اسلام اور فکر معاصر کے باطل افکار و نظریات


اسلام اور فکر معاصر کے باطل افکار و نظریات!
        ہندوستان میں اونچ نیچ اور ذات پات کا تصور نہ صرف ہندوں میں بلکہ اسلام کے ماننے والے افراد اور گروہوں میں بھی پایاجاتا ہے۔جس طرح برہمنیت اور منو وادیت نے ذات پات کے تصورکو معاشی اتارچڑھا پر استوار کیا ہے۔ٹھیک اسی طرح یا اس سے ملتا جلتا نظام اسلام سے تعلق رکھنے والے مسلمان بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔برخلاف اس کے اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے مساوات انسانی کا نہ صرف ایک مکمل نظام فراہم کیا بلکہ اپنے رسول کے ذریعہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا ہے۔مساوات انسانی ہی کے تعلق سے قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت کر سکو،اللہ کے نزدیک تم میں سب سے بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو"(حجرات:۳۱)۔اسی تعلق سے اللہ کے رسول فرماتے ہیں:"دوچیزیں ایسی ہیں کہ اگر لوگوں میں پائی جائیں تو وہ انہیں کفر کے درجے تک پہنچادیتی ہیں،ایک نسب میں طعن کرنا(یعنی دوسروں کو کم ذات اور ذلیل ذات سمجھنا) اور دوسری میت پر نوحہ کرنا"(مسلم،کتاب الجنائز)۔قرآن و حدیث میں اس تعلق سے بے شمار احکامات و ہدایات موجود ہیں،اس کے باوجود مسلمان باطل افکار و اعمال سے متاثر ہوکر اورغیر اخلاقی حد تک ذات پات اوراونچ نیچ کے اعلیٰ و ادنیٰ معیارات قائم کیے ہوئے ہیں۔آ پ یہ بات بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم بکریاں چرانے کا پیشہ کرتے تھے(صحیح بخاری)۔آپ کی سگی پھوپی زاد بہن حضرت زینب بنت حجشؓ جو آپ کی زوجہ(بیوی)تھیں، چمڑے کی دباغت کرتی تھیں(صحیح مسلم)۔بلکہ حافظ بن حجر نے ان کا پیشہ ہی چمڑے کی دباغت اور جوتا گانٹھنا بتایا ہے۔آپ کی دوسری بیوی ام سلمہؓ بھی چمڑے کی دباغت کرتی تھیں(مسند احمد)۔آپ نے اپنی سگی پھوپی زاد بہن زینب کا اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ سے نکاح کرکے جہاں ایک جانب باطل عقائد و رسم ورواج کو ختم کیا تھا وہیں ذات پات کے کافرانہ اور منووادی ذہنیت کا قلع قمع کیا تھا۔

