قومی سلامتی اور جنرل وی کے سنگھ

قومی سلامتی اور جنرل وی کے سنگھ

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک اورشہریوں کی بقا و سلامتی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ نہ صرف باہری خطروں سے بلکہ اندورنی خطروں سے بھی بچا کی پالیسی اپنائی جائے۔گرچہ اس تعلق سے تمام ہی ممالک فکر مند رہتے ہیں اس کے باوجود سربرانِ ممالک عدم سلامتی کا تذکرہ کرتے ہیں اور یہ عدم ِ سلامتی کا تذکرہ ہی ان کو محاسبہ کی جانب راغب کرتا ہے۔ عدم سلامتی کے تذکرے کے نتیجے میں اور موجودہ صورتحال اور ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہتری لانے کی ہر ممکن سعی و جہد کی جاتی ہے۔جہاں ایک طرف پرانی ٹیکنالوجی کو ہٹا کر نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے وہیں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کرنے والوں میں عزم و حوصلہ، قوت و شجاعت اورپامردی بڑھانے کی بھی کوشش ہوتی ہے۔یہی وہ دونوں چیزیں ہیں جن کے ملنے سے ملک کی بقا و سلامتی برقرار رہتی ہے،دشمن سے مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے،امن و امان برقرار رہتا ہے،تحفظ کرنے والے افراد اور اداروں پر یقین مستحکم ہوتا ہے۔ ملک میںفساد و بد امنی پر قابو پایا جاتا ہے، غربت کا ازالہ ہوتا ہے اور معاشی طور پرملک اور اہل ملک ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔

حالیہ دنوںہندوستانی بری فوج اور اس کے سربراہ کی کارکردگی:

یہ بات نہ صرف قابل تشویش بلکہ افسوس ناک حد تک افشاں ہو چکی ہے کہ آئندہ ماہ کے اواخر میں سبکدوش ہونے والے فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ اور حکومت کے درمیان اختلافات اورگہرے ہوتے جا رہے ہیں۔جنرل وی کے سنگھ ملک کے ایسے پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہوں اپنی تاریخ پیدائش کو لے کر حکومت کے موقف کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔اس کے باوجود بھارتی وزیر دفاع اے کے اینٹونی کا کہنا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کا تنازع فوج کے اپنے ریکارڈ کے سبب ہے اور فوج اور حکومت میں کوئی ٹکراو نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے ’گزشتہ چھتیس برس سے ایک فوج کے دو شعبوں نے دو تاریخ پیدائش کا ریکارڈ رکھا ہے اور اسی لیے یہ تنازع ہے۔‘ایک دوسرے معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے جنرل سنگھ نے یہ سنسنی خیز الزام لگایا تھا کے بھارتی فوج کے ایک سابق جنرل نے دفاعی آلات کے ایک سودے کی منظوری کے عوض انہیں چودہ کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔اس الزام کی روشنی میں اے کے اینٹونی نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنرل سنگھ نے انہیں بتایا تھا کہ ستمبر دو ہزار دس میں فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ نے ٹرکوں کی خرید کے ایک سودے کی منظوری کے بدلے انہیں کروڑوں روپے دینے کی پیش کش کی تھی۔لیکن وزیر دفاع نے پیر کو جنرل سنگھ کے بیانات کے بعد جامع انکوائری کے لیے یہ معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو کے سپرد کر دیا ہے حالانکہ اب بھی انہیں کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔خط کے افشاءکو لے کر وی کے سنگھ نے کہا ہے وزیراعظم منموہن سنگھ کو تحریر کیے گئے خط کو افشاءکرنے میں ان کا ہاتھ نہیں ہے اور اس طرح کے خط کو ظاہر کرنا ملک کے ساتھ بغاوت کے مترادف ہے۔انہوں نے مزیدکہا ہے کہ ایسا کرنے والے کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور اسے سزا ملنی چاہیئے۔

