عدم تشدد کی تعلیم،جین دھرم اوراسلام کا فلسفہ قربانی

تازہ خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف انڈیا میںایک عرضی برائے مفاد عامہ دائر کی گئی ۔جس میں کہا گیا ہے کہ عید الا ضحی جسے عرف عام میں بقر عید کہتے ہیں،کے موقع پرجانوروں پر جاری ظلم و زیادتی کے روک تھام ایکٹ کی قانونی حیثیت کو صرف مذہب کی بنیاد پر نظر اندازنہیں کیا جاسکتا ہے،اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پوری طرح غیر انسانی وغیر قانونی عمل کہلائے گا۔اترپردیش کے سات افراد کی جانب سے دائر کی گئی عرضی میں مانگ کی گئی ہے کہ عدالت آنے والے دنوں میں اس کو بات کو یقینی بنائے کہ بقرعید کے موقع پر کسی جانور کا قتل ،قربانی کے نام پر نہیں کیا جائے گا۔عرضی وکیل وشنو شنکر جین کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔جس میں قانون کی دفع 28 کے تذکرہ کے ساتھ چیلنج کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کسی بھی برادری یا مذہب کے نام پر جانوروں کا قتل صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مانگ کی ہے کہ عدالت جانوروں پر جاری ظلم و زیادتی کی روک تھام ایکٹ کی دفع28کے تحت ،بقر عیدکے موقع پر ہونے والی قربانی کو غیر قانونی قرار دے۔

