ظلم و زیادتی اور نظریہ عدل و انصاف



ظلم و زیادتی اور نظریہ عدل و انصاف!

        دنیا میں جو عمل بھی انجام دیا جاتا ہے اس کی عموماً دو وجوہات ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ وہ عمل اپنے سے بالاتر قوت سے ڈر کر انجام دیا جائے۔یعنی عمل اس لیے انجام دیا جا رہا ہے کہ نفی کے نتیجہ میں بالاتر قوت اُس کی گرفت کرے گی لہذا انجام کے لحاظ سے عمل وہی کیا جائے جس سے گرفت ممکن نہ ہو ۔دوسرے یہ کہ وہ عمل اس لیے انجام دیاجا رہا ہے کہ بالاتر قوت اُس عمل سے خوش ہوگی۔نتیجہ کے اعتبار سے اِس بات کی توقع ہے کہ کچھ نہ کچھ فائدہ بھی ہوگا بصورت دیگر گرفت سے بچ جائیں گے۔یہ خوف و گرفت اور خوشی و انعام کا معاملہ آج نہیں ہر دور میں موجود رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں قوت و اقتدار کی غیر معمولی اہمیت رہی ہے۔لیکن یہ قوت و اقتدار کس نوعیت کا ہے،یہ افراد اور گروہوں کے عقیدہ اور نظریات پر انحصار کرتا ہے۔ایک گروہ کا ماننا ہے کہ قوت و اقتدار ہر دور اور ہر مقام پر صرف اور صرف اس ذات اقدس،اللہ رب العزت کا ہے جو زمان و مکان کی قیود سے بالا تر ہے۔تو وہیں دیگر افراد اور ان کے منتشتر العقیدہ گروہوں کا نظریہ ہے کہ قوت و اقتدار اور سلطنت اُس کی ہے جس کے ہاتھ میں آج ملک کی باگ دوڑ ہے۔لہذا وہی وہ آخری اور فیصلہ کن طاقتیں ٹھہریں جن کے ہاتھ میں ہر معاملے کا حتمی حل موجود ہے۔قوت و اقتدار کے یہ دو نظریہ افراد اور گرہوں کے اعمال پربھی اثر انداز ہوتے رہے ہیں ۔آخری الذکریہی و ہ باطل نظریات ہیں جن کے ہاتھ میں آج نہ صرف اقتدار موجود ہے بلکہ ان کے اثرات سے ہر شخص دوچاربھی ہے۔قوت و اقتدار کے اس بگڑے ہوئے نظریہ کے تحت دنیا میں آج جو سلطنتوں قائم ہیں، خصوصاً ان ہی مقامات پر ظلم و زیادتیوں کے پہاڑ بھی توڑے جا رہے ہیں اور نتیجہ کے اعتبار سے عدل و انصاف کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔اس موقع پر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ظلم و زیادتیاں جب اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیںاقتدارِ حقیقی اُن افراد اور گرہوں کو اپنی گرفت میں لینے سے نہیں چوکتی۔کوئی دوسری قوت موجودہ اقتدار کامتبادل ٹھہرتی ہے۔اور یہ ظلم کے علمبردار تاریخ کے صفحات بن جاتے ہیں۔اس موقع پر بحیثیت قاری یہ سوال ابھرتا ہے کہ ہم جس زماں و مکاں میں بھی موجود ہیں اور جتنی اور جس قدر قوت و اقتدار بھی ہمیں حاصل ہے، ہم اس کا استعمال کیا اور کس طرح کر رہے ہیں؟لیکن اس سے قبل کہ سوال کا جواب اپنی ذاتی زندگی کے شب و روز میں تلاش کریں قرآن حکیم کی سورة حدید کی ابتدائی آیات کے معنی و مفہوم کو سمجھتے چلیں!

 قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ وَہُوَالعَزِیزُالحَکیِمُ۔لَہُ مُلکُ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ یُحی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلیٰ کُلّ شَیئٍ قَدِیر۔ہُوَالاَوَّلُ وَالاٰخِرُوَالظّاہِرُوَالبَاطِنُ۔وَہُوَبِکُلّ شَیئٍ عَلِیمُ(الحد ید:۳-۱)۔ " اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے۔ اور ہی زبر دست دانا ہے ۔ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے ، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہی اول بھی ہے اور آخر بھی ، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی ، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے"۔ ھوَالعَزِیز  الحَکِیمکی تفسیر جید عالم دینجو بیان کرتے ہیںوہ اس طرح ہے۔لفظ  ھوَ کو پہلے لانے سے خود بخود حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے ، یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ عزیز اور حکیم ہے ،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہی ایسی ہستی ہے جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔ عزیز کے معنی ہیں ایسا زبردست اور قادر و قاہر جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی، جس کی مزاحمت کسی کے بس میں نہیں ہے ، جس کی اطاعت ہر ایک کو کرنی ہی پڑتی ہے خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے ، جس کی فرمانی کرنے والا اس کی پکڑ سے کسی طرح بچ ہی نہیں سکتا۔ اور حکیم کے معنی یہ ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے حکمت اور دانائی کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کی تخلیق، اس کی تدبیر، اس کی فرمانروائی، اس کے احکام، اس کی ہدایات، سب حکمت پر مبنی ہیں۔ اس کے کسی کام میں نادانی اور حماقت و جہالت کا شائبہ تک نہیں ہے۔

