کو وقتاً فوقتاًتقویت پہنچانے والی ہیں۔ یہ ایمانی غذا اُس صورت ہی میں حاصل ہو سکتی ہے جبکہ وہ اس کا شعوری طور پر اہتمام کرے۔ اس کے لیے جہاں دن میں پانچ مرتبہ اللہ رب العزت کے سامنے حاضری ایک ذریعہ ہے تو وہیں اللہ کا ذکر اور اُس کی عبادات کو ہر لمحہ بجا لانا بھی معاون و ممدو ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اہتمام بندہ مومن خوشی اور غم کے ہر موقع پر کرتا ہے۔ یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کی جانب یہ واقعہ شہادت امام حسین ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

یہ وہ موقع ہے جب کہ تذکرہ امام حسن ؓو حسین ؓکے ساتھ ساتھ ایک بڑے مقصد کے لیے عزم مسمّم کا عہد کیا جاتاہے۔قربانی کے اعلیٰ ترین نمونہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اپنی جان اور مال اور صلاحیتوں کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ عہد صرف زبانی حد تک ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات انسان کے ظاہر و باطن دونوں پر پڑتے ہیں۔ اس طرح اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف مسلمانوں کو قوت حاصل ہوتی ہے جو ان کے اندر خدا پرستی کی توانائیاںتازہ بہ تازہ داخل کرتی رہتی ہیں تاکہ وہ برابر چست رہیں، فعال رہیں اور ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے صراط مستقیم پر قائم ہو جائیں۔کائنات اور اس کی ہر شے مستقل حرکت پذیر ہے اُس میں ٹھہرا نہیں اگر اس میں ٹھہرا آ جائے تو یہ دنیا تباہ ہو سکتی ہے ٹھیک اسی طرح بندہ مومن ہر آن اپنے ایمان کو تازہ دم رکھنے میں متحرک رہتا ہے ۔یہی نشانی ہے اس بات کی کہ اس کی فکر اور اس کا عمل منجمد نہیں، اگر ایسا ہوا تو یہ اس کی ہلاکت اور بربادی کا نتیجہ ہوگی۔نبدہ مومن اللہ کے رسول ،آپ کے صحابہ اور ان کی امت سے منسلک ہر اس فرد کی زندگی سے استفادہ کرتا ہے جو اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہو ، یا رہا ہو۔یہی تحریک امام حسن اور امام حسین کی زندگی سے بھی ہمیں ملتی ہے ۔آپ کے سامنے سیاسی حالات نے آنکھیں دکھائیں،وطنی مفاد آڑے آئے،وقت اور ماحول نے ساتھ دینے سے انکار کیا،مصلحتوں نے دامن پکڑا، مشکلات نے راستہ روکا،ہلاکتوں کا طوفان نمودار ہوا۔لیکن آپ نے اپنی آواز میں پستی نہ آنے دی۔ آپ نے خلافت و ملوکیت کے درمیان دیوار کھینچ دی اور ثابت کردیا کہ عقیدہ کی پختگی سے ایک مسلمان کی راہ ہموار ہوتی ہے اور راس کی زندگی سے کاوٹیں دور ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔کیونکہ مومنین کو اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر متنبہ کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ:"اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوشنما بنا دی گئی ہے اور وہ مومنین سے تمسخر کرتے ہیں۔لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے"(البقرہ:۲۱۲)۔قربانیاں ہمارے ایمان کو تازہ رکھنے میں مدد گار ہوتی ہیں۔

آئیے عہد کرئیے اور اٹھ کھڑے ہوئیے اس عزم کے ساتھ کہ ہم اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی زندگی کے شب و روز میں قربانیاں دیں گے اور اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر قائم کرنے والوں میں شمار ہوں گے ۔کہا کہ : "ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو"(آل عمران ۳:۰۲۱)۔معلوم ہوا کہ ہماری تعداد، ہمارے وسائلِ ترقی ہمارے کام نہیں آئیں گے جب تک کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس اللہ کا تقویٰ نہ ہو اور ہم صبر کرنے والے شمار نہ کیے جاتے ہوں۔ منھ پر تمانچہ کھاکر صبر کرنے والے صابر نہیں کہلائے بلکہ اپنے مقصد ِ وجود کے حصول کے لیے تمام تر رکاوٹوں اور آزمائشوں کے باوجود قدم آگے بڑھاتے چلے جانے والے ہی صابر لوگ ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم ان لوگوں میں شمار نہ ہوں جو تذکرہ بطور تذکرہ کیا کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں میں ہمارا شمار کیا جائے، جو تذکرہ بطور اصلاح کیا کرتے ہیں، جو اپنی ذات پر ہر لمحہ نظر رکھتے ہیں اور اس کے ذریعہ انجام دیے جانے ہر عمل کی اللہ کے سامنے جوابدہی کے لیے تیار رہتے ہیں،کیونکہ فکرِ جوابدہی انسان کو بلندیاں عطا کرتی ہے اور یہ حصولِ بلندی اور سرخروئی ہی ہمارا نصب العین ہے!

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top