اس سے قبل کہ اس عرضی پر کوئی بات کی جائے اور اسلامی عبادت کا ایک اہم رکن قربانی کا کچھ تذکرہ ہو،آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ جین مذہب آخر ہے کیا؟جین مت جو جین شاسن اور جین دھرم کے ناموں معروف ہے، ایک غیر توحیدی ہندوستانی مذہب ہے جو تمام ذی روح اور ذی حیات اجسام کے حق میں عدم تشدد(اہنسا ) کی تعلیم دیتا ہے اورجملہ مظاہر زندگی میں مساوات اورروحانی آزادی کا حامی ہے۔ جین مت کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ عدم تشدد اور ضبط نفس کے ذریعہ نجات (موکش) حاصل کرسکتے ہیں۔فی الوقت جین مت دو بڑے فرقوں میں تقسیم ہے، شویتامبر اور دگمبر۔جین گرنتھوں کے مطابق 527 ق م وردھمان مہاویر (599-527 ق-م) نے نروان حاصل کیا تھا۔ روایتی طور پر جین مت کے پیروکار اپنے مذہب کی ابتدا اُن چوبیس تیرتھنکروں کے سلسلہ کو قرار دیتے ہیں جن میں پہلا تیرتھنکر رشبھ دیو اور آخری مہاویر تھے۔پارشوناتھ جو مہاویر کے پیشرو کہلاتے ہیں، وہ پہلے جین مت کی شخصیت ہے جن کی تاریخی شہادت میسر ہے۔ پارشوناتھ نویں سے ساتویں صدی ق م کے درمیان کسی زمانہ میں موجود تھے۔پارشو کے پروکاروں کا ذکرجین گرنتھوں میں ملتا ہے۔ ہندوستان میں ایک طویل عرصہ تک جین مت ریاستوں و مملکتوں کا سرکاری مذہب رہا ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی سے جین مت کی شہرت اور اشاعت میں کمی آنے لگی، جس میں اس خطہ کے سیاسی ماحول کا بھی اثر تھا۔جین مت خدا کی ہستی کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بڑا ہے وہی انسان کی روح میں پائی جانے والی طاقت، خدا ہے۔ دنیا میں ہر چیز جاودانی ہے۔ روحیں جسم بدل بدل کر آتی ہیں مگر اپنی الگ ہستی کا احساس باقی رہتا ہے۔ نروان یعنی روح کی مادے اور جسم سے رہائی نویں جنم کے بعد ممکن ہو سکتی ہے۔جین مت کے عقائد سات کلیوں کی شکل میں بیان کیے جاتے ہیں، جن کو جین مت کی اصطلاح میں سات تتو یا سات حقائق کہا جاتا ہے۔یہ کائنات اور زندگی کے بنیادی مسئلہ اور اس کے حل کے بارے میں سات نظریات ہیں۔ جن میں جین مت کا بنیادی فلسفہ بخوبی سمٹ کر آ گیا ہے۔جین مت نے اپنے ماننے والوں پر کچھ مخصوص پابندیاں لگائی ہیں،ان میں جانوروں کا ہلاک کرنا،درختوں کو کاٹنا،حتی کہ پتھروں کو کاٹنابھی ان کے قریب گناہ ہے۔لہذا بقر عید کے موقع پر جانوروں کی قربانی کے تعلق سے پابندی عائد کرنے کی عرضی کو مخصوص مذہب کے عقائد کی روشنی میں ہی دیکھنا اورسمجھنا چاہیے۔
یہ بات بھی مبنی بر حقیقت ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب آج اختیار کیے جاتے ہیں،ان کی بنیادیں کہیں نہ کہیں آفاقی مذہب اسلام سے ملتی ہیں۔لیکن یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی ہے کہ مذاہب جوآج موجود ہیں،ان میں سے کون سا مذہب کس نبی ،رسول یا اس کی امت سے تعلق رکھتا ہے۔قرآن حکیم میں یہ بات بتائیگئی ہے کہ ہم نے آدمؑ کو علم اور حکمت کے ساتھ دنیا میں بھیجاتھا۔دوسرے الفاظ میں بتایا گیا کہ ہم نے آدم ؑکو علم بھی دیا اور نبی بھی بنایا ۔نبیوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ آخری رسول محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔اس لحاظ سے آدم علیہ السلام سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے بھی انبیاءآئے انہوں نے صرف اور صرف توحید خالص اورسنت نبوی کی دعوت دی اور اسلام کو دین حنیف کے طور پر پیش کیا۔لیکن چونکہ ایک نبی کے بعد دوسرے نبی کے آنے کی وجہ یہی رہی کہ درمیان میں لوگوں نے نبی کی تعلیمات اور شرعیت میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کیں،لہذا ایک اور نبی کو تمام آلودگیوں سے پاک تعلیمات دے کر بھیجا گیا۔یہاں تک کہ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبیوں کے سلسلے کو ختم کردیا گیا۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے جاتے وقت وہ عظیم ذمہ داری جو نبیوں کا خاصہ ہے،معروف کا حکم اور منکر سے ازالہ کی اہم ترین ذمہ داری امت محمدی کے سپرد کی ہے۔اُسی امت کو جس سے ہمار اور آپ کا تعلق ہے۔اس مختصر گفتگو میں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ وہ تمام افکار و نظریات ،جنہیں بعد میں مذہب کا نام دیتے ہوئے توحید خالص کی نفی کی گئی ،اُن مذاہب میں سے کسی کا بھی تعلق آفاقی تعلیمات سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔نیز وہ تمام بد اخلاقیوں پر مبنی نظریات،جن کے خاتمہ کے لیے نبیوں کو بھیجا گیا ، ان کا تعلق بھی کسی طرح خدا یا اس کی تعلیمات سے استوار نہیں کیا جاسکتا۔اس بنیادی گفتگو کے بعد آئیے اسلام میں فلسفہ حج اور قربانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس فلسفہ پر عمل کی توفیق بخشے،آمین۔
اللہ تعالیٰ جو تمام مخلوقات کا خالق برحق ہے اس نے روز اول سے آج تک عبادت کی ایک شکل جانور کی قربانی رکھی ہے۔اس سلسلے کا پہلا واقعہ آدم ؑ کے بیٹوں کی قربانی میں بیان کیا گیا تو آخری انتہا حضرت ابراہیم ؑاور ان کے بیٹے اسماعیل ؑ کا واقعہ ہے جس میں اللہ کی مرضی اور رضا ہی بنیادی نکتہ ہے۔قربانی کا مقصد یہ ہے کہ بندہ مومن صرف اور صرف خداوند عالم وحدہ لاشریک کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور جو کچھ وہ حکم دے اسی پر عمل کریں دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ قربانی کے قانون کو وضع کرنے کی ایک وجہ عبودیت،ایمان اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو آزمانا ہے۔قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"ہر امّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ اس امّت کے لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ اِن مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اور اسی کے تم مطیعِ فرمان بنو" (سورہ حج : ۳۴) ۔عمل کے نتیجہ میں فائدہ یہ ہوگا کہ خدا کی رحمتیں وسیع تر ہوں گی،نیکی اور احسان کی صفات پیدا ہوں گی اور مغفرت الٰہی نصیب ہوگی۔دوسری جانب حج سب سے بڑی اجتماعیت اور سب سے زیادہ اجتماعیت والی عبادت ہے۔ سب سے بڑی اس لحاظ سے کہ سب سے زیادہ امتی اسی موقعہ پر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، سب سے زیادہ اس پہلو سے کہ یہاں اجتماعیت کے بجائے انفرادیت اختیار کرنے کے لئے ذرا بھی رخصت نہیں ہے۔برخلاف اس کے دوسری عبادتوں میں بھی اجتماعیت کی تاکید ہے لیکن انفرادیت کی گنجائش موجود ہے۔حج بین الااقوامی سطح پر امت میں اتحاد کا مظہر ہے نیزیہ وہ واحد عبادت ہے جس میں بیک وقت توحید،رسالت اور آخرت کے تصورات شامل ہیں۔ ارکان حج میںمیدان عرفہ میں قیام ایک اہم ترین رکن ہے۔یوم عرفہ قیامت کا منظر کشی کرتا ہے،جہاں تمام انسان رب اعلیٰ کے سامنے سربجود اس کی رحمت،نصرت اور مغفرت کے طلبگار ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ان دو عبادات کے ذریعہ امت مسلمہ کے میں وہ تمام خوبیاں پید اکرنا چاہتا ہے،جس کا مختصر تذکرہ یہاں کیا گیا ہے۔اس پس منظر میں اللہ کا نام لے کر قربانی کرنے کو جولوگ جانوروں پر ظلم و زیادتی سے تعبیر کرتے ہیں،انہیں نہ صرف تحریر و تقریر سے بلکہ عمل سے بھی حقائق کا مشاہد ہ کروانا چاہیے،جن حقائق سے یہ لوگ دراصل ناوقف ہیں۔ اور یہی وہ ناواقفیت ہے کہ جس کی بنا پر یہ خداواحد کا انکار کرتے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو اختیار نہیں کرتے،اور ان اندھیروں میں راستہ تلاش کرتے ہیںجہاں راستہ خود اپنا وجود نہیں رکھتا!
12.09.2016

CONVERSATION

Back
to top