ضرورت ہے کہ گمنام امن کے علمبرداروں کو متحد کیا جائے

ہندوستانی سماج اور ہندوستانی معاشرہ آزادی سے قبل" لڑاﺅ اور راج کرو" کی پالیسی سے نبرد آزما رہا ہے۔اس کے باوجود ہند میں ہندﺅں اور مسلمانوں نے اتحاد و یگانگت کی زندہ مثالیں قائم کیں اور تخریب کاروں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔یہی وجہ تھی کہ انگریز اپنی تمام تر عیاریوں،مکاریوںاور دھوکہ دہی کے باوجود ذلیل و خوار ہوکر ملک سے دربدر کئے گئے۔اس کے باوجو د لڑاﺅ اور حکومت کرو کی پالیسی مستقل اور تسلسل کے ساتھ مختلف نعروں کی شکل میں آج بھی جاری ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ یہ سلسلہ نہ کل بند ہوا تھا اور نہ ہی آج بند ہواہے۔اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ تخریب کارہمیشہ اور ہر دور میں یہی کوشش کرتے آئے ہیں کہ جذباتیت کو فروغ دے کر لوگوں کو اکسائیں،بھڑکائیں


 فرقوںو طبقات میں تقسیم کریں،غلط فہمیاں پیدا کی جائیں،نفرتیں پروان چڑھائیں،سماج میںمختلف طبقات ،مذاہب اور عقیدہ کی بنیاد پرخلیج جو پہلے سے قائم ہے اس کو حد درجہ مزید گہرا کریں۔اوران نامناسب اور قابل مذمت طریقہ کار اوربنیادوں پر پوری انسانیت کو بری طرح تقسیم کر دیا جائے۔یہاں تک کہ انسانوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے اس قدر کدورت پیدا کی ہوجائے،کہ پھر ،بنا لڑائے ہی وہ آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں ۔نتیجہ میں شعوری و غیر شعوری طور پر ایسے طبقات اپنے آپ کو حکومت کی باگ دوڑ سے الگ تھلگ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جبکہ یہ طبقات ،گروہ اور ملتیں،بری طرح مسائل میں گرفتار ہو جائیں ۔ ایسے موقع پرنہ انہیں ملک کے کسی مسئلہ پر غور و فکر اور لائحہ عمل تیار کرنے کی فرصت ملے گی اور نہ ہی وہ کسی طرح حکومت کی باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں لے پائیں گے۔نیز امن و امان کے قیام،ملک و ملت کی فلاح و بہبود اور عدل و انصاف کے پیمانے خود بہ خود کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے جائیں گے۔ایسے موقع پر راست فائدہ کسے حاصل ہوگا؟یہ آپ خود سوچ سکتے ہیں۔
آپ یہ بات بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی آمد خشکی کے راستہ سے سندھ تک او ر بعد میں کیرل او رکوکن کے ساحلی علاقوں سے پہنچا تھا۔وہیں یہ بات بھی کچھ چھپی ہوئی نہیں ہے کہ ہندوستان میں دیگر مذاہب کے اختیارکرنے والوں نے اسلام کو جس قدر مقبول عام بنایا یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔یہی وہ مذہب تھا جس کو ہندوستان کی ہر برادری نے کم و بیش قبول کیا۔نتیجہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی گوجر ، راجپوت ،جاٹ ،ٹھاکر ،برہمن،لالہ ، تیاگی اور بے شمار فرقوں و برادریوں میں ہندوستان کے ہر شہر، قصبہ اور گاﺅں میں مسلمان موجود ہیں۔اور یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مذہب کا یہ اختلاف رہن سہن میں تفریق کا باعث نہیں بنا بلکہ اختلافِ مذاہب کے باوجود ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہے ۔ٹھیک اُسی طرح جس طرح ایک گھر کے دو بھائی غمی و خوشی کے موقع پر ایک دوسرے کی مزاج پرسی کرتے ہیں۔ اگر یہ بات کہی جائے کہ یہ پیارومحبت کا رشتہ ہندوستانی قوم کے رگ وریشہ میں پیوست تھا او رہر سطح پر پایا جاتا تھا تو اس میں مبالغہ نہیں ہوگا ، کیونکہ ہمیں ہندومسلم راجا ﺅں اوربادشاہوں کی حکومتوں میں بھی انتہائی حساس عہدوں پر بلاتفریق مذہب ہندومسلم دونوں ملتے ہیں۔ہندوستان کبھی بھی سیاسی او رملکی معاملات میں ہندومسلم تفریق وامتیاز کا قائل نہیں ہوا۔اس کی حکومتیں خواہ مسلم حاکم کے زیر اثر رہی ہوں یا ہندوفرمانرواﺅ ں کے ،وہ کبھی افتراق وامتیاز سے آشنا نہیں ہوئیں۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ جیسے کٹر مذہبی راجہ کی وزارت میں ہندواور سکھوں کی طرح مسلمان شریک تھے۔پیر زادہ عزیز الدین وزیر تھے او رالہی بخش توپخانہ کے سردارتھے ،مرہٹوں کے توپخانہ کا اعلیٰ افسر ابراہیم کردی تھا۔اکبر بادشاہ کی قوم پرستی کسی تحریر اور تفصیل کی محتاج نہیں۔جہانگیر بادشاہ کا عدل ومساوات بھی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے اس کے تو پخانہ کے افسراعلیٰ راجہ بکرماجیت تھے جن کے ماتحت پچاس ہزار توپچی او ر تین ہزار توپیں رہتی تھیں۔