        اس مقام پر ایک لطیف نکتہ اور بھی ہے جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ قرآن مجید میں کم ہی مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کے ساتھ قوی، مقتدر، جبار اور ذو انتقام جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن سے محض اس کے اقتدار مطلق کا اظہار ہوتا ہے ، اور یہ صرف ان مواقع پر ہوا ہے جہان سلسلہ کلام اس بات کا متقاضی تھا کہ ظالموں اور نا فرمانوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا جائے۔ اس طرح کے چند مقامات کو چھوڑ کر باقی جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے عزیز کا لفاظ استعمال کیا گیا ہے ، وہاں اس کے ساتھ حکیم، علیم، رحیم، غفور، وہاب اور حمید میں سے کوئی لفظ ضرور لایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہستی ایسی ہو جسے بے پناہ طاقت حاصل ہو مگر اس کے ساتھ وہ نادان ہو، جاہل ہو، بے رحم ہو، در گزر اور معاف کرنا جانتی ہی نہ ہو، بخیل ہو، اور بدسیرت ہو تو اس کے اقتدار کا نتیجہ ظلم کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔قرآن کے اس بیان کی پوری اہمیت وہ لوگ زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو حاکمیت (Sovereignty) کے مسئلے پر فلسفہ سیاست اور فلسفہ قانون کی بحثوں سے واقف ہیں۔ حاکمیت نام ہی اس چیز کا ہے کہ صاحب حاکمیت غیر محدود اقتدار کا مالک ہو، کوئی داخلی و خارجی طاقت اس کے حکم اور فیصلے کو نفاذ سے روکنے ، یا اس کو بدلنے ، یا اس پر نظر ثانی کرنے والی نہ ہو، اور کسی کے لیے اس کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو۔ اس غیر محدود اقتدار کا تصور کرتے ہی انسانی عقل لازماً یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایسا اقتدار جس کو بھی حاصل ہوا سے بے عیب اور علم و حکمت میں کامل ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر اس اقتدار کا حامل نادان، جاہل، بے رحم، اور بد خو ہو تو اس کی حاکمیت سراسر ظلم و فساد ہو گی۔ اسی لیے جن فلسفیوں نے کسی انسان، یا انسانی ادارے ، یا انسانوں کے مجموعے کو حاکمیت کا حامل قرار دیا ہے ان کو یہ فرض کرنا پڑا ہے کہ وہ غلطی سے مبرا ہو گا۔ مگر ظاہر ہے کہ نہ تو غیر محدود حاکمیت فی الواقع کسی انسانی اقتدار کو حاصل ہو سکتی ہے ، اور نہ یہی ممکن ہے کہ کسی بادشاہ، یا پارلیمنٹ، یا قوم، یا پارٹی کو ایک محدود دائرے میں جو حاکمیت حاصل ہو اسے وہ بے عیب اور بے خطا طریقے سے استعمال کر سکے۔ اس لیے کہ ایسی حکمت جس میں نادانی کا شائبہ نہ ہو اور ایسا علم جو تمام متعلقہ حقائق پر حاوی ہو، سے پوری نوع انسانی ہی کو حاصل نہیں ہے کجا کہ وہ انسانوں میں سے کسی شخص یا ادارے یا قوم کو نصیب ہو جائے۔ اور اسی طرح انسان جب تک انسان ہے اس کا خود غرضی، نفسانیت، خوف، لالچ، خواہشات، تعصب، اور جذباتی رضا و غضب اور محبت و نفرت سے بالکل پاک اور بالاتر ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھ کر غور کرے تو اسے محسوس ہو گا کہ قرآن اپنے اس بیان میں در حقیقت حاکمیت کا بالکل صحیح اور مکمل تصور پیش کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ "عزیز"یعنی اقتدار مطلق کا حامل اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے ، اور اس غیر محدود اقتدار کے ساتھ وہی ایک ہستی ایسی ہے جو بے عیب ہے ، حکیم و علیم ہے ، رحیم و غفور ہے اور حمید و وہاب ہے۔

        اس پوری گفتگو کے بعد آیئے سوال کی طرف پلٹتے ہیں۔دنیا پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ آج کسی بھی مقام پر حکومت و ریاست اور افراد وگروہوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بظاہر وہ اختیارات و اقتدار حاصل نہیں ہیں جس کے نتیجہ میں انسانیت امن و امان اور عدل و انصاف کے قیام میں معاون ثابت ہو ۔اس کے باوجود ہر شخص کو وہ بے تحاشہ اختیارات حاصل ہیں جن کے استعمال سے وہ اپنے بیوی بچوں ،رشتہ داروں اورمعاشرے کے دیگر افراد و گروہوں کو نہ صرف ظلم و زیادتی سے نجات دلا سکتے ہیں بلکہ عدل و انصاف کے قیام میں معاون بھی بن سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ا ن کی اپنی فکر میں تضاد نہ ہو۔لہذا یہ سوچ اور فکر کہ حالات کا رونا رو کر ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ٹھہریں گے، ایک بگڑی ہوئی سوچ کے سوا کچھ نہ کہلائے گی۔لازم ہے کہ ہم عہد کریں ! جو اختیار ات آج جس درجہ میں بھی ہمیں حاصل ہیں ان کو ہم ضائع نہیں کریں گے ساتھ ہی آغاز بتدریج کریں گے۔جہاں ہماری ذات غائب نہیںبلکہ اپنی اصل میں ہرلمحہ و ہر لحظہ بہت واضح اور موجودنظر آئے گی۔

vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top