یوم نکبہ:۱۵ مئی۱۹۴۸ء


اے عرضِ مقدسِ فلسطین!
یوم نکبہ:15 مئی 1948ء
        پچاسی سالہ یہودی خاتون اَوی تال بن خورِین ۳۲۹۱ءمیں جرمن شہر Eisenach میں پیدا ہوئیں۔ تب ان کا نام ایرِیکا فاکن ہائیم تھا۔ نو عمری ہی میں انہیں اپنے یہودی مذہب اور صیہونیت کے ساتھ لگاو پیدا ہو گیا تھا۔ جرمنی میں نازی سوشلسٹوں کے برسرِ اقتدار آنے کے تین سال بعد ہی اِس یہودی لڑکی نے جرمنی چھوڑنے اور فلسطین جانے کا فیصلہ کیا۔"میں نے تیرہ سال کی عمر میں نقل مکانی کی اور یہاں آ کر فلسطینی شہریت اختیار کر لی۔ یہ۶۳۹۱ءکی بات ہے"۔حائفہ کی بندرگاہ پر اترنے کے بعد اَوی تال جرمن تارکین وطن کے قائم کردہ قصبے کِیریات بیالِیک میں پہنچیں، جہاں نو عمر یہودیوں کے لئے ایک یوتھ ہوسٹل موجود تھا۔ جب نومبر۷۴۹۱ئ میں فلسطین کی تقسیم سے متعلق اقوامِ متحدہ کا فیصلہ سامنے آیا اور ایک سال بعد ریاست اسرائیل قائم ہوئی تو اَوی تال یروشلم میں تھیں۔ اِسی دوران ان کی جرمن شہر میونخ سے تعلق رکھنے والے مذہبی فلسفے کے ماہر شالوم بن خورِین کے ساتھ شادی بھی ہو چکی تھی۔ اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں:"تب یہاں جشن کا سا سماں تھا کہ اب ہماری اپنی ایک ریاست ہو گی۔ یہ بہت ہی چھوٹی سی ریاست تھی لیکن ہم نے سوچا کہ چھوٹی سہی، پَر اپنی تو ہے"۔دوسری جانب۴۱مئی۸۴۹۱ئ کے دن سے ہی فلسطینیوں کی گھر بدری کا عمل شروع ہو گیا۔ وہ اِسے یومِ نقبہ یا آفت کا دِن قرار دیتے ہیں۔ اس روز جن فلسطینی خاندانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، ان میں سے ایک خاندان فواض ابو سِتہ کا تھا، جو آج کل غزہ میں رہتے ہیں۔" میرا تعلق ایک بدّو قبیلے سے ہے اور ہم بِیر شے وا کے علاقے میں رہا کرتے تھے، جس کی سرحدیں غزہ سے ملتی تھیں۔ لیکن جب انیس سو سینتالیس اڑتالیس کا دَور آیا تو دیکھتے ہی دیکھتے پورے ابو سِتہ قبیلے کو زبردستی اس گاوں سے نکال دیا گیا۔اِس گاوں پر تین اطراف سے حملہ کیا گیا۔ قبیلے کے چار سو سے زیادہ اراکین نے بھاگ کر نواحی غزہ میں پناہ لی۔ یہیں پر۳۵۹۱ءمیں فواض کا جنم ہوا۔ اس کی پرورِش ایک ایسے مہاجر کے طور پر ہوئی، جسے امید تھی کہ ایک روز وہ اپنے قبیلے کے پرانے علاقے میں لَوٹ کر ضرورجائے گا۔ لیکن کئی برس جرمنی میں رہنے کے بعد، جہاں اس کی شادی بھی ایک جرمن خاتون سے ہوئی، فواض کی انپے آبائی وطن واپسی کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں!
