بی جے پی کی ناکامی کیا آر ایس ایس کی ناکامی ہے

بی جے پی کی ناکامی کیا آر ایس ایس کی ناکامیہے!
         ہندوستان نہ صرف جغرافیائی حیثیت سے ایک بڑا ملک ہے بلکہ مسائل اور ایشوز کے اعتبار سے بھی دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔س کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں بے شمار مذاہب اور کلچرپائے جاتے ہیں۔وہیں واقعہ یہ بھی ہے کہ ملک کی اکثریت جس مذہب کو مانتی ہے اور جس حیثیت سے اپنا تعارف پیش کرتی ہے یعنی بحیثیت"ہندو"یہ خود مختلف افکار کا منبع ہے۔اور چونکہ ہندومذہب کوئی واضح شکل نہیں رکھتا،سوائے اس کے کہ وہ مورتی پوجا کے علمبردار ہیں،لہذا ملک کے بے شمار قبائل،جنہیں کہیںذاتوں میں تقسیم کیا گیا ہے تو کہیں مذہبی پیشواں اور معبودوں کے اعتبار سے،ایک حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔یعنی وہ لوگ جو مورتی پوجا میں عقیدت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اندرونی طور پر تقسیم ہیں،بٹے ہوئے ہیں،منتشر ہیں اورایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔پھر یہی انتشار ان کے معاشرتی وسیاسی مسائل میں جھلکتا ہے۔جس کے نتیجہ میں ملک میں بے شمار سیاسی پارٹیاں وجود میں آئی ہیں۔لیکن ایک سیاسی و معاشرتی اور کسی حد تک مذہبی گروہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جوتمام ہندوں کے متحد ہونے کا خواہش مند ہے ۔اس کا نام راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ یعنی آرایس ایس۔5افراد پر مشتمل ،آرایس ایس کا قیام 1925میں ہواتھا ۔لیکن آج یہ گروہ ملک کا کیڈر بیس سب سے بڑامنظم ترین گروہ ہے،جس کے بانی کیشو بلی رام ہیگواڑ ہیں۔آرایس ایس ایک فکری و نظریاتی گروہ ہے۔جس کے قیام کا مقصد ہی ہندوستان کو ایک بار پھر"ہندوراشٹر"میں تبدیل کرنے کا خواب ہے۔فی الوقت جوسیاسی پارٹی ہندوستان میں برسراقتدار ہے یعنی بی جے پی،وہ آرایس ایس کا سیاسی ونگ ہے۔وزیر اعظم سے لے کر مرکزی وزراءکی ایک بڑی تعداد آرایس ایس کا کیڈر ہے،جس نے مقاصد کے حصول کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیںاور عزائم سے محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ بھی دیں گے۔

