مساجد: مسلم معاشرہ کی عکاس


مساجد ۔۔۔مسلم معاشرہ کی عکاس !

        چند دن قبل ایک صاحب فراست نے کہا کہ مساجد مسلم معاشرہ کی عکاس ہوتی ہیں،جب وہ یہ بات کہ رہے تھے اس وقت ہم اس الجھن میں مبتلا تھے کہ ہماری مساجد میں تو عام طور پر بستی کے دو یا تین فیصد ہی افراد نماز باجماعت ادا کرتے ہیں پھر کیونکر یہ بات صحیح ہو سکتی ہے؟لیکن خدا کا کرنا کہ چند ہی دنوں بعد رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہوا۔اور صاحب فراست کی بات بہت حد تک سمجھ میں آنے لگی۔رمضان المبارک میں اللہ نے بستی کے تقریباًتمام ہی افرادکو یہ توفیق بخشی کہ وہ ٹھیک اوقات میں مساجد میں حاضرہوکر نمازیں ادا کریں۔اور ان توفیق پانے والوں میں ہم بھی خوش قسمت ٹھہرے۔رمضان کا چاند دیکھنا تھا کہ طے کر لیا کہ اب ہر نماز باجماعت ہی ادا کریں گے۔سو پہلی ہی نماز عشاءکی تھی۔معاملہ یہ ہوا کہ مسجدجو عام طور پر خالی رہتی،میں جگہ ملنی دشوار ہوگئی۔لوگوں کا ہجوم تھا کہ ٹھاٹیں مارتا،مارے گرمی کے پسینے چھوٹتے لیکن مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی مستعدی میں ہم بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔عشاءکی نماز ادا کی اور اس کے بعد تراویح کے لیے بھی اپنے ذہن ووجودکو پوری طرح تیار کر لیا۔تراویح شروع ہوئی۔سفید کرتا پیجامہ اورکالی ڈھاڑی میں ایک صحتمندنوجوان جو پاس ہی کھڑے تھے،نے پہلی ہی رکعت سے ہماری توجہ اپنی مبذول کرانی شروع کردی۔یا یہ کہیے کہ شاید ہمارا ہی دل چونکہ نماز میں پوری طرح نہیں لگ رہا تھا سو توجہ ان کی جانب مبذول ہوگئی۔یہ کیونکر ہوا؟بس کچھ نہیں،اِدھر امام نے نیت باندھی اور ادھر نوجوان کے ہاتھ کبھی داڑھی میں خلال کرتے تو کبھی چہرے مبارک پر ہاتھ پھیرتے،کبھی سر میں کچھ کھجلی محسوس ہوتی تو کبھی آستیوں کی سلوٹیں درست کرتے،کبھی پیٹھ کی جانب ہاتھ جاتے سرکے بال درست ہوتے۔غرض ایک رکعت،دو رکعت،تین اور چار رکعت وہ سرعت و مستعدی کے ساتھ کبھی ایک تو کبھی دونوں ہاتھ استعمال کرتے رہے۔چار رکعت بعد امام سلام پھیرنے کے بعد ذرا ٹھہرے تو ہم جو اندر سے پھٹے جاتے تھے،سوال کربیٹھے "بھائی لگتا ہے آپ کا ہاتھ آپ کے کنٹرول میں نہیں رہتا،لگاتار چارر کعت آپ کا ہاتھ گردش کرتا رہا اور شاید آپ کو احساس تک نہیں ہوا؟ بھائی ہماری طرف دیکھ کر مسکرائے! پھر بعد کی رکعتوں میں الحمداللہ اپنے ہاتھ کو اپنے کنٹرول میں کرلیا۔

