آپ کا یہ طرز عمل کہیں اسلام مخالف تو نہیں!


آپ کا یہ طرز عمل کہیں اسلام مخالف تو نہیں!

         آیئے پہلے اس خط کامطالع فرمائیں جس کا تذکرہ آج کل فیس بک پر جاری ہے۔خط کی اہمیت اس لیے مزید بڑھ جاتی ہے کہ خط متعلقہ شخص کے لیٹر ہیڈ پر جاری کیا گیا ہے ،ساتھ ہی مع دستخط بھی ہے۔خط کے مطالع کے علاوہ ان حقائق پر بھی توجہ فرمائیے گاجو آج چہار جانب عیاں ہونے کے باوجود ہم پر واضح نہیں ۔ایسا کیوں ہے؟یہ سوال خود میں اہم ہے جس کا جواب ہمیں آج نہیں تو کل ضرور دینا پڑے گا۔
        خط کا آغاز"نہایت خفیہ"کے اشاریہ سے ہوتا ہے اور الفاظ اس طرح ادا کیے جاتے ہیں۔

        جناب امت شاہ جی،
        آداب،
جیسا کی آپ سے بات چیت ہوئی تھی اُس سلسلسے میں ،میں آپ کے پاس شری بہادرعبّاس کے ساتھ شری شاہد حسن نقوی کو بھیج رہا ہوں، ان سے ایک منٹ اکیلے میں بات چیت کرنے کی زحمت کریں۔جناب نریندر مووی جی کو گجرات دنگوں میں کلین چٹ ملنے کی بہت بہت بدھائی، امید ہے کی اب مسلمانوں میں ان کے لیے پھیلائی گئی نفرت کم ہوگی۔ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ لکھنو کی لوک سبھا سیٹ سے شری لال جی ٹنڈن کے علاوہ کسی بہتر شخص کو ٹکٹ دیجئے کیونکہ لال جی ٹنڈن جی کی چھوی ہندو اور مسلمانوں میں اچھی نہیں ہے۔ میرے سجھا پر وچار کرنے کی زحمت کریں۔ جیسا کی آپ سے بات ہوئی تھی میری ملاقات جلد ی کرائے جانے کی زحمت کریں، جیسا بھی ہو شاہد صاحب کو بتا دیں۔
        شکریہ
        28فروری2014

        خط کے اختتام پر مولانا کلب جواد کے کو بھی یاد کرتے چلیں جو شاید اس طرح ہیں۔"راج ناتھ جی بہت اچھے ہیں اور ان میں واجپئی کی جھلک ہے "۔کلب جواد کا راج ناتھ سنگھ کے سامنے یہ اظہار بے چارگی کیا رنگ لائے گی یہ تو ہم نہیں جانتے لیکن جس طرح انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے دل میںمودی کا ڈر ہے یا مسلمانوں کو مودی سے ڈر لگتا ہے، لیکن راج ناتھ سنگھ کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے وہ ان کو اٹل بہاری واجپئی جیسا سمجھتے ہیں۔اس بیان سے یہ بات بھی اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کا مخصوص طبقہ جس کی قیادت کلب جواد صاحب کرتے آئے ہیں وہ واجپئی کے حق میں نرم گوشہ رکھتا آیا ہے اوراب چونکہ راج ناتھ سنگھ کے اندر بھی واجپئی کی جھلک محسوس ہوتی ہے اس لیے اُنہیں اور ان کی پارٹی کو بھی ووٹ ملنے کے امکانات قوی ہو جاتے ہیں۔ویسے کون کس کو ووٹ دے اور کس کے حق میں حمایت یامخالفت کرے، یہ سب باتیں جمہوری ملک کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں اور ہمیں اس سے بحث بھی نہیں۔