تاریخ فلسطین و اسرائیل:
        یہ وہی مقامِ قبلہ اول ہے جس کی طرف رخ کرکے رسول اللہ نے ساڑھے چودہ برس تک نماز پڑھی ہے۔اور یہ وہی بنی اسرائیل ہیں جو تقریباً تیرہ سو برس قبل مسیح اس علاقے میں داخل ہوئے تھے اور دو صدیوں کی مسلسل کشمکش کے بعد بالآخر اس پر قابض ہو گئے تھے۔بنی اسرائیل نے اُن قوموں کا قتل کرکے اس سر زمین پر اسی طرح قبضہ کیا تھا جس طرح انگریزوں نے سرخ ہندیوں(Red Indians)کو فنا کرکے امریکہ پر قبضہ کیا۔آٹھویں صدی قبل مسیح میں اسیریا نے شمالی فلسطین پر قبضہ کرکے اسرائیلوں کا بالکل قلع قمع کر دیا اور ان کی جگہ دوسری قوموں کو لابسایا جو زیادہ تر عربی النسل تھیں۔چھٹی صدی قبل مسیں میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے جنوبی فلسطین پر قبضہ کرکے تمام یہودیوں کو جلاوطن کر دیا۔ بیت المقدس کی انیٹ سے انیٹ بجادی اور ہیکل سلیمانی(Temple of Solomon)کو جسے دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کرایا تھا، اس طرح پیوند خاک کر دیا کہ اس کی ایک دیوار بھی اپنی جگہ قائم نہ رہی۔ ایک طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد ایرانیوں کے دور حکومت میں یہودیوں کو پھر سے جنوبی فلسطین میں آکر آباد ہونے کا موقع ملا اور انھوں نے بیت المقدس میں دوبارہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی۔۰۷ءمیں یہودیوں نے رومی سلطنت کے خلاف بغاوت کی جس کی پاداش میں بیت المقدس کے شہر اور ہیکل سلیمانی کو بالکل مسمار کر دیا گیااور پھر ایک دوسری بغاوت کو کچل کر ۵۳۱ءمیں رومیوں نے پورے فلسطین سے یہودیوں کو نکال باہر کیا۔اسلام کی آمد سے قبل یہ پورا علاقہ عربی قوموں سے آباد تھا، بیت المقدس میں یہودیوں کا داخلہ تک رومیوں نے قانوناً ممنوع کر رکھا تھا اور فلسطین میں بھی یہودی آبادی قریب قریب ناپید تھی۔اس کے باوجود یہودیوں کا آج بھی یہ دعویٰ ہے کہ فلسطین ان کے باپ دادا کی میراث ہے جو خدا نے انہیں عطا فرمائی ہے۔ اور نہیں حق پہنچتا ہے کہ اس میراث کو بزورقوت حاصل کرکے اس علاقے کے قدیم باشندوں کو اسی طرح نکال باہر کریں اور خود ان کی جگہ بس جائیں جس طرح تیرہ سو برس قبل مسیح میں انھوں نے کیا تھا۔اس تعلق سے مشہور یہودی فلسفی موسیٰ بن میمون(Maimon Ides)نے اپنی کتاب"شریعت یہود"(The Code of Jewish Law)میں صاف صاف لکھا ہے کہ ہر یہودی نسل کا یہ فرض ہے کہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کو از سر نو تعمیر کرے۔ہیکل سلیمانی کے متعلق یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ اسے ۰۷ءمیں بالکل مسمار کر دیا گیا تھا اور حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب بیت المقدس فتح ہوا اس وقت یہاں یہودیوں کا کوئی معبد نہ تھا بلکہ کھنڈر پڑے ہوئے تھے۔یہ بات بھی تاریخ ہی ہمیں بتاتی ہے کہ رومیوں کے زمانے میں فلسطین یہودیوں سے خالی کرالیا گیا تھا اور بیت المقدس میں تو ان کا داخلہ بھی ممنوع تھا۔پچھلی تیرہ چودہ صدیوں میں یہودیوں کو اگر کہیں امن نصیب ہوا ہے تو وہ صرف مسلمان ملک تھے۔ ورنہ دنیا کے ہر حصے میں جہاں بھی عیسائیوں کی حکومت رہی وہاں وہ ظلم و ستم کا نشانہ ہی بنتے رہے۔یہودیوں کے اپنے مورخین خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی تاریخ کا سب سے زیادہ شاندار دور وہ تھا جب وہ اندلس میں مسلمانوں کی رعایا کی حیثیت سے آباد تھے۔
اقوام متحدہ کا کردار:
        پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ڈاکٹر وائز مین جو اس وقت یہودیوں کے قومی وطن کی تحریک کا علبردار تھا،انگریز حکومت سے اس نے وہ مشہور پروانہ حاصل کر لیا جو اعلان بالفور کے نام سے مشہور ہے۔اعلان بالفور کے وقت فلسطین میں یہودیوں کی کل آبادی پانچ فیصد بھی نہ تھی۔اس موقع پر لارڈ بالفور اپنی ڈائری میں لکھتا ہے:"ہمیں فلسطین کے متعلق کوئی فیصلہ کرتے ہوئے وہاں کے موجودہ باشندوں سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صیہونیت ہمارے لیے ان سات لاکھ عربوں کی خواہشات اور تعصبات سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو اس قدیم سرزمین میں اِس وقت آباد ہیں"۔بالفور کی ڈائری کے یہ الفاظ آج بھی برطانوی پالیسی کی دستاویزات (Documents of British Policy)کی جلد دوم میں ثبت ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ ۷۱۹۱ءمیں یہودی آبادی جو صرف ۲۵ہزار تھی وہ پانچ سال میں بڑھ کر ۳۸ ہزار کے قریب ہو گئی۔۲۲۹۱ءسے ۹۳۹۱ءتک ان کی تعداد ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی ۔جنگ عظیم دوم کے زمانے میں ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے یہودی ہر قانونی اور غیر قانونی طریقے سے بے تحاشہ فلسطین میں داخل ہونے لگے۔صیہونی انجیسی نے ان کو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں فلسطین میں گھسانا شروع کر دیا اور مسلح تنظیمیں قائم کیں جنھوں نے ہر طرف ماڑدھاڑ کرکے عربوں کو بھگانے اور یہودیوں کو ان کی جگہ بسانے میں سفاکی کی حد کر دی۔اب ان کی خواہش تھی کہ فلسطین کو یہودیوں کا "قومی وطن"کی بجائے "قومی ریاست"کا درجہ حاصل ہو جائے۔۷۴۹۱ءمیں برطانوی حکومت نے فلسطین کا مسلہ اقوام متحدہ میں پیش کر دیا۔مطلب یہ تھا کہ مجلس اقوام(لیگ آف نیشنز) نے صیہونیت کی جو خدمت ہمارے سپرد کی تھی وہ ہم انجام دے چکے ہیں۔ اب آگے کا کام اس آنجہانی مجلس کی نئی جانشین اقوام متحدہ انجام دے۔نومبر ۷۴۹۱ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔اس کے حق میں ۳۳ ووٹ اور اس کے خلاف۳۱ ووٹ تھے۔ دس ملکوں نے کوئی ووٹ نہیں دیا۔آخر کار امریکہ نے غیر معمولی دبا ڈال کرہائیٹی، فلپائن اور لائیریا کو مجبور کرکے اس کی تائید کرائی۔یہ بات خود امریکن کانگریس کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہ تین ووٹ زبردستی حاصل کیے گئے تھے۔جیمز فورسٹال(Forestal)اپنی ڈائری میں لکھتا ہے :"اس معاملہ میں دوسری قوموں پر دبا ڈالنے اور ان کو ووٹ دینے پر مجبور کرنے کے لیے جو طریقے استعمال کیے گئے وہ شرمناک کارروائی کی حد تک پہنچے ہوئے تھے"۔
یوم نکبہ:
         تقسیم کی جو تجویز ان ہتھکنڈوں سے پاس کرائی گئی اس کی رو سے فلسطین کا ۵۵ فیصد رقبہ ۳۳ فیصد یہودی آبادی کو، اور ۵۴ فیصد رقبہ ۷۶ فیصد عرب آبادی کو دیا گیا۔حالانکہ اس وقت تک فلسطین کی زمین کا صرف ۶فیصد حصہ یہودیوں کے قبضے میں آیا تھا۔یہودی اس تقسیم سے بھی راضی نہ ہوئے اور انہوں نے مار دھاڑ کرکے عربوں کو نکالنا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔آرنلڈ تائن بی اپنی کتابA Study of Historyمیں لکھتا ہے کہ:وہ مظالم کسی طرح بھی ان مظالم سے کم نہ تھے جو نازیوں نے خود یہودیوںپر کیے تھے۔دیریا سین میں ۹اپریل ۸۴۹۱ءکے قتل عام کا خاص طور پر اس نے ذکر کیا ہے جس میں عرب عورتوں ،بچوں اور مردوں کو بے دریغ موت کے گھاٹ اتارا گیا۔عرب عورتوں اور لڑکیوں کا برہنہ جلوس نکالا گیا اور یہودی موٹروں پر لاڈ اسپیکر لگاکر جگہ جگہ یہ اعلان کرتے پھررہے تھے کہ:"ہم نے دیریا سین کی عرب آبادی کے ساتھ یہ اور یہ کیا ہے، اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو تو یہاں سے نکل جا"۔