        ایک وقت میں ملک عزیز ہند میں اسلام کی آمد اور اس کے اخلاقی تعلیمات ومساویانہ نظا م سے متعارف ہوکر بڑی تعداد نہ صرف متاثر ہوئی بلکہ اس کے آغوش میں پناہ بھی لی۔گرچہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،اس کے باوجود آج نہ صرف اسلام کا بیجا خوف پیدا کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں بلکہ جھوٹ ،فریب اور بڑے پیمانہ پر وسائل کے ذریعہ اسلام کے دیے گئے مساویانہ حقوق سے دور رکھنے کے لیے سماج کے کمزور اور مظلوم طبقات کوکہیں ڈرا دھمکا کر تو کہیں لالچ کے ذریعہ دور کیا جارہا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ آج ہندوہندو پاک اور بنگلہ دیش و اطراف میں پائے جانے والے مسلمان کل تک باطل عقائد و نظریات سے تعلق رکھنے والی قوم ہی کا حصہ تھے۔پھر یہ لوگ صرف مزعومہ نیچ قوم کے ہندوہی نہیں بلکہ بعض اونچی ذات کے ہندوبھی تھے جو مشرف بہ اسلام ہوئے۔انگریز مصنف ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اپنی کتاب"The Preaching of Islam"میں لکھا ہے: ان مفلس لوگوں کے لیے جن میں ماہی گیر،شکاری،سمندری ڈاکو اور نیچ ذات کے کاشتکار شامل تھے، اسلام ایک نعمت عظمیٰ تھی جو ان پر عرش بریں سے اتری۔جس وقت اسلام حکمراں قوم کا مذہب تھا ،اس کے پرجوش مبلغ خدا کی توحید اور انسانی مساوات کا مژدہ لے کر ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جس کو سب لوگ حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے اور جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔۔۔۔۔اسلام نے ان کو خدا کی ذات کا ایک اعلیٰ تصور دیا ۔انسانی اخوت اور مساوات کے ایک اشرف تخیل سے آشنا کیا۔۔۔۔اسلام ذات پات کی تمیز اور طبقاتی منافرت کو روانہیں رکھتا۔لہذا ہندوستان میں اسلام کو اسی بات سے حقیقی قوت حاصل ہوئی اور اس کی بدولت اس نے ہندوں کوکثرت سے اپنا حلقہ بگوش بنایا (صفحہ279,80,91)۔لیکن سوال موجودہ دور کے مسلمانوں کے لیے ہے کہ کیا آج وہ ان تمام خوبیوں کو اخیتار کیے ہوئے ہیں،جن کی وجہ سے کل وہ خوداسلام میں داخل ہوئے تھے؟

        مساوات انسانی اور اس میں فکر و عمل کا تضاد جس طرح آج مسلمانوں میں گھر کر گیا ہے اسی طرح اسلام نے عورت کو جو تقدس وشرف عطا کیا تھا،اس کو بھی ہم مسلمانوں نے کہیں بے جا پابندیوں کے ذریعہ تو کہیں بے جا آزادی کے نام پر نقصان پہنچا رہے ہیں۔ممکن ہے یہاں بھی معاشرے کا اتار چڑھا ہی ہم پر غالب رہا ہو،اس کے باوجود یہ بات قابل مذمت ہونی چاہیے کہ ہم ایک جانب اپنا تعلق اسلام سے قائم کریںوہیں دوسری جانب غیر اسلامی رسم و رواج اور اس کی جکڑ بندیوں میں بھی گھرے رہیں۔ہندوستانی سماج جسے عموماً ہندو سماج سے تعبیر کیا جاتا ہے،میں عورت پر طرح طرح سے ظلم و ستم ڈھائے جاتے ہیں۔ظلم و ستم کی کھلی داستان وہ بوڑھی مائیں بھی ہیں جو ہمارے علاقوں میں دربدر بھٹکتی نظر آتی ہیں۔کہیں انہیں بیوہ کے نام پر تو کہیںڈائن اور کالا جادو کرنے کے شبہ میں گھروں سے نکال دیا جاتا ہے۔اور اگر یہ ڈر ہو کہ گھر سے نکالنے پر سماج میں بے عزتی ہوگی تو پھر بہانوں کا سہارا لے کر موت کے منہ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔کچھ ایسا ہی واقعہ چند روز پہلے اڑیسہ میں پیش آیا ہے ۔جہاں ضلع کیوجھر کے دیہاتیوں نے جادوٹونا کے شبہ میں ایک ہی خاندان کے چھ ارکان کو ہلاک کر دیا۔جائے وقوع پر پہنچے پولیس افسر اجے پرتاپ سوائی نے بتایا کہ تمام ہلاک شدگان کی لاشیں ان کے مکان کے اندر موجود تھیں اور ان کی گردنیں کسی تیز دھار ہتھیار سے کاٹی گئی ہیں۔اڑیسہ میں حال میں ہوئے ایک سروے کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں ریاست میں اس طرح کے 274افراد قتل ہوچکے ہیں۔اور یہ سب تب ہوا ہے جبکہ ریاستی حکومت دو سال قبل 'اڑیسہ پروینشن آف وچ ہنٹنگ'قانون منظور کرچکی ہے۔ہندوستان میں پچھڑے اور کمزور علاقوں میں خواتین کو ڈائن یا جادو گرنی قرار دیے جانے کا چلن عام ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے حملوں کے پیچھے توہم پرستی اور جہالت کارفرما ہے لیکن بعض اوقات بیواں کی جائیداد ہتھیانے کے لیے بھی یہ طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ظلم و ستم اور جبر و استبداد کا یہ صرف ایک پہلو ہے ۔ان حالات میں حقیقی اسلام سے تعلق رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ مظلومین کے حق میں آواز بھی بلند کریں بلکہ دستور ہند میں موجود حقوق انسانی کے خلاف ہر اٹھنے والے ہاتھ کو قانونی دائروں میں رہتے ہوئے گرفت میں لائیں،قیام عدل کے لیے منظم سعی و جہد کریں ،اسلامی کے حقیقی اورآفاقی نظام سے متعارف کرائیں۔ساتھ ہی اسلام پر مکمل عمل کرتے ہوئے اسلامی معاشرہ کی مثال قائم کریں۔ممکن ہے اس طرح ایک جانب نہ صرف اسلام متعارف ہوگا بلکہ انسانوں کے بنائے قوانین اور خدا کے بنائے قوانین کے فرق کو بھی خوب کھول کر واضح کیا جا سکے گا۔ 