        جیسا کے پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ آر ایس ایس ایک منظم ترین گروہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے معاشرہ کے مختلف طبقات کے لیے ،ضرورت کے اعتبار سے الگ الگ جماعتیں،پارٹیاں،تنظیمیں،سوسائٹیاںاور انجمنیں تشکیل دی ہیں۔چند نام یہاں پیش کیے جا رہے ہیں جس سے واضح ہوگا کہ مقاصد کے حصول کے لیے کس قدر یکسوئی اور آرگنائز طریقہ سے 1925سے لے کر آج تک یہ گروہ سرگرم عمل ہے۔اکھل بھارتیہ پرتی ندھی سبھا(ABPS)،اکھل بھارتیہ ون واسی کلیان آشرم(ABVKA)،اکھل بھارتیہ ودھیارتی پریشد(ABVP)،بجرنگ دل(BD)،بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP)،بھارتیہ جنا سنگھ(BJS)،بھارتیہ کسان سنگھ(BKS)،بھارتیہ مزدور سنگھ(BMS)،چھاتر سنگھرش سمیتی(CSS)،کیندریہ کاریکاری منڈل(KKM)،سیودیش جاگرن منچ(SJM)،ویشو ہندو پریشد(VHP)،اکھاڑہ بھگاباتا ٹونگی(ABT)،چھاترا دلت(CD)،درشن دھنگدا دھنگدی(DDD)اور اس کے علاوہ دیگر وہ بے شمار تنظیمیں اور انجمنیں جوتعلیم اور صحت عامہ کے میدان میں مختلف ناموں سے مصروف عمل ہیں تو وہیں بے شمار این جی اوز ایسی بھی ہیں جو اِن تنظیموں اور انجمنوں سے ملحق یا وابستہ ہیں۔اور موجودہ ٹرینڈ یہ بھی ہے کہ ان لاکھوں یا کروڑوں افراد پر مشتمل سرگرمیوں کا فروغ دینے والوں نے وقت کے اہم ترین اور طاقت ورآلہ کار"میڈیا"کا مختلف محاذ پر استعمال کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے اور اس میں کامیاب ہیں۔وہیں آر ایس ایس کے نتظیمی اسٹرکچر کی بات کی جائے تو سب سے اوپر طاقت و قوت اور فیصلہ سازی کے اعتبار سے سروسنگھ چالک(supreme director)آتا ہے جو اکھل بھارتیہ پرتی ندھی سبھا(an all-india assembly) کوچلاتا ہے۔اس کے بعد ملک کو جغرافیائی حیثیت سے تقسیم کیاگیاہے۔جس میں:شیتراز(zones)،پرانتاز(states)،وبھاگاز(divisions)،ضلع آز(districts)،نگرآز(cities)اورمنڈلس(blocks)آتے ہیں۔اسی طرح تربیتی نظام کے لیے:سب سے اوپرسنگھ شاکھا،کاریہہ واہا،مکھیہ سکھشاز آتے ہیں،جس میں :سیواپرمکھ،شریرک پرمکھ،بدھک پرمکھ،سمپرک پرمکھ اور ندھی پرمکھ ہیں۔نیز فکری اور عملی تربیت کے میدان میں افراد کو عمر کے لحاظ سے6حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔جسے گنہ شکھشک کہتے ہیں،یہ اس طرح ہیں:ششو پرمکھ(7سال سے کم عمر کے بچے)،با ل پرمکھ(7-11سال)، کشور پرمکھ(12-16سال)،ترن پرمکھ(17-25سال)،یوواارون پرمکھ(26-39سال) اورپرودھاپرمکھ(40سال سے زائدعمر کے افراد)۔آر ایس ایس کے جس تنظیمی اسٹرکچر کو یہاں پیش کیا گیا ہے وہ RSS's Tryst with Politics, from Hedgewar to Sudarshanنامی کتاب میں صفحہ نمبر 68-69پر دج ہے ،جسے Pralay Kaunungoنے قلم بند کیا ہے۔ہندوستان کی برسراقتدار حکومت اور اس کا منظم ترین کیڈر ،جسے درج بالا سطور میں مختصر طور پربیان کیا ہے،کی روشنی میں باخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ موجودہ برسراقتدار گروہ کی حصول یابیاں صرف سرکاری عہدے داران ہی تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ تمام غیر سرکاری انجمیں بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ شامل ہیں ،جن کا تذکرہ اوپر آیاہے۔لیکن چونکہ کسی کے کام کو ضرورت سے زیادہ پیش کرنا یہاں مقصد نہیں اور نہ ہی گروہ کے مخالفین کو کسی قسم کی احساس کمتری میں مبتلا کرنا ہے۔لہذا تعارف کا کل ایک مقصد ہے اور وہ یہ کہ مقاصد کے حصول کے لیے کس طرح اور کن کن ذرائع و سائل سے لیس ،منظم و منصوبہ بند طریقہ سے ،یکسوئی اور اخلاص نیت کے ساتھ،یہ گروہ مصروف ِعمل ہے۔برخلاف اس کے ملک کے دیگر افکار و نظریات کے علمبردارگروہ یا وہ سیاسی پارٹیاں جو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی سعی و جہد میں مصروف ہیں،اندرونی طور پر حد درجہ کمزور ہیں۔