        ایک اوردن ایک دوسرے نوجوان سے معاملہ ہوا۔اس مرتبہ جیسے ہی امام نے نیت باندھی ،نوجوان جو برابر میں کھڑے تھے،نے اپنے پیر ہمارے پیر سے ملادیے!ہم نے ذرا پیر ہٹایا تو انہوں نے نیچے دیکھا،دوری کا جائزہ لیا،اور دھیرے دھیرے اپنے پیر کو قریب لے آئے،یہاں تک کہ ایک بار پھر دونوں کے پیر باہم ملے ہوئے تھے۔ہم باربار پیر ہٹانے کی کوشش کرتے اور وہ بار بار نظریں نیچے جھکاتے،دیکھتے اب کتنا فاصلہ باقی ہے،بہت ہی آہستگی کے ساتھ دھیمے دھیمے پیر کو ہماری طرف جنبش دیتے،یہاں تک کہ پیرایک بار پھر مل جاتے۔۔۔( بھائی کے بار بار سر جھکانے کے عمل نے ایک لمحہ کے لیے توہماری توجہ عالم اسلام کی موجودہ صورتحال کی طرف مبذول کرادی،ساتھ ہی بااقتدار مسلم حکمراں کا اہل یہود و نصاریٰ کے سامنے سر جھکا جھکا کرتمام حدیں پار کرجانے کا منظر بھی سامنے آگیا)۔۔۔لیکن جب بھائی کے اس عمل سے بھی ہم پوری طرح دل برداشتہ ہو گئے توسوال کر بیٹھے ۔کیا اللہ میاں نماز پیر ملائے بغیر قبول نہیں کرتے؟بھائی نے بہت غور سے ہمیں دیکھااور اس کے بعدباقی شدہ رکعتوں میں پیر نہیں ملائے۔اس کے باوجود بقیہ رکعتوں میں بار بار سر نیچے کرتے ، جائزہ لیتے کہ اب کتنے ملی میٹر پیروں میں فاصالہ رہ گیاہے؟اور پھر شاید مطمئن ہو جاتے۔بھائی کے بار بار سر کے اٹھنے اور جھکنے کے عمل نے ایک لمحہ کے لیے تو ہمیں بھی کنفیوژ کردیا کہ واقعی پیروں کا ملنا نماز کا ایک اہم ترین رکن ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ حافظ ِقراآن کیا پڑھ رہے ہیں یہ سننے کی بجائے پوری توجہ اس جانب ہے کہ پیر اگر مل نہیں سکتے تو معمولی سی دوری بھی نہیں رہنی چاہیے۔

        ایک اور دن کا قصہ سنیے،نماز تراویح شروع ہونے والی تھی کہ برابر میں ایک صاحب جن کی عمرتقریباًپچاس پچپن سال رہی ہوگی،نے اپنے رومال کو جیب سے نکالا اور کئی تہیں دینے کے بعد سجدے کے مقام پر رکھ دیا،دیکھنے کے باوجود ہم کچھ سمجھ نہ سکے!لیکن جیسے ہی امام ،صاحب اوردیگر مقتدی سجدے میں گئے ،صاحب نے تمام اینگلس کا جائزہ لیا اور اپنی پیشانی ٹھیک رومال پر ٹکا دی! یہاں بھی ہم چار رکعت مشاہدہ ہی کرتے رہ گئے اور نہ سمجھ سکے کہ معاملہ کیا ہے؟لیکن چونکہ ہم نے قرآن میں خضرؑ اور موسی ؑکا قصہ پڑھا تھا لہذاسوال کر بیٹھے۔جناب یہ رومال پر پیشانی ٹیکنے کا کیا راز ہے؟صاحب بولے بھئی دری کافی سخت ہے اورسر میں چبھتی بھی ہے، سو رومال پر سجدہ کر رہے ہیں۔اللہ اللہ یہ نزاکتِ ایماں!ایک بار پھراہل غزہ اور ان کی تکلیفیں جو میڈیا کے ذریعہ دیکھ سکے تھے، نظروں میں گھوم گئیں! ایک وہ اور ایک ہم کہ جن کے سر میں دری چبھتی ہے اور وہ مارے درد کے رومال رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔بس کیا تھا کہہ بیٹھے جناب کیا نماز میں اتنی تکلیف بھی برداشت نہیں کی جاسکتی؟صاحب نے ہوںںں۔۔۔کی سی آواز نکالی لیکن بعد کی رکعتوں میں رومال پر سر نہ رکھ کر سخت ترین چبھتی دری پر ہی تمام سجدے ادا کیے۔اورہم دعا کرتے رہے کہ اللہ کچھ قبول کرے یا نہ کرے لیکن صاحب کے سجدے ضرورقبول فرمالے۔