اور نگزیب عالمگیر کو کٹر مذہبی کہاجاتا ہے مگر جب اس سے کہا گیا کہ حکومت کا منصب کسی غیر مسلم کو سپردنہ کیا جائے تو اس نے نہایت تعجب اور حیرت سے اس اعتراض کو سنا او ربڑی بے نیازی سے جواب دیاکہ دنیا کے انتظامی امور میں منصب کا مدار قابلیت ہوتی ہے مذہب کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔ اس کے بڑے بڑے منصب داروں میں ساہو پسر راجہ سبتا ،جے سنگھ ،جسونت سنگھ ،سیواجی کے دامادراجندرجی اور ان کے علاوہ بڑے بڑے راجپوت او رہندوتھے جن کی تعداد بقول منشی کیول رام بٹالوی سوسے زیادہ تھی۔اور حضرت سید احمد صاحب شہیدؒ نے اپنے توپخانہ کا افسر راجہ رام راجپوت کو بنایا۔لارڈ ولیم بیٹگ نے ۲۸۸۱ءکی تقریر میں، ڈبلیو ایم ٹارنس نے اپنی کتاب "ایشیاءمیں شہنشاہیت" سربی رام آف بنگال نے اپنی تصنیفات میں او ر پنڈت سندرلال آف الہ آباد نے اپنی کتاب"بھارت میں انگریزی راج" میں ایسی بہت سی مثالیں او رنظیر یں پیش کی ہیں جن سے ہندو مسلمانوں کے باہمی بہتر تعلقات او رآپس کے اعتماد پر روشنی پڑتی ہے واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کے حکمراں ہمیشہ اس اصول کے حامی رہے کہ ملاﺅاو ر حکومت کرو۔حتی کہ سلطنت مغلیہ کے بانی بابر بادشاہ نے اپنے بیٹے ہمایوں کو وصیت کی تھی،اے بیٹے ہندوستان مختلف مذاہب سے پرہے، الحمدللہ کہ امالک برحق نے اِس ملک کی بادشاہت تمہیں عطا فرمائی ،تمہیں چاہئے کہ تمام تعصبات مذہبی کو لوح دل سے دھوڈالو۔او رعدل وانصاف کرنے میں ہرمذہب وملت کے طریق کا لحاظ رکھو۔جس کے بغیر تم ہندوستان کے لوگوں کے دلوں پر قبضہ نہیں کرسکتے۔
واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے آنے والے انسان آدم ؑ تھے۔جن کی اولاد آج پوری دنیا میں رہتی بستی ہے۔آدم ؑ کی وہ اولاد جس نے ابتدا میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کی تھی وہی اولاد آج بھی زیادتیوں میں ملوث ہے۔اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے درمیان الفت و محبت قائم کی ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ اُسی الفت و محبت اور ہمدردی و غمگساری کو ہم اختیار کریں۔نتیجہ میں دنیا میں امن کے قیام میں مصروف عمل رہنے والوں کو ،جبکہ وہ ایک خدائے واحد پر بھی یقین رکھتے ہوں،آخرت میں بھی امن نصیب ہوگا۔برخلاف اس کے نہ دنیا میں ہی سکون میسر آئے گا اور نہ ہی آخرت میں۔الفت و محبت اور ہمدردی و غمگساری کے تعلق سے اگر ہندوستانی سماج پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ فضا صدیوں سے برقرار ہی ہے ،جس کی چند مثالیں اوپر دی گئی ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ یہی بات دنیا کو حیرت میں ڈالے ہوئے ہے کہ ہندوستان میں حد درجہ تنوع کے باوجود لوگ صدیوں سے امن و امان کے ساتھ کیسے رہتے چلے آرہے ہیں؟ہندوستان میں آج بھی ایک ہی گاﺅں میں مختلف مذاہب اور نسلی گروہوں کے لوگ رہتے ہیں،اور وہ آج بھی ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک تو غموں میں سہارا بنتے ہیں۔مذہبی ونسلی اختلاف کے باوجود وہ اپنا رشتہ انسانی بنیادوں پر استوار کیے ہوئے ہیں۔دوسری جانب یہی وہ حالات بھی ہیں جو مٹھی بھر شرپسند وں کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ یہ حالات تبدیل ہوں،انسانیت کا خاتمہ ہو،امن برقرار نہ رہے،منافرت کا بازار گرم ہو،معاشرہ منتشر ہو اور وہ اپنا کاروبار چمکائیں۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم حالات کو سمجھیں۔اور حالات کو سمجھنے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جہاں اور جس مقام پر بھی ہوں،بلا لحاظ مذہب و ملت رابطوں کو استوار کریں اور دوریوں کا خاتمہ کریں۔کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ دنوںہونے والے چند واقعات ایک مخصوص فکر و نظر سے تعلق رکھنے والوں کی شہ پر ہوئے ہیں،یہ وہی ہیںجو تخریبی پالیسی ہی کوکارگر سمجھتے ہیں۔اس کے باوجود اگر ہم چاہیں تو امن کے علمبرداروں کو متحد کرسکتے ہیں اور یہی آج سب سے بڑا کام ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہر زمانے میں ایسی رکھی ہے جو امن و امان کی خواہش لیے گمنامی کی زندگی گزارتے ہیں۔اگر ان گمنام امن کے علمبرداروں کو یکجا اورمتحدکیا جائے، ایک پلیٹ فارم پر لے آیا جائے،اور اس سفر کا آغاز گفت و شنید سے شروع ہوکر پیغام حق تک جاری رکھا جائے ۔تو عین ممکن ہے کہکہ اس عمل سے نہ صرف ملک میں امن قائم ہوگا بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ خدا کے بندے خدا کے آگے سربجود ہوجائیں گے۔ضرورت ہے کہ اس کام کوسنجیدگی،دلچسپی ،مستعدی اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دیا جائے!
05.09.2016

CONVERSATION

Back
to top