        گفتگو کے پس منظر میں لازماً یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ ایک جانب منظم ترین گروہ ہے،جس کا کیڈر یکسوئی اور اخلاص نیت کے ساتھ نصب العین کے حصول میں سرگرم عمل ہے تو دوسری جانب اس کے مقابل کوئی دوسرا گروہ اس قدر منظم نظر نہیں آتا ،اس کے باوجود کیا بات ہے کہ وہ ،سیاسی میدان میں ایک طویل عرصہ سے ناکام ہوتے رہے ہیں؟ اور آج جبکہ وہ ملک کے پارلیمنٹری نظام کے ایک ہاس لوک سبھا میں اکثریت میں ہیں تو دوسرے ہاس راجیہ سبھا میں اقلیت میں کیوں ہیں؟مزید یہ کہ گرچہ وہ حالیہ دنوں ایک کے بعد ایک ناکامیوں کے بعد آسام میں کامیاب ہوئے اس کے باوجود دوسالہ دواقتدار میں کسی بھی فرنٹ پر وہ کامیاب ہوتے نظر کیوں نہیں آرہے ہیں؟وہیں ریاستی سیاسی پارٹیاں ہوں یا ملکی سطح پر کانگریس پارٹی ،دونوں ہی اقلیت میں ہونے کے باوجود ، 2014کے بعد سے اب تک ہوئے ریاستی اسمبلی انتخابات میں ،آر ایس ایس کی سیاسی جماعت بی جے پی کے مقابلہ ،کلی اعداد و شمار کی روشنی میں ،سبقت میں ہیں ۔وہیں ایک بڑے اسٹرکچرکے ساتھ،منظم ،منصوبہ بنداورhuman resourceکی فراوانی کے باوجود ،وہ ہر مرتبہ پیچھے کیوں رہ جاتے ہیں؟اور آخری بات یہ کہ دوسالہ بی جے پی کی دوراقتدار کی ناکامیاں کیا آرایس ایس کی ناکامیوں میں شمار ہوں گی؟جواب کی شکل میں دو باتیں عقل میں آتی ہیں۔ایک :یہ اللہ تعالیٰ کا واضح قانون ہے کہ دنیا میں عدل و انصا ف کا خون کرنے والے کسی بھی طرح کامیاب نہیں ہوں گے،گرچہ وقتی طور پر لوگ خوف و ہراس کے ماحول میں مبتلا ہو جائیں۔دو: ہندومعاشرے کے خمیر میں انتشار موجود ہے،لہذا وہ انتشار کا خمیر اور مسلمانوں کی قوت کہیں نہ کہیں یکجا ہوتی رہتی ہے اور آئندہ بھی ایسے ہی حالات محسوس ہوتے ہیں۔اس کے باوجود اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مخصوص گروہ سے وابستہ افرادہر سطح پر آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔برخلاف اس کے واقعہ یہ ہے کہ دیگر افکار و نظریات کے حاملین اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ان حالات میں اندیشہ یہ بھی ہے کہ ملک کے مسائل مزید تشویشناک صورت اختیار کرلیں۔لہذا ضروری ہے کہ انسانیت سے ہمدردی و غمگساری کے جذبہ کے ساتھ ،عدل انصاف کے علمبردار بن کرمیدان عمل میں یکسوئی اور اخلاص نیت کے ساتھ انسانوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں شامل ہوا جائے اور جو لوگ متذکرہ سرگرمیوں میں پہلے سے مصرف ہیں وہ مزید قوت و صلاحیت کے ساتھ اپنے اوقات کا استعمال کریں!

v v v v v v v

CONVERSATION

Back
to top