        معاملہ یہ ہے کہ اسلام اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔وہیںاسلام سے بغض رکھنے والے یا نفسانی خواہشات کے علمبردار پروپگنڈہ کرتے ہیں کہ مرد و خواتین کے حقوق ہر معاملے میں یکساں ہونے چاہئیں۔مفروضہ کی حد تک جہاںیہ بات ممکن نہیں، وہیں عملی زندگی میں یہ ایک کھلا تضاد ہے۔مرد و خواتین کے مساویانہ حقوق کے پرفریب نعرے کے نتیجہ میں خاندان بکھر رہے ہیں،ماں باپ بچوں کی تربیت سے محروم ہیں۔یہاں تک کہ اسکول ،کالج،دفاتراور معاشی اداروں میں اخلاقی قدریں حد درجہ پامال ہو رہی ہیں۔وجہ؟مرد و عورت جو کہیں ماں،کہیں بہن،کہیں بیٹی یا کسی اور رشتے سے منسلک ہے،اس کے فکر و عمل میں تضاد پیدا کیا جا چکا ہے۔کچھ اسی طرح کا ایک دلچسپ واقعہ،جومرد و عورت کے مساویانہ حقوق اور وہ بھی ہر معاملے میں،سے تعلق رکھتا ہے پیش آیا ہے،آیئے اس کا بھی تذکرہ کرتے چلیں۔ملک کا اکثرتی معاشرہ اور اس کے مذہبی گرو جنہیں سادھو اور سادھویوں کے نام سے جانا جاتا ہے،میں سادھویوں نے خواتین کے مساویانہ حقوق کی بازیابی کانعرہ لے کر کنبھ جیسے میلے میں برابر کے حقوق کی بحث چھیڑ دی ہے۔ایک سادھوی نے سوال اٹھایا ہے کہ جبکہ اس مذہبی موقعہ پر خواتین پورے جذبہ سے سرشار ہو کر مذہبی رسوم میںحصہ لیتی ہیںتو کیوں انہیں بھی سادھوں جیسی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں؟سوال کے پس منظر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فکر معاصر اور اس کے باطل افکار و نظریات،زندگی کے کسی بھی شعبہ سے اب دور نہیں ہیں۔اور یہ معاملہ ان لوگوں میں بڑی حد تک رچ بس چکا ہے جو خود کو مخصوص سنسکرتی اور کلچر سے وابستہ سمجھتے ہیں!


vvvvvvv

CONVERSATION

Back
to top