        جمعہ کا دن آیا تو اوروں کی طرح ہم بھی مسجد کا رخ کیے۔مسجد میں قدم رکھنے کی جگہ نہ تھی،اس کے باوجود سروں کو پھلانگتے ہوئے کسی نہ کسی طرح چوتھی صف میں جا بیٹھے۔آگے کی صف میں ایک عمر دراز شخص نیلی سفاری سوٹ میں ملبوس ذکر و دعا میں مصروف تھے۔کبھی ایک تو کبھی دونوںہاتھ شاید سہارے کے لیے پیچھے کی طرف رکھتے۔اب جو ہاتھوں پر نظر پڑی تو دیکھا سیدھے ہاتھ کی چنگلیا میں تقریباً دیڑھ تولہ سونے کی انگھوٹھی،دائیں ہاتھ کی انگلی میں تقریباً آدھے تولے سونے کی انگوٹھی،سیدھے ہاتھ کی کلائی پر رومال باندھا ہوا تھا،لیکن رومال سے باہر نکلتا ہوا سونے کا بریسلیٹ،بائیں ہاتھ کی کلائی پر تقریباً چار پانچ تولے کی مضبوط چین والی نہایت خوبصورت سونے کی گھڑی۔ہم نے تو اب تک سنا تھاکہ مردوں کو سونا پہننا حرام ہے۔خیال آیا کہ محترم سے دریافت کریںکہ جو سنا تھا وہ صحیح بھی ہے یا نہیں؟ممکن ہے ہم ہی نے غلط سنا ہو۔چند منٹ بعد خطبہ شروع ہوا۔وعظ و تلقین اور عالم اسلام کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی،بتایا گیا کہ آج دنیا میں اور ملک عزیز میں اگر مسلمان مصائب اور ظلم و تشدد کا شکار ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم مسلمان بھی یہیود و نصاریٰ کے قائم کردہ سیاسی ،معاشی،تعلیمی،معاشرتی،تمدنی وغیرہ وغیرہ نظام کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔لہذا اگر ان باطل نظام ہائے حیات کو چھوڑ کر اسلامی نظام ہائے حیات اختیار کرلیں توآج جن مسائل سے بھی ملک عزیز نیز دنیا کے دیگر مسلمان دوچار ہیں،ان تمام مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا۔امن و امان قائم ہوگااور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔لہذا باطل نظام ہائے حیات کو فوراً چھوڑا جائے اور اسلامی نظام ہائے حیات کو زندگی کے ہر شعبہ میں اختیار کیا جائے۔بات میں حد درجہ سچائی تھی ،لہذا دل نے گواہی دی کہ وعظ پر لازماً عمل کیا جائے گا۔لیکن پھر فوراً ہی خیال آیا کہ یہود و نصاریٰ کے قائم کردہ باطل سیاسی ،معاشی ،تعلیمی وغیرہ نظام کا متبادل کہاں ہے؟پھر کس کو چھوڑیں اور کس کو اختیار کریں؟اور جس آدھے گھنٹے کے خطبہ نے عالم انسانیت ، عالم اسلام اور مسلمانوں کے تمام مسائل حل کر دیے تھے،معلوم ہو اکہ نہیں ایسا نہیں ہے،مسائل تووہیں کے وہیں برقرار ہیں! پھر احساس ہوا کہ یہ بات کوئی پہلی مرتبہ ہم نے نہیں سنی ہے بلکہ تقریباً زیادہ تر وعظ و تلقین،تذکیر،تقریروں اور تحریروں میں اسی طرح کے ملتے جلتے الفاظ ہوش سنبھالنے کے بعد ہی سے سنتے آئے ہیں۔اور یہ تو سننے کی باتیں ہیں سننے میں کیا حرج ہے؟نہ سنانے والے کو اور نہ ہی سننے والے اس بات کی فکر کہ باطل نظام ہائے حیات کے متبادل کے لیے سعی و جہد کی جائے۔اور ویسے بھی ہر کام اللہ کے حکم سے ہوتا ہے،ممکن ہے اللہ کا حکم ابھی ہوا ہی نہ ہو،اس لیے کہنے والے کی غلطی نکالنے کی بجائے سننے والے کو اپنی غلطی کاخود احساس ہونا چاہیے۔خطبہ کے بعد نماز ادا کی اور سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد چاہا کہ سونے میں لدے صاحب سے معلوم کیا جائے کہ کیا واقعی مردوں کو سونا پہننا حرام ہے؟اور اگر حرام ہے تو کیا ایک حرام کام کی انجام دہی کے ساتھ نماز کی قبولیت ممکن ہے؟لیکن ایک تو مولانا نے اپنے خطبے کو تقریباًآٹھ منٹ زیادہ کر دیا تھا ،دوسرے صاحب فرض کے بعد سنت اور سنت کے بعد نوافل میں مصروف ہو گئے،اورہمیں بھی نماز سے فارغ ہوکر اللہ کے فضل کی تلاش میں سرکرداں ہونا تھا ۔لہذا صاحب کے جواب سے ہم محروم ہی رہے۔اس کے باوجود اس سلسلے میں اگر آپ کو کچھ سن گن ہو تو ضرور بتائیے گا!
       