ان حالات میں۴۱مئی۸۴۹۱ءکو عین اس وقت جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کے مسلہ پر بحث کر رہی تھی، یہودی ایجنسی نے رات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور سب سے پہلے امریکہ اور روس نے آگے بڑھ کر اس کو تسلیم کیا۔ حالانکہ اس وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی قومی ریاست قائم کرنے کا مجاز نہ کیا تھا۔اس اعلان کے وقت تک ۶ لاکھ سے زیادہ عرب گھر سے بے گھر کیے جا چکے تھے اور اقوام متحدہ کی تجویز کے بالکل خلاف یروشلم(بیت المقدس) کے آدھے سے زیادہ حصے پر اسرائیل قبضہ کر چکاتھا۔پس یہی ہے وہ منحوس دن جس کو تاریخ ِ فلسطین میں یوم نکبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
صورتحال کے پس منظر میں:
        انسان کی فطرت میں یہ بات پیوست ہے کہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ جیئے ،اگرا یسا نہ ہو تو وہ احساس کمتری کے مرض (Inferiority complex)میں مبتلا ہو جائے گا۔عزت و وقار کی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسانوںکے بنیادی حقوق صلب نہ کیے جائیں۔سوشل سائنٹسٹ کہتے ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے معاشرتی زندگی عطا کی ہے،وہ رہبانیت کا شکار نہیں ہو سکتا۔اسی بات کو اسلام بھی زور دے کر کہتا ہے کہ معاشرے سے الگ تھلگ زندگی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔مزید یہ کہ معاشرے میں رہتے ہوئے بھی انفرادی نہیںبلکہ اجتماعی زندگی کی ترغیب دی گئی۔اور اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے رسول اللہ فرماتے ہیں:"تم مومنوں کوآپس میں ایک دوسرے سے رحم کامعاملہ کرنے ایک دوسرے سے محبت وتعلق رکھنے اورایک دوسرے کے ساتھ مہربانی ومعاونت کاسلوک کرنے میں ایساپا گے جیساکہ بدن کا حال ہے کہ جب بدن کاکوئی عضو دکھتاہے توبدن کے باقی اعضاءاس ایک عضو کی وجہ سے ایک دوسرے کوپکارتے ہیں اوربیداری وبخار کے تعب ودرد میں ساراجسم شریک رہتاہے"۔(بخاری و مسلم)۔ یہی بات اس طرح بھی کہی :" ایک خدا ایک رسول اورایک دین کوماننے کی وجہ سے سارے مسلمان ایک شخص کی مانند ہیں کہ اگراس کی آنکھ دکھتی ہے تواس کاساراجسم بے چین ومضطرب ہوجاتاہے اوراس کاسر دکھتاہے توپورابدن تکلیف محسوس کرتاہے اسی طرح ایک مسلمان کی تکلیف کوسارے مسلمانوں کومحسوس کرناچاہیے"(مسلم)۔لہذا فطری تقاضے کی بنیاد پراور اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ہمارے لیے لازم ہوتا ہے کہ غاصب یہودیوں کے ناپاک منصوبوںکو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا جائے۔اُن کی چالاکیوں،عیاریوں اور متشددانہ ظلم و ستم کے خلاف ایک آواز ہوکر امت کو چاہیے کہ ان کا معاشی بائیکاٹ کریں،دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں پر مظالم ہورہے ہیں ان کا ساتھ دیں ،اسلام کو اس کے حقیقی پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کریں،اس کے پیغام کو عام کریں اور اپنے قول و عمل سے شہادت پیش کریں، اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑائیں،اس سے معافی مانگیں اور دعائیں کریں اور ایک نئے عزم وحوصلے کے ساتھ اسلام کو دنیا پر نافذ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔یہی ہے تضائے وقت اور یہی ہے دنیا و آخرت میں سرخروئی اور کامیابی کی راہ!

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top