        لیکن!ہند میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال۔ان کی منتشر جمعیت اور بے مقصدیت کی غماززندگی کے شب و روز ہم سب کے لیے بہت سارے سوالات کھڑے کرتی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ موجودہ حالات جن سے آج مسلمان دو چار ہیں وہ صرف دوسروں کی دَین ہو بلکہ کہیں نہ کہیں ان کی بے سمت زندگی اور متضاد طرزعمل بھی ان کی اس صورتحال میں شامل ہے۔یہ جو اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں فرماتا ہے:"دل شکستہ نہ ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو"(آل عمران:۹۳۱) یہ کامیابی صرف جنت ہی میں نہیں اس دنیا میں بھی دینے کا وعدہ ہے۔شر ط صرف یہ ہے کہ ہم مومن بن جائیں۔اور مومن بھی ایسے جو اسلامی اجماعیت سے وابستگی رکھتے ہوں۔اجتماعیت سے وابستگی کے نتیجہ میں لاز م ہے کہ ہم اِس حدیث پر عمل پیرا ہوں۔حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : "مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔ ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے ، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے اور نہ اطاعت کرنا"(صحیح بخاری)۔ موجودہ صورتحال میںبظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ صرف دنیا بلکہ ہند میں بھی مسلمان اس حدیث پر دو طرح سے عمل پیرا ہیں۔i) کسی نہ کسی اسلامی جماعت سے وابستہ ہو کر متعلقہ جماعت کے امیر کی اطاعت کے ذریعہ۔ii) مخصوص فرقہ، گروہ،طبقہ اور مسلکی بنیادوں پر قابل قبول امراءیا ائمہ کی ہدایات پر عمل پیرا ہوکر۔شکل کوئی بھی ہو لیکن دونوں ہی صورتوں میں مسلمانوں کو نہ صرف اس حدیث بلکہ سورة نساءکی اِس آیت کی روشنی میںبھی لازماً عمل پیرا ہونا ہوگا۔ بر خلاف اس کے وہ دین سے دور ہوتے جائیں گے۔لہذا ہمارے سامنے قرآن حکیم کی یہ آیت لازماً پیش نظر رہنی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرہ اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے"(النسائ:۹۵)۔مفسرین قرآن کا ایک بڑا طبقہ اس آیت کو پورے مذہبی، تمدنی اور سیاسی نظام کی بنیاد اور اسلامی ریاست کے دستور کی اولین دفعہ قرار دیتا ہے۔لہذا اس کی روشنی میں ہمیں اپنے امراءکے اقدامات و ہدایات کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔کیونکہ ایک ایسے وقت کی بھی پہلے ہی پیشین گوئی کردی گئی ہے جس میں یہ امراءمعروف کے علاوہ منکرپر نہ صرف عمل پیرا ہوں گے بلکہ اپنے مامورین سے بھی عمل پیرا ہونے کی توقع رکھیں گے۔ موجودہ حالات میں یہ حدیث بہت اہمیت رکھتی ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم پر ایسے لوگ بھی حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پا گے اور بعض کو منکر۔ تو جس نے ان کے منکرات پر اظہارِ ناراضی کیا وہ بَری الذّمّہ ہوا۔ اور جس نے ان کو ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا۔ مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا۔ صحابہ نے پوچھا، پھر جب ایسے حکّام کا دَور آئے تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں"(مسلم)۔

        اس پوری گفتگو کی روشنی میں ہمیں قیام عدل کے لیے لڑی جانے والی اُس جنگ کو نہیں بھولنا چاہیے جس میں ایک فریق یزید تھا تو دوسرا اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسن ؓاور حسینؓ۔اُس جنگ میں جو قربانیاں بھی دی گئیں وہ صرف اور صرف اس لیے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کی کبریائی برقرار رہے اور مسلمان اسلام پر مکمل طور پر عمل پیرا رہ سکیں۔اس عظیم واقعہ کو یاد رکھتے ہوئے موجودہ حالات میں ہم مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہباطل قوتوں وطاقتوں کا کسی بھی پلیٹ فارم پر ساتھ نہ دیں۔خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں کا جو اسلام اور اسلامی تعلیمات کا نہ صرف مذاق اڑاتے ہیں بلکہ اسلامی تعلیمات و اصلاحات کے خاتمہ کی بھی منظم و منصوبہ بند کوشش کرتے رہتے ہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بندہ مومن چند دنیاوی فوائد و خواہشات نفس کی خاطر اپنے دین و ایمان کو بیچ دے ؟اس کے باوجود وہ مومن بھی رہے اور مسلم بھی؟

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top