چند دنوں پر منحصر یہ وہ چند تازہ واقعات ہیں         جو معاشرہ اور مسجد کی صرف ایک تصویر پیش کرتے ہیں ۔اس کے باوجود دوباتیں جو ہمیں اہم محسوس ہوئیں،ان کا تذکرہ آپ سے بھی کر دیتے ہیں۔ ایک:غلطی دیکھ کر خاموشی نہ اختیار کی جائے،کیونکہ لوگ عموماً بے دھیانی میں مختلف کاموں کو مسلسل انجام دیتے ہیں لیکن اگر اُن کو غلطی کا احساس دلایا جائے تو وہ اپنے اعمال میں تبدیلی بھی لاتے ہیں۔ دو:دوسروں کی غلطیوں کو محسوس کرنے کے بعد اپنی ذات کا بھی احتساب کیا جانا لازم ہے۔لیکن ان واقعات کے ساتھ ہی مسجد کا دوسر رخ بھی اہم ہے جہاں کمیاب ہی صحیح لیکن ایسی معزز شخصیات آج بھی موجود ہیں جو علم وعمل،زہد و تقویٰ، فہم و فراست اور حکمت و دانائی کا عملی نمونہ ہیں نیز وہ امام و متقدی بھی موجود ہیں جن کی تذکیر وخطبات لوگوں کو عمل کی طرف مائل کرتے ہیں۔اور یہ وہی اشخاص ہیں جو نہ صرف فکری ،نظریاتی اور عملی زندگی میں اسلام کے مختلف پہلوں سے مکمل عکاسی کرتی ہیں بلکہ اپنی ذات میں بھی آپ مکمل ہیں۔مسجد کی یہ چند تصویریں شاہد ہیں کہ واقعی مساجد مسلم معاشرہ کی عکاس ہوتی ہیں۔جہاں صرف مقتدیوں کے اعلیٰ و ارفع اور کمزور پہلو ہی سامنے نہیں آتے بلکہ ان دو تصویروں کے درمیاں نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے مختلف کردار مختلف افکار و اعمال کی تصویروں میں موجود ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجد میں آنے والا ہر شخص اس گئے گزرے دور میں بھی مسلم معاشرے کے ان اعلیٰ کرداروں کو بطور نمونہ سامنے ر کھے،جو بحیثیت فرد اور منجملہ معاشرہ رخصت سے عزیمت کی طرف پیش قدمی کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں!


vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top