اخبارات میں شائع خبروں کے مطابق ہندوستانی فوجی سربراہ نے وزیر اعظم کے نام مبینہ خط میں لکھا تھا کہ تقریباً پورا کا پورا جنگی ٹینکوں کا بیڑا انتہائی اہم اسلحہ جات سے اس قدر خالی ہے کہ اس سے دشمن کو مات نہیں دی جا سکتی ہے۔خبروں میں کہا گیا ہے کہ فوجی سربراہ نے لکھا ہے کہ فضائی دفاع ’ستانوے فی صد تک ناکارہ ہے‘ اور بری فوج ’جوانوں اور اسلحوں کی کمی کا شکار ہے‘۔انھوں نے ضابطوں اور سامانوں کے حصول میں تاخیر اور قانونی پیچیدگیوں میں بھی ایک قسم کے ’خالی پن‘ کا خط میں ذکر کیا ہے۔ ایوان بالامیں وزیر دفاع نے ایوان اور ملک کو یقین دہانی کرائی ہے کہہندوستانی فوج کی تیاریاں مضبوط رہی ہیں اور آئندہ بھی یہ مستحکم رہیں گی۔راجیہ سبھا میں حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے اے کے انٹونی نے کہا کہ ’ایسے خطوط کو عام نہیں کیا جا سکتا، کانفیڈنشیل یعنی مخفی خط و کتابت کو شائع کرنا ہمارے دفاعی مفاد اور ملک و قوم کے حق میں نہیں ہے۔ ایوان بالا میں حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے مبینہ خط میں ظاہر کی گئی فوجی ضروریات کی عدم فراہمی پر تشویش ظاہر کی۔اور کہا کہ اس خط کو سر عام بحث کا معاملہ نہیں بنایا جانا چاہیے، لیکن ہتھیاروں کی خرید کے بارے میں میڈیا میں تشویش ناک خبریں شائع ہوئی ہیں۔انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی یقین دہانی کی جانی چاہیے کہ اس میں کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ دوسری تشویش ہماری دفاعی تیاریوں کے بارے میں ہے، میڈیا میں دفاع سے متعلق تشویشناک خبریں آ رہی ہیں۔

واقعہ کے پس منظر اور ملک کی موجودہ صورتحال کی روشنی میںآج ایک اہم ترین سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیاملک میں ہو رہے واقعات کہ جن پر تبادلہ خیال کرنے اور اختلاف رائے کے اظہار کرنے سے ملک کی شبیہ بگڑنے کی امید ہے وہ "شبیہ"زیادہ اہمیت کی حامل ہے یا ملک میں پھیلی بد امنی اور کرپشن ؟عوام کا ماننا ہے کہ ملک میں پھیلی بد امنی زیادہ نقصان دہ ہے گرچہ ملک کی شبیہ بھی کچھ کم اہمیت کی حامل نہیں۔صورتحال یہ ہے کہ رشوت، جعل سازی اور کرپشن نے ملک کی جڑیں کھوکلی کر دی ہیں۔لہذا جہاں ایک جانب عالمی منظر نامہ پر ملک کی صاف ستھری شبیہ پیش کرنے کی ضرورت ہے وہیں دوسری جانب ملک کی اندورنی حالت میں بھی سدھار لانا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے ۔اس کے لیے لازم ہے کہ کرپشن اور کالے دھن پر مکمل روک لگائی جائے،کرپٹ سیاست دانوں کومنظر عام پرآنے سے روکا جائے اور ساتھ ہی اُن کی پشت پناہی میں جو لوگ سرگرم ہیں ان پر بھی قانونی کاروائی کی جانی چاہیے۔توقع ہے یہ کارروائی نہ صرف ملک کے مستحکم ہونے میں مدد گار ثابت ہوگی بلکہ عالمی منظر نامہ پر بھی ملک کی شبیہ ایک صاف ستھرے ملک کی بن جائے گی ۔ایک ایسے ملک کی جہاں عوام اور عوامی نمائندوں کے درمیاں اعتماد کی بحال پائی جاتی ہو۔اور ان افرادقدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گاجو ملک کی بقا و سلامتی کے لیے سرگرمِ عمل رہتے ہیں!

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top